• 20 ستمبر, 2020

گل ہائے محبت حضرت مصلح موعودؓ کی حسین یادیں

نام کتاب: گل ہائے محبت۔ حضرت مصلح موعودؓ کی حسین یادیں
مصنفہ: حضرت سیدہ مریم صدیقہ (چھوٹی آپا)
مرتب: ڈاکٹر سید غلام احمد فرخ
ضخامت : 115 صفحات
ناشر : اسلام انٹر نیشنل پبلیکیشنز یوکے

حضرت مصلح موعودؓ کے مسیحی نفس سے برکت پانے والی حضرت سیدہ مریم صدیقہ (چھوٹی آپا) نے حضرت مصلح موعود کے عقد میں آنے کے بعد اپنی زندگی کو حضورؓ کے لئے وقف کردیا اور حضورؓ کی تربیت کے تحت سارا وقت گزارا۔ آپ کی زندگی حضرت مصلح موعود کے ساتھ مکمل طور پر جُڑی ہوئی تھی۔ حضرت مصلح موعود کی خواہش پر آپ نے شادی کے بعد لجنہ اماء اللہ کی خدمات اور دینی کاموں میں حضورؓ کا ساتھ دینا شروع کیا۔ اس لحاظ سے حضرت چھوٹی آپا نے حضرت مصلح موعودؓ کے بابرکت وجود کو بہت نزدیک سے مشاہدہ کیا اور حضور کی دینی، جماعتی ،علمی، تربیتی اور تعلیمی امور پر دسترس خاص طور پر طبقہ نسواں اور لجنہ اماء اللہ پر حضورؓ کے احسانات اور نظریات کا قریب سے مطالعہ کیا۔ حضرت چھوٹی آپا اپنے اسی مشاہدہ اور مطالعہ کی روشنی میں اکثر مضامین اور یادداشتیں قلمبند فرماتی رہتی تھیں جو مختلف اخبارات ورسائل وغیرہ میں شائع ہوتے تھے۔ ڈاکٹر سید غلام احمد فرخ ان مضامین اور تحریرات کو ایک عرصہ سے اکٹھے کرتے چلے آ رہے تھے۔ دن رات کی محنت شاقہ کے بعد آخر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور آپ کی کاوش کا خوبصورت نتیجہ ایک نادر اور نایاب کتاب کی اشاعت کے طور پر سامنے آیا۔ جو جماعتی لٹریچر میں گرانقدر اضافہ ہے۔یہ کتاب اس وقت میرے سامنے ہے ، اتنی دلچسپ اور معلومات افزاء ہے کہ پڑھنا شروع کیا جائے توایک نشست میں ہی مکمل کرنے کو دل کرتا ہے۔

اس دلچسپ اور تاریخی یادداشتوں پر مشتمل کتاب میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ حرم حضرت مصلح موعودؓ کے مضامین اور تحریرات شامل کی گئی ہیں جو آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کی مبارک سیرت و سوانح کی جھلکیاں، حضرت مصلح موعودؓ کی اہلی زندگی، پیشگوئی مصلح موعود اور اس میں بیان ہونے والی علامات کا ذکراور طبقہ نسواں پر حضرت مصلح موعودؓ کے احسانات اور نظریات جیسے اہم اور وقیع موضوعات پر تحریر فرمائیں۔ ان میں سے اکثر مضامین جماعت کے مختلف اخبارات، رسائل اور کتب میں شائع ہو چکے ہیں۔ لیکن چند ایسے بھی ہیں جو اس سے قبل شائع نہیں ہوئے۔ یہ غیر مطبوعہ مضامین یا نوٹس مرتب کتاب ہذا مکرم ڈاکٹر غلام احمد فرخ کو مختلف جگہوں سے دستیاب ہوئے اور یہ تمام مضامین ان کے پاس ریکارڈ کے طور پر موجود ہیں۔ یہ سب خاکسار راقم الحروف کو بھی دیکھنے اور پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ اس کتاب کا حسن یہ ہے کہ ان مضامین کو اصلی صورت میں ہی اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے اور خلفاء کرام کے ناموں کے ساتھ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دعائیہ الفاظ اسی طرح رہنے دئیے گئے ہیں جس طرح حضرت چھوٹی آپا نے تحریر کیا تھا۔ مرتب نے اس کتاب کو اپنی والدہ محترمہ صاحبزادی امتہ المتین بیگم صاحبہ کے نام معنون کیا ہے۔

مکرم ڈاکٹر فرخ موصوف حضرت چھوٹی آپا کے نواسے ہیں لیکن حضرت چھوٹی آپا نے آپ کو بیٹا بنایا ہوا تھا۔ اسی حوالے سے ڈاکٹر صاحب ان کو اُمی کہہ کر بلاتے ہیں۔ اس کتاب میں جہاں انہوں نے اپنی تحریر میں حضرت چھوٹی آپا کا ذکر کیا ہے وہاں اُمی لکھا ہے۔ کتاب کے آخر پر انہوں نے حضرت چھوٹی آپا کی سیرت و سوانح پر بہت عمدہ مضمون سپرد قلم کیا ہے ۔اس میں مرتب لکھتے ہیں: مجھے بالکل بچپن سے ہی حضرت سیدہ مریم صدیقہ نے پالا، ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ میری نظروں کے سامنے گزرا ہے ان کی بے انتہاء محبت اور شفقت مجھ پر رہی ہے۔ کہنے کو تو مرتب کتاب ہذا کا تحریر کیا ہوا یہ مضمون حضرت چھوٹی آپا کی سیرت کی جھلک ہے لیکن اس میں حضرت مصلح موعودؓ کی اچھوتی باتیں،پرحکمت نصیحت کے طریقے، تربیت کے حسین اسلوب اورحضرت چھوٹی آپا کے حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ کی پاک اور مطہرسیرت و سوانح پر روشنی پڑتی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ سے حضرت چھوٹی آ پا کے قلبی تعلق کے بارے میں اسی مضمون میںمرتب لکھتے ہیں: آپ کی زندگی حضرت مصلح موعودؓ سے ایسے مکمل جُڑی ہوئی تھی کہ جس پرایک جان دو قالب کا محاورہ مکمل طور پر صادق آتا ہے۔ حضورؓ کی وفات کے بعد ساری عمر آپ نے حضورؓ کا ذکر ایسے جاری رکھا جیسے حضور زندہ ہیںاور جو تربیت حضورؓ نے آپ کی فرمائی تھی اسی کے مطابق آپ اپنی زندگی گزارتی رہیں۔

اس کتاب میں 12 مضامین اور نوٹ شامل کئے گئے ہیں ان میں سے چند کا مختصر جائزہ اورخلاصہ پیش ہے۔ پہلا مضمون حضرت مصلح موعودؓ کے طبقہ نسواں پر احسانات کے بارے میں ہے، حضرت چھوٹی آپا لکھتی ہیں، خوش قسمتی سے طبقہ نسواں کے لئے حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا وجود باجود ایک ابر رحمت ثابت ہوا۔ حضور نے عورتوں کے حصہ کی تمام شقوں کو کامل طور پر قائم فرمایا۔ مستورات سلسلہ کو اس قدر بلند کیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے آپ کی ذات کے طفیل سر بلند ہو گئیں۔ چنانچہ سب سے پہلا احسان لجنہ اماء اللہ کا قیا م ہے۔ اس کے ذریعہ آپ نے مستورات کی تربیت فرماکر ان میں احساس پیدا کیا کہ وہ بھی بنی نوع انسان کا ایک جزو لا ینفک ہیں اور قوموں کی ترقی و تنزل میں ان کا بھی ہاتھ ہے۔ آپ نے جماعت کی ترقی کے لئے اس امر کو ضروری سمجھا کہ مستورات میں علم کی اشاعت ہو۔ حضرت چھوٹی آپا نے اپنے اسی مضمون میں حضرت مصلح موعودؓ کے مندرجہ ذیل احسانات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ مستورات کے لئے تعلیم کے مواقع، شاخ دینیات کا قیام، مستورات کے لئے حضور کے درس، مستورات کا سالانہ جلسہ، مستورات کا اخبار تادیب النساء کا اجراء، تحریک جدید میں حصہ، وصیت کی تحریک، خلافت جوبلی فنڈ میں حصہ اورمجلس مشاورت میں حق نمائندگی۔

آپ نے اپنے ایک مضمون میںپیشگوئی مصلح موعودؓ پر جو طائرانہ نظر ڈالی ہے اس کے آغاز میں لکھتی ہیں: حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کے ثبوتوں میں سے سب سے بڑا ثبوت آپ کی صداقت اور آپ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا پیشگوئی مصلح موعودؓ ہے جو اپنے وقت پر جا کرنہایت شان و شوکت کے ساتھ پوری ہوئی۔ چار پانچ صفحات کے اس مضمون میں آپ نے عالمانہ طریق پر اس موضوع پر روشنی ڈالی ہے، آخر پر لکھتی ہیں: احمدیت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی اس سے واضح اور روشن کیا دلیل ہو سکتی ہے۔ آفتاب تو چمک رہا ہے کوئی جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند کرے اور کہے کہ مجھے روشنی نظر نہیں آتی تو ایسے انسان کا علاج تو کسی کے پاس نہیں۔

حضرت چھوٹی آپا کی ایک ڈائری سے حضرت مصلح موعودؓ کی سیرت کے بارے میں جو نوٹ شامل کتاب ہے، اس میں آپ تحریر کرتی ہیں۔حضرت فضل عمرؓ کی زندگی کا ہر قول اور ہر فعل خدا تعالیٰ کے اس قول کی شہادت دیتا رہا کہ آپ واقعی حسن و احسان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ک نظیر تھے۔ آپ عاشق محبوب حقیقی، عاشق رسولﷺ اور عاشق قرآن تھے۔ لکھتی ہیں میرا اور آپ کا تیس سالہ ساتھ رہا۔ میں نے اس تمام عرصہ میں یہی مشاہدہ کیا کہ آپ کی زندگی کا ہر ہر لمحہ اور آپؓ کی تمام صلاحیتیں اسلام کا جھنڈا بلند کرنے میں صرف ہوئیں۔

حضرت مصلح موعودؓ کی مقدس سیرت کی چند جھلکیاں ایک مضمون میں آپ نے تفصیل سے بیان کی ہیں جن میں، اللہ تعالیٰ سے محبت،آنحضرت ﷺ اور قرآن مجید سے بے انتہا عشق، حضرت اماں جانؓ کی عزت و احترام، بھائیوں، بہنوں، اولاد اور افراد جماعت سے غیر معمولی محبت کو بہت عمدہ طریق پر بیان کیا ہے گویا سمندر کو کوزے میں بند کیا ہے۔

حضرت چھوٹی آپا نے اپنے ایک مضمون تعلیم نسواں کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کانظریہ میں حضرت مصلح موعودؓ کے پُرمعارف ارشادات درج کئے ہیںاور آخر پر یوں تحریر کیا: ان مندرجہ بالا اقتباسات کی روشنی میں جو میں نے حضرت مصلح موعودؓ کی مختلف تقاریر سے جمع کئے ہیں آپ کا عورتوں کی تعلیم کے متعلق نقطہ نگاہ واضح ہو جاتا ہے۔ پھر لکھتی ہیں: پس میں اپنی نہایت عزیز بچیوں کو نصیحت کرتی ہوں کہ وہ مذہب سے بیگانگی اختیار نہ کریں۔ قرآن سیکھیں کہ یہی تمام علوم کاسر چشمہ ہے۔ جہاں کئی گھنٹے وہ اپنی کالج کی تعلیم پر خرچ کرتی ہیں وہاں کم از کم ایک گھنٹہ روزانہ قرآن مجید کا ترجمہ یاد کرنے، مطلب سمجھنے اور مذہبی لٹریچر کے مطالعہ کے لئے لگائیں ۔

آپ نے الفضل یکم دسمبر 1968ء میں ایک مضمون بعنوان تین سال قبل کی ایک رات تحریر کیا جو صفحہ 3 اور 4کی زینت بنا۔ اس میں آپ نے بہت پُرسوز اور دکھ بھرے انداز میں حضرت مصلح موعودؓ کی وفات کا ذکر کیا۔ آغاز میں لکھا: تین سال قبل 7 اور 8 نومبر کی درمیانی رات تھی جب ایک پاک روح اس دنیا سے رشتہ توڑ کر اپنے رب کے حضور حاضرہوئی۔ جو لوگ اس وقت موجود تھے وہ اس وقت کا نظارہ کبھی بھول نہیں سکتے۔ ہر ایک حیران تھا کہ کیا ہو گیا لیکن ہر دل اپنے رب کی رضا پر راضی تھا۔ وہ پاک روح جس کو خدا تعالیٰ نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا تھا جس کا اس دنیامیں آنا ازل سے مقدرتھا جس کے آنے کی خبر نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہی دی گئی بلکہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کو بھی دی گئی تھی۔ جس کی برکتوں سے قوموں نے زندگی پائی ۔

دل کرتا ہے کہ اس کتاب میں شامل حضرت چھوٹی آپا کے خوبصورت مضامین میں سے اور بھی چیدہ چیدہ اقتباسات یہاں ہدیہ قارئین کر دیئے جائیں لیکن اس طرح اصل کتاب پڑھنے کا مذا جاتا رہے گا۔احباب جماعت خاص طور پرلجنہ اماء اللہ کو چاہئے کہ اس مفید کتاب کا ضرور مطالعہ کریں۔ اس کتاب میں شامل تمام مضامین ہی ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ کی پیشگوئی ہو یاسیرت کی جھلکیاں، اہلی زندگی ہو یا ذاتی ،ہر مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس نادرالوجود اور علمی نکات پر مشتمل کتاب کی اشاعت کرکے جماعتی لٹریچر میں مفید اضافہ کرنے پر مرتب مبارکباد کے مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

(ایف شمس)

پچھلا پڑھیں

استنبول (قسطنطنیہ) کی سیر (قسط 3)

اگلا پڑھیں

مصروفیات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مورخہ 28 دسمبر 2019ء تا مورخہ 03 جنوری 2020ء