• 25 ستمبر, 2020

ایڈیٹر کی ڈاک

تاثرات۔آراء۔تجاویز

الفضل ہمارا استاد رہا ہے

مکرم نصیر احمد چوہدری لکھتے ہیں کہ روزنامہ الفضل لندن کا آن لائن اجراء بہت بہت مبارک ہو۔ اور اللہ کرے کہ روزنامہ الفضل لندن کا اجراء جماعت احمدیہ کیلئے خیرو برکت کا موجب ہو۔ یہ خدا تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ اس نے جاری رہنا ہے۔ اس کےلندن سے جاری ہونے کے حوالہ سےمیرا ذہن اس طرف گیا ہے کہ یہ ہمیشہ ہی خلافت کے زیر سایہ رہی ہے مجھےتو اس میں بھی ایک معجزہ لگتا ہے۔ کیونکہ جہاں جہاں خلافت منتقل ہوئی ۔یہ اخبار بھی وہیں منتقل ہو گیا۔اب خلیفۃ المسیح لندن میں ہیں تو اس کو ہجرت کر کے لندن ہی جانا تھا۔اور اب لندن سے آن لائن ایڈیشن نکل رہا ہے اور پوری دنیا میں ایک کلک (Click) پر دیکھا جا سکتا ہے۔ جس کے لئے اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

خاکسار کا تعلق روزنامہ الفضل سے بہت پُرانا ہے۔ یعنی جب سے ہوش سنبھالا ہے۔ خاکسار نے الفضل کو پڑھنا شروع کیا ہے۔ جب بچپن میں ہم پاکستان کے ایک دور داز گاؤں میں رہتےتھے۔ تو ہمارے والد صاحب ہمیں اردو پڑھانے کے لئے الفضل دیتےتھے تاکہ ہماری اردو درست ہو۔ اس طرح یہ ہمارا استاد بھی ہوا اور یوں الفضل سے ایک دلی محبت پیدا ہو گئی ۔

اسی طرح الفضل سے ایک خیر خواہ کی محبت کا واقعہ درج ذیل ہے۔
کچھ عرصہ قبل خاکسار کے ایک جاننے والے خیر خواہ دوست طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں بائی پاس کروانے کے لئے آئے۔ جب وہ دوست بائی پاس کروا چکے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میں ربوہ سے باہر آپریشن کرواتاتو اس خرچ سے جتنا طاہر ہارٹ میں آیا ہے پانچ گنا زیادہ خرچ ہوتا۔ پھر وہ اس بات سے متاثر ہوئے کہ ڈاکٹر صاحب دعا کرنے کے بعد مریض کو چیک کرتے ہیں ۔ انہوں نے مجھےبتایا کہ کروڑوں روپوں کی تو دعائیں ہی ڈاکٹر صاحبان نے ہمیں مفت دے دی ہیں۔خاکسار نے ان کو ربوہ میں ایک مکان کرایہ پر چند دن کے لئے لے کر دیا اوروہ وہاں رہائش پذیر رہے کیونکہ خاکسار کا ان کے ساتھ مکمل رابطہ رہا اور جہاں تک میرا بس چلتا رہا ان کا خیال رکھتا رہا۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ میری بیٹی نے ڈاکٹر بننا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ ربوہ میں آ کر طاہر ہارٹ میں خدمت انسانیت کا فریضہ ادا کرے۔ کیونکہ ان کی بیٹی بھی ساتھ تھی اس لڑکی کے والدجن کا بائی پاس ہوا تھا وہ بار بار اس سے یہی اصرار کرتے رہے کہ آپ نے ادھر آ کر کام کرنا ہے اور روپے پیسے کی فکر نہیں کرنی وہ آپ مجھ سے لے لینا۔ یہ تاثرات ان لوگوں کے ہیں جو باہر سے آ کرطاہر ہارٹ میں علاج کرواتے ہیں۔ اوراللہ تعالیٰ کے فضل سے صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جاتے ہیں۔

ایک دن کا واقعہ ہے کہ خاکسار جب ان کے گھر گیا۔ ان کی بیوی کواس گھر کے کمرہ سے ایک پرانا الفضل اخبار جو غالباً2005ء کا تھا ملا۔ جب خاکسار گیا تو انہوں نے مجھے دکھایا کہ یہ پُرانا اخبار کمرے میں پڑا ہوا تھا۔ وہ کہنے لگی کہ میرے چچا احمدی اور مربی سلسلہ ہیں جب وہ جامعہ میں پڑھتے تھے اور چھٹیوں میں گھر آتے تھے تو یہ اخباربھی ہمارے گھر میں آتا تھا ۔جسے میں پڑھا کرتی تھی اس لئے اس سے مجھے دلی لگاؤ ہے۔

پچھلا پڑھیں

استنبول (قسطنطنیہ) کی سیر (قسط 3)

اگلا پڑھیں

مصروفیات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مورخہ 28 دسمبر 2019ء تا مورخہ 03 جنوری 2020ء