• 11 اگست, 2020

بچپن سے ہی آنحضرتؐ کے دل کو خداتعالیٰ نےاپنے لئے خالص کر لیا تھا

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔
’’حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خالص توحید کے قیام کے لئے دنیا میں مبعوث فرمایا تھا۔ اور بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی جناب سے ایسے انتظامات فرما دئیے کہ آپؐ کے دل کو صاف، پاک اور مصفّٰی بنا دیا۔ بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے اندر اپنی محبت اور شرک سے نفرت کا بیج بو دیا۔ بلکہ پیدائش سے پہلے ہی آپؐ کی والدہ کو اُس نور کی خبر دے دی جس نے تمام دنیا میں پھیلنا تھا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ رؤیا جو حضرت آمنہ نے دیکھا تھا، کس طرح سچ ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی مکمل شریعت آپؐ پر اپنے وقت پر نازل ہوئی۔ اور وہ نور دنیامیں ہر طرف پھیلا۔ خدائے واحد کی محبت کا ایک جوش تھا جس نے آپؐ کی راتوں کی نیند اور دن کا چین و سکون چھین لیا تھا۔ اگر کوئی تڑپ تھی تو صرف ایک کہ کس طرح دنیا ایک خدا کی عبادت کرنے لگ جائے، اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچاننے لگ جائے۔ اس پیغام کو پہنچانے کے لئے آپؐ کو تکلیفیں بھی برداشت کرنا پڑیں، سختیاں بھی جھیلنی پڑیں۔ لیکن یہ سختیاں، یہ تکلیفیں آپؐ کو ایک خدا کی عبادت اور خدائے واحد کا پیغام پہنچانے سے نہ روک سکیں۔ یہ خدائے واحد کے عبادت گزار بنانے کا کام جو آپؐ کے سپرد خداتعالیٰ نے کیا تھا وہ آپؐ پر اللہ تعالیٰ کے احکامات اترنے کے بعد تو آپؐ نے انجام دینا ہی تھا لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا آپؐ کا دل بچپن سے ہی شرک سے پاک اور ایک خدا کے آگے جھکنے والا بن چکا تھا۔ خدا نے خود بچپن سے ہی اس دل کو اپنے لئے خالص کر لیا تھا۔ اگر کبھی بچپن میں اپنے بڑوں کے کسی دباؤ کے تحت، اس زمانہ کے کسی مشرکانہ تہوار میں جانا پڑا تو خداتعالیٰ نے خود ہی اس سے روکنے کے سامان پیدا فرما دئیے، خود ہی آپؐ کی حفاظت کے سامان پیدا فرما دئیے۔

اس بارہ میں ایک سیرت کی کتاب میں ایک واقعہ بھی درج ہے۔ حضرت اُمِّ اَیْمَنْ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ’’بُوَانہ‘‘، وہ بت خانہ ہے جہاں قریش حاضری دیتے تھے اور اس کی بہت تعظیم کرتے تھے اس پر قربانیاں چڑھاتے تھے، وہاں سر منڈواتے تھے اور ہر سال ایک دن کا رات تک اعتکاف کرتے تھے۔ حضرت ابو طالب بھی اپنی قوم کے ساتھ وہاں حاضری دیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حاضری کے لئے ساتھ جانے کو کہتے (جب آپ بچے تھے) مگر آپ انکار کر دیتے۔ حضرت اُمِّ اَیْمَن کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا ابو طالب اور آپؐ کی پھوپھیاں ایک دفعہ آپ پر سخت ناراض ہوئیں اور کہنے لگیں آپ ہمارے معبودوں سے اجتناب کرتے ہیں اس کی وجہ سے آپؐ کے بارے میں ہمیں ڈر رہتا ہے۔ اور کہنے لگیں اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) تو کیا چاہتا ہے؟ تو کیوں اپنی قوم کے ساتھ حاضری کے لئے نہیں جاتا، اور ان کے لئے کیوں اکٹھا نہیں ہوتا۔ ان کے بار بار کہنے کے نتیجہ میں آپؐ ایک بار چلے گئے لیکن جیسا کہ اللہ نے چاہا آپؐ وہاں سے سخت گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں لوٹ آئے۔ تو ان عزیزوں رشتہ داروں نے پوچھا کہ کیا ہوا۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ شیطان مجھے چھوئے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اللہ عزّوجلّ تجھے ہرگز شیطانی خیالات میں مبتلا نہیں کرے گا اس حال میں کہ تجھ میں نیک عادات پائی جاتی ہیں۔ تو نے کیا دیکھا ہے، خوف کی کیا وجہ ہوئی ہے؟ آپؐ نے فرمایا جونہی میں کسی بت کے قریب جانے لگتا تو ایک سفید رنگ کا طویل القامت شخص میرے لئے متماثل ہوتا اور کہتا کہ اے محمد! پیچھے رہ، اس کو مت چھو۔ ام ایمنؓ کہتی ہیں پھر انہوں نے بھی کبھی حاضری کے لئے نہیں کہا۔ یہاں تک کہ آپؐ کو نبوت سے سرفراز فرمایا گیا۔

(السیرۃ الحلبیۃ باب ما حفظہ اللہ تعالیٰ بہ فی صغرہﷺ من امر الجاھلیۃ)

تو یہ تھے وہ انتظامات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس پاک اور خالص دل کی حفاظت کرتا تھا۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 4فروری 2005ء)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 07 جون 2020ء

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 08 جون 2020ء