• 12 اگست, 2020

سُنو، جب کہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے پُکارے

یہ جلسہ سالانہ برطانیہ 2004ء کی بات ہے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ وہ پیدائشی احمدی ہیں لیکن روحانی طور پراز سرِنو زندہ ہو کر اس جلسہ میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کی اس بات پہ میرا متعجب اور متجسّس ہونا لازم تھا ۔چہرہ بھانپ کر کہنے لگے کہ حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات ایک ایسا واقعہ ہے جس نے ان کے قلب و رُوح کی کایا پلٹ کے رکھ دی۔اور ایسا ہر گز ممکن نہ ہو پاتا اگر آپ کے چہرۂ مبارک کے آخری دیدار کے نظارے براہِ راست مُسلم ٹیلی ویژن احمدیہ MTA پہ نہ دکھائے جاتے۔ آپ نے سُرخ ا نگارہ ہوتی آنکھیں پونچھتے ہوئے بتایا کہ ’’مغرب میں آکر دنیا کی ہوا و حرص مجھ پہ حاوی ہوگئی اور مال و دولت کی چکا چُوند نے ایسا اندھا کر دیا کہ پھر حلال اور حرام کی بھی تمیز نہ کی اور پھر اس ضمن میں نظامِ جماعت کی طرف سے کی جانے والی اصلاح کی ہر کوشش اور حضور انور رحمہ اللہ کی طرف سے بار بار آنے والی ہدایات اور نصائح کو بھی مسلسل تخفیف کی نظر سے دیکھا۔ پہلے مجھ پر چندے نہ دینے کی پابندی عائدکی گئی اوربعد ازاں اخراج از نظام جماعت کی سزا تک نوبت پہنچ گئی۔ مگر نفس کچھ ایسا سرکش ہو چکا تھا کہ ہر بار ایک نئی خود ساختہ توجیہ اور ایک نیا بہانہ تراش کر ضمیر کی آواز کو اٹھنے ہی نہ دیتا۔

اس کیفیت میں شب وروز مہ و سال میں بدلتے چلے گئے حتیٰ کہ وہ دن بھی آگیا جب حضور رحمہ اللہ کا وصال ہو گیا۔ اہل خانہ ایم ٹی اے سے جڑے بیٹھے تھے۔ حضور کا جسد ِخاکی ہال میں رکھا دکھایا جا رہا تھا اور ساتھ ہی احباب کو جو حضور کے چہرہ کے آ خری دیدارکے لئے آتے اور خاموشی سے رخصت ہو جاتے۔حضورانور کا جسدمبارک چارپائی پہ پڑا دیکھ کر اچانک میرے دل پہ ایک ایسی کیفیت طاری ہو ئی جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔بس وہی ایک لمحہ تھا جو میرے لئے ایک Turning Point بن گیا۔

میں نے خود سے مخاطب ہوکر کہا کہ دیکھو یہ وہ وجود ہے جو جب تک زندہ رہا تمہیں ہلاکت سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتا رہا۔ اس کے بدلے وہ تم سے کچھ بھی تو نہیں چاہتا تھا۔ بس یہی نا کہ تم اپنی عاقبت خراب نہ کرو۔اسلام کے جو موٹے موٹے یعنی بنیادی احکامات ہیں، ان پر ہی توعمل کرنے کی طرف توجہ دلاتا تھا۔ آج وہ تو اپنا فریضہ نبھا کر دنیا سے سُرخرو روانہ ہو گیا، کل جب اسی طرح تمہارا جسدِ خاکی چارپائی پر پڑا ہوگا تو کیا تم بھی اسی طرح دنیا کو سرخرو ہو کر چھوڑ گئے ہوگے؟تمہاراچہرہ کیا داستان سُنا رہا ہوگا۔ یہ تمہارا بزنس، کاروبار تو سب یہیں پڑا رہ جانا ہے۔

یہ خیالات ذہن میں آتے ہی جسم پہ ایک لرزہ سا طاری ہوگیا، توبہ واستغفار کیا۔ کئی دن تواپنے گھر سے ہی نہیں نکلا۔ نیت تو کرہی لی تھی، ایک دن کام پہ جاکر سارے کاروبار کویک لخت ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔ جو میرے کاروباری ساتھیوں اور سٹاف وغیرہ کے لئے ایک دھماکہ سے کم نہ تھا۔ وہ سمجھے کہ میں پاگل ہو چکا ہوں لیکن انہیں کیا خبرکہ پاگل تو میں پہلے تھا،اب تو میں ہوش میں ا ٓیا تھا۔

حضور رحمہ اللہ کے بارہ میں سب سے زیادہ میرے دل پہ اس بات کا اثرتھا کہ یہ ہستی کیسی ہستی تھی کہ وفات کے بعد اور تدفین سے قبل کے درمیانی عرصہ میں بھی میری عاقبت سنوار نے کا ذریعہ بن گئی تھی۔ قارئین کرام، ارشادِ قرآنی ہے۔

یَٰٓا ایُّھاالّذینَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَادَعَاکُمْ لِمَا ِیُحْیِیْکُم وَاعْلَموْآ اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ وَاَنَّہٗٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ

(الانفال:25)

ترجمہ: اے مومنو اللہ اور اس کے رسول کی بات سنو جب کہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے پکارے اور جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل میں حائل ہے اور یہ کہ تم اسی کی طرف زندہ کر کے لوٹا ئے جاؤگے۔

اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرستادہ بندوں یعنی انبیاء رسول اور ان کے بعد ان کے خلفاء کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ خداکے بندوں کومحض اس لئے پکارتے ہیں تا وہ ازلی و ابدی زندگی پائیں اورموت سے نجات حاصل کریں۔

دعاہے کہ اللہ تعالیٰ راقم سمیت جملہ احباب کوامام وقت کے ارشادات پر کان دھرنے اور ان پر بروقت عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

(ڈاکٹر طارق احمد مرزا۔آسٹریلیا)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 07 جون 2020ء

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 08 جون 2020ء