• 2 اکتوبر, 2020

مرہم عیسیٰ

15 مئی کا دن پوری جماعت احمدیہ عالمگیر کے لئے ایک بوجھل دن تھا۔ ایم ٹی اے کا چینل لگائے اپنے پیارے آقا کے دیدار کی تمنا لئے ٹی وی کے سامنے بیٹھے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ سننے کے لئے بیتاب ۔انتظار کی گھڑیاں آہستہ آہستہ گزر رہی تھیں کہ اچانک حضور انور ایدہ اللہ کے پرائیویٹ سیکرٹری مکرم منیراحمد جاوید ٹی وی سکرین پر تشریف لاتے ہیں اور اعلان ہوتا ہے کہ آج حضور انور گر جانے کی وجہ سے چوٹوں کے باعث خطبہ جمعہ کے لئے مسجد میں تشریف نہیں لا سکیں گے۔ حضور انور کی صحت کے بارہ میں اعلان ہوا اور Repeat خطبہ لگا دیا گیا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ خلافت خامسہ کے دور میں یہ شاید پہلا جمعہ تھا کہ حضور انور خرابی صحت کی وجہ سے جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد تشریف نہ لا ئے اورخطبہ جمعہ ارشاد نہ فرمایا ۔ جس محبوب کا انتظار ہو اور وہ دیدار کے لئے نہ پہنچا۔ اداسی کے ساتھ فکر اور بے چینی کا ہونا ایک فطری امر تھا۔ ہاتھ پھیلائے، سر بسجود ایک ہی دعا تھی کہ

میرے آقا کو مولا شفاء بخش دے
ہے کروڑوں دلوں کی دعا، التجا

کیوں نہ ہوتی یہ ہمارا وہی آقا جو ہماری ذرہ ذرہ سی تکلیف پر بے چین ہوکر ساری ساری رات خدا کے حضور ہمارے لئے دعائیں مانگتا ہے۔ یہ قرض تو کسی طور پر چکایا ہی نہیں جا سکتا ۔ جان کا نذرانہ دے کر بھی نہیں۔

اگلا ایک ہفتہ کیسے گزرا، یہ تو میرا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ دل تھا کہ مچل مچل جاتا تھا کہ کاش تمام روکیں توڑ کر اپنے آقا کے قدموں میں جا بیٹھتے۔ لیکن کیا کریں اب pandemic کی مجبوریاں۔ بہرحال دعائیں کرتے اگلے چند دن اس امید پر گزرے کہ شاید حضور کا دیدار ہو جائے۔ بار بار نظریں ایم ٹی اے کی طرف اٹھ جاتیں کہ شاید حضور انور کے چہرہ مبارک کا دیدار ہو جائے۔ پہلے ایم ٹی اے پر اور پھر روزنامہ الفضل لندن آن لائن میں حضور انور کی صحت کی رپورٹ کا جان کر کچھ تسلی ہوئی اور اس دلِ بے چین کو سہارا ملا۔ خدا خدا کر کے جمعہ کا دن آیا۔ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت کی مضطربانہ دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور ہمارے پیارے آقا حضور انور خطبہ جمعہ کے ارشاد کے لئے مسجد مبارک ٹلفورڈ تشریف لائے۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ

پیارے آقا کی جو دید ہو گئی
آج عید سے پہلے عید ہو گئی

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کا گھوڑے سے گرنا، حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی بیماری، حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کے گھوڑے سے گرنے کا واقعہ اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کی بیماری اور اللہ تعالیٰ کی جماعت پر شفقت اور پیار کے سلوک کو دیکھتے ہوئے ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین تھا کہ وہ حیّ و قیّوم خدا آج بھی ہمارے پیارے آقا کو جلد معجزانہ طور پر شفائے کاملہ عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہم عاجزوں اور خطا کاروں کی لاج رکھی اور حضور انور اگلے ہی جمعہ کو احباب جماعت کے سامنے تھے۔ الحمد للہ

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے زخموں کے علاج کے لئے محترم سیدمیر محمود احمدناصر کی طرف سے بھجوائی گئی مرہم عیسیٰ کا ذکر فرمایا۔ ہمارے زخموں کے لئے تو پیارے آقا کا دیدار ہی مرہم عیسیٰ کا کام کر گیا۔ لیکن یہاں مرہم عیسیٰ کے بارہ میں چند حقائق پیش کرنا مقصود ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے آقا کے لئے شفا رکھ دی۔

مرہم عیسیٰ کے بارہ میں جماعت میں منظم طور پر تحقیق ہو چکی ہے جس کا آغاز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور سے ہی ہو چکا تھا۔ اور آپؑ کی تصنیف مسیح ہندوستان میں آپؑ نے اسے حضرت مسیحؑ کے صلیب سے زندہ بچ جانے پر ایک اعلیٰ درجہ کی شہادت کے طور پر پیش فرمایا ہے۔اس کے اجزا، خواص و فوائد اور مختصر تاریخ کے بارہ میں آپؑ فرماتے ہیں:۔

’’ایک اعلیٰ درجہ کی شہادت جو حضرت مسیح کے صلیب سے بچنے پر ہم کو ملی ہے اور جو ایسی شہادت ہےکہ بجز ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا وہ ایک نسخہ ہے جس کا نام مرہم عیسیٰ ہے جو طب کی صدہا کتابوں میں لکھا ہوا پایا جاتا ہے۔ ان کتابوں میں سے بعض ایسی ہیں جو عیسائیوں کی تالیف ہیں۔ اور بعض ایسی ہیں کہ جن کے مؤلّف مجوسی یا یہودی ہیں۔ اور بعض کے بنانے والے مسلمان ہیں۔ اور اکثر ان میں بہت قدیم زمانہ کی ہیں۔ تحقیق سے ایسا معلوم ہوا ہے کہ اول زبانی طورپر اس نسخہ کا لاکھوں انسانوں میں شہرہ ہوگیا اور پھر لوگوں نے اس نسخہ کو قلمبند کرلیا۔ پہلے رومی زبان میں حضرت مسیح کے زمانہ میں ہی کچھ تھوڑا عرصہ واقعہ صلیب کے بعد ایک قرابادین تالیف ہوئی جس میں یہ نسخہ تھا اور جس میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے یہ نسخہ بنایا گیا تھا۔ پھر وہ قرابا دین کئی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئی یہاںتک کہ مامون رشید کے زمانہ میں عربی زبان میں اس کا ترجمہ ہوا۔ اور یہ خدا کی عجیب قدرت ہے کہ ہر ایک مذہب کے فاضل طبیب نے کیا عیسائی اور کیا یہودی اور کیا مجوسی اور کیا مسلمان سب نے اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور سب نے اس نسخہ کے بارے میں یہی بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ان کے حواریوں نے طیار کیا تھا اور جن کتابوں میں ادویہ مفردہ کے خواص لکھے ہیں ان کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ ان چوٹوں کے لئے نہایت مفید ہے جو کسی ضربہ یا سقطہ سے لگ جاتی ہیں اور چوٹوں سے جو خون رواں ہوتا ہے وہ فی الفور اس سے خشک ہوجاتا ہے اور چونکہ اس میں مُرّ بھی داخل ہے اس لئے زخم کیڑا پڑنے سے بھی محفوظ رہتاہے۔ اور یہ دوا طاعون کے لئے بھی مفید ہے۔ اور ہر قسم کے پھوڑے پھنسی کو اس سے فائدہ ہوتا ہے ۔یہ معلوم نہیں کہ یہ دوا صلیب کے زخموں کے بعد خود ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے الہام کے ذریعہ سے تجویز فرمائی تھی یا کسی طبیب کے مشورہ سے طیار کی گئی تھی۔ اس میں بعض دوائیں اکسیر کی طرح ہیں۔ خاص کر مُرّ جس کا ذکر توریت میں بھی آیا ہے۔ بہرحال اس دواکے استعمال سے حضرت مسیح علیہ السلام کےزخم چند روز میں ہی اچھے ہوگئے۔ اور اس قدر طاقت آگئی کہ آپ تین روز میں یروشلم سے جلیل کی طرف ستر کوس تک پیادہ پا گئے۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد 15صفحہ 57،56)

پھر فرمایا:
’’غرض مرہم عیسیٰ حق کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان شہادت ہے۔ اگر اس شہادت کو قبول نہ کیا جائے تو پھر دنیا کے تمام تاریخی ثبوت اعتبار سے گر جاویں گے کیونکہ اگرچہ اب تک ایسی کتابیں جن میں اس مرہم کا ذکر ہے قریباً ایک ہزار ہیں یا کچھ زیادہ۔ لیکن کروڑہا انسانوں میں یہ کتابیں اور ان کے مؤلّف شہرت یافتہ ہیں۔ اب ایسا شخص علم تاریخ کا دشمن ہوگا جو اس بدیہی اور روشن اور پُرزور ثبوت کو قبول نہ کرے۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد15 صفحہ 61)

مرہم عیسیٰ جو کہ مریم حواریین، مرہم رسل اور مرہم سلیخا یا شلیخا یا سلیخہ یا سلیخا کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اس کا ذکر تقریباً 2000 سال سے طبی کتب میں پایا جاتا ہے اور اس کا نسخہ طب یونانی کی یونانی، لاطینی، سریانی، عربی اور عبرانی کی ’’قرابادین‘‘ میں موجود ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں۔
’’فاضل حکماء عہد اسلام نے جیسا کہ ثابت بن قرہ اور حنین بن اسحاق ہیں جن کو علاوہ علم طب و طبعی و فلسفہ وغیرہ کی یونانی زبان میں خوب مہارت تھی جب اس قرابادین کا جس میں مرہم عیسیٰ تھی ترجمہ کیا تو عقلمندی سے شلیخا کے لفظ کو جو ایک یونانی لفظ ہے جو باراں کو کہتے ہیں بعینہٖ عربی میں لکھ دیا تا اس بات کا اشارہ کتابوں میں قائم رہے کہ یہ کتاب یونانی قرابادین سے ترجمہ کی گئی۔ اسی وجہ سے اکثر ہر ایک کتاب میں شلیخا کا لفظ بھی لکھا ہوا پاؤ گے۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد 15صفحہ 61)

’’شلیخا کا لفظ جو یونانی ہے جو باراں کو کہتے ہیں۔ ان کتابوں میں اب تک موجود ہے۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں،روحانی خزائن جلد 15صفحہ 62)

موجودہ زمانہ میں جماعت احمدیہ نے اس راز سے پردہ اٹھایا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ:
’’یہ مرہم ایسا واقعہ مشہورہ تھا کہ کوئی فرقہ اور کوئی قوم اس سے منکر نہ ہو سکی۔ ہاں جب تک وہ وقت نہ آیا جو مسیح موعود کے ظہور کا وقت تھا اس وقت تک ان تمام قوموں کے ذہن کو اس طرف التفات نہیں ہوئی کہ یہ نسخہ جو صدہا کتابوں میں درج اور مختلف قوموں کے کروڑہا انسانوں میں شہرت یاب ہوچکا ہے اس سے کوئی تاریخی فائدہ حاصل کریں۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد 15صفحہ 64)

’’مسیح کا آسمان سے نازل ہونا بھی ان ہی معنوں سے ہے کہ اُس وقت آسمان کے خدا کے ارادہ سے کسرِ صلیب کے لئے بدیہی شہادتیں پیدا ہو جائیں گی۔ سو ایسا ہی ہوا۔ یہ کس کو معلوم تھا کہ مرہم عیسیٰ کا نسخہ صد ہا طبّی کتابوں میں لکھا ہوا پیدا ہو جائے گا۔‘‘

(راز حقیقت، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ164 بقیہ حاشیہ)

پھر کتاب کے اختتام پر تحریر فرمایا کہ
’’اس مرہم کی تفصیل میں کھلی کھلی عبارتوں میں طبیبوں نے لکھا ہے کہ ’’یہ مرہم ضربہ سقطہ اور ہر قسم کے زخم کے لئے بنائی جاتی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے طیار ہوئی تھی یعنی اُن زخموں کے لئے جو آپ کے ہاتھوں اور پَیروں پر تھے۔‘‘ اس مرہم کے ثبوت میں میرے پاس بعض وہ طبّی کتابیں بھی ہیں جو قریباً سات سو برس کی قلمی لکھی ہوئی ہیں۔ یہ طبیب صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ عیسائی، یہودی اور مجوسی بھی ہیں جن کی کتابیں اب تک موجود ہیں۔ قیصر روم کے کتب خانہ میں بھی رومی زبان میں ایک قرابادین تھی اور واقعہ صلیب سے دو سو برس گذرنے سے پہلے ہی اکثر کتابیں دنیا میں شائع ہو چکی تھیں۔ پس بنیاد اس مسئلہ کی کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے اوّل خود انجیلوں سے پیدا ہوئی ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اور پھر مرہم عیسیٰ نے علمی تحقیقات کے رنگ میں اس ثبوت کو دکھلایا۔‘‘

(راز حقیقت، روحانی خزائن جلد14 صفحہ172)

ایک تحقیق کے مطابق خیال ہے کہ 1894ء اور 1895ء میں قادیان میں مرہم عیسیٰ کی تیاری حضرت حکیم نورالدین ؓ کی نگرانی میں شروع ہوئی اور اسے مالش کی شکل میں تیار کیا گیا۔ یہی وہ سال ہیں جب حضرت مسیح موعودؑ نے مرہم عیسیٰ کو تاریخی ثبوت کے طور پر پیش فرمایا تھا۔ 1898 ءسے 1901ء تک حکیم محمد حسین جو کہ حضرت حکیم نورالدین ؓ کے شاگرد تھے انہوں نے اس پر تحقیق کر کے لاہور میں اپنے دواخانہ میں اس کی تیاری شروع کی اور لمبے عرصہ تک ان کے دواخانہ میں یہ مرہم تیار ہوتی رہی۔ بلکہ حضرت حکیم نورالدین ؓ نے آپ کو اس کی سند بھی دی تھی کہ زبدۃ الحکماء حکیم محمد حسین صاحب مہتمم کارخانہ مرہم عیسیٰ نے علم وعمل طب اور آپ کے تجربات کا بہت بڑا حصہ آپ سے براہ راست حاصل کیا تھا۔ 1900ء میں اس مرہم کے نام وجہ تسمیہ کی تشہیر کی وجہ سے ان پر مقدمہ بھی ہوا اور اس طرح ہندوستان خصوصاً لاہور اور سیالکوٹ کے اخباروں میں اس کا خوب چرچا ہوا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ آپ حکیم مرہم عیسیٰ کے نام سے مشہور ہوئے۔ حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے اس مقدمہ میں فتح کی پہلے ہی اطلاع کر دی تھی۔

1978ء میں خلافت ثالثہ کے دور میں لندن میں کسر صلیب کانفرنس کے موقع پر ایک دفعہ پھر سید عبد الحئی شاہ صاحب اور حکیم محمد اسلم فاروقی صاحب نے مرہم عیسیٰ پر تحقیق کی اور مرہم تیار کی۔ اس سلسلہ میں مکرم سید عبد الحئی شاہ ایم اے کا ایک مضمون ماہنامہ انصار اللہ مارچ 1978ء کے شمارہ میں شائع ہوا۔ جس میں سے بعض حصے ہدیہ قارئین کئے جاتے ہیں۔

مرہم عیسیٰ کے بہت سے نسخے قرابادینوں میں ملتے ہیں۔ بعض نسخوں میں بارہ اور بعض میں سترہ اجزا کا ذکر ہے۔ لیکن مستند نسخوں میں بارہ حواریانِ مسیح علیہ السلام کی نسبت بارہ ہی اجزاء مانے جاتے ہیں۔(القانون مجموعہ بقائی۔قرابا دین قادری وغیرہ) غالباً اسی لئے ابن جزلہ نے منہاج البیان میں اس مرہم کو مرہم اثنا عشری کے نام سے یاد کیا ہے۔(جمع الجوامع و ذخائر الترکیب معروف قرابا دین کبیر حکیم محمد حسین خان جلد2 صفحہ576) سب سے مستند نسخہ شیخ الرئیس بو علی سینا کی مشہور عالم کتاب القانون کا ہی قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں مذکور تفصیلی نسخہ حسب ذیل ہے۔

i۔ شمع: موم سفید۔Wax محلل۔ ملین اور رام صلبہ و مسکن اوجاع ہے۔

ii۔ مقل ازرق: Gum Gugal (نباتاتی نام)

Balsamo Dendron Mukul

Mukul مر Myrrh سے مشابہ ایک درخت کا گوند ہے۔ جالی، ملین و ملطف و محلل اورام اور مرہم رسل کا جزو اعظم ہے۔ضماداً طاغونی رسولیوں کو تحلیل کرتی ہے۔ اس کی دھونی کیڑوں کو مارتی ہے۔

iii۔ مردا سنج:Plumbi Oxidumمردار سنگ، چمکدار وزنی ڈلیاں۔ سیسہ سے بنتا ہے۔ اکال، محلل اورام، مرہموں میں استعمال ہوتا ہے۔

iv۔ مر Myrhh: نباتاتی نام Balsamo Dendron Myrhh قابض مجفف، دافع تعفن، نقرس، وجع المفاصل اور عرق النساء میں ضماداً استعمال ہوتا ہے۔

v۔ جاؤ شیر Galbanum ایک قسم کا گوند ہے۔ مسخن و محلل اورام، جالی ہونے کی وجہ سے قروح خبیثہ اور اورام صلبہ پر ضماداً لگایا جاتا ہے۔

vi۔ زراوند طویل:Aristoelchia Longa ایک درخت کی جڑ ہے۔ رطوبت جذب کرتی ہے۔ جمے ہوئے خون اور ریاح کو تحلیل کرتی ہے۔ محلل اور مسخن ہے۔

vii زنجبار: Subacetate of Copper سرکہ اور تانبے سے بنتا ہے، رنگ سبز آبی ہوتا ہے۔

viii۔اشق: Gum Ammonicum رال دار گوند ہے۔ محلل اورام ہے۔اس کا ضماد خنازیر اور صلابت مفاصل میں مفیدہے۔

ix۔ قنہ: گندہ بیروزہ۔ Rasin of Pinuslongifolia مسخن۔ محلل اورام اور مجفف قروح ہونے کی وجہ سے اکثر مرہموں میں استعمال ہوتا ہے۔

x۔ کندر: Olibanum۔ ایک درخت کا گوند ہے۔ خراب زخموں کو درست کرتا ہے۔

xi۔ راتنج: رال Rasin سال درخت کا گوند جو نیم شفاف ڈلیوں میں ہوتا ہے، جن سے تارپین کی بو آتی ہے، قابض دافع تعفن محلل اورام، زخم بھر لاتی ہے۔ گندے مواد سے پاک کرتی ہے اور مواد کو پکاتی ہے۔

xii۔روغن زیتون: Olive Oil اعصاب کو اس کی مالش گرم کرتی ہے۔ محلل اورام ہے۔

قانون ابن سینا میں یہ بارہ اجزاء مذکور ہیں لیکن بعض اور قدیم طبی تصانیف میں روغن زیتون اور موم کو اجزاء میں شمار نہیں کیا گیا۔ کیونکہ وہ تمام مرہموں کی Base ہے۔ انہوں نے کندر کو بھی شامل نہیں کیا اس کی بجائے مندرجہ ذیل اجزاء کا ذکر کیا ہے۔

i۔ لوبان: Banzoin نباتاتی نام: Boswella Glabra ایک رال دار گوند جو الکوحل میں حل ہو جاتا ہے۔ اس میں بنزوئک ایسڈ Benzoic Acid پایا جاتا ہے۔ مرہموں میں ڈالنے سے مرہم سالہا سال خراب نہیں ہوتا۔ دافع تعفن ہے اس کے تیل کی مالش پٹھوں کو تقویت دیتی ہے۔ اس کی دھونی جراثیم کش ہے

ii۔ سکبینج: ہینگ کی مانند ایک بدبو دار گوند، جالی، جاذب، محلل، مسکن، اورام صلبہ کو تحلیل کرتا ہے۔ فالج، وجع المفاصل میں بیرونی طور پر استعمال ہوتا ہے۔ انگریزی نام Segabanum

iii۔ صمغ بطم: علک البطم۔ پستہ کے درخت کا گوند، محلل اورام اور مسکن اوجاع ہے۔

(مفردات کے انگریزی نام اور خواص کتاب المفردات مصنفہ حکیم مظفر احمد اعوان سے لئے گئے ہیں۔)

یہ مرہم خاص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے تیار کی گئی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس مرہم کی ضرورت دعویٰ نبوت کے بعد پیش آئی تھی۔ یہ مرہم حواریوں نے تیار کی تھی۔ دعویٰ نبوت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی حواری موجود نہیں تھا اور دعویٰ نبوت کے بعد آپ کے ساتھ سوائے واقعہ صلیب کے کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس کے لئے اس مرہم کی ضرورت پیش آسکتی ہو۔

(ماہنامہ انصار اللہ مارچ 1978ء)

اب محترم سیدمیر محمود احمد ناصر کی نگرانی میں واقعہ صلیب سیل میں مرہم عیسیٰ پر 1999ء سے وسیع پیمانے پر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ بھر پور تحقیق جاری ہے۔ یہاں مکمل طور پر اس کا احاطہ ناممکن ہے۔ خلاصتاً مرہم حواریین کے حضرت علیہ السلام کے زمانے سے موجود ہونے کا پہلا ثبوت اس اصطلاح کا ہمیشہ چرچ میں موجود رہنا ہے۔ دعائے مرہم حواریین بھی ابتدائی کلیساء میں مروج تھی۔ وہ مسیحی طبیب جنہوں نے اس کا پہلے پہل ترجمہ رومی سے سریانی میں کیا اس کے اصل نام کے اظہار سے خائف تھے۔ اسی وجہ سے پہلے تو اسے مرہم پطرس و پولوس اور بعد ازاں مرہم الرسل بنا دیا گیا۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس کے اجزاء ہمیشہ سے ہی بارہ عدد تھے۔ بو علی سینا کا نسخہ ارتقائی عمل سے گزرا ہے جبکہ داودانطانکی نے جو نسخہ قرابا دین رومی سے لیا ہے وہ مغربی روایت کے زیادہ قریب ہے۔ ابن ماسویہ کا نسخہ اب تک کا قدیم ترین نسخہ ہے جس میں سوسن کے پھول اور ایلوا بھی شامل ہیں ۔ قرابا دین الرومی اور ابن ماسویہ دونوں سکبینج شامل کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مأخذ مشترک ہے۔داودانطاکی قرابا دین الرومی کو نجاشعہ کے دور سے قبل کی قرار دیتا ہے۔ چونکہ ابن ماسویہ النجاشعۃ کا ہم عصر ہے اس لئے قرابا دین الرومی اس سے قبل کی تصنیف ہے۔ ابن ماسویہ اور قرابا دین الرومی کے نسخوں میں اختلاف یہ ظاہر کرتا ہے کہ ابتداء سے اس نسخہ کی دو شکلیں مروج ہوئیں، ایک وہ جس میں گلِ سوسن اور ایلوا شامل تھے اور دوسری وہ جس میں یہ شامل نہیں تھے۔ ثابت بن قرہ اور ابن ماسویہ سے لے کرپہلی صدی عیسوی تک کے اطباء کے حالات و قرابا دینوں کے مطالعہ سے مزید انکشاف کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔

ٹورین شراؤڈ (Shroud of Turin) پر ایک زخمی شخص کی تصویر موجود ہے۔ پہلے خیال یہ تھا کہ تصویر السی کے کپڑے کے دھاگوں کے انتہائی اوپر کے Fiberals پر ہی ہے اور کوئی مواد کپڑے میں سوائے خون کے جذب نہیں ہوا۔ حال ہی میں جب کپڑے کا استرا اُتارا گیا تو ایک ہلکا امیج دوسری طرف بھی موجود نکلا۔ ڈاکٹر فانٹی جو اٹلی کے ایک کیتھولک سائنسدان ہیں اور جنہوں نے یہ امیج دریافت کیا ہے اس دوسرے امیج کی جو بھی توجیہہ کریں۔

یہ بات تو واضح ہو ہی گئی ہے کہ امیج جس طرح بھی بنا وہ کپڑے کے دوسری طرف پہنچا ہے۔ اور یہی وہ کلید ہے جس کی مدد سے اس امکان کا جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ کسی مرہم کا اس امیج کو بنانے میں کوئی کردار ہے یا نہیں۔

مرہم حواریین کی مدد سے امیج بنانے کے متعدد تجربات کئے گئے ہیں۔ جو امیج حاصل ہوئے وہ کسی میڈیم کی مدد سے کئے گئے اب تک کے تجربات میں واضح ترین ہیں۔ اور ایسی تفصیل محفوظ کرتے ہیں جو کہ صرف مرہم نکو دیمس یعنی مر اور لوبان کے مرکب کے استعمال سے ممکن نہیں۔

مرہم حواریین میں ایک جزو مردہ سنگ ہے جسے یونانی میں Lithargeyr اور لاطینی میں Spuma Argenti کہا گیا ہے۔ یہی وہ Stone دھات ہے جس کو پطرس اور بارہ رسولوں کے اعمال میں مسیح کے تمثیلی نام کے طور پر بیان کیا ہے۔ Spuma Argenti کا مطلب ہے چاندی کا جھاگ Slage of silver) یا (Scum of silver)۔

مردہ سنگ کا سیدھا مطلب تھا کسی بھی دھات کا نمک۔ اسے لوہے کے علاوہ کسی بھی دھات سے حاصل کیا جا سکتا تھا۔

Spuma Argenti اس طرح تیار کیا جاتا تھا کہ چاندی کو پگھلا کر بلندی سے گرا کر نیچے ایک برتن میں جمع کیا جاتا تھا۔ پھر اسے spitمیں شعلوں میں ڑرھکا جاتا تھا تا کہ یہ ہلکی ہو جائے اور scum الگ ہو جائے۔ پھر scumکو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑ لیا جاتا۔ اسے پگھلایا جاتا اور راکھ اور تارکول کو اس سے الگ کر لیا جاتا۔ اب اس حاصل شدہ مواد کو سرکے یا سفید شراب، پوٹاشیم، نائٹریٹ، معدنی نمک، جانور کے معدے کے تیزاب، پانی اور پروٹین وغیرہ کے عوامل سے گزار کر اور باریک پیس کر چالیس دن تک سکھایا جاتا ۔ یہاں تک کہ ایک باریک نمک باقی رہ جاتا۔ یہ prepared spuma argenti تھا۔

Pliny the Elder اور Dioscerides دونوں نے سلور نائٹریٹ اور سلور کلورائیڈ کا ذکر کیا ہے۔ یہ مرہم عیسیٰ میں روشنی کے لئے حساس نمک کی موجودگی کا ثبوت ہے۔

مریم حواریین میں تصویر بنانے کی صلاحیت کے امکان اور قدیم ترین نسخہ کی تلاش پر تحقیق سے مزید انکشافات متوقع ہیں۔

(ماخوذ از مضمون ازواقعہ صلیب سیل مجلہ ’’نذرانہ محبت و عقیدت‘‘ برموقع خلافت جوبلی صفحہ 83۔85)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے دور میں اس تحقیق کا دائرہ بہت وسیع کر دیا گیا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے بھی بعض مجالس میں کفن پر بننے والی شبیہہ کے بارہ میں اپنی عظیم الشان تحقیق پیش کی ہے۔ آپ ؒ ایک مجلس عرفان میں فرماتے ہیں:

‘‘بائبل گواہی دیتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم پر بارہ حواریوں کے نسخے سے بنائی ہوئی مرہم ملی گئی اوپر سے لے کر نیچے تک اور یہ کہا گیا بعض لوگوں کی طرف سے مثلاً Saint John اکیلے ہیں جو یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ اس لئے کیا گیا کہ یہود کا دستور تھا کہ وہ اپنے مردوں پر مرہم ملا کرتے تھے۔ یہ کیوں کہا Saint John نے؟ اس لئے کہ تعجب ہوا کہ اگر مر گئے تھے تو مرہم کیوں ملی گئی لیکن باقی تینوں کتب نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ یہود کا دستور تھا۔ اب تمام عیسائی محققین اس بات پر متفق ہیں کہ Saint John کا یہ فقرہ یا تو الحاقی ہے یا وہ Saint John کو علم ہی نہیں تھا اور وہ غیر Jew تھا خود۔کیونکہ یقینی طور پر Jews اپنے مردوں کے اوپر مرہم نہیں ملا کرتے تھے اور پھر ایسی مرہم جو زخموں کو مندمل کرنے کے لئے ہو کیسا لغو فعل ہے۔ اس کے اجزاء موجود ہیں اور مرہم عیسیٰ علیہ السلام کے نام کے ساتھ وہ آج تک ایشیائی دنیا میں بھی موجود ہے اور قرابادین القانون میں اس کے نسخے موجود ہیں یعنی بوعلی سینا کی کتاب میں بھی اس کا ذکر موجود ہے اور دیگر مغربی کتب میں بھی جو پرانی طب کی کتب ہیں ان میں ذکر موجود ہے اور وہ اجزاء تک لکھے ہوئے ہیں مثلاً گندھک اور اس قسم کی دوسری چیزیں جو زخموں کو مندمل کرنے کے لئے درد کودور کرنے کے لئے خون کے بہاؤکو روکنے کے لئے اس قسم کی چیزیں ہیں۔ اب بتائیے کیوں کیا گیا ایسا؟ آپ کے محققین تو کہتے ہیں کہ یہ بالکل ایک زائد فعل ہے جس کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی پھر ان کو چھپا لیا گیا ایسی قبر نما جگہ میں جہاں لوگ بیٹھ سکتے تھے۔ ہمارے ہاں قبر کا اور تصور ہے وہاں پہاڑوں میں غاریں تھیں اور بعض غاروں میں جا کر مردہ رکھ دیتے تھے اور باہر پتھر رکھ دیتے تھے تو حضرت مسیح علیہ السلام کو وہاں رکھا گیا اور یہود کو خبر نہیں ہونے دی کہ کہاں چلا گیا۔‘‘

(مجلس عرفان 18جنوری1983ء)

بہرحال ابھی بہت سی باتیں تحقیق طلب ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ مرہم عیسیٰ حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب سے زندہ بچ جانے پر ایک اعلیٰ درجہ کی شہادت ہے۔

وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ

(پروفیسر مجید احمد بشیر)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 07 جون 2020ء

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 08 جون 2020ء