• 11 اگست, 2020

ہیومینٹی فرسٹ کے تحت امریکہ میں خدمات

خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہیومینٹی فرسٹ کے تحت امریکہ بھر میں رضاکاران خلقِ خدا کی معاشی و طبی خدمات میں مصروف ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر کئی گھنٹے راشن اور پکے ہوئے کھانوں کی تقسیم جاری ہے۔ نیز ہیلپ لائن کے ذریعہ سے ڈاکٹرز و دیگر میڈیکل عملہ کے نمائندگان معلومات بہم پہنچا رہے ہیں۔

کرونا وائرس سے جہاں دنیا بھر میں اندازاً 4 لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں وہیں امریکہ اس فہرست میں 85 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کے ساتھ اوّل نمبر پر ہے۔ ہیومینٹی فرسٹ کے یہ رضاکار اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھے امریکن عوام کے شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ملک کے متعدد مقامات پر جماعتِ احمدیہ کی مساجد میں اور دیگر حکومتی و رفاہی اداروں سے مل کر کئی ایک جگہوں پر راشن تقسیم کرنے کے سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جن میں رواں ہفتہ کے دوران 333,582 راشن یا پکے ہوئے کھانے تقسیم کیے گئے جن میں 280 رضاکاران نے 38,150 گھنٹوں سے زائد کام کیا۔ الحمد للہ علی ذالک۔

ان قائم کردہ سینٹرز میں نمایاں طور پر مسجد ہادی سنٹرل جرسی میں 5,471مستحقین میں راشن اور پکے ہوئے کھانے تقسیم کیے گئے، شکاگو بھر میں 20,743، نیویارک میں 32,610، فلاڈیلفیا میں 6,189، بیت الاحسان سیاٹل میں 3,210، مسجد مسرور ورجینیا میں 95,360 جبکہ بیت الرحمٰن سلور سپرنگ میں 2,288 ضرورتمند افراد میں راشن یا پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔

ہیومینٹی فرسٹ کے کارکنان غذا کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ماسک اور دستانے بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ان سے استفادہ حاصل کرنے والوں میں مقامی ہسپتال و کلینک، پولیس اور ہیومینٹی فرسٹ کے تحت قائم کردہ سینٹرز پر تشریف لانے والے مستحقین افراد شامل ہیں۔

ایک امریکن خاتون نے ہیومینٹی فرسٹ کو ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے ہیومینٹی فرسٹ کی تعریف میں لکھا کہ انہوں نے اپنی کار میں مسجد مسرور ورجینیا کے سامنے سے گزرتے ہوئے گاڑیوں کی ایک لمبی قطار دیکھی جو کہ مسجد میں راشن لینے کے لئے مسجد میں داخل ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔ ان خاتون نے ہیومینٹی فرسٹ اور جماعتِ احمدیہ کی اِس خدمتِ خلق کو بہت سراہا اور اپنے فیس بوک پر بھی یہ مثبت رائے پوسٹ کی۔ ان خاتون نے ہیومینٹی فرسٹ کی ویب سائٹ پر عطیہ بھی دیا۔

فلوریڈا میں ایک خاندان نے ہیومینٹی فرسٹ کے طالبِ علم رضاکاران سے پکا ہوا کھانا لینے کے بعد اس رائے کا اظہار کیا کہ اس وبا کے حالات میں ایک ہفتہ میں یہ کھانا سب سے بہترین تھا۔

ایک اور فرد نے ہمیں بتایا کہ وہ ایک ہسپتال میں کام کرتا ہے اور دو ہفتوں میں اس کی نوکری ختم ہونے والی ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ میکسیکو میں اپنے خاندان کو پیسے بھیجتا ہے اور انہیں یہ نہیں بتانا چاہتا کہ اس کی نوکری ختم ہونے والی ہے۔ ہیومینٹی فرسٹ کی طرف سے ملنے والے ہفتہ وار راشن سے وہ جو پیسے بچا سکتا ہے وہ ان مشکل حالات میں اس کے اور اس کے خاندان کے کام آ سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ دعا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے ان با برکت ایّام میں ہیومینٹی فرسٹ کے رضاکاران کی ان حقیر کاوشوں کو با ثمر فرمائے اور دنیا کو اس مہلک مرض سے محفوظ رکھے۔ آمین

(سید شمشاد احمد ناصر۔امریکہ)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 07 جون 2020ء

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 08 جون 2020ء