• 5 دسمبر, 2021

علم الابدان اور علم الادیان کا گہرا تعلق

minara tul masih qadian

ایک دفعہ مجھے بعض محقق اور حاذق طبیبوں کی بعض کتابیں کشفی رنگ میں دکھلائی گئیں جو طب جسمانی کے قواعد کلیّہ اور اصول علمیہ اور ستہّ ضروریہ وغیرہ کی بحث پر مشتمل اور متضمن تھیں جن میں طبیب حاذق قرشی کی کتاب بھی تھی اور اشارہ کیا گیا کہ یہی تفسیر قرآن ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم الابدان اور علم الادیان میں نہایت گہرے اور عمیق تعلقات ہیں اور ایک دوسرے کے مصدق ہیں۔ اور جب میں نے ان کتابوں کو پیش نظر رکھ کر جو طب جسمانی کی کتابیں تھیں قرآن شریف پر نظر ڈالی تو وہ عمیق در عمیق طب جسمانی کے قواعد کلیہ کی باتیں نہایت بلیغ پیرایہ میں قرآن شریف میں موجود پائیں۔

(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد23 صفحہ103)

میرا مذہب یہ ہے کہ کوئی بیماری لا علاج نہیں۔ ہر ایک بیماری کا علاج ہو سکتا ہے۔ جس مرض کو طبیب لا علاج کہتا ہے اس سے اسکی مراد یہ ہے کہ طبیب اسکے علاج سے آگاہ نہیں ہے۔ ہمارے تجربہ میں یہ بات آ چکی ہے کہ بہت سی بیماریوں کو اطباء اور ڈاکٹروں نے لا علاج بیان کیا مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے شفا پانے کے واسطے بیمار کیلئے کوئی نہ کوئی راہ نکال دی۔بعض بیمار بالکل مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہ غلطی ہے۔ خدا تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ اسکے ہاتھ میں سب شفا ہے۔

سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراس والے ایک ضعیف آدمی ہیں۔ ان کو مرض ذیابیطس بھی ہے اور ساتھ ہی کاربنکل نہایت خوف ناک شکل میں نمودار ہوا اور پھر عمر بھی بڑھاپے کی ہے۔ ڈاکٹروں نے نہایت گہرا چیرا دیا اور ان کی حالت نہایت خطر ناک ہو گئی یہانتک کہ ان کی نسبت خطرہ کے اظہار کے خطوط آنے لگے۔ تب میں نے ان کے واسطے بہت دعا کی تو ایک روز اچانک ظہر کے وقت الہام ہوا ’’آثار زندگی‘‘۔ اس الہام کے بعد تھوڑی دیر میں مدراس سے تار آیا کہ اب سیٹھ صاحب موصوف کی حالت رو بصحت ہے۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ59 ایڈیشن1988ء)

پچھلا پڑھیں

من ہائم میں مجلس انصاراللہ جرمنی کے 2 روزہ سالانہ اجتماع کا انعقاد

اگلا پڑھیں

بدلے لینے کا کا سوال نہیں اٹھایا