• 18 اکتوبر, 2021

میاں بیوی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تلخ کلامی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’بعض دفعہ گھروں میں میاں بیوی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تلخ کلامی ہوجاتی ہے، تلخی ہو جاتی ہے۔ مرد کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ مضبوط اور طاقتور بنایا ہے اگر مرد خاموش ہوجائے تو شاید اسّی فیصد سے زائد جھگڑے وہیں ختم ہوجائیں۔ صرف ذہن میں یہ رکھنے کی بات ہے کہ مَیں نے حسن سلوک کر ناہے اور صبر سے کام لیناہے۔ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اس بارہ میں ہمیں کیا اسوہ دکھایا۔ روایت ہے کہ ایک دن حضرت عائشہ ؓ گھر میں آنحضرت ﷺ سے کچھ تیز تیز بول رہی تھیں کہ اوپر سے ان کے ابا، حضرت ابو بکر ؓ تشریف لائے۔ یہ حالت دیکھ کران سے رہا نہ گیا اور اپنی بیٹی کو مارنے کے لئے آگے بڑھے کہ توخدا کے رسول کے آگے اس طرح بولتی ہو۔ آنحضرت ؐ یہ دیکھتے ہی باپ اور بیٹی کے درمیان حائل ہوگئے اور حضرت ابو بکر ؓ کی متوقع سزا سے حضرت عائشہؓ کو بچا لیا۔ جب حضرت ابوبکر ؓ چلے گئے تورسول کریمؐ حضرت عائشہؓ سے ازراہ مذاق فرمایا۔ دیکھا آج ہم نے تمہیں تمہارے ابا سے کیسے بچایا؟۔ تو دیکھیں یہ کیسا اعلیٰ نمونہ ہے کہ نہ صرف خاموش رہ کرجھگڑے کو ختم کرنے کی کوشش کی بلکہ حضرت ابوبکرؓ جو حضرت عائشہؓ کے والد تھے ان کو بھی یہی کہا کہ عائشہ کو کچھ نہیں کہنا۔ اور پھر فوراً حضرت عائشہؓ سے مذاق کر کے وقتی بوجھل پن کو بھی دور فرما دیا۔‘‘

(خطبہ جمعہ 23جنوری 2004ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ اختتامی خطاب برموقع جلسہ سالانہ جرمنی مؤرخہ 9؍ اکتوبر 2021ء

اگلا پڑھیں

چھوٹی مگر سبق آموز بات