• 4 مارچ, 2024

اسلام کی فتح عظیم (قسط اول)

اسلام کی فتح عظیم
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت مباہلہ میں ڈوئی کی ہلاکت
قسط اول
(قند مکرّر)

یہ مضمون موٴرخہ 9؍مارچ 2022ء کو الیگزینڈر ڈوئی کی عبرت ناک وفات پر سو سال پورے ہونے پر الفضل آن لائن کی زینت بنا تھا۔ اس مضمون نے قارئین میں بہت پذیرائی پائی اور مقبول ترین کیٹگری میں جگہ حاصل کی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے حالیہ دورہٴ امریکہ کے دوران الفضل کے ایک محبّ نے اپنی سطح پر واٹس ایپ پر بھجوایا۔ جسے ادارہ نے اپنے پلیٹ فارم سے ساری دنیا میں شیئر کیا۔ اسے دوبارہ مسجد فتح عظیم نمبر کا حصہ بنایا جارہا ہے۔ اس مضمون کو درج ذیل لنک پر دیکھا جاسکتا ہے:

https://www.alfazlonline.org/09/03/2022/55897/

اس آخری زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آپ کے غلام صادق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی۔ بانیٔ جماعت احمدیہ مسیح موعود علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا تا آپ پیاسی روحوں کے لئے آبِ بقا مہیا فرمائیں۔ اور جیسا کہ سنت اللہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو بھی آئے گا اسکے ساتھ دنیا ٹھٹھا کرے گی اس کی مخالفت کرے گی۔ لیکن انجام کار خدائی وعدہ کے مطابق كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ۔ ترجمہ: خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ہی ہمیشہ غالب رہے ہیں۔ ان چند سطور میں خاکسار صداقت اسلام کو بیان کرنے کے لئے حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ کا ایک نشان مباہلہ کا ذکر کرنے لگا ہے۔

یہ تو ظاہر ہی ہے جو بھی خدا کی طرف سے آتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو قبولیت دعا کا بھی نشان عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ آپ کی قبولیت دعا اور صداقت اسلام اور اسلام کی فتح عظیم کے لئے یہ حیرت انگیز واقعہ جو دنیا کی نگاہ میں بہت عجیب تھا رونما ہوا میری مراد اس سے ڈاکٹر الیگزینڈر ڈوئی کو حضور علیہ السلام کی دعوت مباہلہ اور اس کے نتیجہ میں ڈوئی کی ہلاکت کے نشان کا بیان ہے۔

ڈاکٹر ڈوئی کون تھا؟

سب سے پہلے خاکسار ڈاکٹر ڈوئی کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہے۔ تاریخ احمدیت میں ڈاکٹر ڈوئی کے بارے میں لکھا ہے کہ:
سکاٹ لینڈ کا ایک شخص جان الیگزینڈر ڈوئی (1847۔1907) تھا جو بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ آسٹریلیا چلاگیا جہاں 1872ء کے قریب وہ ایک کامیاب مقرراورپادری کی حیثیت سے پبلک کے سامنے آیا۔ کچھ عرصہ بعد اس نے یہ اعلان کیا کہ یسوع مسیح کے کفارہ پر ایمان لانے سے بیماروں کو شفا دینے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے اوریہ طاقت اس زمانہ میں اسے بھی عطا کی گئی ہے۔1888ء میں وہ امریکہ کی نئی دنیا میں اپنے خیالات پھیلانے کے لئے سان فرانسکو آگیا۔ سان فرانسکو کے قرب وجوار اوردوسری مغربی ریاستوں میں کامیاب جلسے کرنے کے بعد اس نے 1893ء میں شکا گومیں اپنی خاص سرگرمیاں شروع کردیں ایک مکان کرایہ پر لیا جس کا نام ’’زائن روم‘‘ رکھا۔ ایک اوربلڈنگ میں ’’زائن پرنٹنگ اینڈ پبلشنگ ہاؤس‘‘ کھولا۔ اور ایک اخبار ’’لیوز آف ہیلنگ‘‘ کے نام سے جاری کیا۔تھوڑے ہی عرصہ میں امریکہ کے طول وعرض میں اسے بڑی شہرت حاصل ہوئی اور اس کے ماننے والوں میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ ڈوئی نے یہ کامیابی دیکھ کر 22 فروری 1896ء کو ایک نئے فرقہ کی بنیاد رکھی اوراس کانام ’’کرسچن کیتھو لک چرچ‘‘ رکھا۔1899ء یا1900ء میں اس نے پیغمبری کادعویٰ کیا اور اس فرقہ کو ’’کرسچن کیتھو لک اپاسٹلک چرچ‘‘ کا نام دے دیا۔

اپنی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لئے اس نے ایک صیحون نامی شہر کی بنیاد رکھی اورظاہر کیا کہ مسیح اسی شہر میں نازل ہوگا۔ اس طریق سے اس کے مریدوں کی تعداد بھی بڑھ گئی اور مالی آمد میں یہاں تک اضافہ ہواکہ سال کے شروع میں اسے دس لاکھ ڈالر اپنے مریدوں سے نئے سال کے تحفہ کے طورپرملنے لگا اوروہ ملک میں شہزادوں کی طر ح زندگی بسر کرنے لگا۔ انہی ترقیات کو دیکھ کر اس نے اپنے اخبار ’’لیوز آف ہیلنگ‘‘ میں لکھا۔ ’’اگر یہ ترقی اس طرح جاری رہی توہم بیس 20سال کے عرصے میں ساری دنیا کو فتح کرلیں گے‘‘۔

ڈاکٹر ڈوئی اسلام کا بدترین دشمن

ڈوئی کی باتیں اور تقاریر، اسلام دشمنی سے بھرپور تھیں۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ جھوٹا اور مفتری خیال کرتا تھا۔ بلکہ اپنی خباثت اور گندی گالیوں سے اپنی تقاریر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نا م لیتا تھا اور کہتا تھا کہ اسلام کو ضرور ہلاک ہونا چاہیئے۔

یہ باتیں وہ نہ صرف اپنی تقاریر میں بیان کرتا بلکہ اپنے اخبار میں بھی شائع کرتا۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے حقیقۃ الوحی میں نشان 196کے تحت لکھا آپ فرماتے ہیں:۔
واضح ہو کہ یہ شخص جس کانام عنوان میں درج ہے۔ (ڈاکٹر جان الیگزینڈر ڈوئی امریکہ کا جھوٹا نبی) اسلام کا سخت درجہ پر دشمن تھا اور علاوہ اس کے اس نے جھوٹا دعویٰ پیغمبری کا کیا اور حضرت سیّد النبیّین و اصدق الصادقین وخیر المرسلین وامام الطیّبین جناب تقدّس مآب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو کاذب اور مفتری خیال کرتا تھا اور اپنی خباثت سے گندی گالیاں اور فحش کلمات سے آنجناب کو یاد کرتا تھا۔ غرض بُغض دینِ متین کی وجہ سے اُس کے اندر سخت ناپاک خصلتیں موجود تھیں اور جیسا کہ خنزیروں کے آگے موتیوں کا کچھ قدر نہیں ایسا ہی وہ توحیدِ اسلام کو بہت ہی حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا اور اس کا استیصال چاہتا تھا۔ اور حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا جانتا تھا اور تثلیث کو تمام دنیا میں پھیلانے کے لئے اتنا جوش رکھتا تھا کہ میں نے باوجود اس کے کہ صدہا کتابیں پادریوں کی دیکھیں مگر ایسا جوش کسی میں نہ پایا چنانچہ اس کے اخبار لیئوز آف ہیلنگ موٴرخہ19؍دسمبر1903ء اور14؍فروری 1907ء میں یہ فقرے ہیں۔ ’’میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آوے کہ اسلام دنیا سے نابودہوجاوے اے خدا تو ایسا ہی کر۔ اے خدا اسلام کو ہلاک کر دے‘‘

حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ ’’اور پھر اپنے پرچہ اخبار 12؍دسمبر 1903ء میں اپنے تئیں سچا رسول اور سچا نبی قرار دے کر کہتا ہے کہ ’’اگر میں سچا نبی نہیں ہوں تو پھر رُوئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو خدا کا نبی ہو۔‘‘

حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس کے میرے دل کو دُکھ دینے والی ایک یہ بات تھی جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ وہ نہایت درجہ پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا اور میں اس کا پرچہ اخبار لیئوز آف ہیلنگ لیتا تھا اور اُس کی بد زبانی پر ہمیشہ مجھے اطلاع ملتی تھی۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 504-505)

حضرت مسیح موعودؑ کی طرف سے ڈوئی کو مباہلہ کا چیلنج

جب ڈوئی اپنی شوخیوں اوربے باکیوں میں یہاں تک پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت کا ایک زبردست جوش پیدا کیا۔ چنانچہ حضور ؑ نے ستمبر1902ء کو ایک مفصل اشتہار لکھا جس میں حضور ؑ نے تثلیث پرستی پر تنقید کرنے اور اپنے دعویٰ مسیحیت کا تذکرہ کرنے کے بعد تحریر فرمایا۔
’’حال میں ملک امریکہ میں یسوع مسیح کا ایک رسول پیدا ہواہے جس کا نام ڈوئی ہے۔اس کا دعویٰ ہے کہ یسوع مسیح نے بحیثیت خدائی دنیا میں اس کو بھیجا ہے تاسب کو اس بات کی طرف کھینچے کہ بجز مسیح کے اور کوئی خدا نہیں …… اور بار بار اپنے اخبار میں لکھتا ہے کہ اس کے خدا یسوع مسیح نے اس کو خبر دی ہے کہ تمام مسلمان تباہ اور ہلاک ہوجائیں گے اور دنیا میں کوئی زندہ نہیں رہے گا بجزان لوگوں کے جو مریم ؑ کے بیٹے کو خدا سمجھ لیں اور ڈوئی کو اس مصنوعی خدا کا رسول قرار دیں۔‘‘

حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’سوہم ڈوئی صاحب کی خدمت میں بادب عرض کرتے ہیں کہ اس مقدمہ میں کروڑوں مسلمانوں کے مارنے کی کیا حاجت ہے ایک سہل طریق ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہوجائے گا کہ آیا ڈوئی کا خدا سچا ہے یا ہماراخدا۔ وہ بات یہ ہے کہ وہ ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کو باربار موت کی پیش گوئی نہ سناویں بلکہ ان میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کردیں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرجائے کیوں کہ ڈوئی یسوع مسیح کو خدامانتا ہے مگر میں اس کو ایک بندہ عاجز مگر نبی مانتا ہوں۔اب فیصلہ طلب یہ امر ہے کہ دونوں میں سے سچا کون ہے۔چاہیئے کہ اس دعاکو چھاپ دے اورکم سے کم ہزار آ دمی کی اس پر گواہی لکھے۔ اورجب وہ اخبار شائع ہوکر میرے پاس پہنچے گی تب میں بھی بجواب اس کے یہی دعاکروں گا اور ان شاء اللہ ہزار آدمی کی گواہی لکھ دوں گا اور میں یقین رکھتا ہو ں کہ ڈوئی کے اس مقابلہ سے تمام عیسائیوں کے لئے حق کی شناخت کے لئے راہ نکل آئے گی۔ میں نے ایسی دعاکے لئے سبقت نہیں کی بلکہ ڈوئی نے کی۔ اس سبقت کو دیکھ کر غیور خدانے میرے اندر یہ جوش پیدا کیا۔ اوریادرہے کہ میں اس ملک میں معمولی انسان نہیں ہوں میں وہی مسیح موعود ہوں جس کا ڈوئی انتظا رکررہا ہے۔ صرف یہ فرق ہے کہ ڈوئی کہتا ہے کہ مسیح موعود پچیس برس کے اندراندر پیدا ہو جائے گا اورمیں بشارت دیتا ہوں کہ وہ مسیح پیدا ہوگیا اور وہ میں ہی ہوں۔ صدہا نشان زمین سے اور آسمان سے میرے لئے ظاہرہوچکے۔ ایک لاکھ کے قریب میرے ساتھ جماعت ہے جو زور سے ترقی کر رہی ہے۔‘‘

پھر فرمایا: ’’اگر ڈوئی اپنے دعویٰ میں سچاہے اور درحقیقت یسوع مسیح خداہے تو یہ فیصلہ ایک ہی آدمی کے مرنے سے ہوجائے گا۔کیا حاجت ہے کہ تمام ملکوں کے مسلمانوں کو ہلاک کیا جائے لیکن اگر اس نے نوٹس کا جواب نہ دیا یا اپنے لاف وگزاف کے مطابق دعاکردی۔اورپھر دنیا سے قبل میری وفات کے اٹھایا گیا تو یہ تمام امریکہ کے لئے ایک نشان ہوگا۔مگر یہ شرط ہے کہ کسی کی موت انسانی ہاتھوں سے نہ ہوبلکہ کسی بیماری سے بجلی سے یا سانپ کے کانٹے سے یا کسی درندہ کے پھاڑ نے سے ہواور ہم اس جواب کے لئے ڈوئی کو تین ماہ تک مہلت دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خداسچوں کے ساتھ ہو۔ آمین۔‘‘

حضرت اقدس ؑ نے یہ اشتہار براہ راست ڈوئی کو بھیجوادیا لیکن ڈوئی نے اس طریق فیصلہ کی طرف بھی ذرا توجہ نہ کی بلکہ حضور کو براہ راست اس کا جواب تک نہ دیا۔ اس پر مستزادیہ کہ اسلام کے خلاف پہلے سے زیادہ بدزبانی شروع کردی۔ چنانچہ اپنے ستمبر 1902ء کے پرچہ میں لکھا کہ:۔
’’میرا کام یہ ہے کہ میں مشرق اورمغرب اورشمال اورجنوب سے لوگو ں کو جمع کروں اور مسیحیوں کو اس شہر اور دوسرے شہروں میں آباد کروں یہاں تک کہ وہ دن آجائے کہ مذہب محمد ی دنیا سے مٹا دیا جائے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 242-243)

حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے مباہلہ کے چیلنج کو امریکہ کے اخبارات میں بھی شائع کرایا اور اس کی اشاعت وسیع پیمانے پر ہوئی۔ بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ آپ کی دعوت مباہلہ کی دھوم امریکہ و یورپ ہر جگہ مچ گئی۔

حضرت مسیح موعودؑ نے حقیقۃ الوحی صفحہ 505تا 508 پر 32 اخبارات کا ذکر فرمایا ہے جن میں حضور علیہ السلام کی دعوت مباہلہ اور آپ کے چیلنج کا ذکر ہے نیز فرمایا کہ یہ اخبار صرف وہ ہیں جو ہم تک پہنچے ہیں۔ اس کثرت سے معلوم ہوتا ہے کہ سینکڑوں اخباروں میں یہ ذکر ہوا ہوگا۔ چند اخبارات کے نام یہ ہیں۔

(1) شکاگو انٹرپریٹر 28؍جون 1903ء۔ عنوان کیا ڈوئی اِس مقابلہ میں نکلے گا؟ دونوں تصویریں پہلو بہ پہلو دے کر لکھتا ہے کہ مرزا صاحب کہتے ہیں ڈوئی مفتری ہے اور میں دعا کرنے والا ہوں کہ وہ اُسے میری زندگی میں نیست و نابود کردے اور پھر کہتے ہیں کہ جھوٹے اور سچے میں فیصلہ کا یہ طریق ہے کہ خدا سے دعا کی جاوے کہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاوے۔

(2) ٹیلیگراف 5؍جولائی 1903ء۔ مرزا غلام احمد صاحب پنجاب سے ڈوئی کو چیلنج بھیجتے ہیں کہ اے وہ شخص جو مدعیٔ نبوت ہے آ۔ اور میرے ساتھ مباہلہ کر۔ ہمارا مقابلہ دعا سے ہوگا اور ہم دونوں خدا تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ہم میں سے جو شخص کذّاب ہے وہ پہلے ہلاک ہو۔

(3) ارگوناٹ سان فرانسسکو یکم دسمبر1902ء۔ عنوان انگریزی اور عربی (یعنی عیسائیت اور اسلام) کا مقابلہ دعا۔ مرزا صاحب کے مضمون کا خلاصہ جو ڈوئی کو لکھا ہے یہ ہے کہ تم ایک جماعت کے لیڈر ہو اور میرے بھی بہت سے پیرو ہیں۔ پس اس بات کا فیصلہ کہ خدا کی طرف سے کون ہے ہم میں اس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے خدا سے دعا کرے۔ اور جس کی دعا قبول ہو۔ وہ سچے خدا کی طرف سے سمجھا جاوے۔ دعا یہ ہوگی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے خدا اُسے پہلے ہلاک کرے۔ یقینا ً یہ ایک معقول اور منصفانہ تجویز ہے۔

(4)نیویارک کمرشل ایڈورٹائزر 26؍اکتوبر 1903ء۔ اگر ڈوئی اشارتاً یا صراحتاً اس چیلنج کو منظور کرے گا تو بڑے دکھ اور حسرت کے ساتھ ہلاک ہوگا اور اگر وہ اس چیلنج کو قبول نہ کرے گا تو بھی اس کے صیحون پر سخت آفت آئے گی۔

(جو دوست تفصیل کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہوں وہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی کتاب حقیقۃ الوحی میں سے تفصیل پڑھ سکتے ہیں۔)

ڈوئی کا چیلنج

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعوت مباہلہ میں یہ بھی لکھا تھا کہ اسلام سچا ہے اور عیسائی مذہب کا عقیدہ جھوٹا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وہی مسیح موعود ہوں جو آخری زمانے میں آنے والا تھا اور نبیوں کے نوشتوں میں اس کا وعدہ تھا۔ نیز حضور علیہ السلام نے یہ لکھا کہ ڈوئی اپنے دعویٰ رسول ہونے اور تثلیث کے عقیدہ میں جھوٹا ہے اگر وہ مجھ سے مباہلہ کرے تو میری زندگی میں ہی بہت سی حسرت اوردکھ کے ساتھ مرے گا اور اگر مباہلہ بھی نہ کرے تب بھی وہ خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکتا۔

چنانچہ اس کے جواب میں بدقسمت ڈوئی نے دسمبر 1903ء کے کسی پرچہ میں اور نیز 26ستمبر 1903ء وغیرہ کے اپنے پرچوں میں اپنی طرف سے یہ چند سطریں انگریری میں شائع کیں۔ جن کا ترجمہ ذیل میں ہے۔

’’ہندوستان میں ایک بے وقوف محمدی مسیح ہے جو مجھے بار بار لکھتا ہے کہ مسیح یسوع کی قبر کشمیر میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو اس کا جواب کیوں نہیں دیتا اور کہ تو کیوں اس شخص کا جواب نہیں دیتا مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا اگر میں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو میں ان کو کچل کر مار ڈالوں گا۔‘‘

یہ وہ متکبرانہ رویہ تھا جو ڈوئی نے دکھایا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :۔
’’میں ہمیشہ اسبارہ میں خدا تعالیٰ سے دُعا کرتا تھا اور کاذب کی موت چاہتا تھا چنانچہ کئی دفعہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تو غالب ہوگا اور دشمن ہلاک کیا جائے گا اور پھر ڈوئی کے مرنے سے قریباً پندرہ 15دن پہلے خدا تعالیٰ نے اپنی کلام کے ذریعہ مجھے میری فتح کی اطلاع بخشی جس کو میں اس رسالہ میں جس کا نام ہے ’’قادیان کے آریہ اور ہم‘‘ اس کے ٹائٹل پیج کے پہلے ورق کے دوسرے صفحہ میں ڈوئی کی موت سے قریباً دو ہفتہ پہلے شائع کر چکا ہوں اور وہ یہ ہے:۔

تازہ نشان کی پیشگوئی

خدا فرماتا ہے کہ میں ایک تازہ نشان ظاہر کروں گا جس میں فتح عظیم ہوگی وہ تمام دنیا کے لئے ایک نشان ہوگا (یعنی ظہور اس کا صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہوگا) اور خدا کے ہاتھوں سے اور آسمان سے ہوگا چاہئے کہ ہر ایک آنکھ اس کی منتظر رہے۔ کیونکہ خدا اس کو عنقریب ظاہر کرے گا تا وہ یہ گواہی دے کہ یہ عاجز جس کو تمام قومیں گالیاں دے رہی ہیں اس کی طرف سے ہے مبارک وہ جو اس سے فائدہ اُٹھاوے‘‘

(20؍فروری 1907ء)

مباہلہ کے نتیجہ میں ڈوئی کی ذلت آمیز اور عبرتناک موت اور ہلاکت

حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی اور مباہلہ کا چیلنج۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ قادیان کی ایک چھوٹی سی بستی میں بیٹھ کر آپ نے امریکہ کے ڈوئی کو یہ چیلنج دیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کی اشاعت کے سامان تمام دنیا خصوصاً امریکہ اور یورپ میں کر دیئےیہ بھی خدا ہی کا کام تھا۔ کوئی انسان ہرگز ایسا نہ کر سکتا تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ کی دعاؤں کو خداتعالیٰ نےسنا اور اس جھوٹے نبی کو ذلت آمیز اور عبرتناک سزا۔ اور اس کےسارے کاموں پر تباہی آئی۔ اس کی تفصیل تاریخ احمدیت یوں بیان کرتی ہے:۔

ڈوئی کی اخلاقی موت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش گوئی کے مطابق ڈوئی کے خدائی قہر کی زد میں آنے کی اولین صورت خود اس کے ہاتھوں یہ پیدا ہوئی کہ اس کی پیدائش ناجائز نکلی اور وہ ولد الحرام ثابت ہوا۔ یہ حقیقت اخبار ’’نیویارک ورلڈ‘‘ کے ذریعہ سے منکشف ہوئی جس نے ڈوئی کے سات خطوط شائع کئے جو اس نے اپنے باپ ’’جان مرے ڈوئی‘‘ کو اپنی ناجائز ولدیت کے بارہ میں لکھے تھے۔ جب ملک میں اس امر کا چرچا ہونے لگا تو خود ’’ڈاکٹر جان الیگزینڈر ڈوئی‘‘ نے 25؍ستمبر 1904ء کو اعلان کیا کہ وہ چونکہ ڈوئی کا بیٹا نہیں اس لئے ’’ڈوئی‘‘ کا لفظ اس کے نام کے ساتھ ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔

فالج کا حملہ

اس اخلاقی موت کے ایک سال کے بعد یکم اکتوبر 1905ء کو اس پر فالج کا شدید حملہ ہوا۔ ابھی اس کے اثرات چل رہے تھے کہ 19؍دسمبر 1905ء کو اس پر دوبارہ فالج گرا اور وہ اس سخت بیماری سے لاچار ہو کر صیحون سے ایک جزیرہ کی طرف چلا گیا۔

مریدوں کی کھلم کھلا بغاوت

جوں ہی ڈوئی نے صیحون سے باہر قدم رکھا اس کے مریدوں کو تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ ایک نہایت ناپاک اور سیاہ کار انسان ہے۔ وہ مریدوں کو شراب بلکہ تمباکو نوشی سے بھی روکتا تھا مگر خود گھر جا کر مزے سے شراب پیا کرتا تھا۔ چنانچہ اس کے پرائیویٹ کمرہ سے شراب برآمد ہوئی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کے تعلقات بعض کنواری لڑکیوں سے تھے۔ قریباً پچاسی لاکھ روپے کی اس کی خیانت بھی ثابت ہوئی کیوں کہ یہ روپیہ صیحون کے حساب میں کم تھا۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ ایک لاکھ سے زیادہ روپیہ اس نے صرف بطور تحائف صیحون کی خوبصورت عورتوں کو دے دیا تھا۔ ان الزامات سے ڈوئی اپنی بریت ثابت نہ کرسکا۔ اب نتیجہ یہ ہوا کہ اپریل 1906ء کو اس کی کیبنٹ کے نمائندوں کی طرف سے ڈوئی کو تار دیا گیا۔ کہ ہم تمہاری بجائے والوا کی قیادت کو تسلیم کرتے ہیں اور تمہاری منافقت، جھوٹ، غلط بیانیوں، فضول خرچیوں، مبالغہ آمیزیوں اور ظلم و استبداد کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہیں۔ اس تار میں اسے متنبہ کیا گیا کہ اگر اس نے نئے انتظام میں کوئی مداخلت کی تو اس کے تمام اندرونی رازوں کا پردہ چاک کر دیا جائے گا اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

موت

اس نے یہ کوشش کی کہ عدالتوں کے ذریعہ صیحون پر اور روپے پر قبضہ حاصل کر لے مگر اس میں بھی اسے ناکامی ہوئی۔ وہ صیحون کے شہر میں جہاں ہزاروں آدمی اس کے ادنیٰ اشارے پر چلتے تھے واپس آیا تو ایک بھی آدمی اس کے استقبال کے لئے موجود نہ تھا۔ اس نے چاہا کہ اپنے مریدوں کے سامنے اپیل کر کے ان کو پھر اپنا مطیع کر لے مگر چاروں طرف سے اس کے لئے مایوسی ہی مایوسی تھی۔ جسمانی طور پر اس کی حالت ایسی خراب ہوگئی کہ وہ خود اٹھ کر ایک قدم بھی نہ چل سکتا تھا بلکہ اس کے حبشی ملازم اسے ایک جگہ سےاٹھا کر دوسری جگہ لے جارہے تھے۔ اسی حالت میں وہ دیوانہ ہوگیا اور بالآخر 9؍مارچ 1907ء کی صبح کو بڑے دکھ اور حسرت کے ساتھ دنیا سے کوچ کر گیا۔ اور خدا کے مقدس مسیح موعودؑ کے یہ الفاظ ’’کہ وہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس دنیائے فانی کو چھوڑ دے گا‘‘۔ عبرتناک رنگ میں پورے ہوگئے۔

امریکہ اور یورپ کے پریس کا تبصرہ ڈوئی کی ہلاکت پر

ڈوئی کی ہلاکت کا نشان دنیا کی تاریخ میں ایک غیر معمولی نوعیت کا نشان تھا جس نے مغرب کی مادیت پرست دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا اور امریکہ اور یورپ کے بعض اخبارات کو تسلیم کرنا پڑا کہ محمدی مسیح کی پیشگوئی ایسی شان سے پوری ہوئی ہے جس پر وہ جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔

(1) چنانچہ ’’شکاگوٹریبیون‘‘ (10؍مارچ 1907ء) نے لکھا:۔ ’’ڈوئی کل صبح 7بج کر40 منٹ پر شیلو ہاؤس میں مرگیا۔ اس وقت اس کے خاندان کا کوئی فرد بھی موجود نہ تھا۔‘‘

’’ڈوئی کے مرنے کے چند گھنٹے بعد ہی اس کی آراستہ وپیراستہ اقامت گاہ اور اس کے سار ے سامان پر سرکاری ریسیور مسٹرجان ہارٹلے نے صیحون کے قرض خواہوں کے نام پر قبضہ کرلیا۔ جب ڈوئی کی نعش صندوق میں پڑی ہوئی تھی اس وقت سرکاری کسٹوڈین مکان کے احاطہ میں جائداد کی نگرانی کرتا رہا۔

یہ خود مصنوعی پیغمبر کسی اعزاز کے بغیر بالکل کس مپرسی کے عالم میں مرگیا۔ اس وقت اس کے پاس نصف درجن سے بھی کم وفادار پیرو موجود تھے جن میں باتنخواہ ملازمین من جملہ ایک حبشی کے شامل تھے۔ اس کے بستر موت پر کوئی قریبی عزیز نہ آیا۔ اس کی بیوی اور لڑکا جیمل مشی گن کے دوسری طرف والے مکان بین مکدو ہی میں اس عرصہ میں مقیم رہے۔

وہ آدمی جس نے دوسروں کو شفا دینے کا پیشہ اختیار کیا وہ خود کو شفانہ دے سکا۔ اس کی غیر مطیع سپرٹ کو اس بیماری کے آگے سرتسلیم خم کرنا پڑا جو اس کو قریباً دوسال سے دبوچے ہوئے تھی۔ اس کا شفا دینے کا ایمان اس کے فالج اور دوسری پیچیدہ امراض کے سامنے بالکل بے طاقت ثابت ہوا۔‘‘ (ترجمہ)

(2) رسالہ ’’انڈی پینڈنٹ‘‘ (14؍مارچ 1907ء) نے لکھا۔

’’ڈوئی اپنی مذہبی اورمالی طاقت میں آنکھوں کو خیرہ کردینے والے کمال تک پہنچامگر پھر یک لخت نیچے آگرا۔ اس حال میں اس کی بیوی، اس اس کا لڑکا،اس کا چرچ سب اس کو چھوڑ چکے تھے۔ اس نے اپنے مزعومہ پیغمبر ی مرتبہ کے لئے رنگارنگ کا ایسا لباس بنایا ہوا تھا جو یوسف یا ہارون نے کبھی نہ پہنا ہوگا …… شہر صیحون کے لئے اوراپنی ذاتی شان وشوکت کے لئے اس نے ان اموال کو جو اس کی تحویل میں دئیے گئے ناجائز طورپر استعمال کیا۔ ایسے آدمی سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے ناجائز کام کرنا بھی مناسب ہے کیوں کہ ان کو یہ زعم ہوتا ہے کہ ان کا نظریہ اخلاق دنیا کے مسلمہ نظریات سے بہت بلند ہے۔‘‘

(3) امریکن اخبار ’’ٹروتھ سیکر‘‘ (15؍جون 1907ء) نے ’’مرسلین کی جنگ‘‘ کے عنوان سے اداریہ لکھا۔

’’ڈوئی (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مفتر یوں کا بادشاہ سمجھتا تھا۔ اس نے نہ صرف یہ پیش گوئی کی کہ اسلام صیحون کے ذریعہ سے تباہ کردیا جائے گا بلکہ وہ ہر روزیہ دعابھی کیا کرتا تھا کہ ہلال (اسلامی نشان) جلد ازجلد نابود ہوجائے۔ جب اس کی خبر ہندوستانی مسیح کو پہنچی تواس نے اس ایلیاء ثانی کوللکارا کہ وہ مقابلہ کونکلے اور دعاکریں کہ ’’جو ہم میں سے جھوٹا ہووہ سچے کی زندگی میں مرجائے۔‘‘ قادیانی صاحب نے پیش گوئی کی کہ اگر ڈوئی نے اس چیلنج کو قبول کرلیا تو وہ میری آنکھوں کے سامنے بڑے دکھ اورذلت کے ساتھ اس دنیا سے کوچ کرجائے گا۔ اور اگر اس نے چیلنج کو قبول نہ کیا تو تب اس کا اختتام صرف کچھ توقف اختیار کرجائے گا۔ موت اس کو پھر بھی جلد پالے گی اوراس کے صیحون پر بھی تباہی آجائے گی۔ یہ ایک عظیم الشان پیش گوئی تھی کہ صیحون تباہ جائے اور ڈوئی (حضرت) احمد (علیہ السلام) کی زندگی میں مرجائے۔ ’’مسیح موعود‘‘ کے لئے یہ ایک خطرے کا قدم تھا کہ وہ لمبی زندگی کے امتحان میں اس ’’ایلیا ثانی‘‘ کو بلائیں۔ کیونکہ چیلنج کرنے والا ہر دومیں سے کم وبیش پندرہ سال زیادہ عمر رسیدہ تھا۔ ایک ایسے ملک میں جو پلیگ اورمذہبی دیوانوں کا گھر ہو۔حالات اس کے مخالف تھے مگر آخر کاروہ جیت گیا۔‘‘

(4) ’’بوسٹن ہیرلڈ‘‘ نے اپنے سنڈے ایڈیشن (مورخہ23؍جون 1907ء) کے ایک پورے صفحے میں اس پیش گوئی کی تفصیلات درج کیں اور ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پورے قد کا بڑافوٹو بھی شائع کیا اور مندرجہ ذیل دوہرے عنوان کے ساتھ اپنے مضمون کو شروع کیا۔ ’’مرزا غلام احمد المسیح ایک عظیم الشان انسان ہے‘‘۔ ’’آ پ نے پہلے ڈوئی کی حسرت ناک موت کی پیش گوئی کی اور اب طاعون طوفان اور زلازل کی خبر دیتے ہیں’’۔ ’’23؍اگست 1903ء کو مرزاغلام احمد صاحب قادیانی نے الیگزینڈرڈوئی موسوم بہ ایلیا سوم کی موت کی پیش گوئی کی جو اس مارچ میں پوری ہوگئی۔‘‘ نیز لکھا۔

’’یہ ہندوستانی صاحب مشرقی دنیا میں کئی برس سے مشہور ہیں۔ آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ آپ ہی وہ مسیح صادق ہیں جو آخری زمانہ میں آنے والا تھا۔ اور یہ کہ خداتعالیٰ نے آپ کو اپنی تائید سے نوازا ہے۔ امریکہ میں آپ کا تعارف1903ء میں ہوا جب کہ آپ نے ڈوئی سے مقابلہ کیا …… آپ نے نہ صرف ڈوئی کی موت کی پیش گوئی کی تھی بلکہ یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ آپ کی زندگی میں مرے گا اور بڑی حسرت اور درد اور دکھ کے ساتھ مرے گا‘‘. ’’اس وقت ڈوئی59 سال کا تھا اوریہ نبی75 سال کا۔‘‘

’’ڈوئی ایسی حالت میں مرگیا کہ اس کے دوست اس کو چھوڑ چکے تھے اوراس کی جائداد تباہ ہو چکی تھی۔ اس کو فالج اور دیوانگی کا حملہ ہوااور وہ ایسی حالت میں ایک دردناک موت مراکہ اس کا صیحون اندرونی تفرقات سے پارہ پارہ ہوچکا تھا۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ246-250)

(باقی کل ان شاءاللّٰہ)

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر۔ مبلغ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

محبت ہو تو ایسی کہ ہر ادا دل کو لبھائے (قسط 1)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 نومبر 2022