• 20 مئی, 2024

الفضل کی ایک ننّھی اور معصوم مجاہدہ

حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم (والدہ ماجدہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ) کی عظیم قربانیوں کا تذکرہ

’’روزنامہ الفضل‘‘ کی تاسیس کے سلسلہ میں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ جن بزرگوں کی مالی قربانی کا ذکر خیر ریکارڈ فرمایا کرتے تھے ان میں حضورؓ کی حرم حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہؓ کا نام تو نمایاں طورپر سامنے رہتا رہا لیکن آپ کی صاحبزادی محترمہ ناصرہ بیگم کا نام بوجہ آپ کی کم عمری بلکہ آپ کی شیرخوارگی کے زمانہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ہی نظروں سے اوجھل رہا۔ شاذ ہی کبھی اس طرف توجہ گئی ہوگی کہ الفضل کے اجراء کے لئے جن لوگوں نے ابتدائی طور پر سرمایہ مہیا کیا ان میں گو بے شک شعور رکھتے ہوئے تو نہیں لیکن اپنے ماں باپ کے ساتھ آپ نے بھی حصہ لیا اور اس کی تفصیل خود حضرت مصلح موعود ؓنے یوں بیان فرمائی کہ
’’خدا تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اسی طرح تحریک کی جس طرح حضرت خدیجہؓ کے دل میں رسول کریمﷺکی مدد کی تحریک کی تھی۔انہوں نے …اپنے دو زیور مجھے دے دئیے کہ میں ان کو فروخت کر کے اخبار جاری کروں۔ان میں سے ایک تو ان کے اپنے کڑے تھے (سونے کے) اور دوسرے ان کے بچپن کے کڑے سونے کے تھے جو انہوں نے اپنی اور میری لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ کے استعمال کے لئے رکھے ہوئے تھے۔ میں زیورات کو لے کر اسی وقت لاہور گیا پونے پانچ سو کے وہ دونوں کڑے فروخت ہوئے۔‘‘

الفضل کا اجراء 18جون 1913ء سے ہوا۔اُس وقت حضرت صاحبزادی حضرت ناصرہ بیگم ابھی صرف ڈیڑھ پونے دو سال کی تھیں اور شیرخوارگی کے ایّام تھے۔آپ کی والدہ یعنی حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ ؓ جنہیں جماعت میں بالعموم حضرت اُمی جان کے نام سے یاد کیا جاتا تھا نے آپ کے استعمال کے لئے اپنے بچپن کے استعمال کئے ہوئے کڑے ایک قیمتی یادگار کے طور پر اپنی اسی معصوم ننھی شیرخوار بیٹی کے لئے سنبھالے ہوئے تھے۔اگر یہ زیور فروخت نہ ہوتا اور اس بچی کے لئے سنبھال کر رکھا رہتا تو بڑے ہو کر یہ اس بچی کےلئے نہایت ہی قیمتی تحفہ ہوتا جنہیں پہن کر وہ بچی حد درجہ خوش ہوتی کہ جو زیور میری والدہ نے اپنے بچپن میں استعمال کیا تھا وہ اس نے میرے لئے سنبھال کر رکھا۔ اور یقیناًیہ زیور اس بیٹی کے لئے ایک عظیم تحفہ ہوتا اور والدہ نے بھی یقیناًاسی جذبہ کے تحت اپنی اس پیاری بیٹی کے لئے سنبھال کر رکھا ہوگا کہ جب یہ بچی بڑی ہوگی (اور اس جذبہ کی تسکین کے لئے نہ معلوم وہ کتنی ہی بے شمار دعائیں بھی کرتی ہوں گی کہ اللہ تعالیٰ اس بچی کو لمبی عمر عطا فرمائے اور میں یہ زیور اس کو بڑی ہونے پر خود پہناؤں)تو میرے بچپن کا زیور پہن کر یہ کس قدر مسرور ہوگی کہ میری ماں مجھ سے کتنی شدید محبت رکھتی ہے کہ ایک زیور میرے لئے سالہا سال سے سنبھال کر رکھا ہوا ہے ۔

تاہم وہ زیور ایک عظیم الشان مقصد کی نذر ہوگیا ۔نہ معلوم وہ کن ہاتھوں میں چلا گیا ہوگا۔لیکن خدائے بزرگ و برتر نے اس معصوم سی ننھی جان کی اس قربانی کو جو خواہ غیر شعوری طور پر اس سے دلوائی گئی تھی خود اسی بچی کے نام پر ہی قبول فرمایا۔ماں کی قربانی اس کے اپنے نام کے سامنے درج کی گئی آسمانی رجسٹروں میں اور اس شیرخوار بیٹی کی قربانی خود اس کے نام کے سامنے الگ لکھی گئی اور دونوں کے الگ کھاتے شروع ہوئے اور جوں جوں الفضل کی اشاعت اور اس کی عظیم الشان خدمات میں وسعت پیدا ہوتی گئی ان کھاتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے افضال بڑھتے گئے۔

تاریخ احمدیت سے معلوم ہوتا ہے کہ الفضل کے لئے جن مبارک ہستیوں نے سرمایہ مہیا کیا ان میں دو اور وجود بھی تھے ایک تو حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم رضی ا للہ عنہا جنہیں ہم اماں جان کے نام سے یاد رکھتے ہیں آپ نے اپنی ایک زمین مالیتی ایک ہزار روپے الفضل کے لئے عنایت فرمائی اور دوسرے حضرت نواب محمد علی خان جنہوں نے نقد رقم کے علاوہ زمین بھی دیدی جو 1300سو روپیہ میں فروخت ہوئی۔

جہاں تک حضرت سیدہ اماں جان کا تعلق ہے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے دور میں حضرت مسیح موعودؑ کے عقد میں آنے کی بناء پر آپ حضور ؑ کی وفات کے بعد 44 سال تک احمدیت کی فتوحات کا نظارہ کرتی رہیں اور آپ پر ان کا مبارک وجود ہمیشہ جماعت کے لئے ایک تعویذ کاکام دیتا رہا پس آپ کی اس مالی قربانی میں بھی اللہ تعالیٰ نے بے پناہ برکت ڈالی۔خدا کے مسیح نے پہلے سے ہی فرمادیا تھا کہ:

یہ پانچوں جو کہ نسل سیدہ ہیں
یہی ہیں پنجتن جن پر بنا ہے

حضرت نواب محمد علی خان صاحب کو اللہ تعالیٰ نے خاتون مبارکہ کے بطن سے جو ایک مبارک بیٹی عطا کی تھی جو حضرت صاحبزادی منصورہ بیگم کہلائیں وہ حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ کے صاحبزادے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کے عقد میں آئیں جن کو اللہ تعالیٰ نے خلافت ثالثہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔اور جس معصوم بچی کا اوپر ذکر ہوا ہے یعنی حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم وہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے نواسے حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد کے عقد میں آئیں۔ ان دونوں جوڑوں کا نکاح 2جولائی 1934ء کو سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے خود پڑھایا اور اس موقع پر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جسمانی اور روحانی ذریت کو ان کی فی زمانہ عظیم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے کے سلسلہ میں ایک شاہکار خطبہ نکاح ارشاد فرمایا جس کا ایک ایک لفظ حضرت مصلح موعود کے اس درد اور تڑپ کا غماز ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اس زمانہ کے سب سے خطرناک فتنہ دجال کو نیست و نابود کرنے کے لئے حضور کے دل میں موجزن تھا۔اور آپ نے فرمایا کہ گوبظاہر نکاح کے ساتھ اس خطبہ کا مضمون اس خطبہ کے ساتھ مناسبت رکھتا نظر نہ آتا ہو تا ہم حقیقت میں ان دو نکاحوں کے ساتھ اور ان نکاحوں کے ذریعہ آپس میں بندھنے والے وجودوں کے ساتھ اس کے مضمون کا نہایت گہرا تعلق ہے ۔ایک عجیب شاعرانہ توارد ان چاروں وجودوں کے ناموں میں مشارکت کی وجہ سے یہ پیدا ہوا کہ ان رشتوں میں ’’ناصرہ منصورہ‘‘ سے اور ’’منصورناصر‘‘ سے باندھے جارہے تھے۔ ناصر اور ناصرہ دونوں حضرت مصلح موعود کے لخت جگر تھے جبکہ منصورہ آپ کی ہمشیرہ سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے بطن سے حضرت نواب محمد علی خان کی بیٹی تھیں اور منصور آپ کے بھائی حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد کے بیٹے اور حضرت نواب محمد علی خان کے نواسے تھے۔

یہ امر ذہن میں رہنا چاہئے کہ ’’الفضل‘‘ کو یہ نام خود حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے دیا تھا اور اس وقت وہ گروہ خلافت اور خلیفہ وقت کی عظمت لوگوں کی نگاہوں میں گرانے کی کوشش میں تھا اس کے مقابل پر جماعت کو سنبھالا دینے کے لئے حضور نے اخبار کو اپنی بھرپور دعاؤں اور تائیدات سے نوازا اور حضرت سیدنا محمود کو یقین اور تسلی دلائی کہ ’’دعا نصرت الہیہ کی امید بالیقین توکلاً علی اللہ کام شروع کردیں۔‘‘

مورخ احمدیت مولانا دوست محمد شاہد تحریر کرتے ہیں کہ:
’’الفضل کا انتظام مکمل ہوچکا تھا تو احمدیہ بلڈنگ لاہور سے پیغام صلح سوسائٹی کا پراسپکٹس ملا جس میں ’’پیغام صلح‘‘ کے نام سے ایک اور اخبار جاری کرنے کا اعلان تھا۔تب آپ نے (یعنی سیدنا محمود نے۔ناقل) حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر مناسب ہوتو اخبار کو روک دیا جائے لیکن حضور نے اس پر ارشاد فرمایا:
’’مبارک۔ کچھ پرواہ نہ کریں۔ وہ اور رنگ ہے یہ اور۔کیا لاہور میں اخبار بہت نہیں۔‘‘

پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اخبار ’’الفضل‘‘ دراصل ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتا تھا کہ وہ فضل خداوندی جو خلافت علی منہاج النبوۃ کی صورت میں ظاہر ہوا اب جاری و ساری ہے اور اس کا آغاز بھی خلافت کی بھرپور تائید سے ہوا ہے اور اس کی مدد کرنے والے اسم با مسمیٰ کے مصداق جن میں نصرت اور ناصر اور ناصرہ اور منصور اور منصورہ جیسے مبارک وجود شامل ہوئے۔پھر جس نے عملا ًآغآز کیا وہ اگلے ہی سال خود منصب خلافت پر سرفراز کیا گیا جس نے 52 سال تک نہ صرف جماعت کی بلکہ ہندوستان بھر کی ملت اسلامیہ کی نہایت کامیاب اور بھرپور قیادت کی ۔اور جماعت میں خلافت کے ساتھ وابستگی اور اس کی تائید و نصرت کی ایسی زبردست روح پھونکی کہ کوئی سازش خلافت کے خلاف آج تک کامیاب نہ ہوئی اور جب وہ خود دنیا کی نظروں سے اوجھل ہواتو وہی ’’ناصر‘‘جسے نکاح کے خطبہ کے ذریعہ اس کی بنیادی اور واحد ذمہ داری کی طرف بہترین رنگ میں توجہ دلائی گئی تھی اس مشن کو لیکر آگے بڑھا اور دنیا نے احمدیت کی فتوحات کے عظیم نظارے مشاہدہ کئے اور پھر جب وہ بھی اپنا وقت اور کام پورا کرچکا تو جماعت کو اگلے مرحلہ میں داخل ہونے اور ’’طاہر‘‘ کی تائید و نصرت کے لئے کمر بستہ ہونے میں ایک ذرہ بھر مشکل بھی نہیں پیش آئی۔ اور جب ’’طاہر‘‘ کی فتوحات کا دور مکمل ہوا تو ’’ناصرہ‘‘ کا لخت جگر اس عظیم الشان ذمہ داری کو سنبھالنے کے لئے تیار ہوچکا تھا۔

پس یہ الفضل بھی اسم بامسمیٰ ثابت ہوا ۔اس کے اجزاء سے گویا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ایک نیا باب کھل گیا اور جن لوگوں نے اس کے اجراء میں حصہ لیا ۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے عجیب وغریب فضلوں سے نوازا اور ان سے خدمت دین کے عظیم الشان کام لئے گئے۔ دشمنوں نے کئی طریقوں سے اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو ایک بپھرے ہوئے سیلاب کی طرح نئی نئی جہتیں اختیار کرتا چلا جاتا ہے اور ہر طرف آہنی زرخیزیاں پھیلاتا جارہا ہے ۔حضرت مصلح موعود فرماتے تھے کہ ’’آج لوگوں کے نزدیک الفضل کوئی قیمتی چیز نہیں مگر وہ دن آرہے ہیں اور وہ زمانہ آنے والا ہے جب الفضل کی ایک جلد کی قیمت کئی ہزار روپے ہوگی۔ لیکن کوتہ بین نگاہوں سے یہ بات ابھی پوشدہ ہے‘‘سیدنا حضرت مسرور ایدہ اللہ حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کے لخت جگر کو آج اس ’’الفضل‘‘ کی اشاعت کے نئے سے نئے رنگ متعارف کرنے کی توفیق مل رہی ہے یہ یقیناً انہی دعاؤں کی قبولیت ہے جو آپ کے مقدس بزرگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیں اور جن کی قبولیت کا للہ تعالیٰ نے ہم جیسے کمزروں کو بھی گواہ بنادیا ہے۔ فالحمد للہ علی ذلک۔

مرتبہ:مرزا نصیر احمد چٹھی مسیح۔لندن

پچھلا پڑھیں

بھیرہ ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا وطن اوّل

اگلا پڑھیں

زندگی بخش ہے فضل کی نہر ہے