• بدھ 19 فروری 2020   (25 جمادى الآخرة 1441)

روزنامہ ہونے پر حضرت مصلح موعودؓ کا پیغام

روزنامہ ہونے پر حضرت مصلح موعودؓ کا پیغام اللہ تعالیٰ اس کوجماعت کے لئے نفع مند اوراحمدیت کے لئے موجب ترقی کرے

روزنامہ الفضل8مارچ 1935ء کو روزنامہ کے طور پر شائع ہونا شروع ہوا اس موقع پر حضرت مصلح موعود نے ذیل کا مضمون رقم فرمایا جو 8مارچ 1935ء کے شمارہ میں شائع ہوا۔ اس کا متن پیش خدمت ہے۔
الفضل جسے میں نے اپنی بیوی کے زیورات فروخت کر کے، حضرت (اماں جان) نے اپنی زمین فروخت کرکے اور برادرم مکرم نواب محمد علی خان صاحب حفظہ اللہ نے بھی کچھ نقد دے کر اور کچھ زمین فروخت کر کے ہفتہ وار جاری کیا تھا۔ ہفتہ وار سے سہ روزہ ہوا۔ سہ روزہ سے دو روزہ ہوااور اب روزانہ شائع ہوتا ہے۔ لکڑیوں اور لوہے کی کشتیوں اور جہازوں کے چلنے پر جب ہمارے رب نے ہمیں سکھایا۔ کہ ہم کہیں کہ بِسمِ اللٰہِ مَجرِھَا وَ مُرسٰھا ۔ تو اس کاغذی ناؤکے لئے اور وہ بھی اس تلاطم کے وقت میں کیوں اس دعا کی ضرورت نہیں؟ اسی لئے میں نے عنوان پر اس دعا کو درج کیا ہے اللہ تعالیٰ اس کشتی کا مددگار ہواور اسے وَالفُلکِ اللتِی تَجرِی فِی البَحرِ بِمَا یَنفَعُ النَاسَ(البقرہ:165) کا مصداق بنائے اور اس کو جماعت کے لئے نفع مند اور (احمدیت) کے لئے موجب ترقی کرے۔ اللھم آمین
میں دوستوں سے امید کرتا ہوں کہ وہ کوشش کریں گے کہ ’’الفضل‘‘ کی خریداری ترقی کرے۔ یہاں تک کہ روزانہ کے بعد پھر دو روزہ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ اور اب جو روزنامہ ہوا ہے تو روزانہ ہی رہے کیونکہ ہماری ضرورتیں اب ایک روزانہ اخبار کی بہ شدت داعی ہیں۔ علاوہ اس کی باقاعدہ اشاعت بڑھانے کے دوستوں کو تمام بڑے شہروں میں اس کی ایجنسیاں کھولنے کی بھی ضرورت ہے۔ میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ بےکارنوجوان کام کریں ایک یہ کام ان کے لئے خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اگر روزانہ دو چار آنہ بھی وہ کما سکیں تو یہ ان کے مال کی زیادتی ، اخلاق کی درستی اور ان کے والدین کے بوجھ کی کمی کا موجب ہو گا۔ کاش میری اس نصیحت کی قیمت ہماری جماعت کے ذہنوں میں آجائے اور ہزاروں نوجوان جو گھروںمیںبیٹھے آئندہ کی خوابیں دیکھ رہے ہیں اور حقیقتاً خود کشی کر رہے ہیں۔ اپنی بیوقوفیوں سے با خبر ہو کر اپنے پر اور اپنی جماعت پر بھی رحم کریں۔ اللھم آمین
روزانہ اخبار کے لئے مضامین کی بھی ضرورت زیادہ ہو گی دوستوں کو اپنے اپنے حلقہ کی خبروں سے بھی عملاً اخبار کو اطلاع دیتے رہنا چاہئے اور مضامین بھی لکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ادارۂ اخبار کے ساتھ بھی اور ہمارے ہر کام کو بابرکت کرے، مستقل کرے اور با ثمر بنائے۔ اللھم آمین

خاکسار
مرزا محمود احمد
خلیفۃ المسیح

(8مارچ 1935ء)

پچھلا پڑھیں

اے فضل عمرؓ ! تجھ کو جہاں یاد کرے گا

اگلا پڑھیں

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی الفضل کے لئے رہنمائی