• 23 اکتوبر, 2020

سیدناحضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ارشادات کی روشنی میں

عقیدہ ناسخ و منسوخ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں
قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ (الحجر:10) یعنی ہم نے ہی قرآن شریف کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

’’لَہُ لَحَافِظُوْنَ کا لفظ صاف طور پر دلالت کرتا ہے کہ صدی کے سر پر ایسے آدمی آتے رہیں گے جو گمشدہ متاع کو لائیں اور لوگوں کو یاد دلائیں۔‘‘

(احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 469)

آخرین کے دور میں قرآن کریم کے سب سے بڑے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و امام مہدی ہیں۔ آپ کے حلقہ ارادت میں کئی عاشق قرآن شامل ہو گئے جن میں ایک حافظ قرآن حضرت حکیم مولانا نور الدین بھیروی تھے جو بعد میں آپ کے پہلے خلیفہ منتخب ہوئے جن کی ساری عمر قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے میں گزر گئی۔ اُس دور کا ایک مسئلہ ناسخ ومنسوخ تھا۔ بعض لوگوں نے 500 کے قریب آیات کو منسوخ قرار دیا ہوا تھا۔ سیوطی اور ابن عربی کے نزدیک 31 آیات اور شاہ ولی اللہ دہلوی کے نزدیک 5آیات منسوخ تھیں۔ اس کی بنیاد وہ قرآن کریم میں البقرہ کی آیت 107 اور بعض دوسری آیات پر رکھتےتھے۔ اور ناسخ ومنسوخ کا انکار کرنے والوں کو بدعتی کہتے تھے۔ اللہ تعالی کی عجیب شان ہے کہ یہ مسئلہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے زمانے میں اور آپؑ کے ذریعے سے حل ہوا۔ اس مضمون میں حضرت مولانا حکیم نور الدین بھیروی کی ریسرچ قبل از احمدیت کو پیش کرنا مقصود ہے۔

آپؓ فرماتے ہیں۔
’’مدینہ میں ایک ترک کو مجھ سے بہت محبت تھی اس نے کہا اگر کوئی کتاب پسند ہو تو ہمارے کتب خانہ سے لے جایا کریں گو ہمارا قانون نہیں ہے مگر آپ کے اس عشق و محبت کی وجہ سے جو آپ کو قرآن سے ہے آپ کو اجازت ہے۔ میں نے کہا کہ مسئلہ ناسخ ومنسوخ کے متعلق کوئی کتاب دو انہوں نے مجھے ایک کتاب دی جس میں 600 آیات منسوخ لکھی تھیں۔ مجھے یہ بات پسند نہ آئی ساری کتاب کو پڑھااور مزا نہ آیا۔ میں اس کتاب کو واپس لے گیا اور کہا میں جوان آدمی ہوں اور خدا کے فضل سے یہ 600 آیتیں یاد کر سکتا ہوں مگر مجھے یہ کتاب پسند نہیں۔ وہ بہت بوڑھے تھے اور ماہر شخص تھے انہوں نے ایک اور کتاب دی جس کا نام اتقان تھا۔ ایک مقام اس میں بتایا جہاں ناسخ ومنسوخ کی بحث تھی۔ خوشی ایک ایسی چیز ہے کہ میں نے فوزالکبیر کو جو پچاس روپے کی خریدی تھی ابھی پڑھا بھی نہیں تھا۔ میں اتقان کو لایا اور پڑھنا شروع کیا اس میں لکھا تھا کہ 19 آیتیں منسوخ ہیں۔ میں اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور میں نے سوچا کہ 19 یا 20 آیتوں کو تو فوراً یاد کر لوں گا۔ گو مجھے خوشی بہت ہوئی مگر مجھ کو ایسا قلب اور علم دیا گیا تھا پھر بھی وہ کتاب پسند نہ آئی۔ اب مجھ کو فوز الکبیر کا خیال آیا اس کو بھی تو پڑھ کر دیکھیں اس کو پڑھا تو اس کے مصنف نے لکھا تھا کہ خدا تعالی نے جو علم مجھے دیا ہے اس میں 5 آیتیں منسوخ ہیں۔ یہ پڑھ کر تو بہت خوشی ہوئی میں نے جب ان پانچ پر غور کی تو خدا تعالی نے مجھے سمجھ دی کہ یہ ناسخ و منسوخ کا جھگڑا ہی بے بنیاد ہے۔ کوئی 600 بتاتا ہے کوئی 19 یا 21 اور کوئی پانچ اس سے معلوم ہوا کی یہ صرف فہم کی بات ہے۔

میں نے خدا تعالی کے فضل سے یہ قطعی فیصلہ کر لیا کہ ناسخ ومنسوخ کا معاملہ صرف بندوں کے فہم پر ہے ان پانچ نے سب پر پانی پھیر دیا۔ یہ فہم جب مجھے دیا گیا تو اس کے بعد میں ایک زمانہ میں لاہور کے اسٹیشن پر شام کو اترا۔ بعض اسباب ایسے تھے کہ چینیاں والی مسجد میں گیا شام کی نماز کے لئے وضو کر رہا تھا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے بھائی میاں علی محمد نے مجھ سے کہا کہ جب عمل قرآن و حدیث پر ہوتا ہے تو ناسخ ومنسوخ کیا بات ہے میں نے کہا کچھ نہیں۔ وہ پڑھے ہوئے نہیں تھے گو میر ناصر کے استاد تھے انہوں نے اپنے بھائی سے ذکر کیا ہوگا یہ ان دنوں جوان تھے اور بڑا جوش تھا میں نماز میں ہی تھا اور وہ جوش سے ادھر ادھر ٹہلتے رہے۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو کہا کہ ادھر آؤ تم نے میرے بھائی کو کہہ دیا کہ قرآن میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ تب بڑے جوش سے کہا کہ تم نے ابو مسلم اصفہانی کی کتاب پڑھی ہے وہ احمق بھی قائل نہ تھا میں نے کہا پھر تو ہم دو ہو گئے پھر اس نے کہا کہ سید احمد کو جانتے ہو مراد آباد میں صدر الصدور ہے میں نے جواب دیا کہ میں رامپور، لکھنو اور بھوپال کے عالموں کو جانتا ہوں ان کو نہیں جانتا اس پر کہا وہ بھی قائل نہیں تب میں نے کہا بہت اچھا تو ہم تین ہو گئے کہنے لگا کہ یہ سب بدعتی ہیں۔ شوکانی نے لکھا ہے کہ جو نسخ کا قائل نہیں وہ بدعتی ہے میں نے کہا تم دو ہو گئے۔ میں ناسخ ومنسوخ کا ایک آسان فیصلہ آپ کو بتاتا ہوں تم کوئی آیت پڑھ دو جو منسوخ ہو اس کے ساتھ میرے دل میں خیال آیا کہ اگر یہ پانچ آیتوں میں سے پڑھ دے تو کیاجواب دوں۔ خدا تعالی سمجھائے تو بات بنے۔ اس نے ایک آیت پڑھی۔ میں نے کہا فلاں کتاب نے جس کے تم قائل ہو اس کا جواب دیا ہے۔ کہنے لگا ہاں۔ پھر میں نے کہا اور پڑھو تو خاموش ہی ہو گیا۔

علماء کو یہ وہم رہتا ہے ایسا نہ ہو کہ ہتک ہو اس لئے اس نے یہی غنیمت سمجھا کہ چپ رہے۔ اس کے بعد بھیرہ میں ایک شخص نے نسخ کا مسئلہ پوچھا اور میں نے اپنے فہم کےمناسب جواب دیا اور کہا پانچ کے متعلق میری تحقیق نہیں۔ تو اس دوست نے کہا کہ آپ ان پانچ پر نظر ڈالیں۔ میں نےتفسیر کبیر رازی میں بہ تفصیل ان مقامات کو دیکھا تو تین مقام خوب میری سمجھ میں آگئے اور دو سمجھ میں نہ آئے۔تفسیر کبیر میں اتناتو لکھا ہے کہ شدت اور خفت کا فرق ہو گیا۔ پھر میں ایک مرتبہ ریل میں بیٹھا ہوا ایک کتاب پڑھ رہا تھا جیسے بجلی کوند جاتی ہے میں نے پڑھا کہ فلاں آیت منسوخ نہیں ہے میں بڑا خوش ہوا کہ اب تو چار مل گئیں صرف ایک رہ گئی۔ بڑی بڑی کتابوں کا تو کیا،جھٹ بھبوں کی پڑھ لیتا ہوں اس طرح ایک کتاب میں وہ پانچویں بھی مل گئی اور خدا کےفضل سے مسئلہ ناسخ ومنسوخ حل ہوگیا۔

(مرقاۃ الیقین فی حیات نور الدین صفحہ 122)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ اَوْ نُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَا اَوْ مِثْلِھَا اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔( البقرہ:107) یعنی جس کسی پیغام کو بھی ہم منسوخ کر دیں یا بھلوادیں تو اس سے بہتر یا اس جیسا پیغام ہم دوبارہ دنیا میں لے آتے ہیں۔ اس آیت کریمہ پر حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مختصر نوٹ لکھتے ہوئے فرمایا ہے۔

’’مفسرین نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ جب قرآن کی کوئی آیت منسوخ کی جائے تو ویسی ہی آیت اور آجاتی ہے لیکن اگر کتاب ہی کی آیت مراد لینی ہو تو اس آیت کے یہ معنے لینے چاہئیں کہ اگر ہم تورات اور انجیل میں سے کسی حصہ کو منسوخ کریں تو قرآن کریم میں یا تو ویسی ہی تعلیم نازل کر دیں گے یا اس سے بہتر نازل کر دیں گے۔ قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں۔ نہ قیامت تک منسوخ ہو گی۔‘‘

(تفسیر صغیر از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)

(انجینئر محمود مجیب اصغر)

پچھلا پڑھیں

ورزش کی اہمیت اور احتیاطی تدابیر

اگلا پڑھیں

الفضل کے ڈیکلریشن کا حصول