• 26 جنوری, 2022

انعامات الہٰیہ کی حفاظت کا ذریعہ

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں۔
’’وَنَسْتَغْفِرُہٗ‘‘ پھر ایک اور تعلیم دی اور وہ استغفار کی تعلیم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وسیع قانون اور زبردست حکم اس قسم کے ہیں کہ انسان بعض بدیوں اور کمزوریوں کی وجہ سے بڑے بڑے فضلوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ جب انسان کوئی غلطی کرتا اور خدا تعالیٰ کے کسی قانون اور حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ غلطی اور کمزوری اس کی راہ میں ایک روک ہوجاتی ہے اور یہ عظیم الشان فضل اور انعام سے محروم کیا جاتا ہے۔ اس لئے اس محرومی سے بچانے کے لئے یہ تعلیم دی کہ استغفار کرو۔ یہ تعلیم بھی اللہ تعالیٰ کا محض فضل ہے۔ استغفار کیا ہے؟ پچھلی کمزوریوں کو جو خواہ عمداً ہوں یا سہواً اور نسیان اور خطا سے۔ غرض ماقدم و آخر جو نہ کرنے کا کام آگے کیا اور جو نیک کام کرنے سے رہ گیا۔ اپنی تمام کمزوریوں اور اللہ تعالیٰ کی ساری نارضامندیوں کو اعلم ولااعلم کے نیچے رکھ کر یہ دعا کرے۔ کہ میری غلطیوں کے بدنتائج اور بد اثر سے مجھے محفوظ رکھ اور آئندہ کے لئے ان غلط کاریوں سے محفوظ فرما۔ یہ ہیں استغفار کے مختصر سے معنے۔‘‘

(خطبات نور صفحہ 103)

پچھلا پڑھیں

اخبار الفضل پر خلفاء سلسلہ کی لازوال عنایات اور بے پایاں محبتیں اور شفقتیں

اگلا پڑھیں

نئے دور میں داخل ہونے کی دُعا