• 4 مارچ, 2024

حمد رب العٰلمین (کلام حضرت مسیح موعودؑ)

کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدء الانوار کا
بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہوگیا
کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا

اُس بہار حُسن کا دل میں ہمارے جوش ہے
مت کرو کچھ ذکر ہم سے تُرک یا تاتار کا

ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف
جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا

چشمۂ خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں
ہر ستارے میں تماشا ہے تری چمکار کا

تونے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑکا نمک
اس سے ہے شورِ محبت عاشقان زار کا

کیا عجب تو نے ہر اک ذرّہ میں رکھے ہیں خواص
کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر اُن اسرار کا

تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں
کس سے کھل سکتا ہے پیچ اس عقدۂ دشوار کا

خوبرویوں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی
ہر گُل و گلشن میں ہے رنگ اُس تری گلزار کا

چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے
ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خم دار کا

(سرمہ چشم آریہ صفحہ 4 مطبوعہ 1886ء)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مارچ 2023