• 25 ستمبر, 2020

حضرت بابو طفیل احمدؓ اترپردیش،انڈیا

حضرت مولوی طفیل احمد رضی اللہ عنہ ولد مکرم منشی نور محمد بھارتی صوبہ اترپردیش کے شہر چندوسی(Chandausi) ضلع مراد آباد (اب یہ ضلع سمبھل میں آگیا ہے) کے رہنے والے تھے اور سپرنٹنڈنٹ سرشتہ چونگی تھے۔ آپ کا بہت مختصر ذکر جماعتی لٹریچر میں محفوظ ہوا ہے۔ آپ کے قادیان حاضر ہونے کا ذکر اخبار الحکم میں ایک جگہ یوں درج ہے۔
جناب شیخ طفیل احمدسپرنٹنڈنٹ سرشتہ چونگی چندوسی سے جو اُس علاقہ میں ایک سرگرم اور مخلص فرد سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ہیں، تین ہفتہ کی رخصت لے کر دار الامان وارد ہوئے اور کُوْنُوا مَعَ الصَّادِقِیْنَ پر عمل کر کے فیض اٹھا رہے ہیں۔

(الحکم 17؍مئی 1905ء)

آپ بہت ہی مخلص اور جماعتی کاموں میں مستعدی سے حصہ لینے والے تھے، جب نظام وصیت کا آغاز ہوا تو آپ اس کے اولین شاملین میں سے تھے، آپ کا وصیت نمبر 153ہے۔ جماعتی کاموں میں اخلاص اور باقاعدگی کی ایک مثال محترم ناظر صاحب بیت المال قادیان کی ایک رپورٹ میں بھی ملتی ہے۔ وہ ایک جگہ چندوسی جماعت کے متعلق لکھتے ہیں۔
’’یہ جماعت بڑی پُرانی جماعت ہے، منشی طفیل احمد سیکرٹری مال ہیں جو نہایت مستعدی سے باقاعدہ کام کرتے اور ہر ایک قسم کے چندے نہایت باقاعدگی کے ساتھ مرکز میں ارسال کرتے ہیں۔ان کی کوششوں کا شکریہ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرماوے۔‘‘

(الفضل 28جنوری 1930ء)

حضرت بابو طفیل احمد رضی اللہ عنہ نے مورخہ 23فروری 1940ء کو بعمر 65 سال وفات پائی۔آپ کی میت قادیان نہ آ سکی جبکہ یادگاری کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگا ہوا ہے۔ آپ کی وفات کی خبردیتے ہوئے آپ کے بیٹے مکرم رفیق احمد صاحب نے لکھا۔
’’میرے والد منشی طفیل احمد سیکرٹری مال جماعت احمدیہ چندوسی ضلع مرادآباد کا 23فروری 1940ء کو انتقال ہوگیا۔ اِنَّا لِلّٰہ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن ۔ آپ بہت پُرانے اور مخلص احمدی تھے، نماز جنازہ میں چند آدمی ہی شریک ہو سکے، بوجہ اختلاف مذہب کافی مخالفت کی گئی۔ میں اور میرے بڑے بھائی وطن سے دور ہونے کی وجہ سے نہ پہنچ سکے، جماعت کے بھائیوں سے استدعا ہے کہ وہ مرحوم کی مغفرت کے لئے دعا فرمائیں اور نماز غائبانہ ادا کریں۔‘‘

(الفضل 14مارچ1940ء)

مرتبہ: غلام مصباح بلوچ۔کینیڈا

پچھلا پڑھیں

صبح اورعشاء کی نماز کی اہمیت

اگلا پڑھیں

اگر خدا کی رؤیت چاہتے ہو تو صبح اور عصر کی نماز کی خوب پابندی کرو