• 4 مارچ, 2024

سمارٹ فون اور اس کے بڑھتے ہوئے نقصانات

ہم سب جانتے ہیں کہ بے شمار ویڈیوز اور آڈیوز واٹس ایپ پر گردش کرتی رہتی ہیں اور بعض تو اس قدر فضول اور لغو ہوتی ہیں کہ دل کو صدمہ ہوتا ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ایسی ہی ایک وڈیو نظر سے گزری جسے دیکھ کرسخت تکلیف ہوئی کہ کم از کم ہم احمدیوں کو تو احتیاط کرنی چاہئے جن کی تعلیم و تربیت پر اس قدر توجہ دی جاتی ہے کہ شائد ہی کہیں دوسری جگہ اس کی مثال مل سکے۔

دیگر روز مرہ کے جماعتی تربیتی پروگراموں کے علاوہ ہر ہفتہ پیارےآقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہماری رہنمائی فرماتے اور ہمیں قرآنی تعلیمات کے علاوہ آنحضرتﷺکی تعلیمات اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کےروحانی مائدہ سے بھی مستفید فرماتے ہیں ۔کم از کم ہم احمدیوں کو تو ان برائیوں سے اپنا دامن پاک رکھنا چاہئے۔

ایسی ویڈیوز میں خاوند اور بیوی کی طنز و مزاح کے رنگ میں نہ صرف توہین کی جاتی ہے بلکہ کردار کشی بھی کی جاتی ہے۔لطیفوں کا انداز بھی سلجھا ہواہوناچاہئے۔ ہم جو کچھ دیکھتے سنتے یا پڑھتےہیں، ہمارے دل و دماغ پر اس کا لا شعوری طورپر اثر ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کا رشتہ نہایت پیارااور مقدس بنایا ہےاور اس میں ایک دوسرے کی عزت و احترام کو لازمی قرار دیا ہے۔ اگر دیکھا جائے توجیون ساتھی ایک سایہ دار درخت کی مانند ہے۔ جس کے سائے تلے بیوی بچے آرام پاتے َہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بعض جگہ پر صورتِ حال مختلف بھی ہو ۔مگر پھر بھی ایک دوسرے کی عزت واحترام ہر دو پر واجب ہے۔ آج ہماری فیملی لائف بھی دیگر قوموں کی طرح متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہےاور اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کےجذبات اور احترام کاخیال نہیں رکھا جاتا۔ اس سے آہستہ آہستہ سارا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ہمیں ایسی وڈیوز یا ایسے لطیفوں یا ایسی تحریروں کو ردّ کر دینا چاہئےجن سے کسی بھی رشتے کی توہین ہوتی ہو اور بھیجنے والوں کی بھی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔اس سے ہمارے بچوں، ہمارے گھروں اور خاندانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے مگر کسی کو چنداں اس کا احساس تک نہیں ہے۔

ان نئی ایجادات کے بے انتہا فوائد بھی ہیں جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ بلکہ اس کاغلط اور بے دریغ استعمال ضرر رساں ہے۔ بلاشبہ اس کے بے شمار فوائد بھی ہیں جس پر ایک الگ مضمون لکھا جا سکتا ہے۔

آج کل موبائل فون ہماری زندگی میں اس قدر اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اس نے انسان کو اپنے شکنجے میں یوں جکڑ رکھا ہے کہ اس کے بغیر ہمیں اپنی زندگیاں ادھوری معلوم ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا میں اس وقت واٹس ایپ اور اس جیسی دیگر ایپس کی وجہ سے جو اخلاقی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ بلاشبہ اس کی وجہ سے ہم نہ صرف اسلامی اخلاق و اقدار سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔بلکہ اس سے ہمارا ذاتی، قومی کردار اور تشخص بھی تباہ ہورہا ہے۔ ہم اپنے ہی گھر میں بیٹھے اپنے گھرسے دور بعض ایسے لوگوں سے روابط بحال کئے ہوئے ہیں جن سے نہ تو ہمارا کوئی خونی رشتہ ہے اور نہ ہی کوئی قریبی تعلق ہے۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو ہماری محبت اور توجہ، اور پیار کے حقیقی طلبگار اورمستحق ہیں وہ ہمارے قریب ہونے کے باوجود ہماری توجہ اور پیار سے محروم ہیں جن کے حقوق خدا تعالیٰ نے خود مقرّر فرمائے ہیں جن کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا ۔ ہم ان سے غافل ہوچکے ہیں۔ اور بعض گھروں کی تو یہ صورت حال ہے کہ انہیں اپنے گھر میں ہونے والے معاملات سے بالکل آگاہی نہیں ہوتی ۔ مگر اپنے گھر سے باہر کی ہر خبر کو جاننااور آگے فارورڈ کرناان کے لئے از حد ضروری ہوتا ہے۔ گھر میں والدین ، بیوی ، بچے ،خاوند سب اس موبائل فون اور واٹس ایپ کی وجہ سے ایک دوسرے کی توجہ سے محروم ہیں ۔ عبادتوں کے حق بھی ادا نہیں ہو رہے۔ جو کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہیں ۔ گھروں میں بےبرکتی اور لاتعلقی کی صورت ظاہر ہورہی ہےاور اکثرگھروں میں اسی وجہ سے فتنہ و فساد برپا ہے۔ شکوک و شبہات ، بد ظنی ، فحاشی اور بے راہروی نے گھروں کا سکون تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ باوجود یہ کہ دنیا اس وقت نہایت مشکل اور خوفناک حالات سے دو چار ہےاور دیکھا جائےتو ہر انسان کسی نہ کسی طور پر اس سے متاثر ہے۔ مگر نہ تو غور وفکر کے لئےوقت ہےاور نہ ہی استغفار اور دعاؤں کے لئے وقت ہے ۔ عبادتوں میں بھی غفلت کا موجب بن رہے ہیں۔

اس عاجزکے خیال میں موبائل فون کی شکل میں شیطان نے جو نقصان آدم و حوا کی اولاد کو پہنچایا ہے شاید ہی اس سے پہلے کبھی پہنچایا ہو۔گھر ٹوٹ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے لئے وقت نہیں ہے۔ باہم شکوے شکایات جنم لے رہے ہیں۔ رشتوں میں دوریاں پیدا ہورہی ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی اس کے فوائد کی نسبت نقصانات کہیں زیادہ ہیں۔ اور اس کے جائز استعمال کے لئے ہر گھر میں کچھ قاعدے اور قوانین وضع ہونے از حد ضروری ہیں ۔

اس پر کچھ پابندیاں ہونی چاہئے اور پابندی ہر شخص کو خود لگانا ہوگی۔اپنے رشتے اور تعلق، اپنے منصب، اپنے مقام کو پہچانتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی ہماری کامیاب معاشرتی زندگی کے لئے نہایت اہم ہے۔ جو فون کے غیر ضروری استعمال کی وجہ سے بلا شبہ متاثر ہو رہی ہے۔ اب یہ فیصلہ ہم میں سے ہر ایک نے ازخود کرنا ہے کہ ہمارے لئے اپنے خدا کو راضی رکھنااور پوری توجہ سے حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنا زیادہ اہم ہے ؟ یا واٹس ایپ اور فون کے دیگر بے مقصداور لغو ایپس پر بے جا وقت ضائع کرنا!

خدا تعالیٰ نےان ایجادات کا انتظام ہماری بہتری اور ترقی کے لئے کیا ہے مثال کے طور پر بجلی ہی کو لے لیجئے۔ کیا ہم اس کے ننگے تار ہاتھ میں لے سکتے ہیں! ہر گز نہیں ! چند سیکنڈ میں ہی یہ ہمیں جلا کر خاکستر کر دے گی مگر اسی بجلی کا استعمال جب بہترین اور محتاط صورت میں کیا جاتا ہے تویہ شہروں بلکہ ملکوں کو روشن کردیتی ہے۔ ہر طرح سے آرام و راحت پہنچاتی ہے۔ہمارا اس پر کنٹرول ہے اور ہم اس سے بے شمار فوائد اٹھاتے ہیں ۔ خیال اس بات کا رکھنا ہےکہ نئی ایجادات پر ہمارا کنٹرول رہے۔ یہ بے لگام گھوڑے کی طرح نہ ہوں بلکہ اس کی لگام ہم مضبوطی سے تھام کر رکھیں کہیں یہ بے قابو ہو کر ہمیں جہاں مرضی لے جا کرمنہ کے بل نہ گرا دے۔

خدا کرے کہ ہم اس سے عظیم الشان ترقی کی منازل طےکریں اور دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابیوں سے ہمکنار ہو سکیں۔

(طاہرہ زرتشت ناز۔ناروے)

پچھلا پڑھیں

اگر خدا کی رؤیت چاہتے ہو تو صبح اور عصر کی نماز کی خوب پابندی کرو

اگلا پڑھیں

’’دیکھو میرے دوستو! اخبار شائع ہوگیا‘‘