• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

جماعت احمدیہ کے دو بزرگ اور دیرینہ خادم کی وفات

جماعت احمدیہ کے دو بزرگ اور دیرینہ خادم

محترم بریگیڈئر (ر) بشیر احمد سابق امیر ضلع راولپنڈی اور
محترم پروفیسر منور شمیم خالد سابق نائب صدر مجلس انصاراللہ پاکستان کی وفات

احباب جماعت کو بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ مؤرخہ 16 فروری 2020ء بروز اتوار جماعت احمدیہ کے دوبزرگان اور دیرینہ خدام محترم بریگیڈئر (ر) بشیر احمد سابق امیر ضلع راولپنڈی بعمر 87سال اور محترم پروفیسر منور شمیم خالد سابق نائب صدر مجلس انصاراللہ پاکستان بعمر 82 سال بقضائے الہیٰ وفات پاگئے۔ اِنَّا للِّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

محترم بریگیڈئر (ر) بشیر احمد کی نمازجنازہ اسی دن بیت العطاء پشاور روڈ راولپنڈی میں دوپہر سوا 12 بجے ادا کی گئی۔ تدفین کے لئے جنازہ ربوہ لایا گیا۔ دونوں بزرگ مرحومین کی نماز جنازہ مؤرخہ 16 فروری کو ہی بعد نماز مغرب مسجد مبارک ربوہ میں ادا کی گئی۔ بعدہ بہشتی مقبرہ دارالفضل میں تدفین عمل میں آئی۔ نماز جنازہ اورتدفین کے موقع پر کثیر تعداد میں احباب نے شرکت کی۔

محترم بریگیڈئر صاحب مرحوم بہت محبت واخلاص کے ساتھ خدمت دین بجالاتےتھے۔ ملنسار، شفیق، خدمت خلق کرنے والے اور ضرورتمندوں کے کام دلجمعی سے کیا کرتے تھے۔ خدمت دین کے معاملات میں بااصول اور وقت کے پابند تھے۔ خود بھی سُرعت سے خدمات کرتے تھے اور اپنے رفقاء کارکو اس کی تلقین کرتے اور سستی برداشت نہ کرتے تھے۔ اپنی عاملہ کے ممبران کو جو کام تفویض کرتے، وقت آنے پے اس کا فالواپ ضرور کرتے کہ کام مکمل ہوا ہے کہ نہیں۔ بہت دعا گو، عبادت گزار اور خلافت سے محبت کرنے والے مخلص وجود تھے۔ آخری عمر تک آپ کی یادداشت خوب تھی۔ جب کسی سے ملاقات کرتے تو ان کے عزیزو اقارب کا نام لے کر حال دریافت کرتے۔

محترم بریگیڈئر (ر) بشیر احمد

اُس وقت کے نائب امیر ضلع محترم بریگیڈیئر (ر) رانا منور احمد نے بتایا: بطور امیر ضلع مجلس عاملہ کی پہلی میٹنگ عین وقت پر شروع کی اور اپنے رفقاء کار کو یہ باور کرایا کہ نہ صرف میٹنگز بلکہ خدمت دین کا ہر ایک کام بروقت کرنے کی عادت ڈالیں۔ آپ جماعتی امور میں فیصلے کرنے میں بہت فعال تھے اور ٹیم ورک کے ساتھ خدمات بجالاتے تھے۔اسی خوبی کی وجہ سے آپ نے امارت ضلع کو بہترین طریقہ سے چلایا۔ آپ کچھ عرصہ سے علیل تھے،بیماری کے باوجود سارے امور ذمہ داری سے ادا کرتے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو دینی اور دنیاوی دونوں میدانوں میں خدمت کےبہت مواقع عطا فرمائے۔بطور آرمی آفیسر آپ نے عرصہ دراز تک اپنے وطن پاکستان کی خدمات میں اہم کردار ادا کیا،آپ کے پسماندگان میں دوبیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔

محترم پروفیسر منور شمیم خالد، محترم شیخ محبوب عالم خالد سابق صدر، صدر انجمن احمدیہ کے بڑے صاحبزادے تھے۔ اپنے والد کی طرح بہت سی خوبیوں کے مالک اور محنت وجانفشانی سے خدمت دین بجا لاتے تھے۔ مجلس انصاراللہ مرکزیہ وپاکستان میں خدمات کا سلسلہ 28سال پر محیط ہے۔ ان خدمات کا آغاز 1981ء سے ہواجب آپ نے مجلس عاملہ میں بطورقائد عمومی خدمت شروع کی۔ مجلس انصاراللہ پاکستان میں خدمات کا یہ سلسلہ 2008ء تک جاری رہا ۔ 1982ء تا 1994ء قائد تعلیم،1995ء تا 2001ء
قائد وقف جدید، 2002ء تا 2004ء آڈیٹر، 2005ء تا 2008ء نائب صدرمجلس انصاراللہ پاکستان کے عہدوں پر خدمات بجالاتے رہے۔ آپ تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر بھی رہے۔ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ بزرگان سلسلہ اور دیگرخدمت کرنے والے احباب کے بارے میں خوب معلومات رکھتے تھے۔جب ملاقات ہوتی ہمیشہ ہنس کر ملتے اور حال احوال دریافت کرتے۔کچھ عرصہ سے صحت خراب ہونے کی وجہ سے بیمار چلے آرہے تھے۔خلیفہ وقت سے محبت و اطاعت اور خدمت دین میں اخلاص ووفااور محنت آپ کی نمایاں خوبیاں تھیں۔ آپ کےپسماندگان میں آپ کی اہلیہ اور ایک بیٹا ہیں۔

محترم پروفیسر منور شمیم خالد

اللہ تعالیٰ دونوں خدمت بجالانے والے بزرگان کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبرجمیل کی توفیق بخشے۔ آمین


پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ