• 25 ستمبر, 2020

حروفِ مقطعات کی تفسیروتشریح ازحضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ

نوٹ:حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نےحروفِ مقطعات کی جو تشریح فرمائی اسے روزنامہ الفضل لندن آن لائن کے شمارہ 30۔اپریل (قرآن نمبر) میں شائع کر دیا گیا تھا۔اس شمارہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی بیان فرمودہ تشریح شامل ہے۔ (ایڈیٹر)

ہرزبان میں کچھ ایسے حروف استعمال ہوتےہیں جو بعض الفاظ کا مفہوم ادا کرتےہیں۔اردومیں یہ حروف مخفف کہلاتے ہیں۔قرآن کریم نےبھی اسی اسلوب پر بعض جگہ ایسےحروف استعمال کئےہیں جن کو مقطعات کہاجاتاہے۔ مثلاً الٓمٓ،الٓرٰ، یٰس۔

قرآن کریم میں کُل30حروف مقطعات ہیں جو29 سورتوں کے آغازمیں آئے ہیں۔اگران حروف کی تکرارنہ کی جائے تویہ کُل 14 حروف ہیں۔

1۔الٓمٓالٓمٓصٓ الٓرٓ الٓمٰرٓ کٰھٰیٰعٓصٓ طٰہٰطٰسٓمٓ طٰسٓ یٰسٓ 10۔صٓ 11۔حٰمٓ 12۔عٰسٓقٓ 13۔قٓ 14۔نٓ

ان کے بنیادی حروف بھی 14حروف ہی ہیں۔
1۔ھ 2۔ن 3۔م 4۔ا 5۔ل 6۔ک 7۔ی 8۔ع 9۔ص 10۔ط 11۔ق 12۔س 13۔ح 14۔ر

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نےمختلف مقامات پر ان حروف کی تشریح فرمائی ہے جوقارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

الٓمّٓ

یہ حروف قرآن میں 6سورتوں کےابتداءمیں آئےہیں۔ہرمقام پرحضورؓنے اس کےمناسبِ حال ترجمہ وتشریح فرمائی ہے۔

1۔البقرۃ 2۔آل عمران 3۔ العنکبوت 4۔ الروم 5۔لقمان 6۔السجدہ

میں اللہ سب سے زیادہ جاننےوالاہوں۔

تشریح:

الٓمّٓ اوراسی قسم کےاورحروف جومختلف سورتوں کےشروع میں آئےہیں مقطعات کہلاتےہیں۔یہ حروف الگ الگ بولےجاتےہیں۔ان میں سےہرحرف ایک لفظ کا قائمقام ہوتاہے۔مثلاً الٓمّٓ میں ‘الف’ اَنَا کاقائمقام ہےاور‘میم’اَعْلَمُ کا۔گویا الٓمّٓ کےتینوں حروف مل کر اَنَا اللّٰہُ اَعْلَمُ کےمعنی دیتےہیں۔یعنی میں اللہ سب سےزیادہ جاننے والا ہوں۔ان حروف کےذریعہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی طرف اختصاراً اشارہ ہوتاہےجواس سورۃ میں بیان ہوتی ہیں جس کےابتداءمیں یہ حروف لائےجاتےہیں۔بعض اوقات بیان شدہ صفت کاپہلاحرف لےلیا جاتاہےاور بعض اوقات کوئی اوراہم حرف۔بعض سورتیں ایسی بھی ہیں جن سےپہلےکوئی مقطعہ نہیں رکھاگیا۔ایسی سورتیں اپنےسےپہلی سورۃ کےتابع ہوتی ہیں جن میں کوئی مقطعہ ہوتاہے۔بعض مفسرین نےان حروف سے علمِ ابجد کےمطابق اعدادنکالےہیں اوران سے بعض واقعات کی طرف اشارہ مرادلیاہے جو ان سورتوں میں بیان ہوئےہیں۔

العنکبوت

میں اللہ سب سےزیادہ جاننےوالاہوں۔

تشریح:
حروفِ مقطعات ایک ایک لفظ یاجملہ کےقائمقام ہیں جیساکہ حدیثِ رسول اللہﷺاورآثارِ صحابہؓ سےثابت ہےیابعض جگہ وہ قائمقام ہوتےہیں اعدادکے۔الٓمّٓ میں ‘الف’ اَنَا کا قائمقام ہےاور ‘ل’اللّٰہ اور’م’ اَعْلَمُ کایعنی میں اللہ سب سےزیادہ جاننےوالاہوں۔

الٓمّٓصٓ(الاعراف)

یہ مقطعہ سورۃ الاعراف کے شروع میں آتاہے۔
ترجمہ:۔میں اللہ سب سےزیادہ جاننےوالااورصادق ہوں۔

تشریح:
الٓمّٓ قائمقام ہے اَنَااللّٰہُ اَعْلَمُ کا جس کےمعنی ہیں میں اللہ سب سےزیادہ جاننے والاہوں اور ‘ص’قائمقام ہےصادق کایعنی میں صادق ہوں۔جوتعلیم میری طرف سے آئےوہ سچ پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ حروف مقطعات کہلاتے ہیں۔

الٓرٰ

یہ مقطعات 5سورتوں کی ابتداء میں بیان ہوئے ہیں۔
1۔یونس 2۔ھود 3۔یوسف
4۔ابراہیم 5۔الحجر
میں اللہ دیکھنےوالاہوں۔
تشریحالٓرٓ۔یہ حروف قائمقام ہیں اَنَااللّٰہُ اَرٰی کے۔یعنی میں اللہ دیکھنے والاہوں۔

الٓمرٓ (الرعد)

میں اللہ جاننےوالااوردیکھنےوالاہوں۔

کٓھٰیٰعٓصٓ (مریم)

اےعالم اورصادق خداتوکافی اورہادی ہے۔
تشریح:۔حروفِ مقطعات میں سےہے۔ ‘ک’سےمراد ‘کافٍ’ اور ‘ہ’سےمراد ‘ہادٍ’ہے۔یاحرفِ نداء ہےاور ‘ع’سےمراد عالم اورص سےمرادصادق ہے۔

گویا کٓھٰیٰعٓصٓ میں یہ مفہوم کیاگیاہےکہ اَنْتَ کَافٍ ھَادٍ(یَاعَلِیمُ) یَا عَالِمُ صَادِقُ یعنی اےعالم اور صادق خداتوکافی اورہادی ہے۔ان حروف کےذریعہ درحقیقت عیسائی عقائدکی تردیدکی گئی ہے۔فتح البیان میں یہ معنی حضرت امّ ہانیؓ سےجورسول کریمﷺ کی پھوپھی زادبہن تھیں روایت کئےگئےہیں۔

طٰہٰ

یہ سورۃ طہٰ کےابتداء میں آیا ہے۔
ترجمہ:اےکامل قوتوںوالےمرد۔

تشریح:
طٰهٰ حروف مقطعات میں سے نہیں ہے بلکہ عرب کے مختلف قبائل میں اس کے معنے یا رجل کے ہیں۔یعنی اے مردِکامل القوی (فتح البیان) کامل قوتوں والے مردسے اس طرف اشارہ ہے کہ مردانگی کی صفات شجاعت ،سخاوت اور بدی کا مقابلہ کامل طورپر محمد رسول الله ﷺمیں پائی جاتی ہیں۔آپ کی بیوی حضرت خدیجہؓ نے جب آپ پر پہلا الہام نازل ہوا اور آپ کچھ گھبرا سے گئے تو الہام سُن کر اور آپ کی یہ حالت دیکھ کر یہ شہادت دی کہ کَلَّاوَاللّٰهِ لَایُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا یعنی آپ کے اندیشے غلط ہیں۔ الله تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَقْرِی الضَّیفَ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ کیونکہ آپ ہمیشہ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور وہ اخلاق جودنیا سے مٹ گئے ہیں ان کو پھر سے قائم کر رہے ہیں اور اگر کوئی شخص بغیرکسی شرارت کے پھنس جاتا ہے تو آپ اس کی مدد کرتے ہیں (بخاری، انسان کی سب سے بڑی گواہ اس کی بیوی ہی ہوسکتی ہے جوہر وقت اس کے حالات کو دیکھتی ہے۔پس یہ گوا ہی سب سے معتبر گواہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریمﷺ داقعہ میں طہٰ تھے یعنی ایک کامل مردمیں جوفضائل پائے جانے چاہیں وہ سب کے سب آپ میں بدرجہ اتم پائے جاتے تھے۔

طٰسٓ (النمل)

طاہراورسمیع (یعنی پاک اوردعاؤں کو سننےوالاخدااس سورۃ کا اُتارنےوالاہے۔)

طٓسٓمٓ

یہ مقطعات سورۃ الشعراء اورالقصص کے شروع میں استعمال ہوئے ہیں۔
طاہر(پاک)،سمیع،مجید(خدا اس سورۃ کو نازل کرنےوالاہے)۔
تشریح:۔یعنی اس سورۃ میں طہارتِ قلب،قبولیتِ دعااورحصولِ بندگی کےذرائع کا ذکرہے۔

یٰسٓ

یہ مقطعہ سورۃ یٰسٓ کے شروع میں ہے ۔
ترجمہ:اےسیّد!
تشریح:‘س’ سیّدٌ کاقائمقام ہے۔اگلی آیتوں میں رسول کریم ﷺ کے سیّد ہونے کی دلیل ہے۔اوروہ دلیل قرآن حکیم ہے۔

صٓ

سورۃ صٓ کےشروع میں یہ مقطعہ استعمال ہواہے۔
ترجمہ:صادق خدا۔
تشریح: ‘ص’کےمعنی صادق کےہیں۔یعنی اس قرآن کوصادق خدا نے اُتاراہے۔

حٰمٓ

یہ مقطعات 6سورتوں کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمائے ہیں۔
1۔المومن 2۔حمٓ السجدۃ 3۔الزخرف
4۔الدخان 5۔الجاثیہ 6۔الاحقاف
یہ سورۃ خداکی حمداوراس کی بزرگی کو ثابت کرتی ہے۔
تشریح: ‘حٰ’ حَمِیدٌ کاقائمقام ہےاورمٓ ،مَجِیدٌ کا

عٓسٓقٓ سےخداتعالیٰ کی علیم،سمیع اورقدیرصفات مرادہیں۔

قٓ

یہ مقطعہ سورۃ ق کے ابتداء میں ہے۔
قادرخدا اس سورۃ کواُتارنےوالاہے۔

نٓ

سورۃ ‘ن’ کی ابتداء اس مقطعہ سے ہوئی ہے۔
ہم دوات کو بطورشہادت پیش کرتےہیں۔

(مأخوذ از تفسیرِصغیر )

(صبغۃ اللہ عتیق)

پچھلا پڑھیں

کورونا،ہرملک کے اندر!

اگلا پڑھیں

قرآن کریم کی روحانی اور مادی تاثیرات