• 25 مئی, 2020

لاک ڈاؤن سے اپنائی گئی خوبیاں و اچھائیاں

کرونا وائرس نے دنیا بھر میں بسنے والے تمام انسانوں کی طرززندگی بدل کر رکھ دی ہے۔ دور حاضر میں تیز ترین زندگی پھر پُرانے اور قدیم زمانہ کی طرف لوٹ آئی ہے۔مخلوق نت نئی ایجادات اور کلوننگ کی وجہ سے اپنے خالق حقیقی کو بھولتی جارہی تھی۔ دہریت پنپ رہی تھی ۔خدا پر یقین صرف ایمان کی حد تک رہ گیا تھا۔ ہر مذہب کے ماننے والے اپنے مذہب کی تعلیمات کو قابل عمل نہ سمجھ کر ان سے دور ہوتے جارہے تھے۔ مسلمانوں پر ہی نگاہ ڈالیں تو خدا پر یقین نام کا اور بدعات کا بازار گرم ہے ۔ اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ سے محبت و عقیدت بہت معیاری،قرآن کریم سے پیار عشق کی حد تک مگر تعلیمات سے عاری۔ چوری،کسادبازاری،ذخیرہ اندوزی،دھوکہ بازی،غیبت،جھوٹ بہت زیادہ ۔ اپنا کاروبار چھوڑ کر نمازوں کے لئے مساجد میں حاضر ہوں گے مگر نمازوں سے واپسی پر منافع خوروں میں شامل ہو جاتے ہیں۔حضرت محمد مصطفیﷺ کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کوہمہ وقت تیار رہتے ہیں مگر آپؐ کی تعلیمات سے دُور ۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم سے عقیدت کی حدتک ظاہراً پیار نظر آئے گا اُسے پڑھیں گے بھی مگر اس میں درج تعلیمات سے عاری۔

اب رمضان کے مبارک دن ہیں ۔ کرونا وائرس کے باعث ملکی قوانین اور کرونا وائرس کے لئے کی گئی تمام پیش بندیوں کو بالائے طاق رکھ کر مساجد میں حاضر ہو کر نمازیں پڑھنے،تراویح پڑھنے پر تُلے نظر آتے ہیں اور پاکستان کے شہر کراچی سے یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ نماز جمعہ کے لئے باوجود ممانعت کے جمع ہونے والے نمازیوں نے پولیس پر ہلّہ بول دیا ہے اور خاتون ایس ایچ او زخمی بھی ہو گئی ہے ۔ لیکن رمضان میں منافع خوری ، جھوٹ بول کر جعل سازی کر کے، اپنے سودے کو سچا اور سُچاسودہ بنا کر بیچنے والے کثرت سے موجود ہیں ۔

لیکن انہی تکلیف دہ حالات میں یہ بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ اس کرونا کی وجہ سے دنیا بھر کے لوگ خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب،فرقہ یا گروہ سے ہو وہ اللہ کے قریب ہوگئے ہیں ۔ اپنی مذہبی عبادات بجا لا رہے ہیں ۔ خوف خدا نے ان کے دلوں میں جگہ بنا لی ہے اور یہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ خدا مخلوق سے ناراض ہے۔ الغرض اگر بالعموم دیکھا جائے تو دنیا اسلامی عقائد و تعلیمات کے قریب آئی ہے۔

احمدیوں ہی کو دیکھیں تو سب سے بڑھ کر اللہ کی طرف پہلے سے بڑھ کر ترغیب ہوئی ہے۔ اپنے گناہوں کی معافی کے طلبگار ہیں ۔ استغفار پڑھ کر اپنے سابقہ گناہوں کی معافی مانگی جا رہی ہے۔ نمازوں کی ادائیگی کی طرف رجحان بڑھا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے نمازوں میں آنکھیں تر ہوئی ہیں۔ نوافل کی ادائیگی کی طرف بھی رغبت بڑھی ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی احباب جماعت کو بار بار توجہ دلائی ہے۔

گویا یہ lock downہم سب کے لئے ایکTraining campثابت ہوا ہے ۔ ہم نے اچھائیاں اپنائی ہیں اور بُرائیوں کو خیر باد کہا ہے ۔ اچھائیوں کا یہ تسلسل (اللہ کرے یہ لاک ڈاؤن جلد ختم ہو)لاک ڈاؤن کے بعد بھی جاری و ساری رہنا چاہئے ۔ ایک مومن کا قدم ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا ہے لہٰذا ہم میں سے ہر ایک یہ دینی اور اسلامی باتیں آئندہ اپنی زندگیوں میں جاری رکھے ۔

اللہ کے حقوق

1۔ اللہ سے ڈرے اور تقویٰ کی باریک راہوں پر چلے ۔
2۔ اللہ کی تسبیحات ،تحمید و تکبیر کرے۔
3۔ پنجوقتہ نمازوں کی شرائط کے مطابق ادائیگی کرے۔
4۔ قرآن کریم کی روزانہ صبح تلاوت ، قرآن کریم کو ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھنا۔ کیونکہ یہ تلاوت آخری روز انسان کے سامنے پیش کی جائے گی ۔
5۔ بالخصوص نماز تہجد اور اسلام و احمدیت کی ترقی کے لئے اورخلافت احمدیہ کے قائم و دائم رہنے کے لئے دو نوافل روزانہ ادا کرنا۔
6۔ جمعہ کی ادائیگی کیونکہ ایک جمعہ چھوڑنے سے مومن کے دل پر ایک داغ لگ جاتا ہے
7۔ خطبہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزباقاعدگی سے سننا ۔ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنا اور عمل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد چاہنا۔
8۔ ایم ٹی اے کو کم از کم ایک گھنٹہ دیکھنے کی عادت جو ڈالی ہے وہ جاری رہے۔
9۔ بعض خواتین نے نماز چاشت و اشراق کی عادت ڈالی ہے وہ جاری رہنی چاہئے۔
10۔کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑھنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ جاری رہے۔
11۔روز نامہ الفضل لندن آن لائن سے جو روزانہ استفادہ کرنا سیکھا ہے وہ جا ری رکھاجائے ۔ یہ مائدہ ہے جو آسمان سے اللہ تعالیٰ نے احمدی بھائی بہنوں کے لئے اُتارا ہے ۔

مخلوق سے ہمدردی

مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے۔ ان کی خدمت بھی ایک عبادت ہے۔ اس Training campمیں ہم نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے محبت، شفقت سے پیش آنا اور ان کے حقوق ادا کرنے کے طریق بھی سیکھےہیں ۔ اس لئے آئندہ اپنی زندگیوں میں ان امور کو بھی طرہ امتیاز بنا یا جائے۔
1۔ غربا پروری
2۔ صدقات وخیرات
3۔ تیمارداری
4۔ بھائی چارہ ، اخوت
5۔ گھروں سےباہر نہ جانے کی صورت میں محافل نہ ہو سکیں تو غیبت،چغلی سے بھی نجات ملی۔جسے دوام ملنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

ذاتی امور

تیسرے نمبر پر اب میں آتا ہوں ایسے امور کی طرف جن کا تعلقself-maintenanceاور یا پھر family bondingسے ہے ۔ جیسے
1۔ صفائی جسے اسلام میں نصف ایمان قراردیا گیا ہے ۔ہم نے نہانا دھونا سیکھا۔ گھر صاف کرنے اور رکھنے سیکھے۔ کپڑے صاف دُھلے ہوئے پہننے لگے۔
2۔ ماحول اور گھر کو جراثیم کش دوائیوں سے صاف کرنا سیکھا۔
3۔ گھروں میں اہل خانہ کا ہاتھ بانٹنا سیکھا۔
4۔ اپنے بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر وقت دینا سیکھا۔
5۔ فاسٹ فوڈاور بازاری کھانوں سے چھٹکارا ملا۔
6۔ خاتون خانہ کی طرف سے رات کا کھانا باہر جاکر کھانے کی تکرار سے نجات ملی اور گھروں میں جو لڑائیاں اس وجہ سے ہو رہی تھیں ان میں کمی آئی ہے۔
7۔ رات کو جلد سونے اور صبح جلد اٹھنے کی عادت کو ہم نے اپنایا ۔ جو صحت کے لئے بہت اچھا ہے۔ اس سے جگر، معدہ ، دل اور دیگر اعضاء جسمانی کو درست کام کرنے کا موقع ملا۔
اس سلسلہ میں بنجامین فرینکین کا ایک قول ہے
“ Early to bed and early to rise,makes a man healthy,wealthy and wise’’
اس میں کتنی سچائی ہے اور کیا واقعی رات کو دیر سے سونے اور دن میں دیر سے اُٹھنے سے صحت کو نقصان ہوتا ہے؟بات در اصل یہ ہے کہ آپ کے جسم جسم کے اندر ایک حیرت انگیز “حیاتیاتی گھڑی” biological clock ٹک ٹک کر رہی ہے یہ گھڑی بہت ٹھیک وقت بتاتی ہے،اگرچہ یہ کوئی مشینی گھڑی نہیں ہے۔آپ کے بہت سے جسمانی افعال کو جس میں نیند کا وقت بھی شامل ہے ،اسی گھڑی کی مدد سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
8۔ نت نئے اور دلچسپ ہنریا مشاغل سیکھنے کا موقع ملا ۔
9۔ ہم میں سے بعضوں نے باہر نکل کر چہل قدمی بھی کی اور صبح کی سیر کی اور بعضوں نے ہلکی پھلکی ورزش کرنی سیکھی۔ مستقبل میں اسے بھولنا نہیں ہے ۔
10۔بعض خواتین نے بھی گھروں میں کام کرنا شروع کیا ۔ کیونکہ نوکر چاکر سے چھٹکارا ملا ۔ اور خود کام کرنے کی عادت اپنائی ۔
11۔ہم میں سے اکثر نے سادگی بھی سیکھی ۔ سادہ کھانے کھائے ۔ پُرانے وقتوں میں پیاز کے ساتھ، لسیّ کے ساتھ، خربوزے کے ساتھ یا آم کے ساتھ کھانا کھا لیا کرتے تھے۔یوں ہم نے قناعت سیکھی اور شکر ادا کیا۔
12۔ہم اپنے بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی صحبت حاصل کرتے رہے ان سے دعائیں لیتے رہے ۔
13۔بعض نے تمباکو نوشی ترک کی۔اسے اب زندگی کا حصہ نہ بنائیں۔
14۔بعضوں کو بلا وجہ ہاتھوں کو ہلانے کی عادت ہوچکی تھی۔ ان کی نماز سےساتھ نمازی disturb ہوتا تھا۔ اب یہ عادت بھی ختم ہو گئی کیونکہ ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ اس وائرس کے دوران منہ پر ہاتھ نہ لگائیں ۔
اس آرٹیکل میں خاکسار قارئین سے درخواست کرنا چاہے گا کہ اس لاک ڈاؤن میں جو سیکھا ہے اسے استقلال بخشیں اور اپنی زندگی میں نظم وضبط پیدا کریں ۔ایک اچھا انسان بن کر اس سے نکلیں۔ نیلسن منڈیلا جب 27سال جیل میں رہ کر باہر آیا تھا تو اپنے اندر بہت تبدیلیاں لا چکا تھا ۔ اس نے اس دوران کتابیں پڑھیں ۔ اپنے علم میں اضافہ کیا اور اپنے آپ کو بہتر بنا کر ایک عظیم لیڈر بن کر دکھایا۔
حدیث میں آتا ہے کہ اَلْاَعْمَالُ بِخَوَاتِھِمَا (مجمع الزوائد کتاب القدر) کہ اعمال کا دارومدار ان کے انجام پر ہے۔انگریزی میں بھی کہتے ہیں All is well that ends well لہٰذا اپنے خاتمہ بالخیر کی فکر کرنی ہو گی اور اپنے مستقبل کو ماضی سے بہتر اور روشن بنانا ہو گا۔

(ابوسعید)

پچھلا پڑھیں

منتخب اشعار

اگلا پڑھیں

لباسِ تقویٰ