• 3 جولائی, 2020

دوسری صدی کے مجدد حضرت امام شافعیؒ

نام ونسب

آپ کا نام محمد، کنیت ابو عبد اللہ اور لقب ناصر الحدیث تھا۔ آپ کے والد محترم ادریس بن عثمان بن شافع تھے۔ اپنے پڑدادا شافع بن سائب کی نسبت کی وجہ سے آپ ’’شافعی‘‘ کہلوائے۔ آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے: ابو عبد اللہ محمد بن ادریس بن العباس بن عثمان بن شافع بن السائب بن عبید بن عبد یزید بن ہاشم بن المطلب بن عبد مناف۔ آپ کا تعلق قریش کی شاخ بنوہاشم سے تھا اور عبد مناف پر جاکر آپ کا سلسلہ نسب رسول کریمؐ سے جاملتا ہے۔ آپ کے جد امجد سائب بن عبید غزوہ بدر میں بنوہاشم کے علمبردار تھے۔جنگ میں قیدی بنے اور فدیہ دے کر رہائی پاکر اسلام قبول کیا۔

آپ کی والدہ ایک صالحہ، حاذقہ ،عالمہ اور مجاہدہ خاتون تھیں۔ بعض مؤرخین کے نزدیک وہ ہاشمیہ تھیں اور ان کا نام فاطمہ تھا جبکہ دیگر مؤرخین کے نزدیک ان کا تعلق یمن کے قبیلہ ازد سے تھا اور ان کی کنیت ام حبیبہ تھی۔ بہرحال ان کا یہی شرف کافی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے ایک عظیم امام کو جنم دیا اور پروان چڑھایا۔

پیدائش

آپ کی پیدائش سے قبل آپ کی والدہ نے خواب میں دیکھا کہ مشتری (ستارہ) ان کے بطن سے نکلا اور مصر پر ٹوٹا اور اس کے روشن ٹکڑے ہر شہر میں جاگرے۔ معبرین نے اس کی تعبیر یہ کی کہ ایک عظیم عالم ان کے بطن سے پیدا ہوگا جو بلاد اسلام کو علم سے بھر دے گا۔

(مناقب شافعی للرازی صفحہ36)

ان پیشگوئیوں کے مطابق امام شافعی150ھ میں فلسطین کے شہر ’’غزہ‘‘ میں پیدا ہوئے۔ 150ھ وہی سال ہے جس میں حضرت امام ابو حنیفہؒ کی وفات ہوئی۔

(توالی التاسیس لابن حجر عسقلانی جزء1 صفحہ49)

تعلیم و تربیت

آپ کے والد ادریس نے روزگار کی تلاش میں مکہ سے فلسطین ہجرت کی تھی اور آپ کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد ہی وفات پاگئے۔ اس کے بعد آپ کی والدہ آپ کو عسقلان کے بعد یمن لے گئیں۔ دس سال کی عمر میں آپ کی والدہ نےاس ڈر سے کہ خاندان سے دوری کے سبب آپ کا شریفانہ نسب بھلا نہ دیا جائے اور اس بات کے پیش نظر کہ امام شافعی کی صحیح تربیت غزہ کی بجائے مکہ میں ہی ہوسکتی ہے جہاں ان کا خاندان اور قبیلہ آباد ہے، مکہ کی طرف رخت سفر باندھا۔ مکہ میں آپ کو ایک ماہرعلم الانساب کے پاس بھیجا گیا اس نے آپ کو طلب علم سے قبل کوئی ذریعہ معاش بنانے کی تلقین کی تو آپ نے فرمایا: ’’میری لذت تو حصول علم میں ہے۔‘‘

(توالی التاسیس جزء1 صفحہ109،110)

پھر ایک مکتب میں آپ غربت کی وجہ سے معلم کی پوری اجرت نہ دینے کی وجہ سے اس کی صحیح نظر التفات نہ پاسکے۔ جب معلم تدریس سے فارغ ہوجاتا توامام شافعی بچوں کو کتاب پڑھایا کرتے ۔اس یتیم ذکی الفہم قریشی بچے کا حافظہ بلا کا تھا۔ معلم بچوں کو کوئی آیت املاء کروا رہا ہوتا تھا تو املاء کے اختتام تک آپ نے وہ آیت حفظ کر لی ہوتی تھی جب معلم نے یہ دیکھا توایک دن کہا کہ میرے لیے جائز نہیں کہ میں آپ سے کوئی اجرت لوں۔ چنانچہ آپ نے سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرلیا اور مؤطا امام مالک دس سال کی عمر میں یاد کر لی۔

(مناقب شافعی للبیھقی جزء1 ص94)

آپ کو علم کے ساتھ کھیل کا بھی شوق تھا۔ تیر اندازی اور گھڑ سواری میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ اسی طرح آپ بھاگتے گھوڑے پر چھلانگ لگاکر سوار ہوجاتے تھے۔ آپ نے اس بارہ میں ایک کتاب ’’کتاب السبق والرمی‘‘ بھی لکھی۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء2 صفحہ127-129)

مبشر خوابیں

آپ کاحقیقی علم تو خدادا تھا جو رسول اللہ ؐ کے توسّل سے آپ کو موہبت ہوا۔ امام شافعی فرماتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہؐ کو خواب میں دیکھا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے لڑکے! تم کس قبیلہ سے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپؐ کے قبیلہ سے۔ آپؐ نے فرمایا: میرے قریب آؤ۔ میں قریب ہوا تو آپؐ نے اپنا لعاب دہن میری زبان، منہ اور ہونٹوں پر لگایا اور فرمایا کہ جاؤ، اللہ تم پر برکت نازل فرمائے۔‘‘

(مناقب شافعی للرازی صفحہ36)

اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک اور دفعہ خواب میں رسول اللہؐ کو مسجد الحرام میں لوگوں کی امامت کرتے دیکھا۔ نماز کے بعد میں رسول اللہؐ کے قریب ہوا اور عرض کی کہ مجھے بھی سکھائیے۔ تو رسول اللہؐ نے اپنی آستین سے ایک میزان (ترازو) نکال کرمجھے عنایت فرمائی اور فرمایا یہ تیرے لیے ہے (اللہ تجھے ہدایت دے)۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں نے ایک معبر کے پاس اپنی یہ خواب بیان کی تو اس نے کہا کہ آپ رسول اللہؐ کی سنت پر قائم ہوتے ہوئے امام اور عالم بنیں گے۔ کیونکہ مسجد الحرام کا امام تمام ائمہ سے افضل ہے اور جہاں تک میزان کا تعلق ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ آپکو علم حقائق الاشیاء سے نوازا جائے گا۔

(مناقب شافعی للرازی صفحہ36)

تعلیم فقہ اور امام مالک کی شاگردی

امام شافعی نحو و ادب سیکھنے کے لیے نکلے تومفتی مکہ مسلم بن خالد زنجی نے شافعی کو ان کی ذہانت اور کمال حافظہ کی وجہ سے علم فقہ سیکھنے کا مشورہ دیا۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ’’میں ساری رات اس بارہ میں سوچتا رہا پھر ایک خواب کی بنیاد پر فقہ سیکھنا شروع کیا‘‘۔ آپ کی ذہانت، ذکاوت اور قوت حفظ کی وجہ سے مسلم بن خالد آپ سے کافی مانوس تھے اور فقہ و حدیث کی تعلیم تین سال تک دی۔ بعد میں آپ کی خواہش پر ایک خط دے کر مدینہ امام مالکؒ کی خدمت میں بھیجا۔ اس وقت آپ کی عمر قریباً 13 برس تھی۔ امام مالک نے امام شافعی کو سب سے پہلی نصیحت یہ کی کہ ’’اے محمد! اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا اور معاصی سے بچتے رہنا۔ یقیناً اللہ عنقریب تمہاری شان ظاہر کردے گا‘‘۔ پھر فرمایا: ’’یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل پر نور ڈالا ہے تم اسے معصیت سے بجھا نہ دینا۔ پس کل جہاں سے مؤطا پڑھنی ہے لے کر آنا‘‘۔ امام شافعی نے کہا کہ میں اپنے حافظہ سے اسے پڑھوں گا۔ اگلے روز جب امام مالک نے آپ سے مؤطا سنی تو آپ کی قراءت انہیں بہت پسند آئی اور انہیں اپنی شاگردی میں لے لیا۔ پھر امام مالک کی وفات تک آپ نے مدینہ میں زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ اس دوران صحابہ کرام، تابعین اور امام مالک ؒ کی فقہ کو اچھی طرح سمجھا اور یاد کیا۔

(مناقب الشافعی للرزای صفحہ39)

امام مالک، مفتی مکہ مسلم بن خالد زنجی اور دیگر فقہائے مدینہ نے آپ کی قابلیت کو جاننے کے بعد متفقہ طور پرپندرہ سال کی عمر میں انہیں فتوی دینے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

(توالی التاسیس جزء1 صفحہ124)

یمن کی طرف سفر اور نجران کی ولایت

امام مالکؒ کی وفات کے بعد غربت کی وجہ سے والی یمن کے ساتھ چلے گئے جہاں آپ نے اپنے مفوضہ امور کو ایمانداری اور محنت سے انجام دیا کہ لوگ بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ کچھ عرصہ بعد نجران کی ولایت آپ کے سپرد ہوئی جہاں بنو حارث اور موالی ثقیف نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آپ کو رشوت دینا چاہی جسے آپ نے قبول نہ کیا اور بغیر کسی رعایت کے عدل و انصاف کا قیام کیا اور سات بااعتماد آدمیوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی جن سے آپ تنازعات کے فیصلہ جات میں مشورہ لیا کرتے تھے اور ان سے فیصلے بھی کروایا کرتے تھے۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1صفحہ107)

قید اور رہائی

آپ کے حسن خلق، عدل و انصاف، طلاقت لسانی اور عالی النسب ہونے کی وجہ سے اہل یمن آپ کے گرویدہ ہوگئے۔ یہ بات حاسدین کو ہضم نہ ہوئی۔ انہوں نے ہارون الرشید کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور یہ باور کرایا کہ علویوں کے ساتھ ایک ایسا شخص ہے جسے محمد بن ادریس الشافعی کہا جاتا ہے جس کی زبان تلوار سے بڑھ کر اپنا کام کر دکھاتی ہے اور خلافت کا خواہاں ہے۔ اگر آپ کو حجازسے کچھ واسطہ ہے تو اس شخص کو اپنے پاس لے جائیں۔ جب ہارون الرشید نے یہ پڑھا تو امام شافعی اور دیگر مشکوک افراد کوگرفتار کرکے ہارون الرشید کے پاس پہنچا دیا۔ ہارون الرشید نے پہلے تو آپ کے قتل کا حکم دے دیا تھا لیکن پھر آپ کا موقف سننا چاہا۔ تب امام شافعی نے ایسی فصیح و بلیغ اور اثر انگیز تقریر کی کہ ہارون الرشید نے قتل کا ارادہ بدل دیا اور قید میں رکھنے کا فرمان صادر کیا اور دارالعامۃ میں محبوس کر دیا گیا۔ پھر محمد بن حسن کے ساتھ ایک علمی مباحثہ ہوا جس میں آپ نے مدلل جوابات دئیے۔ اس پر ہارون الرشید نے امام شافعی کی تعریف کرتے ہوئے پانچ سو دینار انعام دے کر رہا کرنے کا حکم دیا۔

(مناقب الشافعی للآبری جزء 1صفحہ70+توالی التاسیس +مناقب الشافعی للبیھقی،مناقب الشافعی للرازی 40)

جماعت احمدیہ کے دوسرے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ نے تحریر فرمایا:

’’حضرت امام شافعیؒ کو لوگوں نے رافضی کہہ کرقید کروادیا۔‘‘

(مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ،انوار العلوم جلد23 صفحہ 253)

بغداد میں علمی مجالس اور تصنیف

195ھ میں امام شافعی بغداد آکردو سال وہاں رہے پھر مکہ چلے گئے۔ 198ھ میں دوبارہ بغداد آگئے۔ وہاں آپ نے اپنے علم سے علماء اور عوام الناس کو مستفیض کیا۔ علماء کے منتشر گروہوں کو یکجا کیا۔ کتاب اللہ، سنت نبویہؐ اور علم حدیث کی ترویج کی۔ بدعات کے خلاف جہاد کیا۔ علماء آپ کے پاس آکر حدیثوں کا علم پاتے تھے۔ مامون الرشید بھی آپ کی علمی مجالس میں شامل ہوا کرتے تھے۔ آپ کی مجلس میں اہل فقہ، اہل حدیث اور اہل شعر شامل ہوتے تھے اور سب آپ سے سیکھتے اور مستفید ہوتے تھے۔ بغداد میں قیام کے دوران عبد الرحمٰن بن مہدی کی درخواست پر امام شافعی نے ایک مدلل اور آسان فہم ’’کتاب الرسالہ‘‘ لکھی۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1صفحہ230)

مصر میں آمد

200ھ میں امام شافعی مصر چلے آئے۔ آپ سفر کے دوران بھی علمی کام نہایت تندہی سے کیا کرتے تھے۔ آپ نہ دن کو کھانا کھاتے اور نہ رات کو سوتے تھے۔ ساراد ن علمی کام کرتے رہتے تھے۔ اندھیرا ہوتے ہی خادمہ کو کہتے کہ چراغ جلا دو اور علمی کام میں لگ جاتے پھر جب تھک جاتے توچراغ بجھا کر کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹ جاتے پھر کچھ دیر بعد اٹھ جاتے اور خادمہ کو چراغ جلانے کا کہتے اور کام میں مصروف ہوجاتے۔ ربیع بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے کہا کہ اے ابو عبد اللہ! اگر چراغ کو جلتا رہنے دیں تو خادمہ کی مشقت کم ہوجائے گی۔ تو کہا کہ یہ چراغ ہی تو میرے دل کو مشغول رکھتا ہے۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1 صفحہ238)

جب آپ مصر میں داخل ہوئے تو سنت نبویؐ کے مطابق اپنے ننھیال قبیلہ ازد کے پاس اترے۔

مرض الموت اور وفات

حضرت امام شافعی مصر میں200ھ تا 204ھ قریباً چار سال رہے۔ آپ بواسیر کے مرض میں مبتلا تھے۔ اس کے باوجود آپ نے تصنیف کا کام جاری رکھا۔ ’’کتاب الام‘‘ اور ’’کتاب السنن‘‘ وغیرہ ان چار سالوں میں تصنیف و تالیف کیں۔ اور 29رجب 204ھ کو 54سال کی عمر میں آپ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔

(توالی التاسیس جزء1صفحہ194-196)

ازواج و اولاد

آپ کی اہلیہ صنعاء (یمن) کی ایک عثمانیہ عورت تھیں جن کا نام حمدہ بنت نافع بن عنبسہ بن عمرو بن عثمان تھا۔ آپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ آپ کے بڑے بیٹے ابو عثمان محمد شام کے شہر حلب کے قاضی رہے اور دوسرے بیٹے ابو الحسن جو آپ کی ایک جاریہ سے تھے بچپن میں ہی وفات پاگئے۔ بیٹیوں کے نام زینب اور فاطمہ تھے۔

اساتذہ و تلامذة

امام شافعی نے مختلف ممالک کے کثیر علماء و اساتذہ سے اکتساب علم کیا۔ امام شافعی کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جن میں امام احمد بن حنبل بھی شامل ہیں اور اسی وجہ سے آپ کو استاذ الاساتذة بھی کہا جاتا تھا۔

تصانیف

امام شافعی نے مختلف موضوعات پر متعدد کتب لکھیں جن کی تعداد قریباً 104بتائی جاتی ہے اور جہاں بھی آپ جاتے یا قیام فرماتے وہاں تالیف و تصنیف کا کام ضرور جاری رکھتے تھے۔ معروف کتب یہ ہیں: کتاب الرسالہ قدیم، کتاب الرسالہ جدید، کتاب الام، کتاب السنن، کتاب المبسوط، کتاب بیان فرض اللہ، احکام القرآن، جماع العلم، بیاض الغرض، صفۃ الامر والنھی، ابطال الاستحسان، اختلاف الحدیث، اختلاف العراقیین، اختلاف مالک و الشافعی، کتاب الرد علی محمد بن الحسن، کتاب علیّ و عبد اللہ، فضائل قریش وغیرہ۔ آپ نے اپنی اکثر تحریرات اپنی عمر میں ہی املاء کروا دی تھیں۔

نابغۂ روزگار ہستی

امام شافعی علم و فنون کے بحر بیکراں تھے۔ شاید ہی کوئی علم ایسا ہو جس کے متعلق آپ کو کچھ نہ کچھ علم نہ ہو۔ آپ علم قرآن، علم تفسیر، علم تاویل، علم حدیث، علم آثار صحابہ علم تاریخ، علم نجوم، علم طب، علم الشعر، علم نحو، علم ادب، علم انساب، علم قیافہ، علم مناظرہ وغیرہ کے ماہر تھے۔ غرضیکہ آپ ایک جامع العلوم والفنون تھے۔ آپ ایک باکمال محدث اور فقیہہ تھے۔ جنہوں نے علم حدیث کے متعلق بھی بہت کام کیا۔ آپ سے مروی احادیث کو مسند امام شافعی میں جمع کیا گیا۔ آپ نے حدیث کے اصول وضع کیے۔ حدیث قبول کرنے کی شرائط مقرر کیں۔ تطبیق کے اصول و قواعد مقرر کیے۔ جرح و تعدیل کے ماہر تھے۔ آپ نے اس بات کو واضح کیا کہ حدیث قرآن کی ناسخ نہیں ہوسکتی۔ اس زمانہ میں محدثین سوئے ہوئے تھے امام شافعی نے آکر ان کو جگایا۔

(مناقب الشافعی للبیھقی جزء1صفحہ301)

امام شافعی ایک اعلیٰ درجہ کے مناظر بھی تھے اور فصاحت و بلاغت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔ آپ نے کئی اشعار کہے اور قصیدے بھی لکھے۔ محاورات اور امثال کا کثرت سے استعمال کرتے تھے۔ امام شافعی ایک عالم باعمل تھے۔ آپ سنت و حدیث کی حمایت کیا کرتے تھے اور اس پر عمل کرنا اپنا نصب العین سمجھتے تھے۔ اسی لیے آپ کو مکہ میں ’’ناصر الحدیث‘‘ کا لقب ملا۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ ’’اگر تم میری کتاب میں سنت رسولؐ کے خلاف کوئی بات دیکھو تو اسے ترک کردو اور سنت رسول پر عمل کرو۔‘‘

(توالی التاسیس صفحہ63)

حضرت بانیٔ جماعت احمدیہؑ ائمہ اربعہ کے ناموں کی طرف نسبت کے متعلق فرماتے ہیں:
’’امام شافعی اور حنبل وغيرہ كا زمانہ بھی ايسا تھا كہ اس وقت بدعات شروع ہو گئی تھيں۔ اگر اس وقت یہ نام نہ ہوتے تو اہل حق اور ناحق ميں تمیز نہ ہوسكتی۔ ہزار ہاگندے آدمی ملے جلے رہتے۔ یہ چار نام اسلام كے واسطے مثل چار ديواری كے تھے۔ اگر یہ لوگ پيدا نہ ہوتے تو اسلام ايسا مشتبہ مذہب ہو جاتا كہ بدعتی اور غیربدعتی میں تمیز نہ ہو سكتی۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ501)

(باسل احمد بشارت)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 جون 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 جون 2020