• 30 نومبر, 2020

احادیث نبویؐ کی رُو سے قبولیت دعا کے طریق

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی پیدائش کا مقصد عبادت قرار دیا ہے ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقتُ الجِنَّ وَالِانسَ اِلاَّ لِیَعبُدُون(الذاریات:57) کہ میں نے جن و انس کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خود عبادت کا طریق بتایا اور فرمایا الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُکہ دعا ہی عبادت کا مغز ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے بتایا کہ آپ کی زندگی کے تمام پہلو دعاؤں سے بھرے پڑے ہیں ۔ ہر موقع پر رسول اللہ ﷺ کی دعائیں ملتی ہیں۔اسی لئے کتب احادیث میں بھی خاص طور پر دعاؤں کو یکجا کر کے ایک الگ باب کتاب الدعوات کے نام سے ملتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے بعض اوقات کو خاص طور پر قبولیت دعا کے لیے مختص فرمایا۔اسی طرح حضرت مسیح موعودؑکے ارشادات اور روایات سے بھی ہمیں پتہ چلتا ہے کہ بعض اوقات قبولیت دعا کے لیے خاص ہوتے ہیں ۔یہاں بعض احادیث اور ایسی روایات پیش کی جائیں گی۔

عَن اَبِی ھُرَیرَۃَ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ ذَکَرَ یَومَ الجُمُعَۃِ فَقَالَ فِیہِ سَاعَۃ لَا یُوَافِقُھَا عَبد مُسلِم وَھُوَ قَائِم یُصَلِّی یَسالُ اللّٰہَ تَعَالیٰ ٰ شَیئاً اِلاَّ اَعطَاہُ اِیَّاہُ وَاَشَارَ بِیَدِہِ یُقَلِّلُھَا۔

(بخاری کتاب الجمعۃ باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ)

رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے ذکر میں ایک دفعہ فرمایا کہ اس دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان بندہ کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی چیز اللہ پاک سے مانگے تو اللہ پاک اسے وہ چیز ضرور دیتا ہے ۔ ہاتھ کے اشارے سے آپ نے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے۔

• عَن اَبِی ھُرَیرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہ ﷺ قَالَ یَتَنَزَّلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ کُلَّ لَیلَۃ اِلَی السَّمَاءِ الدُّنیَا حِینَ یَبقَی ثُلُثُ اللَّیلِ الاٰخِر یَقُولُ مَن یَدعُونِی فَاَستَجِیبَ لَہُ مَن یَّساَلنِی فَاُعطِیہِ مَن یَّستَغفِرنِی فَاَغفِرُلَہُ۔

(بخاری کتاب الدعوات باب الدعا نصف اللیل)

ضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات دنیاوی آسمان کی طرف نزول فرماتا ہے۔ اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ،کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اس کی بخشش کروں۔

عَن اَبِی ھُرِیرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ اِذَا سَمِعتُم صِیَاحَ الدِّیکَۃِ فَاساَلُوا اللّٰہَ مِن فَضلِہِ فَاِنَّھَارَاَ ت مَلِکاً۔

(مسلم کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ باب استحباب الدعا عند صیاح الدیک)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم مرغ کی اذان سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھتا ہے۔

اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ یُستَجَابُ ِلاَحَدِکُم مَالَم یَعجَل فَیَقُولُ قَد دَعَوتُ فَلاَ اَو فَلَم یُستَجَب لِی۔

(مسلم کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ باب بیان انہ یستجاب للداعی ما لم یعجل فیقول دعوت فلم یستجب لی)

رسول اللہﷺنےفرمایا کہ تم میں سے جو آدمی جب تک جلدی نہ کرے اس کی دعا قبول کی جاتی ہے یہ نہ کہا جائے کہ میں نے دعا مانگی تھی مگر قبول نہ ہوئی۔

عَن اَبِی ھُرِیرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عنہ عَنِ النَّبِیِّﷺ اَنَّہُ قَالَ لاَیَزَالُ یُستَجَابُ لِلعَبدِ مَالَم یَدعُ بِاِثم اَو قَطِیعَۃِ رَحِم مَالَم یَستَعجِل ِقیل : یاَ رَسولَ اللّٰہِ ﷺ ماَلِا ستِعجَالِ قَالَ: یَقُولُ قَد دَعَوتُ وَقَد دَعَوتُ فَلَم اَرَ یَستَجِیبُ لِی فَیَستَحسِر عِندِ ذَلِکَ وَیَدَعُ الدُّعَاءَ

(صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار باب انہ یستجاب للداعی مالم یعجل )

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تک آدمی کسی گناہ یا قطع رحمی اور قبولیت میں جلدی نہ کرے اس وقت تک بندہ کی دعا قبول کی جاتی رہتی ہے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ؐ!جلدی کیا ہے آپ نے فرمایا وہ کہے میں نے دعا مانگی تھی لیکن مجھے معلوم نہیں کہ میری دعا قبول ہوئی ہو پھر وہ اس سے نا امید ہوکر دعا مانگنا چھوڑ دیتا ہے۔

مَن سَرَّہُ اَن یَّستَجِیبَ اللّٰہُ لَہُ عِندَ الشَّدَائِد وَالکَربِ فَلیَکثِرِ الدُّعَاءَ فِی الرَّخَاءَ

(ترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جسے اچھا لگے اور پسند آئے کہ مصائب و مشکلات اور تکلیف دہ حالات میں اللہ اس کی دعائیں قبول کرے تو اسے کشادگی و فراخی کی حالت میں کثرت سے دعائیں مانگتے رہنا چاہئے۔

قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺثَلاَثَ دَعَوَاتِ مُستَجَابَات دَعوَۃُ المَظلُومِ وَدَعوَۃُ المُسَافِرِ وَدَعوَۃُ الوَالِدِ عَلَی وَلَدِہِ۔

(ترمذی کتاب الدعوات باب ماذکر فی دعوۃ المسافر)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین مقبول دعائیں ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور باپ کی بددعا اپنے بیٹے کے حق میں۔

قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺدَعوَۃُذِی النُّونِ ِاذدَعَا وَھُوَ فِی بَطنِ الحُوتِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنتَ سُبحَانَکَ اِنِّی کُنتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَاِنَّہُ لَم یَدعُ بِھَا رَجُلُ مُسلِم فِی شَیئِ قَطُّ اِلَّا استَجَابَ اللّٰہُ لَہُ۔

(ترمذی کتاب الدعوات باب قول النبی ﷺ دعوۃ ذی النون اذ دعا وھو فی بطن الحوت لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین)

• رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ذوالنون (یونس علیہ السلام)کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی ‘‘لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنتَ سُبحَانَکَ اِنِّی کُنتُ مِنَ الظَّالِمِین’’ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو پاک ہے ، میں ہی ظالم ہوں کیونکہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعاقبول فرمائے گا۔

قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺاِنَّ اللّٰہَ حَییُّ کَرِیمُٗ یَستَحیِ اِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ اِلَیہِ یَدَیہِ اَن یُرَدَّھُمَا صِفرًا خَائِبَتَینِ

(ترمذی کتاب الدعوات باب قول النبی ﷺ ان اللہ حیی کریم یستحی اذا رفع الرجل الیہ یدیہ ان یردھما صفرا خائبتین )

یقیناً اللہ تعالیٰ آدمی کے ہاتھ خالی لٹاتے ہوئے شرماتا ہے جب وہ اس کی طرف اٹھاتا ہے۔

عن ابی امامۃ قَالَ: قِیلَ یَا رَسُولَ اللّہِ ﷺ ، اَیُّ الدُّعَاءِ اَسمَعُ قَالَ: جَوفَ اللَّیلِ الاَخَرِ ،دُبُرَالصَّلَوَاتِ المَکتُوبَاتِ۔

(جامع ترمذی کتاب الدعوات باب حدیث 3499)

پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ نے فرمایا:آدھی رات کے آخر کی دعا(یعنی تہائی رات میں مانگی ہوئی دعا)اور فرض نمازوں کے اخیر میں۔

ثِنتَان لاَ تُرَدَّانِ : اَلدُّعَا عِندَ النِّدَاء وَ تَحتَ المَطَرِ

(صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ حدیث نمبر3078)

دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں ایک اذان کے وقت مانگی ہوئی دعا اور بارش میں مانگی گئی دعا۔

ثِنتَانِ لاَ تُرَدَّانِ : اَلدُّعَا عِندَ النِّداء وَعِندَ البَاسِ

دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں اذان کے وقت کی گئی دعا اور جنگ یا مصیبت کے وقت مانگی گئی دعا۔

(صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ حدیث نمبر3079)

حضرت مسیح مو دعلیہ السلام کی کتب میں اور صحابہ کرام کی روایات سے بھی ہمیں پتہ چلتا ہے کہ قبولیت دعا کے لیے بعض اوقات اور جگہیں خاص ہوتی ہیں۔چنانچہ اس جگہ بعض ایسے واقعات بھی پیش خدمت ہیں۔

‘‘بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ پسر موعود کی پیشگوئی کے بعد حضرت صاحب ہم سے کبھی کبھی کہاکرتے تھے کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہم کو جلد وہ موعود لڑکا عطا کرے ۔ ان دنوں میں حضرت کے گھر امید واری تھی ۔ایک دن بارش ہوئی تو میں نے مسجد مبارک کے اوپر صحن میں جاکر بڑی دعا کی کیونکہ میں نے حضرت صاحب سے سنا ہوا تھا کہ اگر بارش میں دعا کی جاوے توزیادہ قبول ہوتی ہے ۔پھر مجھے دعا کرتے کرتے خیال آیا کہ باہر جنگل میں جاکر دعا کروں کیونکہ میں نے حضرت صاحب سے یہ بھی سنا ہوا تھا کہ باہر جنگل کی دعا بھی زیادہ قبول ہوتی ہے اور میں نے غنیمت سمجھا کہ یہ دو قبولیت کے موقعے میرے لئے میسر ہیں ۔ چنانچہ میں قادیان سے مشرق کی طرف چلا گیا اور باہر جنگل میں بارش کے اندر بڑی دیر تک سجدہ میں دعا کرتا رہا ۔ گویا وہ قریباً سارا دن میرا بارش میں ہی کٹا ۔اسی دن شام یا دوسرے دن صبح کو حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ‘‘ان کو کہہ دو انہوں نے رنج بہت اُٹھایا ہے ثواب بہت ہوگا’’۔میں نے عرض کیا حضور یہ الہام تو میرے متعلق معلوم ہوتا ہے حضور نے فرمایا کس طرح ؟ میں نے اپنی دعا کا سارا قصہ سنایا۔ حضورخوش ہوئے اور فرمایا ایسا ہی معلوم ہوتاہے پھر میں نے اس خوشی میں ایک آنہ کے پتاشے بانٹے ۔مگر اس وقت میں اس کے اصل معنے نہیں سمجھا ۔ پھر جب عصمت پیدا ہوئی تو میں سمجھا کہ دراصل اس الہام میں یہ بتا یا گیا تھا کہ گودعا قبول نہیں ہوگی مگر مجھے ثواب پہنچ جائے گا ۔’’

(سیرۃ المہدی جلد اول صفحہ 89 روایت نمبر 110)

‘‘مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک شہادت کیلئے ملتان تشریف لے گئے تو راستہ میں لاہور بھی اترے اور وہاں جب آپ کو یہ علم ہوا کہ مفتی محمدصادق بیمار ہیں تو آپ ان کی عیادت کیلئے ان کے مکان پر تشریف لے گئے ۔اور ان کو دیکھ کر حدیث کے یہ الفاظ فرمائے کہ لَا بَأْسَ طَہُوْرًا اِنْشَآءَ اللّٰہُ ۔’’ ‘‘یعنی کوئی فکر کی بات نہیں انشاء اللہ خیر ہو جائے گی اور پھر آپ نے مفتی صاحب سے یہ بھی فرمایا کہ بیمار کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ،آپ ہمارے لئے دعا کریں ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ملتان کا یہ سفر حضرت صاحب نے 1897ء میں کیا تھا ۔’’

(سیرۃ المہدی جلد نمبر1 صفحہ 366روایت نمبر 412)

‘‘پیر منظور محمد نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل جب ایف اے کے طالب علم یاشاید ڈاکٹری کے طالب علم تھے۔ تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے مجھے ایک دن کہا کہ خداتعالیٰ کا ایک نام مُسَبِّبُ الْاَسْبَاب بھی ہے۔ یہ نام لے کر بھی دعا مانگا کرو’’۔

(سیرۃ المہدی جلد دوم صفحہ نمبر 134روایت 1174)

‘‘میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضور علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِی(آمین) بذریعہ الہام تعلیم فرمائی تو حضور علیہ السلام نے ایک روز ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اسم اعظم ہے اور ہر ایک قسم کی مصیبت سے حفاظت کا ذریعہ ہے ۔ یہ بھی فرمایا کہ بجائے واحد کے بصورت جمع بھی اس کا استعمال جائز ہے ۔ یہ ان دنوں میں حضرت صاحب پر جناب الٰہی سے نازل ہوئی تھی جن ایام میں مقدمات ہونے والے تھے یا شروع ہوگئے تھے۔’’

(سیرۃ المہدی جلد دوم صفحہ نمبر165روایت نمبر1241)

‘‘میاں خیر الدین سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور ؑنے فرمایا کہ ’’مشکلات کیا چیز ہیں؟ دس دن کوئی نما زتہجد پڑھے۔ خواہ کیسی ہی مشکل ہو خداتعالیٰ حل کردے گا ۔ (اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ)”

(سیرۃ المہدی جلد دوم صفحہ نمبر171روایت نمبر 1253)

‘‘میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرا افسر سکھ مذہب کا تھا۔ مسلمانوں سے بہت تعصّب رکھتا تھا اور مجھ کو بھی تکلیف دیتا تھا آخر اس نے رپورٹ کر دی کہ فیاض علی کو موقوف کردیا جائے ۔میں اس کے کام کا ذمہ دار نہیں ہوں۔میں نے دعا کے واسطے مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عریضہ بھیجا اور اس کی سختی کا ذکر کیا۔ حضور نے جواب تحریر فرمایا کہ “انسان سے خوف کرنا خداکے ساتھ شرک ہے اور نماز فرضوں کے بعد33مرتبہ لاحول ولاقوۃ پڑھا کریں اور اگر زیادہ پڑھ لیں تو اور بھی اچھا ہے‘‘ ۔ خط کے آتے ہی میرے دل سے خوف قطعی طور پر جاتا رہا۔ ایک ہفتہ کے اندر خواب کا سلسلہ شروع ہوگیا کہ افسر علیحدہ کیا جائے گا۔ اور میں اپنی جگہ پر بدستور رہوں گا۔ میں رخصت لے کر علیحد ہ ہوگیا ۔اور راجہ صاحب کے حکم کا منتظر رہا۔ قبل از حکم ایک احمدی بھائی نے خواب میں دیکھا کہ راجہ صاحب کے سامنے تمہارے افسر کی رپورٹ پیش ہوئی ہے ۔ اس پر راجہ صاحب نے حکم لکھایا ہے کہ افسر کو کہہ دو کہ فیاض علی کو حکماً رکھنا ہوگا۔ ’’

(سیرۃ المہدی جلد دوم روایت نمبر 999صفحہ نمبر19)

حضرت غلام رسول راجیکی ؓ اپنی کتاب حیات قدسی میں درود شریف کی برکا ت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
‘‘درود شریف کی دعا چونکہ قبول شدہ ہے اس لئے اگر اپنی ذاتی دعا سے پہلے اور پیچھے اسے پڑھ لیا جائے تو یہ امر آنحضرت ﷺ کی شفاعت کے معنوں میں قبولیت دعا کے لئے بہت بھاری ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔’’

(حیات قدسی صفحہ نمبر612)

‘‘پھر آنحضرت ﷺ چونکہ بنی نوع انسان کی شفقت کی وجہ سے ہر ایک انسان کی زندگی کے بہترین دینی ودنیوی مقاصد کے حصول کے خواہاں ہیں اس لئے آپ ہی کے مقاصد میں اگر اپنے مقاصد کو بھی شامل کر کے درود شریف پڑھا جائے تو یہ امر بھی قبولیت دعا اور حصول مقاصد کے معنوں میں نہایت مفید ہے کوئی مشکل امر جو حاصل نہ ہوسکتا ہو درود شریف پڑھنے سے اس صورت میں حاصل اور حل ہوسکتا ہے کہ درود شریف پڑھنے سے جو دس گنا ثواب جزا کے طور پر ملتا ہے اس ثواب کو مشکل کے حل ہونے کی صورت میں جذب کیا جائے اس طرح ضرور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔’’

(حیات قدسی صفحہ نمبر 612)

ایک دفعہ حضرت غلام رسول راجیکی ؓ شدید بیمار ہوگئے اور انہیں اپنے بچوں اور بیوی کے بارہ میں خیال آیا کہ ان کی وفات کے بعد ان کا کیا بنے گا چنانچہ انہوں نے دعا کی جس پر انہیں بشارت ہوئی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔

‘‘انہی ایام میں اپنی نازک حالت کے پیش نظر جب میں نے اپنی بیوی اور بچوں کی بے کسی اور بے بسی پر نظر کر کے خاص طور پر دعا کی تو مجھے الہامی کلام میں بشارت دی گئی کہ اپنی بیوی اور بچوں کے متعلق یہ وصیت کردی جائے کہ اگر میں وفات پا جاؤں اور انہیں کسی قسم کی ضرورت حقہ پیش آئے تو اس کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور ان ناموں کے ساتھ دعا کرلیا کریں۔

یا رزاقُ ،یا رحمٰن ، یا وھابُ

اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے ان کی اس ضرورت کو پورا فرمادے گا۔‘‘چنانچہ میں نے اپنے اہل و عیال کے لئے اس بارہ میں وصیت کردی اور ان الہامی ناموں کے ساتھ دعا کرنے کے متعلق میرے دل میں بطور القاء یہ تفہیم ہوئی کہ وہ بیوہ اور یتیم بچے جن کے سر پر مربیوں کا سایہ نہ رہے۔ان کا ان مبارک ناموں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حضور تنگی رزق کے دور کرنے کے لئے دعا کرنا اللہ تعالیٰ کو خاص طور پران کے لئے متکفل بنادیتا ہے ۔’’

(حیات قدسی صفحہ نمبر 202)

حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ
‘‘قبولیت دعا کے واسطے چار شرطوں کا ہونا ضروری ہے تب کسی کے واسطے دعا قبول ہوتی ہے۔ شرط اول یہ ہے کہ اتقا ہو یعنی جس سے دعا کرائی جاوے وہ دعا کرنے والا متقی ہو…دوسری شرط قبولیت دعا کے واسطے یہ ہے کہ جس کے واسطے انسان دعا کرتا ہو اس کے لیے دل میں درد ہو أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ…تیسری شرط یہ ہے کہ وقت اصفیٰ میسر آوے ایسا وقت کہ بندہ اور اس کے رب میں کچھ حائل نہ ہو …چوتھی شرط یہ ہے کہ پوری مدت دعا کی حاصل ہو یہاں تک کہ خواب یا وحی سے اللہ تعالیٰ خبر دے۔ محبت واخلاص والے کو جلدی نہیں چاہئے بلکہ صبر کے ساتھ انتظار کرنا چاہئے۔’’

(تفسیر حضرت مسیح موعود ؑ جلد دوم صفحہ نمبر 281)

پھر فرمایا:
‘‘مدت دراز تک انسان کو دعاؤں میں لگے رہنا پڑتا ہے آخر خدا تعالیٰ ظاہر کردیتا ہے میں نے پنے تجربہ سے دیکھا ہے اور گزشتہ راست بازوں کا تجربہ بھی اس پر شہادت دیتا ہے کہ اگر کسی معاملہ میں دیر تک خاموشی کرے تو کامیابی کی امید ہوتی ہے لیکن جس امر میں جلد جواب مل جاتا ہے وہ ہونے والا نہیں ہوتا ۔’’

(تفسیر حضرت مسیح موعود ؑ جلد دوم صفحہ نمبر 285)

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنے اور اس عظیم و الشان خزانے سے مستفید ہونے کی توفیق عطاء کرے ۔ دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق پیدا ہوجائے اور اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوجائے۔ آمین

(مبارک احمد منیر۔برکینا فاسو)

پچھلا پڑھیں

روزہ کی حقیقت

اگلا پڑھیں

اسلامی روزہ کے امتیازات