• 25 مئی, 2020

روزہ کی حقیقت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

“تیسری بات جو اسلام کا رکن ہے وہ روزہ ہے۔ روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اورجس عالم سے واقف نہیں اُس کے حالات کیا بیان کرے۔ روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اُسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کا منشااس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ ہمیشہ روزہ دار کو یہ مدّنظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اُسے چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تاکہ تبتّل اور اِنقطاع حاصل ہو۔ پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلی اور سیری کا باعث ہے اورجو لوگ محض خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اور نِرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے۔”

(ملفوظات جلد پنجم ص 102)

“خدا تعالیٰ نے دین اسلام میں پانچ مجاہدات مقرر فرمائے ہیں ۔

(1)نماز (2) روزہ (3)زکوٰۃ(4) صدقات (5) حج ‘اسلامی دُشمن کا ذَبّ اور دَفع خواہ سیفی ہوخواہ قلمی ۔یہ پانچ مجاہدے قرآن شریف سے ثابت ہیں مسلمانوں کو چاہئے کہ ان میں کو شش کریں اور ان کی پا بندی کریں ۔ یہ روزے تو سال میں ایک ماہ کے ہیں بعض اہل اللہ تو نوافل کے طور پر اکثر روزے رکھتے رہتے ہیں اور ان میں مجاہد ہ کرتے ہیں ۔ ہاں دائمی روزے رکھنا منع ہیں ۔یعنی ایسا نہیں چاہئے کہ آدمی ہمیشہ روزے ہی رکھتا رہے بلکہ ایسا کرنا چاہئے کہ نفلی روزہ کبھی رکھے اور کبھی چھوڑ دے ۔”

(ملفوظات جلد پنجم ص 322)

پچھلا پڑھیں

دفاتر تحریک جدید

اگلا پڑھیں

احادیث نبویؐ کی رُو سے قبولیت دعاکے طریق