• 23 ستمبر, 2020

اسلامی روزہ کے امتیازات

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ

(البقرہ:184)

ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّـذِىٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْـهُـدٰى وَالْفُرْقَانِ

( البقرہ :186)

ترجمہ: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اُتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔

یہ آیت کر یمہ قرآن کریم کے رمضان کے ساتھ گہرے تعلق پر روشنی ڈال رہی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے ساتھ رمضان کے گہرے تعلق کو ان الفاظ میں بیان فرمایاہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزے اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزے کہیں گے کہ اے میرے رب! میں نے بندے کو دن کے وقت کھانے پینے اور خواہشات سے روکا۔ پس اس کےحق میں میری شفاعت قبول فرما اور قرآن کہے گا کہ میں نے اسے رات کو نیند سے روکے رکھا۔ پسں اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزے اور قرآن کی سفارش قبول کی جائے گی۔

(مسند احمد الرسالۃ)

پھر دوسری روایت میں ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ صرف دو شخص قابل رشک ہیں۔ ایک جسے الله تعالیٰ نے قرآن کریم کی نعمت عطا فرمائی ہو اور وہ رات کی گھڑیوں میں اُٹھ کر اس کو پڑھتا ہے۔ اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مالی فراخی عطا فرمائی ہو اور وہ رات دن اس کو الله تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔

(بخاری کتاب فضائل القرآن)

دراصل قرآن کریم کے نزول کا آغاز بھی رمضان المبارک میں ہوا اور قرآن مجید کی جس قدر بھی تعلیمات ہیں وہ انسان کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی طرف رہنمائی کرتی ہیں اور رمضان کا اصل مقصد ہی تقویٰ ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں الله تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ لَـعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ تا کہ تم تقوی اختیار کرو۔

اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
“قرآن کو بہت پڑھنا چا ہئے اور پڑ ھنے کی تو فیق خدا تعالیٰ اسے طلب کر نی چا ہئے کیونکہ محنت کے سوانسان کو کچھ نہیں ملتا۔۔۔ہر ایک شخص کو خودبخود خداتعالیٰ سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرتﷺ ہیں۔”

( ملفوظات جلدسوم صفحہ 233)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں۔
“حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظل ہیں سو تم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو، اپنا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو۔ کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ اَلْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ کہ تمام بھلائیاں قرآن میں ہیں۔”

( تحفہ بغداد روحانی خزائن جلد7 صفحہ 29)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز رمضان المبارک اور قرآن مجید کے امتیاز کے سلسلہ میں اپنی جماعت کو نصائح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
‘‘رمضان اور قرآن کی ایک خاص نسبت ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ جبرائیل ہر رمضان میں جتنا قرآن نازل ہو چکا ہوتا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مل کر اسے دوہراتے تھے۔ اس لئے بھی ان دنوں میں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور درسوں میں شامل ہونے کی طرف توجہ دینی چاہئے تاکہ اس کا ادراک پیدا ہو، اس کو سمجھنے کی صلاحیت پید اہو، معرفت حاصل ہو۔”

(خطبہ جمعہ 24۔اکتوبر2003، خطبات مسر در جلد1صفحہ417)

حصول تقویٰ

رمضان المبارک کے روزے رکھنے سے انسان کو کیا حاصل ہوتا ہے۔ اس کے لئے قرآن مجید نے مومنوں کو مخاطب کرکے فرمایا۔

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْن

(البقرة:184 )

کہ تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

تقویٰ کے معنی خوف الٰہی ہیں۔ اگر ایک انسان تقویٰ کو اپنا زیور بنا لے تو اس کے اندر ایک نمایاں تبدیلی ہی نہیں آئے گی بلکہ اس کی اُخروی زندگی کامیاب ہو گی۔ حد یث کی کتب میں تقویٰ کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ایک بار اُن کو مخاطب کرکے فرمایا۔ اے ابوہریرہ تقویٰ اور پرہیز گاری کو اختیار کر تو سب سے بڑا عبادت گزار بن جائے گا۔ قناعت اختیار کر لو سب سے بڑا شکر گزار شمار ہو گا۔ جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لئے پسند کرو تو صحیح مومن سمجھے جاؤ گے جو تیرے پڑوس میں بستا ہے اُس سے اچھے پڑوسیوں والا سلوک کرو اور حقیقی مسلم کہلا سکو گے۔ کم ہنسا کرو کیونکہ بہت زیادہ قہقہے لگا کر ہنسنا دل کو مردہ بنا دیتا ہے۔

(ابن ماجہ۔ کتاب الزبد والورع والتقویٰ)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اس انسان سے محبت کرتا ہے جو تقویٰ شعار ہو۔ بے نیاز ہوں گمنامی اور گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرنے والا ہو۔

(مسلم کتاب الزبد)

قرآن مجید کا خلاصہ تقویٰ ہے۔قرآن مجید میں تقویٰ کا ذکر تقریباً 250 مرتبہ آیا ہے۔ اس کثرت کے ساتھ کسی دوسرے مضمون کو بیان نہیں کیا گیا۔

حضرت موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
‘‘ساری جڑ تقویٰ اور طہارت ہے۔ اسی سے ایمان شروع ہوتا ہے اور اسی سے اس کی آب پاشی ہوتی ہے اور نفسانی جذ بات دبتےہیں۔’’

(البدر جلد1 نمبر7 مورخہ17اپریل 1903ء بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد1 صفحہ 411)

نیز فرمایا۔
تقویٰ اختیار کرو۔ تقویٰ ہر چیز کی جڑ ہے۔ تقویٰ کے معنے ہیں ہر ایک باریک در باریک رگ گناہ سے بچنا۔ تقویٰ اس کو کہتے ہیں کہ جس امر میں بدی کا شبہ بھی ہو اس سے بھی کنارہ کرے۔ (ایضاً)

روزہ کے امتیاز کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ

‘‘تیسری بات جو اسلام کا رکن ہے وہ روزہ ہے۔ روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اور جس عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔ روزه اتناہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اُسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ خداتعالیٰ کا منشاء اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ،ہمیشہ روزہ دار کو یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اُسے چاہئے کہ خداتعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تا کہ تبتل اور انقطاع حاصل ہو۔ پس روزہ سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کیلئے تسلی اور سیری کا باعث ہے اور جو لوگ محض خدا کیلئے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ الله تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا نہیں مل جائے۔

(الحکم جلد1 نمبر 4مورخہ 17جنوری سے 1907ء بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد1 صفحہ 640)

روزہ اور محاسبہ نفس

رمضان المبارک کے روزوں کو ایک امتیاز یہ بھی حاصل ہے کہ روزہ سے محاسبہ نفس کا موقع ملتا ہے ایک مسلمان سال کے گیارہ مہینے دنیاوی لہوولعب میںمصروف رہتا ہے۔ لیکن رمضان آتے ہی ہر مومن مسلمان رضائے الہٰی کے لئے کمر ہمت کس لیتا ہے۔ تاکہ وہ اپنے خالق اور مالک کی خوشنودی حاصل کر سکے۔ چنانچہ‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میںاور اجر کی توقع سے رکھے اُسے اس کے رمضان سے پہلے کئے گئے گناہ بخش دئیے جائیں گے اور جو لیلۃ القدر کی شب عبادت کے قیام کی غرض سے اور اجر کی توقع سے کھڑا ہوا اُسے اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔’’

(ابو داؤد کتاب شھر رمضان باب فی قیام شھر رمضان)

ایک دوسری روایت میںآتا ہے کہ
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔‘‘جو شخص اپنا محاسبہ نفس دنیامیںکرتا ہے اورموت کے بعد کی زندگی کے لئے نیک اعمال بجالاتا ہے اُسے کیّس کہتے ہیں اور جو شخص اپنی نفسانی خواہشات کی اتباع کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے نیک تمنا رکھتا ہے اُسے عاجز کہتے ہیںاور حضرت عمر بن خطابؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا محاسبہ نفس کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور بڑی پیشی کے لئے (یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے لئے) زینت اختیار کرو جو شخص دنیا میںاپنا محاسبہ کرتا رہے گا قیامت کے روز اس کا ہلکا پھلکا حساب کیا جائے گا۔’’

( ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع)

رمضان المبارک کے روزوں سے ایک یہ بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ روزوں کی حالت میںایک مومن کو اپنے نفس کے احتساب کا موقع ملتا ہے۔ چنانچہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ احتساب کے معنوں کو یوں بیان فرمایا ہے۔

‘‘جب اپنے نفس کا احتساب کرو گے کہ تم کس حالت میں ہو، روزانہ کیا تمہارا مشغلہ ہے، کیا کیا کم جو بُرے کام تھے تم نے رمضان میںچھوڑنے شروع کر دئیے ہیں،کیا کیا کام جو اچھے تھے اُن کو پہلے سے زیادہ حسین کر کے تم نے اُن پر عمل شروع کیا ہے اس کو احتساب کہتے ہیں۔۔۔ بہت سے لوگ روزے رکھتے ہیںتو رسماً روزے رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ روزہ رکھتے ہیں لیکن پورا خدا پر ایمان نہیں ہوتا۔ جب بھی رمضان ختم ہوتا ہے تو واپس انہیں پہلی منفی حالتوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔۔۔سب سے پہلے اپنی نیتوں کو پرکھ کر دیکھیں اور غور کریںکہ واقعۃً اللہ تعالیٰ پر ایمان کے نتیجہ میں روزہ ہے۔ ایمان کے تقاضے بھی پورے کرتے ہیںکہ نہیں۔’’

( الفضل 29دسمبر1999ء)

باقی دنوں کی نسبت روزوں کے ایام میں ایک مومن اپنے اندر ایک نمایاں تبدیلی دیکھتا ہے اگر ایک روزے دار باقی دنوں کی بنسبت کوئی تبدیلی محسوس نہیں کرتا تو اس کو اپنے تقویٰ کی فکر کرنی چاہئے۔

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں۔
سو اپنے دلوں کو ہر دم ٹٹولتے رہو اور جیسے پان کھانے والااپنے پانوں کو پھیرتا رہتا ہے اور ردّی ٹکڑے کو کاٹتاہے اور باہر پھینکتا ہے۔ اسی طرح تم بھی اپنے دلوں کے مخفی خیالات اور مخفی عادات اور مخفی جذبات اور مخفی ملکات کو اپنی نظر کے سامنے پھیرتے رہو اور جس خیال یا عادت یا ملکہ کو ردّی پاؤ اس کو کا ٹ کر باہر پھینکو ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے سارے دل کو ناپاک کر دیوے اور پھر تم کاٹے جاؤ۔

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد3صفحہ 547،548)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔
‘‘اپنے روزوںکے معیار کو دیکھنا اور تقویٰ کی طرف قدم بڑھنے کا تبھی پتہ چلے گا جب اپنا محاسبہ کر رہے ہوں گے۔ دوسرے کے عیب نہیں تلاش کر رہے ہوںگے بلکہ اپنے عیب اور کمزوریاں تلاش کر رہے ہوں گے۔ یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ آج میں نے کتنی نیکیاںکی ہیں یا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور کتنی برائیاں ترک کی ہیں، کتنی برائیاںچھوڑی ہیں۔’’

(خطبہ جمعہ 7اکتوبر 2005ء خطبات مسرور جلد3صفحہ 601)

گناہوں کو جلا کر راکھ کر دینا

روزوں کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہےکہ رمضان گناہوں کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ احادیث میںایک روایت درج ہے۔ کہ رمضان کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا ہے کہ کیونکہ وہ گناہوں کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں جہاں روزوں کے بے شمار امتیازات کا ذکر فرمایا ہے وہاں پر فرمایا ہے کہ روزہ رکھنے والا برائیوں اور بدیوں سے بچ جاتا ہے۔ اور دنیا سے انقطاع کی وجہ سے انسان کی روحانی نظر تیز ہو جاتی ہے۔ آپؓ نے فرمایا ہے کہ روزے دار کو روحانی نقصان اور ضرر رساں چیز سے بچنا چاہئے، نہ جھوٹ بولے نہ گالی دے، نہ غیبت کرے، نہ جھگڑا کرے، زبان پر قابو رکھے گویا ہر گناہ سے بچے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔

جس نے رمضان کے روزے رکھ کر اپنی تین چیزوں یعنی زبان، پیٹ اور فرج کی حاظت کی تو میں اُسے جنت کی خوشخبری دیتا ہوں۔

( کنزالعمال)

قبولیت دعا

رمضان المبارک کو ایک یہ بھی امتیاز حاصل ہے کہ روزےدار کی دعا کو اللہ تعالیٰ شرف قبولیت بخشتا ہے۔ رمضان کا مہینہ دعاؤں کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں قرآن مجید میںروزوں کے احکامات کا ذکر فرمایا ہے وہاں عین درمیان میںدعا کے مضمون کو بھی بیان فرمایا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔

وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِىْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۖ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الـدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِـىْ وَلْيُؤْمِنُـوْا بِىْ لَعَلَّهُـمْ يَرْشُدُوْنَ

(البقرہ:187)

یعنی اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔

حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا الله تعالیٰ عرش سے فرش پر ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو کہتا ہے کہ اے خیر کے طالب! آگے بڑھ۔ کیا کوئی ہے جو دعا کرے تا کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ کیا کوئی ہے جو استغفار کرے کہ اُسے بخش دیا جائے؟ کیا کوئی ہے جو توبہ کرے تا کہ توبہ قبول کی جائے؟ کیا کوئی ہے جو سوال کرے جس کو پورا کیا جائے۔؟

(شعب الایمان باب فضائل الصوم)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
‘‘رمضان کا مہینہ مبارک مہینہ ہے، دعاؤں کا مہینہ ہے۔’’

(احکام 2جنوری 1901ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
‘‘رمضان المبارک سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو اس میں دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں۔’’

(الفضل 4 دسمبر 1988ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔

‘‘جتنی زیادہ تعداد میں ایسی دعائیں کرنے والے ہماری جماعت میں پید اہوں گے اتنا ہی جماعت کا روحانی معیار بلند ہوگا اور ہوتا چلا جائے گا … پس ہمارے ہتھیار یہ دعائیں ہیں جن سے ہم نے فتح پانی ہے۔

(خطبہ جمعہ 28 نومبر 2003ء۔ خطبات مسرور جلد1 صفحہ 5)

صبر و تحمل

روزوں کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ روزہ صبر وتحمل اور برداشت کا درس دیتا ہے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور ہمدردی خلق کا مہینہ ہے اور ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھایا جا تا ہے۔ اس ماہِ مقدس میں روزہ کی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔
‘‘ایک نیکی صبر و تحمل ہے۔ صبرکے نتیجہ میں بہت سی برائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ صبر کی کمی کے باعث غلط فہمیاں اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہر احمدی کو صبر اختیار کرنا چاہئے۔ دل خراش باتوں کو برداشت کریں۔ اس پالیسی کے نتیجہ میں بہت سے جھگڑوں کا حل ہو سکتا ہے۔ فیملی تنازعات ، خواہ وہ خاوند بیوی کے درمیان ہوں یا بھائیوں کے درمیان ہوں یہ سب بیان تنازعات ہوتے ہیں……. دنیا بھر میں ایک طوفان بے تمیزی ہے۔ قتل عام ہو رہا ہے اور قومیں دوسری قوموں پر حملہ آور ہو رہی ہیں۔ یہ سب کچھ بے صبری کا ہی نتیجہ ہے۔دنیا تباہی کے دہانے پر ہے۔ احمدیوں کو دنیا کو بچانا ہوگا۔ اس لحاظ سے صبر و برداشت کی عادت کو اس انداز میں اختیار کرنا ہو گا کہ ہر احمدی ہر میدان میں صبر و برداشت کا نمونہ بن جائے۔

( مشعل راہ جلد5 صفحہ 140)

لیلۃ القدر

رمضان المبارک میں روزے داروں کا ایک یہ بھی امتیاز ہے کہ وہ ان ایام میں قیام الصلوٰۃ، ذکرالٰہی، حمد و ثناء، تلاوت قرآن مجید، صدقہ و خیرات میں پہلے سے کئی گنا بڑھ کر کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں ایسے تقویٰ شعار بندوں کو نہ صرف قرب الٰہی نصیب ہوتا ہے بلکہ وہ لیلۃ القدر کے بھی حقدار قرار دیئے جاتے ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔

آخری عشرہ میں تو پہلے سے بڑھ کر خداتعالیٰ اپنے بندے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ قبولیت دعا کے نظارے پہلے سے بڑھ کر ظاہر کرتا ہے بلکہ ان دنوں میں ایک ایسی رات بھی آتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر کہا ہے اور یہ ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اس ایک رات کی عبادت انسان کو باخدا انسا ن بنانے کے لئے کافی ہے۔

یہ دعا بھی کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کی ہوا و ہوس کی جہنم سے بھی ہمیںنجات دے۔ ہماری دعائیں قبول فرمائے، ہماری توبہ قبول فرماتے ہوئے ہمیںاپنی رضا کو حاصل کرنے والا بنا دے۔

(خطبہ جمعہ 28اکتوبر 2005ء۔ خطبات مسرور جلد 3 صفحہ 640)

دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو رمضان المبارک کے روزے تقویٰ کے مطابق رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور روزوں کے صدقے ہمارے گز شتہ گناہوں کو معاف فرمائے اور آئندہ نیکیاں بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

(مقصود احمد بھٹی۔قادیان)

پچھلا پڑھیں

احادیث نبویؐ کی رُو سے قبولیت دعا کے طریق

اگلا پڑھیں

ہمیشہ رہنے والی جنت اور نادار مریضان