• 25 مئی, 2020

چھوڑ ساری سُستیاں

شیطنت کے بت کدے پھر سے گرانے آگیا
مرحبا یہ جام عرفاں پھر پلانے آگیا

ذاتِ باری سے تری قربت بڑھانے آگیا
طُور کی نورانیاں پھر سے دکھانے آگیا

ماه ِرمضاں آ گیا ہے، ماہ ِرمضاں آگیا
روح کو رزقِ حقیقی پھر کھلانے آگیا

کس کمر اے نفسِ ناداں، چھوڑ ساری سستیاں
غفلتوں کی سب ردائیں یہ ہٹانے آگیا

گریہ زاری سے سجے اس ماہ کی ہر اک گھڑی
سال بھر کے سار ےعصیاں اب مٹانے آگیا

دُور ہوں گی پھر سبھی اب نفس کی یہ شوخیاں
نیکیوں کے درس یہ ہم کو سکھانے آگیا

رحمتوں کا، برکتوں کا، مغفرت کا پاسباں
قید کر کے سارے شیطاں بخشوانے آگیا

اے خدا توفیق دے، نایکؔ بهی ہے اک ناتواں
چاک و چوبندتیرے در پہ گڑگڑانے آگیا

(سلیق احمد نایک۔ قادیان)

پچھلا پڑھیں

تربیتِ اولاد اور ہماری ذمہ داریاں

اگلا پڑھیں

دین ہے اِیمان ہے عشقِ نبی ﷺ