• 7 اگست, 2020

شکوہ کرنا بھی غیبت والی بات ہی ہے

’’بعض لوگ اس لئے تجسس کر رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً عمومی زندگی میں لیتے ہیں، دفتروں میں کام کرنے والے، ساتھ کام کرنے والے اپنے ساتھی کے بارہ میں، یا دوسری کام کی جگہ، کارخانوں وغیرہ میں کام کرنے والے، اپنے ساتھیوں کے بار ہ میں کہ اس کی کوئی کمزور ی نظر آئے اور اس کمزور ی کو پکڑیں اور افسروں تک پہنچائیں تاکہ ہم خود افسروں کی نظر میں ان کے خاص آدمی ٹھہریں، ان کے منظور نظر ہو جائیں۔ یا بعضوں کو یونہی بلاوجہ عادت ہوتی ہے، کسی سے بلاوجہ کا بیر ہو جاتا ہے اور پھر وہ اس کی برائیاں تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔ تویاد رکھنا چاہئے کہ ایسے لوگوں کے بارہ میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کا کبھی بھی جنت میں دخل نہیں ہوگا، ایسے لوگ کبھی بھی جنت میں نہیں جائیں گے۔ تو کون عقلمند آدمی ہے جو ایک عارضی مزے کے لئے، دنیاوی چیز کے لئے، ذرا سی باتوں کا مزا لینے کے لئے، اپنی جنت کو ضائع کرتا پھرے۔‘‘

پھر فرمایا:۔
’’شکوہ کرنا بھی غیبت والی بات ہی ہے۔ کیونکہ ایک دفعہ جب مشترکہ دوستوں میں بیٹھ کے شکایتیں شروع ہوگئیں تو پھر آہستہ آہستہ یہی شکوے شکایتیں جو ہیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ اور پھر غیبت کی عادت پڑ جاتی ہے۔ اس لئے ہلکی سے ہلکی بھی جس میں شائبہ بھی ہو غیبت کا، وہ بات نہیں کرنی چاہئے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 26دسمبر 2003ءبمطابق ۲۶/فتح ۱۳۸۲ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،مورڈن لندن)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 19 جولائی 2020ء

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 20 جولائی 2020ء