• منگل 25 فروری 2020   (1 رجب 1441)

ایک واقف ٹیچر کی افریقہ میں خدمات کا تذکرہ

گزشتہ 42سال سے مجلس نصرت جہاں کے تحت واقف اساتذہ اور ڈاکٹر صاحبان مشرقی ، مغربی اور وسطی افریقہ میں اپنے اپنے میدان میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں مریضان کے علاج معالجہ اور سکولوں میں درس و تدریس کے علاوہ ہمارے یہ مخلص ڈاکٹر صاحبان اور اساتذہ کرام دیگر جماعتی امور میں بھی ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں اور یوں اپنے وقت کا صحیح مصرف کر کے دیگر ساتھیوں کیلئے نمونہ بنتے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقف ٹیچر مکرم محمد منور خان صاحب (شاہد) ایم بی اے ہیں ۔ جو نصرت ہائی سکول بانجل گیمبیا میں خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ سکول میں پڑھانے کے ساتھ انہوں نے اپنے دیگر کاموں کی جو خوشکن رپورٹ بھجوائی ہے وہ میدان عمل میں موجود ہمارے دوسرے واقفین کیلئے مثالی او ر لائق تقلید ہے۔

مکرم منور صاحب کی رپورٹ کا خلاصہ درخواست دعا کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش ہے:۔
منور صاحب لکھتے ہیں کہ جب سے ہم یہاں آئے ہیں خاکسار کو نیشنل وقفِ نو سیکرٹری کی مدد کا فریضہ سونپا گیاہے۔ہر اتوار یہاں وقف نو بچوں کی کلاس لے رہا ہوں اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکرم امیر صاحب اس بات سے خوش ہیں۔گزشتہ دنوں ہم نے یہاں پہلا وقف نو اجتماع منعقد کروایا جو بہت کامیاب رہا۔
MTA کیلئے جماعتی خبریں بھجوانے کی ڈیوٹی مکرم امیر صاحب نے مجھے سونپ رکھی ہے۔ اور اس طرح محض خدا تعالیٰ کے فضل سے گیمبیا جماعت کی خبریں اس عاجز کےSS ذریعے بھجوائی جاتی رہیں اور نشر ہوتی رہیں۔

سکول میں خاکسار اپنے فرائض سکول ٹیچر کے طور پر سر انجام دیتا ہے۔ہر کلاس 70طالبعلموں پر مشتمل ہے۔ اُن میں سے زیادہ تر درس و تدریس سے خوش اور مطمئن ہیں اور اظہارتشکر کرتے ہیں۔حسب ضرورت خاکسار ان کے آنحضرتؐ، جہاد، خدا کے وجود، خلافت، معراج النبیؐ، امام مہدیؑ کے ظہوراور حضرت عیسیٰؑ کی وفات کے متعلق (concepts)نظریات کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ خاکسار انہیں جماعت کا لٹریچر بھی دیتا ہے اور انہیں کچھ ویڈیو بھی دکھاتا ہے۔ ہمارے عقائد سمجھ جانے کے بعد کچھ طالب علموں نے اپنے (concepts) عقائدتبدیل بھی کر لئے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت عیسیٰ کی وفات کے متعلق ۔ لیکن ہر کام بڑے خوشگوار طریقے سے اور کسی بھی مشکل کے بغیر پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔

کچھ عرصہ قبل میرے ایک ساتھی استادنے جو کہ میرے ساتھ رابطے میں تھے بیعت کر لی ہے۔ الحمدللہ خاکسار نے انہیں کتاب “احمدیت کا پیغام” پڑھنے کو دی اور انہوں نے پڑھنے کے بعد اس پر تبصرہ کیا کہ پہلے کبھی اس طرح کی کتاب نہیں پڑھی۔

سکول میں زائد کام کے طور پر مجھے عملہ صفائی کاانچارج بنا دیا گیا۔ اس طرح خاکسار یہ کام بھی کر رہا ہے۔ میں ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جس کے نتیجہ میں مجھے عمدہ کام کیا ہوا ملتا ہے۔ سب سے نظر انداز کیا ہوا سکول کا علاقہ (بیوت الخلاء) Toilet s تھا۔ خاکسار نے بڑی کامیابی کے ساتھ صفائی کے متعلق ماحول مہیا کر دیا ہے۔ ہدایات کے signs لگا دئے ہیں کہ کس طرح Toilet استعمال کرنا ہے۔ کوئی شخص یہ خیال نہیں کر سکتا تھا کہ صابن Toiletمیں موجود رہیں گے۔لیکن ایک مسلسل اور کامیاب مہتمم اور طالبعلموں اور صفائی کے عملے کے تعاون سے ایسا ممکن ہو سکا۔

ایک اور ڈیوٹی جوخاکسار نے انجام دی ہے وہ تمام سکول کے 16کلبوں کوsuperviseکرنا ہے۔ مسلسل کوششوں کے ساتھ وہ کلب جو غیر متحرک تھے انہیں نئی زندگی مل گئی۔اور مسلسل رابطے اور ماہانہ میٹنگ کے ذریعے ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی گئی۔ کچھ مہینے قبل میں نے پہلا ٹریننگ سیمینار منعقد کروایا۔ جس کی وائس پرنسپل نے بہت تعریف کی جو چیف گیسٹ تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ انہوں نے ایسی activity پہلے کبھی نہیں دیکھی جب سے وہ نصرت سکول میں آئے ہیں۔

نیشنل سیکرٹری اشاعت کے طور پر خاکسار نے دسمبر2011ء میں یہاں قرآن پاک کی نمائش منعقد کروائی۔ جو بہت کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ ملک کی نائب صدر صاحبہ نے نمائش کا دورہ کیا اور خاکسار نے انہیں ان کی مقامی زبان میں ترجمہ شدہ قرآن مجید کا تحفہ جماعتی لٹریچر بھی پیش کیا۔ اس دوران میرا انٹرویو ریڈیواور نیشنل ٹی وی پر نشر کیا گیا۔

دسمبر2009ء سے خاکسار کو جماعت کا ماہانہ میگزین “العصر” کے ایڈیٹر کے طور پر شائع کرنے کا فرض سونپا گیا۔ اگرچہ ایڈیٹوریل بورڈ میں بہت سے نام شامل ہیں لیکن% 90کام خاکسار نے خود سر انجام دئیے اور محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ابھی بھی کرتا ہے۔ خاکسار اس میگزین کے ماہانہ ایڈیشن کی کاپیاں دوستوں کو تحائف کے طور پرتقسیم کرتا ہے۔ ہر سال خاکسار جماعت کا کیلنڈر ڈیزائن کرتا اور شائع کرواتا ہے۔

خاکسار نے ذاتی طور پر جماعتی کیلنڈر مختلف ہوٹلوں پبلک جگہوں اور سیاحتی مقامات پر تقسیم کئے۔ یہاں پر ایک مشہور اور نیک نامی والا بُک سٹور جس کا نام ٹمبکٹو ہے۔ میں نے جماعت کا لٹریچر وہاں بھیجنے کا انتظام کیاا ور دس ہزار ڈلاسی کا لٹریچر میرے ذاتی روابط کی وجہ سے فروخت ہو چکا ہے۔
جیسا کہ معمول ہے اس سال بھی خاکسار نے جلسہ سالانہ گیمبیا کے موقع پر بینرز Flex Material میں متعارف کروایا۔لوگ اس سے بہت متاثر ہوئے۔

خاکسار اب جماعت کی نیشنل لائبریری کے قیام کے project پر کام کر رہا ہے۔ خاکسار نے ذاتی طور پر اپنی ضروریات کے مطابق کتابوں کی شیلف ڈیزائن کیں۔

بیت السلام جو کہ ہمارے گھر کے سامنے ہے اس کی 2 سال پہلے مرمت کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے خاندان کو توفیق بخشی کہ اسے wall to wall کارپٹ سے آراستہ کیا جائے جو کہ بہت شاندار دکھائی دیتا ہے۔ خدا ہماری اس خدمت کو قبول فرمائے (آمین)

پچھلے سال ہم نے اپنے 2 بچوں کی اپنے گھر پرآمین اور عقیقہ کی تقریب بھی منعقد کی۔اس تقریب میں امیر صاحب اور مرکزی سٹاف اور مقامی سٹاف اور تمام ہسپتال کے سٹاف نے شرکت کی۔ یہ واحد تقریب تھی جو اس معاشرے میں منعقد ہوئی جس میں دوست اور غیر مسلم احباب بھی شامل ہوئے۔ اس تقریب کیلئے تمام کھانا میری بیوی محترمہ ڈاکٹر عائشہ خان نے تیار کیاجو خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیہ ہسپتال بانجل میں بطور واقف ڈاکٹر خدمت کی توفیق پا رہی ہیں۔

قارئین سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام واقفین کو بدل و جان، پورے اخلاص اور محبت کے ساتھ خدمت کی توفیق عطا فرماتا رہے اور ہر جگہ ہر آن ان کا حافظ و ناصر اور معین و مدد گار ہو۔ آمین

(مبارک احمد طاہر)

پچھلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جنوری 2020

مقبول ترین