• 25 مئی, 2020

شوال کےروزے

وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللّٰهَ شَاکِرٌ عَلِيْمٌ (البقرة: 159)

ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ فرماتے ہیں : ‘‘مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ : جس نے رمضان کے روزے رکھے ، پھر اس کے بعد ( عید کا دن چھوڑ کر ) شوال کے چھ روزے رکھے، گویا کہ اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔’’

(سنن أبي داؤد، کتاب الصوم، باب في صوم ستة أيام من شوال)

آپﷺ فرماتے ہیں:‘‘مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَشَهْرٌ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ وَصِيَامُ سِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَ الفِطْرِ فَذَالِكَ تَمَامُ صِيَامِ السَّنَةِ: جس نے رمضان کے روزے رکھے تو ایک مہینہ کا روزہ دس مہینوں کے برابر ہوا، اور پھر عید الفطر کے بعد کے چھ روزے ملا کر سال بھر کے روزوں کے برابر ہوئے۔’’

(مسند أحمد، کتاب باقي مسند الأنصار ، باب و من حديث ثوبان)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَہُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ خَرَجَ مِنْ ذَنُوْبِہِ كَيَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہُ: جس شخص نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے پاک ہو گیا جیسے اپنی پیدائش کے دن تھا۔

( المعجم الاوسط ، باب من اسمه مسعود، الجزء 8، ص 275 حدیث نمبر 8622)

حضرت اسامہ بن زیدؓ حرمت والے مہینوں میں روزے رکھتے تھے تو رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا: صُمْ شَوَّالًا: شوال میں روزے رکھو۔

(سنن ابن ماجه، كتاب الصيام، باب صیام الشہر الحرم)

حضرت اقدس مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں۔ نوافل متمم فرائض ہوتے ہیں۔نفل کے وقت دل میں ایک خشوع اور خوف ہوتا ہے کہ فرائض میں جو قصور ہوا ہے وہ اب پورا ہو جائے۔ یہی وہ راز ہے جو نوافل کو قرب الہٰی کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے گویا خشوع اور تذلّل اور انقطاع کی حالت اس میں پیدا ہوتی ہے اور اسی لئے تقرب کی وجہ میں ایام بیض کے روزے،شوال کے چھ روزے یہ سب نوافل ہیں۔

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ437)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں۔ آنحضرتﷺ کا طریق تھا کہ شوال کے مہینے میں عید کا دن گزرنے کے بعد چھ روزے رکھتے تھے اس طریق کا احیاء ہماری جماعت کا فرض ہے۔ ایک دفعہ حضرت صاحب نے اس کا اہتمام کیا تھا کہ تمام قادیان میں عید کے بعد چھ دن تک رمضان ہی کی طرح اہتمام تھا۔ آخر میں چونکہ حضرت صاحب کی عمر زیادہ ہو گئی تھی اور بیمار بھی رہتے تھے اس لئے دو تین سال بعد آپؑ نے روزے نہیں رکھے ۔ جن لوگوں کو علم نہ ہو وہ سن لیں اور جو غفلت میں ہوں ہوشیار ہو جائیں کہ سوائے ان کے جو بیمار اور کمزور ہونے کی وجہ سے معذور ہیں چھ روزے رکھیں۔ اگر مسلسل نہ رکھ سکیں تو وقفہ ڈال کے بھی رکھ سکتے ہیں۔

(فقہ المسیح، صفحہ215)

ایک بچی نے سوال کیا شوال کے روزے کن دنوں میں رکھنے چاہئیں؟ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

رمضان کے بعد مہینہ آتا ہے اس کا نام شوال ہے۔ اس مہینے میں تم رکھ سکتی ہو…..یکم شوال کو عید ہے تو دو سے روزے رکھنا ضروری نہیں ہے……. لگاتار چھ بھی رکھ سکتی ہو اور اس پورے مہینہ میں چھہ بھی رکھ سکتی ہو۔ ضروری نہیں ہے لگاتار چھ رکھنے۔ یہ ضروری ہے کہ شوال کے مہینے میں رکھنے ہیں……فرمایا: شوال کے روزے شوال کے مہینے میں ہی رکھنے چاہئیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ لگاتار رکھو اگر تمہارے روزے رمضان میں چھوٹ جاتے ہیں، پورے نہیں رکھ سکتے تو شوال کے مہینے میں شوال کے روزے رکھ لو اور جو رمضان کے چھٹے ہوئے روزے ہیں وہ باقی سال کے کسی دوسرے حصے میں پورے کر لو۔ ضروری نہیں ہے کہ پہلے رمضان کے روزے پورے کرنے ہیں پھر وہ پورے کرنے ہیں۔ رمضان کے روزے، شوال کے بعد بھی پورے ہو سکتے ہیں۔

(گلشن وقف نولجنہ وناصرات 30 مارچ 2013،سپین)

(ابو سعید)

پچھلا پڑھیں

کورونا وائرس اور والدہ کی خدمت کے ایمان افروز نظارے

اگلا پڑھیں

آخری عشرہ اور آنحضورﷺ کی عبادات