• 25 مئی, 2020

آپ آن لائن اسٹور کامیابی سے چلا سکتے ہیں-اپنی دکان کو آن لائن کریں

آپ آن لائن اسٹور کامیابی سے چلا سکتے ہیں- اپنی دکان کو آن لائن کریں

آجکل کے دنوں میں جب روزگار اور کمانے کے مسائل سے ہر کوئی شخص دوچار ہے خاص طور پر دوکاندار اور چھوٹے کاروباری افراد اپنا آن لائن اسٹور کھول سکتے ہیں-آن لائن پیسے کمانا تقریبا ہر پاکستانی کاخواب ہے۔لیکن اس خواب کی تکمیل کیسے کی جائے۔اس کا انہیں علم نہیں۔لہذا کبھی تو وہ کلکس کے پیچھے بھاگتے ہیں کہ فلاں سائٹ پر بیٹھ کر ایڈز کلک کرتے رہو پیسے ملیں گے اور کبھی کوئی اور طریقہ اپناتے ہیں۔لیکن ہاتھ کچھ نہیں آتا۔

آن لائن پیسے کمانے کا سب سے آزمودہ اور کارگر ایک ہی نسخہ ہے آن لائن بزنس۔

‘‘فیس بک کو آپ ہزار برائیوں کی جڑ کہہ سکتے ہیں لیکن اپنی زندگی یا اپنا ہر قسم کا کیرئیر سنوارنے کا جتنا موقع فیس بک دیتی ہے آپ کو کوئی دوسرا پلیٹ فورم نہیں دے گا۔اس تحریر میں، میں آپ کو بتاؤں گا کہ کن اصول و ضوابط پر عمل پیرا رہ کر آپ آن لائن بزنس شروع کر سکتے ہیں۔اور اسے کامیاب بنا سکتے ہیں۔آئیے آپ کو آن لائن بزنس اور آن لائن سٹور کامیاب بنانے کے کچھ اصول متعارف کروائیں۔

1۔ریسرچ

سب سے پہلے اپنا فوکس تلاش کریں۔کہ آپ آن لائن بزنس میں کیا بیچنا چاہتے ہیں۔اس کے لیے آپ اپنے شہر یا کسی قریبی بڑے شہر کا دورہ کریں۔مختلف لوگوں سے ملیں۔ریسرچ کریں کہ کون سی ایسی چیز ہے جو یہاں بنتی ہے اور کہیں اور نہیں بنتی یا اگر کہیں اور بنتی ہے تو اس جیسی نہیں ہے۔جیسا کہ کمالیہ کا کھدر مشہور ہے۔فیصل آباد کا چیئرمین کا لٹھا مشہور ہے۔دیہی علاقوں کا خالص شہد مشہور ہوتا ہے۔ملتان کی سردیوں والی شال مشہور ہیں۔اپنا پورا ریسرچ ورک کریں اور فیصلہ کر لیں کہ کیا بیچنا ہے یا کیا کیا بیچنا ہے۔یعنی ایک پراڈکٹ پر فوکس کرنا ہے یا مختلف چیزیں بیچنی ہیں۔

2۔فیس بک پیج

اپنے بزنس کے حساب سے یعنی جو کچھ بھی بیچنے کا آپ نے سوچا ہے اس کے حساب سے اپنے بزنس کا ایک اچھا سا نام سوچ لیں اور اسی نام کا فیس بک پر ایک پیج بنا لیں۔پیج بنانے کے بعد اگلے دن اس پیج پر ایک اچھا سا لوگو (پروفائل پکچر) لگوائیں جو کہ آپ خود بھی ڈیزائن کر سکتے ہیں یا کسی سے کروا سکتے ہیں۔یہ یاد رہے کہ پروفائل پکچر یعنی لوگو پر آپ کے بزنس یا کمپنی کا نام لکھا ہونا چاہیے۔اس سے اگلے دن آپ اپنے پیج کا ڈیزائن شدہ فیس بک کور اپ لوڈ کریں۔اور فیس بک کور پر آپ کے بزنس یعنی کمپنی کا نام، آپ کی پراڈکٹس کا نام، آپ کا موبائل نمبر اور پراڈکٹس کی ایک آدھی تصویر ضرور ہونی چاہئے۔اور اس سے اگلے دن آپ اس پیج پر اپنی پہلی پراڈکٹ بیچنے کے لیے لگا بھی سکتے ہیں لیکن آپ اپنا خود کا آن لائن اسٹور بھی با آسانی بنا کر اس پر اپنی پروڈکٹس کی تصاویر اور قیمت لگانے کے بعد بیچ سکتے ہیں۔لیکن اپنے اسٹور کو مشہور کرنے اور اپنی فروخت میں اضافے کی خاطر آپ کو آن لائن بزنس کی مشہوری اور مارکیٹنگ کے ماہرین کی مدد لینی ہوگی۔
اپنی خود کی ویب سائٹ یا آن لائن سٹور با آسانی اور مفت اس ویب سائٹ کے ذریعہhttps://www.wix.com/, https://www.shopify.com/ بنائےجا سکتے ہیں۔

3۔کانٹینٹ رائٹنگ

جس وقت آپ اپنے فیس بک پیج پر یا پھر اپنی ویب سائٹ یا آن لائن اسٹور پر اپنی کوئی پراڈکٹ بیچنے کے لیے اس کی تصاویر اپ لوڈ کریں آپ نے کوشش کرنی ہے کہ اس پراڈکٹ سے متعلق اچھا سا مفصل تعارف لکھیں اور اس پراڈکٹ کی خوبیوں کو واضح کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ مارکیٹ میں موجود اس سے ملتی جلتی چیزوں سے آپ کی چیز کیسے برتر ہے اور کیسے یہ آپ کے یا آپ کے قریبی شہر کی خاص پراڈکٹ ہے۔پاکستان کی شاید دس فیصد آبادی انگلش پڑھ سکتی ہے لیکن پچانوے فیصد آبادی اردو پڑھ سکتی ہے۔اپنی پوسٹ اردو میں لکھیں۔پچانوے فیصد کو اپنی مارکیٹ بنائیں نا کہ پانچ فیصد کو۔

4۔ایمانداری

جب آپ کو آپ کی پراڈکٹ کے لیے کوئی رابطہ کرے تو کبھی بھی ،کبھی بھی، گاہگ سے جھوٹ مت بولیں۔اپنی چیز کی جو خامی ہو انہیں کھل کر بتائیں۔چاہے گاہگ جاتا ہے تو جائے لیکن جھوٹ اور بددیانتی مت کریں۔آپ میرا یقین کریں کہ ایک جائے گا تو سو آئیں گے۔کوئی بھی چیز خامیوں سے پاک نہیں ہوتی۔آپ کی پراڈکٹ کی خامی کے بارے اگر کوئی پوچھے تو بتائیں۔جیسے اگر آپ کپڑا سیل کر رہے ہیں تو گاہگ کو بتائیں کہ ایک یا دو سیزن بعد اس کپڑے کا رنگ اترنا شروع ہو جائے گا۔لیکن وہیں اسے یہ بھی کہیں کہ سر پندرہ سو کا سوٹ ایک یا دو سیزن نکال جائے گا کیا یہ کافی نہیں۔آن لائن اسٹورز کو پاکستان میں دھوکہ سمجھا جاتا ہے۔کوشش کریں کہ آپ ان لوگوں میں سے بنیں جو اپنی عوام کا آن لائن اسٹورز پر اعتماد بحال کر سکیں۔

5۔فری ڈیلیوری۔کیش آن ڈیلیوری

آپ نے اپنی پراڈکٹ کا ریٹ ایسا رکھنا ہے کہ ڈیلیوری چارجز اس میں شامل ہوں۔گاہگ کو جب آپ قیمت بتائیں گے تو وہ پریشان ہو جائے گا کہ اتنا مہنگا لیکن جب آپ بتائیں کہ فری ڈیلیوری ہے اس کا دکھ آدھا کم ہو جائے گا۔ویسے بھی عوام کو سب سے زیادہ جو لفظ ٹریگر کرتا ہے وہ ہے “فری”۔
کیش آن ڈیلیوری رکھیں۔بہت کم لوگ ہوں گے جو آپ کو پہلے پیسے بھیج کر آپ پر اعتماد کریں گے۔ایک یا دو کلو ہو تو TCS سے بھیجیں۔ٹی سی ایس کا ریٹ ایک کلو کا230 روپے ہے۔آپ ٹی سی ایس میں اپنا اکاونٹ کھلوا لیں۔وہ آپ کے نمائندے کے طور پر مال دے کر پے منٹ لے لیا کریں گے۔اگر کوئی آڈر کر کے مکر جائے اور وصول نہ کرے تو مال واپس آ جائے گا۔زیادہ سے زیادہ نقصان آپ کے ڈیلیوری چارجز کا ہو گا جو کہ ایک کلو کا دو سو تیس روپے ہیں۔مال دو کلو سے زیادہ ہو تو ڈاکخانے سے بھیجیں تا کہ آپ کا زیادہ خرچہ نہ ہو۔

6۔ پوسٹ بوسٹ

فیس بک کا بہترین آپشن ہے کہ یہاں پوسٹ بوسٹ ہو جاتی ہے یعنی جن لوگوں نے آپ کا پیج نہیں بھی لائک کر رکھا ان کی وال پر بھی شو ہو گی۔پانچ یا دس ڈالر کی پے منٹ لگا کر (پے منٹ لگانے کا طریقہ گوگل کر لیں) اپنی پوسٹ کو بوسٹ کریں۔اور بوسٹ کے دوران اپنی آڈینس (ٹارگٹ مارکیٹ) پاکستان منتخب کریں۔اگر آپ کی پراڈکٹ خواتین سے متعلق ہے تو صرف خواتین کی جنس منتخب کریں اگر مردانہ ہے تو مرد ورنہ دونوں کو منتخب کریں۔اٹھارہ سال سے ساٹھ سال تک کی عمر منتخب کریں۔اب پاکستان میں اٹھارہ سے ساٹھ سال والے جتنے لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں ان میں سے چند (جتنے پیسوں کی بوسٹ ہو گی اس حساب سے) سینکڑوں یا ہزاروں کی وال پر آپ کی پراڈکٹ کی مشہوری شو ہوگی۔جہاں آپ کے پیج کے لائکس بڑھیں گے وہیں آپ کے بزنس کے لیے کالز یا میسجز بھی آئیں گے۔ فیس بک کے علاوہ اپنی پراڈکٹس اور آن لائن اسٹور کی مارکیٹنگ آپ Linked in پر بھی کریں جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا پروفیشنل سوشل میڈیا ہے اور شائد ہی دنیا کا کوئی پرفیشنل اور کمپنی یہاں نا ملے کیونکہ یہ مائیکروسافٹ کی سپورٹ ہے ۔ اسی طرح آپ ٹویٹر پر بھی اپنی مارکیٹنگ کر سکتے ہیں لیکن اپنے آپ کا مرکتٹنگ پیج جہاں جہاں بھی ہو وہاں اپنے آن لائن اسٹور کا ویب اڈریس اور لنک ضرور لگائیں۔

7۔موبائل ایپس

فیس بک پیجز کے لیے پیجز نام کی ایک ایپ ہے اسے انسٹال کریں اور ہمہ وقت اپنے پیج پر ایکٹو رہیں۔آپ کی کوشش ہو کہ آپ اس ایپ کو دکان سمجھیں اور وہاں جم کر بیٹھ جائیں۔جو بندہ کمنٹ کرے اس کا کمنٹ لائک کریں اور اس کا لازمی جواب دیں۔کوئی نائس کولیکشن یا نائس بھی لکھے تو اس کا کمنٹ لائک کر کے آپ جواب میں شکریہ لکھیں۔اگر کوئی آپ کی پراڈکٹ خریدنے میں دل چسپی ظاہر کرے تو اسے فورًا ان باکس میں میسج کریں اور کمنٹ کے جواب میں لکھیں کہ چیک ان باکس۔ان باکس میں اس بندے کا سب سے پہلے شکریہ ادا کریں کہ اس نے آپ کی پراڈکٹ میں دل چسپی دکھائی پھر اس سے ایک یا دو منٹ ان باکس میں بات کر کے اس بندے کا نمبر لیں اور فورًا کال کریں۔کمنٹس اور ان باکس کی نسبت بہترین ڈیلنگ کال پر ہوتی ہے۔آپ سرعام کسی کا نمبر مت مانگیں۔ان باکس میں نمبر مانگیں۔لیکن ان باکس میں مکمل ڈیلنگ مت کریں۔ڈیلنگ فون پر کریں اور ایمانداری سے اپنے کسمٹر کو یقین میں لائیں۔

8۔صبر و تحمل

چائنہ کی ایک کہاوت ہے کہ “اگر آپ کو مسکرانا نہیں آتا تو دکان مت کھولیں” آپ کی پراڈکٹس والی پوسٹ پر ایسے ایسے فضول اور دل جلا دینے والے کمنٹس آئیں گے کہ آپ کو بہت غصہ آئے گا لیکن پریشان نہیں ہونا۔یہ بزنس ہے۔اس میں صبر و تحمل سب سے زیادہ ضروری ہے۔جو یہ لکھے کہ بکواس مال، لوٹ رہے ہو،انہیں سکون سے وہیں جواب دیں کہ ہم شرمندہ ہیں آپ کے معیار کا کچھ نہیں لا سکے۔فون پر بھی اگر کسٹمر گرم ہو تو خود کو قابو میں رکھیں۔آپ کے والدین یا آپ کی اولاد کے رزق کا سوال ہے۔برداشت کا دائرہ بڑھانا ہو گا۔

9۔واپسی پالیسی

آپ اپنی واپسی پالیسی نرم رکھیں۔گاہگ کو کہیں کہ اگر میرا مال آپ کو پسند نہیں آیا تو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اسی حالت میں جیسا آپ کے پاس گیا تھا۔مجھے واپس بھیج دیں۔آپ کے سارے پیسے واپس مل جائیں گے۔یہ بات آپ نے مال بھیجنے سے پہلے ڈیلنگ کے دوران کہنی ہے اور اس پر عمل بھی کرنا ہے۔یہ بات کسٹمر کے آپ پر یقین میں اضافہ کرے گی۔

10۔پرموشنز

کبھی کسی خوشی کے موقع کی مناسبت سے جیسا کہ عید ہو یا آپ کے پیج کے دس یا بیس ہزار لائکس ہو جائیں تو کسٹمرز کے لیے پرموشنز لگائیں ایسے موقع پر اپنا پرافٹ چاہے تو سو روپے یا ڈیڑھ سو روپے کم کر دیں۔ایسے میں پیج کے لوگ بھی یکسانیت سے بور نہیں ہوں گے کہ آپ صرف ایک ہی چیز ایک ہی ریٹ پر بیچے جا رہے ہیں۔

11۔فیڈ بیک

جب آپ کا مال کسٹمر تک پہنچ جائے تو فون کر کے ان سے فیڈ بیک لیں کہ کیا انہیں چیز مل گئی ہے اور وہ مطمئن ہے۔
اس کے علاوہ اگر آپ کے پاس چار سے پانچ ہزار روپے ہیں تو اپنے وزٹینگ کارڈز چھپوائیں۔اپنی کمپنی کے شاپر(پلاسٹک بیگز) چھپوائیں اور جب پراڈکٹ بھیجیں تو اپنی کمپنی کے پلاسٹک بیگ میں بھیجیں اور اندر اپنا ایک کارڈ رکھ دیں۔اس سے کسٹمر پر اچھا امپریشن پڑے گا کہ یہ کوئی عام سی کمپنی یا پیج نہیں ہے اور آپ کی کمپنی یا پیج کی پبلسٹی بھی ہو گی۔

(کاشف احمد)

پچھلا پڑھیں

رمضان المبارک کی تین اجتماعی برکات

اگلا پڑھیں

کورونا وائرس اور والدہ کی خدمت کے ایمان افروز نظارے