• 25 ستمبر, 2020

علم کی اہمیت ، افادیت ، معانی اور اقسام

قرآن کریم ، احادیث نبویہؐ، حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء سلسلہ کے ارشادات

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور علم

دین تو دین دنیا کے متعلق بھی انسان کا علم بڑھتا رہتا ہے اور کوئی علم بھی تو ایسا نہیں جس میں مزید ترقی کی گنجائش نہ ہو پس دُنیا کے کاموں میں بھی انسان محتاج ہے کہ ہمیشہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم کی دُعا کرتا رہے کہ اس کے ذریعہ سے علم کی ترقی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دُعا بجائے محل اعتراض ہونے کے علم کے بارہ میں اسلام کا ایسا وسیع نظریہ پیش کرتی ہے جو قرآن کریم کی برتری کی ایک زبردست دلیل ہے قرآن پہلے مذاہب کی موجودگی میں آیا اور انہیں منسوخ کر کے اس نے ایک نئے اور مکمل دین کے قیام کا دعویٰ کیا مگر باوجود اس کے اس نے دوسرے ادیان کی طرح یہ نہیں کہا کہ اس کے زمانہ میں علم ختم ہو گیا بلکہ یہ کہا کہ اس کے ذریعہ سے علم کی زیادتی ہمیشہ ہوتی رہے گی اور اس کے لئے مسلمانوں کو دُعا سکھائی اور ان پر واجب کیا کہ وہ اسے ہر روز تیس پنتیس دفعہ پڑھا کریں اس طرح اس نے علم کی ترقی کے لئے انسانی نظریہ کو کس قدر وسیع کر دیا ہے۔

(تفسیر کبیر جلد اول صفحہ34)

یاد رہے کہ اس سے پہلے جو سورۃ نازل ہوئی یا یُوں کہو کہ جس سورۃ کی بعض آیات نازل ہوئیں وہ سورۃ العلق ہے۔ اس کی جو آیات سب سے پہلے نازل ہوئیں یہ ہیں اِقْرَاْبِا سْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقِ اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَ کْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ۔ ان آیات میں تبلیغ کے شروع کرنے کا حکم ہے اور بتایا گیا ہے کہ تبلیغ کا حق انسان پر اس لئے ہے کہ اس کا ایک رب ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں محبت اور تعلق کا مادہ پیدا کیا ہے نیز اس نے انسان کے اندر ترقی کی قوتی رکھیں ہیں اور وہ اپنے بندے پر فضل کر کے اسے بڑھانا چاہتا ہے اور اس غرض سے اس نے انسان کو تحریر و تصنیف کا مادہ عطا کیا ہے تاکہ وہ اپنے علم سے خود ہی فائدہ نہ اٹھائے بلکہ دوسروں تک بھی اسے پہنچائے اور آئندہ کے لئے بھی ان علوم کو محفوظ کر دے پھر فرماتا ہے کہ علمی ترقی کا مادہ اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی طاقت اس کے اندر رکھ کر اور علم کے محفوظ کرنے کا طریقہ بتانے کے بعد اس نے علم کی ترقی کے لئے ایسے سامان پیدا کئے ہیں جو ہر زمانہ میں علم کی ترقی کا موجب ہوتے رہیں گے اور انسان نئی سے نئی باتیں معلوم کرتا رہے گا جو اس کے باپ دادوں کو معلوم نہیں تھیں۔

(تفسیر کبیر جلد اول صفحہ53)

’’شعور اور علم میں یہ فرق ہے کہ شعور ایک حسِّ باطنی کے متعلق ہے جو بلا سامانِ ظاہری بھی اپنا کام کرجاتی ہے لیکن علم بیرونی چیزوں سے حاصل ہوتا ہے۔ ممکن ہے علم کا اثر قلب پر نہ ہو لیکن شعور کا بالضرور ہوتا ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد اول صفحہ164)

عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کی ایک اور تفسیر بھی ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ عَلَّمَ کے معنے خارجی ذرائع سے سکھانے کے علاوہ طبعی طورپر سکھانے کے بھی ہوں یعنے یہ مطلب بھی ہو کہ آدم کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے مختلف علوم کے سیکھنے کا مادہ رکھا یہ ظاہر ہے کہ ہر جنس کے افراد گو اپنی جنس سے تعلق رکھنے والے علوم کو بھی ایک دوسرے سے کم و بیش سیکھتے ہیں لیکن جو علوم ان کے دائرہ سے باہر ہوں انہیں وہ بالکل نہیں سیکھ سکتے۔ پس معلوم ہوا کہ ہر جنس کے لئے اللہ تعالیٰ نے الگ الگ قوتوں کے دائرے مقرر کئے ہیں انسان کے علم حاصل کرنے کا دائرہ اور ہے طوطے کا اور مینا کا اور گھوڑے کا اور۔ اور کتے کا اور۔ مینا طوطا بھی سکھانے سے چند لفظ سیکھ لیتے ہیں لیکن پوری طرح بات سمجھ کر ہر قسم کے موضوع پر بات نہیں کر سکتے لیکن انسان ایسا کر سکتا ہے گھوڑے اور کتے بھی بعض کرتب سیکھ لیتے ہیں لیکن انسان کی طرح ان کا یہ سیکھنا وسیع نہیں ہوتا۔
پس ایک معنی اس آیت کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر وسیع علوم سیکھنے کی قابلیت پیدا کی اس صورت میں عَلَّمَ الْاَسْمَآءَ کے یہ معنے ہونگے کہ اس نے مختلف اشیاء کے خواص سمجھنے کی قابلیت انسان میں پیدا کی چنانچہ آدم کے وقت سے اس وقت تک انسان مختلف علوم میں ایجادیں کر رہا ہے اور ہر روز اس کا علم پہلے سے بڑھ رہا ہے اس صورت میں اسماء کے معنی خواص اور صفات کے ہی ہونگے مگر صفات الٰہیہ کی بجائے صفات طبعیہ کے معنے کئے جائیں گے۔ منطقی اصطلاح کی روشنی میں ان معنوں کی تشریح یہ ہو گی کہ آدم کو ہم نے حیوانِ ناطق بنایا یعنے مختلف اشیاء پر غور کرنے اور اس کی کنہ کو پہنچنے اور دوسروں کو سکھانے کی قابلیت اس میں رکھی جیسا کہ اَنْبِئْہُمْ بِاَسْمَآئِہِمْ کے الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔

(تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 315)

’’ پس مخالفت جائز ہے بشرطیکہ وہ دیانتداری سے ہو۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہر قسم کی علمی ترقی رُک جاتی۔ کیونکہ تمام علمی ترقیات اختلاف سے وابستہ ہوتی ہیں۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد دوم ص118)

علم دماغی ترقی کا موجب ہوتا ہے۔ میں نے پچھلے جلسہ کے ایک موقع پر یہ بات بیان کی تھی کہ علم کی ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ مختلف علوم کے متعلق ایسے لوگوں کے لیکچر ہوتے رہیں جو ان کے ماہر ہوں۔ خواہ یہ علوم دینی ہوں یا دنیاوی۔کیونکہ ہر قسم کا علم انسان کی دماغی ترقی کا موجب ہوتا ہے۔ بعض دفعہ انسان مذہبی طور پر ایک رتبہ حاصل کرلیتا ہے مگر دنیاوی علوم نہ جاننے کے باعث ذلیل ہوتا ہے۔

(تقاریر ثلاثہ ۔انوارالعلوم جلد 7صفحہ 115)

مسلمان معاشرہ اور مسلمان حکمرانوں کی علم دوستی اور مذہبی بے تعصبی کی شہادت کے طور پر مترجم مشہور امریکی مصنف ڈریپر
کی کتاب’’معرکہ مذہب و سائنس ‘‘ سے ایک طویل اقتباس نقل کرتے ہیں جس کا ایک حصہ کچھ یوں ہے۔
’’مدارس و مکاتب کی نگرانی بڑی فراخ دلی سے بعض دفعہ نسطوری عیسائیوں اور بعض دفعہ یہودیوں کے سپرد کی جاتی تھی۔ کسی شخص کو کسی خدمتِ جلیلہ پر فائز کرتے وقت حکومت کو یہ خیال نہ ہوتا تھا کہ وہ کس قوم سے تعلق رکھتا ہے یا اس کے مذہبی عقائد کیا ہیں، بلکہ محض اس کی علمی قابلیت کا لحاظ کیا جاتا تھا۔‘‘

(صفحہ27)

اس کے بعد ’’اسلام کے ہاتھوں علم کی سربلندی‘‘ کے عنوان کے تحت مترجم لکھتے ہیں۔
’’مسلمانوں کا علم سے کیا برتاؤ رہا اور مسلمانوں نے علم کی کیا خدمت کی؟ اس داستان کو، جو نہایت شاندار داستان ہے عرب سے شروع کرنا پڑے گا، جو اسلام کا منبع اور مسلمانوں کا پہلا گہوارہ ہے۔ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں علم کا مطلقًا کوئی چرچا نہ تھا۔ بعثت کے وقت پورے عرب میں گنتی کے چند ہی آدمی معمولی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ خود پیغمبر اسلام بھی امیٔ محض تھے۔ لکھنا پڑھنا بالکل نہیں جانتے تھے۔ اولین مسلمانوں کی بھی یہی حالت تھی کہ ایک دو شخصوں کے سوا کوئی حرف شناس تک نہ تھا۔ 2ھ میں جنگ بدر ہوئی اور غیرمسلم قیدیوں کی رہائی کا ایک فدیہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے یہ قرار دیا کہ چند مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھادیں۔ یہ مسلمانوں کا پہلا مدرسہ تھا۔ اب دروازہ کھل گیا۔ دیکھتے دیکھتے پوری اسلامی دنیا ایک یونیورسٹی بن گئی اور علمی چرچوں سے گونج اُٹھی۔اسلام سے پہلے عربی زبان میں علوم کیا معنی کوئی چھوٹی سے چھوٹی کتاب بھی موجود نہ تھی ۔لیکن مسلمانوں نے بہت ہی قلیل مدت میں اس زبان کو اعلیٰ درجے کی علمی زبان بنادیا۔ صرف و نحو تیار کی۔ فصاحت و بلاغت کے اصول وضع کئے۔ لغات مرتب کئے اور بے شمار تصنیفوں سے اس زبان کو مالامال کردیا۔ یہ واقعہ ہے اور اس واقعہ سے کوئی ذی علم انکار نہیں کرسکتا کہ اٹھارویں صدی عیسوی کے آخر تک دنیا کی کوئی زبان قدیم ہو یا جدید علمی سرمائے میں عربی زبان کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔ یورپین زبانوں کی جتنی بھی پونجی ہے آخری ڈیڑھ سو سال کی پیداوار ہے۔ اس سے پہلے یورپین زبانیں فقیر تھیں اور جو کچھ علمی سرمایہ ان کے پاس تھا عربی کتابوں کے تراجم ہی تھے۔ بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ اکیلی عربی زبان میں جتنی تصانیف موجود تھیں اٹھارھویں صدی کے آخر تک دنیا بھر کی زبانوں کی مجموعی تصانیف سے کہیں زیادہ ان کی تعداد تھی۔مسلمان اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے اور خود ان کے رسولِ حق نے اس حقیقت کی طرف ان کی رہنمائی کی تھی کہ علم کا نہ کوئی وطن ہوتا ہے نہ دین نہ قومیت، بلکہ علم تمام انسانوں کی عام میراث ہے اور جہاں بھی ملے مسلمان اسے اپنی متاع گم گشتہ سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے علم کے لینے اور دینے میں کبھی تعصب کو راہ نہ دی۔غیرمسلم ہندوستان، ایران، یونان کے علوم ہاتھوں ہاتھ لئے اور یونان کے حکیم اکبر ارسطو کو ’’معلم اول‘‘ کا خطاب دے دیا۔‘‘

(صفحہ22)

1952ء میں یہ مقدمہ تحریر کرتے وقت مترجم کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ جلد ہی اسلام اور مسلمانوں کی ان عظیم الشان روایات کو پس پشت ڈال دیا جائے گا بلکہ ملیا میٹ کردیا جائے گا اور علم دوست اور آزادئ ضمیر کے ضامن اسلام ہی کے نام پردینی اختلاف کی بنیاد پر ایسی ایسی قدغنیں اور پابندیاں عائد کردی جائیں گی جو ان سنہری اسلامی اصولوں کے یکسر خلاف ہوں گی جن کے گیت اس کتاب میں گائے جارہے ہیں اور جس کی تحسین و آفرین غیر مسلم محققین بھی کررہے ہیں۔مسلمان اپنے عقائد و مسلمات کے خلاف کوئی صدا برداشت نہیں کریں گے، ان کے علماء و حکمرانوں کی جانب سے ضمیر پر قفل چڑھائے جائیں گے اور فکر انسانی کو جکڑبند کیا جائے گا۔اپنے مسلک و عقیدے کے مخالف علماء کے پیچھے خفیہ پولیس لگائی جائے گی اور احتسابی عدالتیں انہیں سزائیں دیں گی۔

( انصررضا ۔کینیڈا )

(قسط 3 آخر)

قسط 1 پڑھیں

قسط 2 پڑھیں

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 دسمبر2019

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20دسمبر2019