• 29 مئی, 2020

توبہ کی تیسری شرط عزم ہے

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔

‘‘تیسری شرط عزم ہے۔ یعنی آئندہ کے لئے مصممّ ارادہ کر لے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رجوع نہ کرے گا اور جب وہ مداومت کرے گا تو خدا تعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطاکرے گا۔ یہانتک کہ وہ سیّئات اس سے قطعاً زائل ہوکر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اس کی جگہ لے لیں گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر’’ فرمایا کہ ‘‘اس پر قوت اور طاقت بخشنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے۔ جیسے فرمایا اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا۔ ساری قوتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں اور انسان ضعیف البنیان تو کمزور ہستی ہے۔ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا اس کی حقیقت ہے۔ پس خداتعالیٰ سے قوت پانے کے لئے مندرجہ بالا ہر سہ شرائط کو’’ (یہ جو تینوں شرائط ہیں) ‘‘کامل کرکے انسان کسل اور سستی کو چھوڑدے اور ہمہ تن مستعد ہوکر خداتعالیٰ سے دعا مانگے۔ اللہ تعالیٰ تبدیل اخلاق کردے گا۔’’ فرمایا کہ ‘‘اصلی بہادر وہ ہے جو تبدیلِ اخلاق پر مقدرت پاوے۔ پس یادرکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیل اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے۔’’

(خطبہ جمعہ 9جون 2017ء)

پچھلا پڑھیں

جمعۃ الوداع اور ہماری ذمہ داریاں

اگلا پڑھیں

آج کی دعا