• 25 مئی, 2020

جلد اپنا شفا یاب دلدار ہو

منتظر تھے سبھی کہ ابھی آئے گا
ہم کو اپنا وہ روحِ گلستاں نظر

پھر پریشاں ہوئے آج کیا ہو گیا
آیا موجۂ خوشبو صبح نہ ادھر

دل بڑے زور سے پھر دھڑکنے لگے
“احمدی دور درشن” نے دی جب خبر

آج منبر پہ نہ پھول کھل پائیں گے
کہ علیل ہو گیا اپنا جانِ جگر

دل میں پھر کیا کہیں درد کتنے جگے
چوٹ آئی اسے زخم ہم کو لگے

عافیت جلد اس کو لگائے گلے
لب دعاؤں سے لبریز ہو نے لگے

خود ہی پیشانیاں سجدہ ریز ہو گیئں
اشک آنکھوں میں موتی پرونے لگے

ٹھیس پہنچی دلوں کو تو اہل قلم
اپنے لفظوں میں جز بے سمو نے لگے

التجا سب نے کی یہ حضورِ خدا
نہ رہا خود پہ قابو تو رونے لگے

جلد اپنا شفا یاب دل دار ہو
پھر خدایا کبھی نہ یہ بیمار ہو
آمین

(مبارک احمد عابد)

پچھلا پڑھیں

جمعۃ الوداع اور ہماری ذمہ داریاں

اگلا پڑھیں

آج کی دعا