• 18 مئی, 2024

ماریشس میں احمدیت

ماریشس میں احمدیت
میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا

جزیرہ نما ملک ماریشس کی تاریخ کا خلاصہ

ماریشس، بحر ہند میں جزیرہ ملک، افریقہ کے مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ جغرافیائی طور پر، یہ مسکرین جزائر کا حصہ ہے۔ ماریشس کو سب سے قبل عربوں نےاور پھر ملائشین اور پھر یورپین لوگوں نے دریافت کیا۔سولہویں صدی کے شروع میں یہ دنیا کے نقشے پر ظاہر ہوا۔ سب سے قبل ہالینڈ پھر فرانس اور 1810ء میں برطانیہ کے قبضہ میں آ گیا اور 12 مارچ 1968ء کو آزاد ہوا۔ ا س کا دارالحکومت پورٹ لوئس ہے۔

تقریباً دو تہائی آبادی برصغیر پاک و ہند نژاد ہے، جن میں سے زیادہ تر 19ویں اور 20ویں صدی کے اوائل میں شوگر کی صنعت میں کام کرنے کے لیے لائے گئے مزدوروں کی اولاد ہیں۔ آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ کریول (مخلوط فرانسیسی اور افریقی نسل کا) ہے، اور چینی اور فرانکو-ماریشین نسل کے لوگ بہت کم ہیں۔

1891 میں سرکاری مردم شماری کے مطابق ماریشن آبادی کچھ اس طرح تھی۔ عام آبادی 114,668 ہندوستانی 255,920 اس طرح کل آبادی 370,588 تھی۔ اگرچہ انگریزی سرکاری زبان ہے، لیکن یہ بہت کم لوگ بول سکتے ہیں۔ لوکل کریول زبان، جو کہ فرانسیسی زبان پر بنیاد کرتی ہے جسے آبادی کا تقریباً 5/4 حصہ بولتا ہے اور یہ ملک کی عام زبان ہے۔ بھوجپوری زبان، آبادی کا دسواں حصہ بولتا ہے، اور فرانسیسی تھوڑی فیصد بولی جاتی ہے۔ جزیرے پر بولی جانے والی دیگر زبانوں میں ہندی، چینی، مراٹھی، تامل، تیلگو اور اردو شامل ہیں۔ موریشن لوگ عام طور پر دو، تین یا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ زبانیں بولتے ہیں، اوریہاں کا تعلیمی نظام بھی مختلف زبانوں کی تعلیم سیکھنے کو مدد کرتا ہے۔

ماریشس افریقہ کا وہ واحد ملک ہے جہاں پہلا مذہب ہندو مت ہے۔کیونکہ 52 فیصد ہندوستانی تارکین وطن کا تعلق ہندو مذہب سے تھا۔

اس کے علاوہ عیسائی تقریبا ً28 فیصد اور 16.06 فیصد آبادی کا تعلق سنّی مسلمان فرقے سے ہے۔

ماریشس کو جمہوری، معاشی اور سیاسی آزادیوں کے لحاظ سےاچھا شمار کیا جاتا ہے۔ماریشس میں انسانی ترقی کا معیار تمام افریقہ میں سب سے اچھا ہے۔

ماریشس اپنے مختلف لوگوں کی بہت سی ثقافتوں اور روایات کا بھرپور مرکز ہے۔ جس کے مطابق سال بھر میں بہت سی تعطیلات اور تہوار مقرر ہوتے ہیں۔ سالانہ تہوار زیادہ تر مذہبی ہوتے ہیں جو کہ یہاں کے لوگوں کے عقیدے کی عکاسی کرتے ہیں۔

پورا ملک یکم فروری کو غلامی کے خاتمےکا دن مناتا ہے۔

12 مارچ، 1968ء کو ماریشس نے اپنی آزادی حاصل کی۔

اور سَر سیی وُہ ساغر رام غلام (Sir Seewoosagar Ramgoolam) قوم کے پہلے وزیر اعظم بنے۔

مار یشس میں اسلام کی تاریخ اور پہلی مسجد

1798ء میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے جو ’’پورٹ لوئس‘‘ ملک کے دارالحکومت میں رہتے تھے اُس وقت کے گورنر کے پاس جا کر پہلی مسجد کے لئے درخواست دی۔ جس پر انہیں زمین کا ایک ٹکڑا جو کہ ’’پورٹ لوئس‘‘ کے شمال میں ایک محلہ میں واقع تھا ملا۔اس پر 1805ء میں ایک مسجد تعمیر کی گئی۔ جس سال یہ زمین دی گئی اُسی سال ایک بڑی مسلم آبادی اس جگہ کے آس پاس آکر آباد ہوگئی تھی جو اب بھی موجود ہے۔

1810ء میں انگریزوں نے اس جزیرے پر قبضہ کرلیا۔ پہلے گورنر ’’سر رابرٹ فرکوار‘‘ نے زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کی کوشش کی، جس میں مختلف سیاسی یا فوجی جرائم کے مرتکب ہندوستانی قیدیوں سے کام لیا گیا۔ ان میں مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی اور انہوں نے دریائے مغرب کے علاقہ میں ایک دوسری مسجد بنانے کا مطالبہ کیا۔

مکہ مکرمہ سے چودہویں صدی میں
حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کے وقت کی خبر

1874 میں، ایک مسلمان بھائی جنکا نام ’’الحاج ابراہیم سلیمان اچھا‘‘ تھا، حج پر مکہ مکرمہ کی زیارت کے لئے گئے وہاں آپ نے سنا کہ یہ وقت مسیح موعود یا امام مہدی کی آمد کا ہے۔

اور پھر یہ اس آخری صدی کے آغاز ہی میں عیسائی پادری عبدالوحید کو پتہ چلا اور اس نے عمر اسلام کو آگاہ کیا تھا کہ اس وقت کوئی مرزا غلام احمد (علیہ الصلوٰة والسلام) نے ہندوستان میں مسیح کا دعویٰ کیا ہے۔

اگرچہ ماریشس، بحر ہند میں ہمارا ایک چھوٹا سا جزیرہ جسے دنیا نہیں جانتی تھی، مگر اس کو صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابتدائی ماننے والوں میں شامل ہونے کی وجہ سے تاریخ احمدیت میں ایک پہچان ملی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ

ماریشس کے مشرق میں ایک جگہ ہے جسے ’’دنیا کا کنارہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور خدا کا وعدہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھا کہ ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاوں گا‘‘

ماریشس جزیرے کا پہلا اسلامی رسالہ اور
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام

اسی دوران، جزیرے کے دارالحکومت ’’پورٹ لوئس‘‘ میں ایک تنظیم ’’اخوان المسلمون‘‘ وجود میں آئی اور مکرم نور محمد نورایا صاحب (پہلے احمدی) جو ایک اسکول کے استاد تھے اس تنظیم کے صدر تھے۔ اس تنظیم کے دیگر ممبران میں محمد عظیم سلطان گوش، مولا بکس بھنوں، حسین علی، ابراہیم تیگا لی اور باقر علی بہادر شامل ہیں۔

اس تنظیم نے اس وقت جزیرے کا سب سے پہلا مسلم اخبار ’’اسلامزم‘‘ شروع کیا۔ تب اس رسالے کو ایڈیٹر انچیف مسٹر نورویا نے دوسرے جرائد کے عوض مختلف اداروں کو بھیجناشروع کیا۔

انگلینڈ سے موصول ہونے والے ایک جریدے میں، مسٹر نورویا نے ہندوستان کے قادیان میں چھپنے والے جریدے ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کے لئے ایک اشتہار پایا جس کی بنیاد حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے رکھی۔

1907 کے اوائل میں، مسٹر نورایا کو رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کی کچھ کاپیاں وصول ہونے لگیں اور انہوں نے اپنے رسالہ ’’اسلامزم‘‘ میں ان سے اقتباسات کی طباعت شروع کی۔

آپ نے اس بارہ میں ان لوگوں سے گفتگو کی جو اسلام میں دلچسپی رکھتے تھے۔ یہ لوگ خاص طور پر مسٹر آمودے اچھا جو کہ میجر کہلاتے تھے، موٹا اچھا، الحاج ابراہیم سلیمان اچھا، موٹا اچھا، میاجی رحیم بوکس، مولوی حا جی ابراہیم، جامع مسجد کے امام مدنی، مولوی شیرخان اور سبحان دولت۔

اسکول ماسٹر مسٹر نورمحمد نورایا کو حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کے پیغام میں دلچسپی تھی، اور وہ اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کے مضامین نے مسٹر نورویا کے تصورات کو بدل ڈالا اور وہ اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے۔

مئی 1907ء میں شائع ہونے والے ’’اسلامزم‘‘ کے شمارے میں، آپ نے اس طرح ایک اشتہار شائع کیا:

’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ ضلع گورداس پور، پنجاب، بھارت۔ سالانہ سبسکریپشن 4 روپے، ایک کاپی۔

جنوری کا نمبر درج ذیل مضامین پر مشتمل ہے:

آخری ایام کا رسول

اسلامی عقیدہ کے بنیادی اُصول

اسلام کی آفاقیت

برطانوی حکومت کے بارے میں
مسلمانوں کا نظریہ

اللہ نے اپنے وعدہ کے مطابق، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں دنیا کے کناروں تک پہنچانا شروع کر دیا تھا۔

اور اس طرح 1907ء میں، حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور احمدیت کا پیغام ہمارے چھوٹے سے جزیرے پر پہنچ گیا۔

مسٹر نورایا نے فوری ثابت قدمی کے ساتھ احمدیت کا مطالعہ کرنا شروع کیا، اور وقتا فوقتا ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ سے اقتباسات اپنے لوکل رسالہ میں 1914ء تک شائع کرنا شروع کئے۔ اسکے بعد یہ اخبار چھپنا بند ہوگیا۔

آپ نے احمدیت کے بارے میں اپنے وقت کے دانشوروں، جیسے مسٹر تیگا لی، ڈاکٹر ساکر دولو، جی ایم اسحاق اور کیمپ ڈی ایبل کے مولوی شیرخان سے بھی بحث کی۔ اور روز ہل مسجد کا امام مدنی اور میاجی رحیم بو کس سے اور دوسرے مسلمانوں کے ساتھ احمدیت کے تعارف پر ملاقاتیں ہوئیں۔

مسٹر نورویا نے ’’اسلامی جائزہ‘‘ کے عنوان سے ایک اور اخبار شائع کیا جہاں وہ مسیح کی آمد کے موضوع پر وضاحت کرتے رہے۔

مسٹر نورویا کو بعد میں عدالت میں حلفاً اعلان کرنا پڑا کہ پیغام احمدیت اور احمدیت کی تعلیم، اسلامی عقائد کے خلاف نہیں ہے۔شروع میں ان اخبارات کے کسی بھی خریدار یا ایڈیٹر نے احمدیت کے پیغام کی اشاعت پر یا اس کی تبلیغ پر اعتراض نہیں کیا۔

مگر اس نئے عقیدے پر بحث 1913ء سے1915ء کے درمیان شدت اختیار کر گئی۔ مگر مسٹر نورایا اسلام احمدیت کے بارہ میں اپنا علم بڑھاتے رہے اور انکا ایمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مضبوط ہوتا گیا۔ تاہم وہ ابھی فیصلہ لینے کو تیار نہیں تھے کیونکہ اردو زبان کو ابھی اچھی طرح نہیں جانتے تھے اور نہ ہی عربی زبان کو۔اور نہ ہی انکو براہ راست ان حوالہ جات کی کتابوں تک رسائی حاصل تھی۔

ماریشس میں پہلا احمدی

1913 میں، مسٹر نورایا نے مسٹر محمد عظیم سلطان گوس سے رابطہ کیا، جو کہ بعد میں روز ہل ’’محمدڈن اسکول‘‘ میں ان کے نئے معاون بن گئے۔

مسٹر نورایا نے ان سے بات کی اور انہیں مسیح موعود اور احمدیت کی دریافت اور اپنی تحقیق کے بارے میں بتایا اور اس طرح مسٹر سلطان گوس بھی سچائی کی تلاش میں، احمدیت کے بارہ میں تحقیق کرنے میں آپ کی مدد کرنے لگے۔ان دونوں آدمیوں کے مابین ایک سی روحانیت کا جذبہ تھا

مسٹر سلطان گوس کے ایک ماموں، جنکا نام میاں جی سبحان رجب علی، جو کہ مختلف مساجد کے امام تھے۔ اس جزیرے میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے سنی معاشرے میں ان کی بہت زیادہ مانگ تھی۔ تب مسٹر سلطان گوس نے مسٹر نورویا کو میاجی سے رابطہ کرنے اور حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے بارے میں بات کرنے کا کہا۔

میاجی سبحان یہ سب پہلے ہی سے جانتے تھے کہ مسلم دنیا ایک مہدی اور مسیح کی آمد کی توقع کر رہی تھی۔اس کے بعد انہوں نے اس دعوے کا ایک گہری نظر سے مطالعہ شروع کیا، کچھ مخصوص قرآنی حصوں کا، مسیح موعود کے نئے نقطہ نظر کی ترجمانی اور اس کے بارے میں اپنے نظریات کا بغور جائزہ لیا۔

مسٹر سلطان گوس نے انجیل کی تعلیم کے لئے اسکول کا سرٹیفکیٹ ’’کریڈٹ‘‘ حاصل کیاتھا۔ اس لحاظ سے، ان تینوں حضرات نے اپنی تحقیق کو بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

مسیح کے بارے میں، میاں جی کو مرزا غلام احمد کے دعوؤں سے اتفاق کرنا پڑا اور اس بات کی تصدیق کرنا پڑی کہ قرآن پاک کے مطابق، حضرت عیسیٰ یقیناً مر گئے تھے اور آسمان میں زندہ نہیں تھے۔ عظیم سلطان گوس کے علم کے مطابق بھی انجیل، مسیح کی صلیب پر موت اور اس کے آسمان میں اٹھنا ثابت نہیں کرسکتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود کے دلائل کی بنیاد پر، میاں جی سبحان، امت محمدیہ میں حضرت محمد کے بعد، دوسرے نبیوں کے آنے کے امکان کے قائل تھے۔ لہذا، انہوں نے حضرت مسیح موعود کے دعوے کی صداقت کو جانا جس سے وہ مطمئن ہو گئے۔

مسٹر نورایا نے زیادہ انتظار نہیں کیا اور اسی سال 1913ء میں انہوں نے جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کا خط پہلے خلیفہ حضرت مولوی حکیم نور الدین رضی اللہ عنہ کی خدمت اقدس میں بھجوایا۔

1914ء کے آغاز میں، محمد عظیم سلطان گوس نے بھی ایسا ہی کیا اور اس کے بعد میاں جی سبحا ن راجب علی نے بھی خود کو احمدی ہونے کا اعلان کر دیا، مگر بعد میں انہوں نے دباؤ کیوجہ سے انکار کردیا۔اس کے بعد، مسٹر مولابوکس بھونو نے بھی احمدیت کو گلے سے لگایا۔

ماریشس میں لوگوں کی عمومی اور مسلمانوں کی خصوصاً مذہبی حالت

احمدیت کا پیغام ماریشس پہنچنے سے پہلے بھی لوگ اسلامی نقطہ نظر کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ہندو اور عیسائی اخلاص کے ساتھ اپنے عقیدہ سے وابستہ تھے۔ مگر مسلمان تو ہندو اور عیسائی ثقافتوں سے پوری طرح متاثر تھے۔

چند مسلمان جنہوں نے اپنے ائمہ مساجد کی پیروی کی وہ گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ یہ علماء تعویذ بیچتے تھے جن کے تعویزوں کو تمام جسمانی، اخلاقی، ذہنی اور روحانی پریشانیوں کے لئے علاج سمجھا جاتا تھا، اور اس پر تقریباً تمام مسلمانوں کو کامل یقین تھا کہ بد قسمتی اور برائی کو روکنے کے لئے اور صحت، کامیابی کا حاصل کرنے کے لئے تعویز ایک کامل ذریعہ ہے۔ تاہم تعویذ گنڈوں کا کاروبار بہت ترقی پر تھا۔ قسمت کا حال بتانے والوں اور جادوگروں کو بہت عزت اور احترام دیا جاتا اور انکو دانشمند سمجھا جاتا۔ کچھ مسلمان جنہوں نے تعویذ کو مسترد کردیا تھا تو انہوں نے آخر نماز کو ہی تسبیح سے بدل دیا۔

ملک میں جادوگروں کے مظاہرے دیکھنا ایک عام بات تھی جبکہ مسلمان جادو، تعویز کرنےاور بیچنے کا مرکزی کردار تھے۔ تاہم مسائل اور بری آفات سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے تقریبًا ہر خاندان ایک جادوگر سے تعلق رکھتا تھا۔ اور یہی اس وقت زندگی کا تصور تھا۔

تین یا چار مختلف اوقات میں اتوار کے دن، اور باقی ہفتے کے دنوں میں شام کے وقت لوگوں کے ہجوم ہر جگہ موجود ہوتے جو گلیوں میں گایا اور ناچ لیا کرتے، اور چیختے پکارتے اور مزاح نگار خاکے پیش کرتےتھے۔ کسی کو بھی مذہب کی پرواہ نہیں تھی۔

اکثریت ابھی بھی مولویوں کے حکموں کے تابع تھی۔ خراب تصورات ان کے ذہنوں میں اتنے جڑ پکڑ گئے تھے کہ انہیں سمجھانایا قائل کرنا مشکل تھا۔اور انہیں نجات حاصل کرنے کی بھی پرواہ نہیں تھی۔ مسلمان عموماً اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے میں تو سب سے نچلی سطح پر تھے مگر جہالت میں سب سے اوپر تھے۔ تب بت پرستی کے حالات عروج پر تھے۔

مذکورہ بدعات کو ختم کرنے کے لئے ایک روحانی طاقت اٹھی اب اسلام کو زندہ کرنے اور ایک نئی روحانی کائنات بنانے کا وقت آگیا تھا۔تب احمدیت یعنی حقیقی اسلام، موریشس کے لوگوں کے بچاؤ کے لئے آیا۔ اہل ایمان میں سے کچھ نے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کیا، جبکہ بڑی اکثریت نے قبول نہیں کیا۔

پہلے احمدی

1914ء میں جب پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی تب 12 رائل انفنٹری کا ایک فوجی دستہ ہندوستان سے ماریشس میں آیا۔ یہ فوجی دستہ واکواہ اور فینکس کے قریب کہیں متعیّن ہوا۔ اس کے سپاہیوں میں خوش قسمتی سے چار احمدی، ڈاکٹر لال محمدصاحب، عبدالمجید صاحب، سارجنٹ سید عامر اور بابو اسماعیل خان بھی شامل تھے۔ کچھ مسلمان سپاہی ’’فینکس‘‘ کی سید حسین مسجد میں اپنی نمازیں ادا کرنے آتے تھے۔ ہمارے ان احمدی فوجیوں نے جزیرے میں احمدیوں کی تلاش شروع کی۔

برطانوی فوجی کیمپ سے محض چند سو گز پر رجب علی خاندان رہتے تھے۔ مسٹر آدم رجب علی کے باغ کا ایک حصہ ایک ایسی سڑک پر تھا جو بمشکل ایک سو میٹر دور فوجی کیمپ کی طرف جاتا تھا۔ایک دن اسٹیشن کیطرف جاتے ہوئے انہوں نے دیکھا کہ ایک فوجی آ رہا ہے۔ ان کے قریب پہنچ کر اس نے انہیں اسلامی طرزکے ساتھ سلام کیا، جس کا جواب ان دونوں بھائیوں نے دیا اور ان سے کچھ گفتگوکی۔ اس اجنبی شخص نے اس جگہ پر مسلمانوں کی موجودگی کے بارے میں دریافت کیا۔پھر اس نے یہ سوال کیا کہ آپ کے علم میں جزیرے پر احمدی مسلمان موجود ہیں؟

دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کی طرف مسکرا کے دیکھا اوراسے بتایا کہ ہم نے اسلام احمدیت کے بارے میں سنا ہے اور ہم بھی مزید معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ مگر اس معاملے میں ہم آپ کو اپنے بھتیجے محمد عظیم سلطان گوس سے ملائیں گے، جو شاید اس موضوع پر آپ کو بہتر معلومات دے سکتے ہیں۔ یہ شخص ڈاکٹر لال محمد صاحب تھے۔ اسطرح سب سے قبل انکی ملاقات عظیم سلطان گوس صاحب سے ہوئی۔

مسٹر نورویا نے 1913ء کے آخر میں قادیان میں حضرت حکیم مولوی نورالد ین رضی اللہ کو جو پہلے خلیفہ تھے اپنی ’’بیعت کا فارم‘‘ بھجوا دیا۔ اور 1914ء کے آغاز میں محمد عظیم سلطان گوس نے بھی بھیجوا دیا۔ مسٹر محمد عظیم سلطان گوس نے ایک خط 1914ء میں پہلے خلیفہ کو لکھا جو کہ 11 اپریل 1915ء کے الفضل اخبار میں شائع ہوا تھا۔

پہلا مبلغِ سلسلہ اس جزیرہ پر

اگرچہ پہلی جنگِ عظیم زوروں پر تھی۔مگر پھر بھی ہمارے نوجوان تینوں احمدیوں نے لوگوں کو احمدیت کی تبلیغ کرنا شروع کردی۔ بعد میں مسٹر مولاباکس بھونو ان میں شامل ہوگئے اور اب یہ چار لوگ تبلیغ کر رہے تھے۔

جنگ بری طرح سے جاری تھی برطانوی نوآبادیات مختلف رکاوٹوں کا شکار تھیں، جیسے مالی معاونت، سمندری مواصلات مشکل تھیں۔ بیرون ملک ڈاک کی منتقلی میں خلل پڑرہا تھا۔

ہندوستان میں پہلے خلیفہ کی وفات کے بعد حضرت مصلح موعود دوسرے خلیفہ بنے۔ اور ڈاکٹر دین لال محمد صاحب نے درخواست کی کہ اس جزیرے ماریشس پر ایک مبلغ بھیجا جائے۔ چنانچہ 1914ء کے آغاز میں محمد عظیم سلطان گوس نے خلیفہ وقت کو ایک مبلغ بھیجنے کے لئے خط لکھا تاکہ بہتر رہنمائی اور تربیت حاصل کی جائے اور درخواست کی کہ ہماری اس ننھی جماعت کے لئے دعا کریں جو ابھی پیدا ہوئی ہے۔

اس خط کا مضمون اردو سے انگریزی میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

پیارے حضور!
میں ’’ترقی اسلام‘‘ کو 5 روپے کے منی آرڈر، بھیجتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ حضور اس حقیر نذرانہ کو قبول کریں گے۔ میں اس رقم کو بھیجتا ہوں تا اس مقدس مذہب کی تبلیغ میں استعمال ہو جو ہمارے پاس نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ لایا ہے۔ اور اس دین سے متعلق بہترین تفسیر آپ کے بابرکت والد حضرت مسیح موعود نے کی۔

میں نے اپنے پچھلے خط میں حضو ر سے درخواست کی تھی کہ وہ مجھے اپنی جماعت میں قبول کریں۔ مجھے امید ہے کہ میرا خط موصول ہوا ہے۔ میرا دوست اور میرا بھائی جو میرے عقیدے سے اتفاق کرتے ہیں اور جو میرے ساتھ ہیں، انہیں ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حضور! براہ کرم دعا کریں تاکہ اللہ ہماری مدد کرے اور ہماری تمام مشکلات کو دور کرے۔ ہمارے لئے ایک راہنما کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اللہ کرے کہ ہماری خواہشات پوری ہوں۔ ہمارے جزیرے کے لئے جو مشنری مقرر کیا گیا ہے وہ ابھی نہیں پہنچا ہے۔ یہاں، ہم کو اسلام کے باہر سمجھا جاتا ہے، کوئی بھی ہمارے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنا نہیں چاہتا، کسی کو بھی ہم سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، لیکن ہمارا اللہ بہت بڑا ہے۔ آمین!

اوہ میرے پیارے آقا! ہماری رہنمائی کریں اور براہ کرم یہ یقینی بنائیں کہ ہم اپنے دین کی تعلیمات کے بارے میں بہتر رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔ اللہ آپ کی کاوشوں پر برکت عطا فرمائے اور وہ آپ کو کامیابی عطا فرمائے۔

واقعی یہ ایک بہت بڑا احسان ہوگا اگر آپ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی پر ایک کتاب بھیج سکتےہیں۔

والسلام،
میں اپنے بہت پیارے حضور کا ایک عاجز بندہ ہوں۔
ایم اے سلطان گوس۔

ماریشس کے پہلے مبلغ،
حضرت مولانا صوفی غلام محمد رضی اللہ عنہ

مالی اور دیگر ذرائع کی کمی کے باوجود، خلیفہ وقت نے ان کی درخواست قبول کی اور ماریشس کے پہلے مبلغ کی حیثیت سےحضرت مسیح موعود کے صحابی، مولانا صوفی غلام محمد صاحب بی اے کی غیر معمولی شخصیت کا انتخاب کیا۔

آپ 20 فروری 1915ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور 15 جون 1915ء کو مولانا صوفی غلام محمد نے ماریشس کی سرزمین پر قدم رکھا۔ آپ جہاز ایس ایس کنارا پر آئے تھے۔ ایک مسلمان غلام محمد اسحق نے اپنے اخبار (Le petit journal) میں حکومت سے آپکی واپسی کا مطالبہ یہ کہہ کر کیا کہ اس جہاز میں ایک ایسا شخص ہندوستان سے آیا ہے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے عقیدے کے خلاف عقیدہ لیکر آیا ہےاور یہ یہاں دشمنی اور جھگڑا بڑھانے کیلئےآیا ہے۔اس پر ایک عیسائی اخبار نے جواب دیا کہ غلام محمد اسحاق کو چاہیے کہ پہلے ثابت کرے کہ کیا یہ ایک مسلم ریاست ہے۔

ماسٹر نور محمد صاحب، صوفی صاحب کو جہاز پر ملنے گئے اور بغیر کسی روک کے انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔اور چند ماہ اپنے گھر رکھا۔

صوفی صاحب ماریشس کے پہلے مبلغ ِسلسلہ تھے۔

صوفی غلام محمد اپنے مشن کا آغاز بڑے جوش و جذبے سے کیا۔آپ نے جون 1915ء سے لے کر 1916ء کے آغاز تک جزیرے کے بیشتر حصوں کا دورہ کیا، مختلف مساجد اور ان سے منسلک اماموں سے ملاقات کی۔

1919ء میں حضرت صوفی صاحب کی تحریک پر چار نوجوان بغرض حصول علم قادیان روانہ ہوئے۔جنکے نام پیر محمد حسین صاحب، غلام حسین بھنو صاحب، الیاس اکبر علی صاحب اور زین العابدین رجب علی صاحب۔1919ء کی وباء میں پیر محمد حسین صاحب اور الیاس اکبر علی صاحب وفات پاگئے اور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔اور غلام حسین بھنو نے انگریزی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔

صوفی صاحب کی آمد بہت اہم موقع پرہوئی کیونکہ اس دوران ماریشس میں احمدیہ جماعت کا قیام ہوا۔ شروع میں تو جزیرے کے مسلمانوں نے اس مبلغ کا پرتپاک استقبال کیا۔آپ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر انکی مساجد میں نماز پڑھتے یا اکثر و بیشتر انہیں پڑھانے کی باقاعدہ دعوت بھی دی جاتی تھی۔

ان چار احمدیوں کے علاوہ، اللہ نے اپنے فضل سے، ان کی تعداد میں اضافہ کیا۔ صوفی صاحب جو مسٹر نورویا کے ساتھ ’’روز ہل‘‘ میں رہتے تھے۔ اور بعد میں ایک مکان کرائے پر لیا گیا جہاں آپ ٹھہرے اور وہیں سے احمدیت کی تبلیغ ہوئی۔

احمدیت کی اس لہر نے جزیرے پر سنّی مسلما نوں کے نزدیک خطرے کی سیٹی بجادی اور سنیّوں نے ہندوستان کے علماء سے احمدیوں کو ہرانے کی اپیل کی۔

صوفی غلام محمد صاحب 1881ء میں پیدا ہوئے تھے ان کا آبائی شہر شیخوپورہ تھا۔ آپ بچپن سے ہی یتیم تھے۔ آپ کو حضرت چوہدری رستم علی صاحب نے پالاتھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وفادار ساتھی تھے۔

چوہدری صاحب اس وقت مونٹ گمری میں بطور انسپکٹر دربار میں کام کر رہے تھے۔ بعد میں وہ ضلع گورداس پور میں منتقل ہوگئے اور صوفی صاحب، قادیان پڑھائی کے لئے چلے گئے۔ چوہدری صاحب انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے اور جماعت کی ترقی کے لئے ا پنی ساری آمدنی عطیہ کرتے۔

صوفی صاحب قادیان کے مدرسہ احمدیہ میں پڑھ رہے تھے۔ ایک طالب علم کے طور پر وہ بہت ذہین تھے اور تب انہوں نے اپنا F.A مکمل کیا۔

حضرت مولوی نورالدین رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود کو مشورہ دیا کہ صوفی صاحب ایک بہت ہی ذہین طالب علم ہیں اور انہیں طب میں اپنی تعلیم جاری رکھنی چاہیے اور انہیں میڈیکل کالج میں جانا چاہیے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: ’’اس چھوٹے بچے کا بہت ہی نرم دل ہے، وہ میڈیکل اسکول میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ ’’انہیں باتوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی سفارش کی۔ آپ حضرت مولوی عبدالکریم سیالکوٹی کےبھی طالب علم تھے۔ آپ نے کالج سے بی اے پاس کیا۔

صوفی صاحب جنھوں نے اپنی تعلیم میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور بہت جلد علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے پاس کرلیا۔ صوفی صاحب غیر معمولی طور پر سادہ انسان تھے، وہ ہمیشہ مسکراتے، فطرتاً بہت متقی تھے۔ وہ ایک خوبصورت آدمی تھے۔ وہ قرآن پاک کو جانتے تھے۔

آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اچھے لگتے تھے۔ اور ہمیشہ آپ کے ساتھ سفر پر جاتے تھے۔ حضرت مسیح موعود نے ان سے نماز کی ا مامت بھی کروائی۔ آپ نے اپنی زندگی خدمت اسلام کےلئے وقف کردی تھی اور جہاں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام چاہیں وہ جانے کے لئے تیار رہتے۔مگر یہ خواب حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد کی خلافت میں سچ ہوا۔

آپکی کی شادی کا اہتمام حضرت مسیح موعود نے کیا تھا آپ نے مولوی عبد الکریم صاحبؓ کی بیوہ سے شادی کی جن سے آپ کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

پہلی بیوی کی وفات کے بعد آپ نے دوبارہ نکاح کیا اور اس شادی سے تین بچے پیدا ہوئے، دو لڑکیاں اور ایک لڑکا۔ صوفی صاحب کا انتقال 17 یا 18 اکتوبر 1947ء کو لاہور میں ہوا۔

ماریشس کے دوسرے مبلغ،
حضرت حافظ عبید اللہ رضی اللہ عنہ

ماریشس، سینٹ پیٹر میں نئے احمدیوں کی تعداد کافی بڑھ رہی تھی تو ان کی درخواست پر حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے صوفی صاحب کی مدد کے لئے حضرت مولوی عبید اللہ صاحب کو دوسرے مبلغ کے طور پر منتخب کیا۔ اسی دور میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے یہ تحریک فرمائی کہ احمدیوں کو اپنے بچوں کو لازمی طور پر جماعت کی خدمت کے لئے زندگیاں وقف کرنی چاہئے۔ اس تحریک کو دیکھتے ہوئے حضرت غلام رسول وزیرآبادی نے اپنے بیٹے کو وقف کیا۔

حافظ عبید اللہ صاحب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے صحابی تھے۔ جو حضرت حافظ غلام رسول وزیرآبادی کے بیٹے تھے۔حضرت عبید اللہ 1892ء میں پیدا ہوئے۔

1903ء میں حضرت مولوی عبید اللہ اپنی تعلیم حاصل کرنے کےلئے قادیان گئے۔ جہاں انہوں نے 1915-1916ء میں مدرسہ قادیان میں گریجویشن کیا۔ شادی کے آٹھ سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹی امتہ الحفیظ سے نوازا جنوری 1919ء میں ماریشس میں قیام کے دوران کچھ عرصے بعد اللہ نے اسے ایک بیٹے سے نوازا جولائی 1920ء میں جسکا نام بشیرالدین رکھا۔ یہ وہی بیٹا ہے جو ماریشس میں 1950ء میں بطور چوتھے مبلغ سلسلہ بن کر آئے۔

ماریشس میں خدمت بجا لانے والے
مبلغین کرام کے اسماءاور عرصہ تقرری

مبلغین کی اس ملک میں پہنچنے اور واپسی کی تاریخوں میں کچھ اختلاف ہے۔کیونکہ بعض رپورٹس میں مرکز سے آنے کی تاریخ اور بعض میں اس ملک میں پہنچنے کی تاریخ درج ہے۔

  1. مکرم مولانا صوفی غلام محمد صاحب 1915-1927
  2. مکرم حافظ عبیداللہ صاحب 1917-1923
  3. مکرم حافظ جمال احمد صاحب 1928-1959
  4. مکرم حافظ بشیر الدین صاحب 1951-1955
  5. مکرم حافظ فضل الہی بشیر صاحب 1955-1965
  6. مکرم محمد اسماعیل منیر صاحب 1960-1970
  7. مکرم احمد شمشیر سوکیا صاحب(ماریشن) 1966-1978
  8. مکرم قریشی محمد اسلم صاحب 1969-1973
  9. مکرم صدیق احمد منور صاحب 1970-1983
  10. مکرم صالح محمد خان صاحب 1975-1978
  11. مکرم رفیق احمد جاوید صاحب 1983-1989
  12. مکرم سیّد حسین احمد صاحب 1986-1989
  13. مکرم مظفر سدّھن صاحب (ماریشن) 16-07-1986
  14. مکرم حافظ احسان سکندر صاحب(ماریشن) 25-02-1987
  15. مکرم محمد انور قریشی صاحب 1990-1994
  16. مکرم یسین ربّانی صاحب 1995-1998
  17. مکرم مشہود احمد طور صاحب 1998-2002
  18. مکرم محمد اقبال باجوہ صاحب 2000-2004
  19. مکرم بشارت احمد نوید صاحب 2005-2016
  20. مکرم مجیب احمد منیر صاحب مبلغ انچارج 02-03-2017

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اس وقت ماریشس میں 18 جماعتیں اور 14 مساجد اور کل تجنید 2828 افراد پر مشتمل ہے۔

(مجیب احمدمنیر۔ مبلغ انچارج، ماریشس)

پچھلا پڑھیں

اسکاٹ لینڈ میں جماعت احمدیہ کا قیام

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 مارچ 2022