• 29 مئی, 2020

حضرت مفتی محمد صادقؓ قرنطینہ میں

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر حضرت مفتی محمد صادقؓ 26 جنوری 1920ء کو امریکہ میں تبلیغِ اسلام کے لئے انگلستان کی بندرگاہ لورپول Liverpool سے روانہ ہوئے۔ حضرت عبدالرحیم نیّر ؓ انہیں الوداع کہنے لورپول تک ساتھ تشریف لے گئے تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابی کو انگلستان کے ساحل سے سوار ہوتا ہؤا دیکھ سکیں۔وہاں ہوٹل میں جس کا نام اتفاق سے انگلستان کے فاتح امیرالبحر لارڈ نیلسن کےنام پر تھا۔ اُترے اور خوب دُعائیں کیں۔ رؤیا میں حضرت مفتی صاحب نے ہوٹل کے دروازہ پر ‘‘فتح محمد بہادر’’لکھا دیکھا اورنیر صاحب ؓنے اسی رات مفصلہ ذیل کلمہ پُررُعب آواز میں سُنا۔

‘‘اسلام کا درخت پھولے گا، پھلے گا اور دنیا کے کونوں تک پھیلے گا۔’’

اس طرح اللہ کے فضل اور نئی فتوحات کی خوش خبریوں کے ساتھ سفر کا آغاز ہؤا ۔

( اخبار الفضل8مارچ1920ء)

حضرت مفتی صاحب ؓ بحر اوقیانوس کی سطح پر کھڑے دیو ہیکل بحری جہاز S.S.Haverfordپر سوار ہوئے۔ جسے فرانس اور کینیڈا میں ٹھہرتے ہوئے فلاڈلفیا تک جانا تھا ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے مجاہد بندے کو جہاز میں بھی کام بھیج دیا ۔ فرانس سے دو ہزار چینی اپنے وطن جانے کے لئے اسی جہاز میں سوار ہوئے یہ جنگ کے زمانے سے رُکے ہوئے تھے ان میں کچھ مسلمان بھی تھے ۔حضرت مفتی صاحب کی قرآن کی تلاوت اور تفسیر سے متائثر ہو کر سات افراد نے اسلام قبول کیا۔اس طرح سمندر سے ہی کامیابیوں کا آغاز ہو گیا۔یہ جہاز 15۔فروری کو Philadelphia) (فلاڈلفیا) پہنچا۔

(سن رائز1921-July 1 ص12)

حضرت مفتی صاحبؓ امریکہ پہنچنے کے بعد اپنے وہاں کے حالات قلمبند کرکے بصورت خط اور مضامین مرکز کو بھجواتے رہتے۔ ایسے ہی ایک مضمون میں جو انہوں نے 1920 ء کے جلسہ سالانہ میں پڑھ کر سنانے کے لیے بھیجا اپنے سفرِ امریکہ کی روئیداد بیان کرتے ہوئے اپنی ایک خواہش کا ذکر کیا ہے۔آپ نے تحریر فرمایا۔

جہاز کی سواری بالخصوص ایسے ایام میں جبکہ ہوا تیز ہو۔ میرے واسطے ایک مصیبت کا سامناہوتا ہے۔ اتفاق سے مجھے ایسا جہاز ملا جس نے بعض سرکاری ضرورتوں کی خاطر ادھر اُدھر کے بندرگاہوں میں اتنے چکر لگائے کہ پانچ روز کا سفر اُنیس روز میں طے ہوا۔ ہوا تیز تھی ۔ قَے ہونا اور کئی قسم کی تکالیف ہوئیں۔ کئی دن بستر سے سر اٹھانا مشکل ہوگیا۔ اوّل تو کچھ کھانے کی خواہش ہی نہ ہوتی اور جو کچھ تھوڑا بہت کھایا جاتا وہ بھی لیٹے ہی لیٹے۔ اس سے بڑھ کر دوسری تکلیف یہ کہ جہاز میں جو کچھ ملتا اس میں سے گوشت اور گوشت سے بنی ہوئی اشیاء شوربا وغیرہ سب چھوڑنی پڑتی۔ کیونکہ وہ مشکوک تھیں۔ ان سب حالات کو دیکھ کر اورپھر اس کے ساتھ راہ داری کی تکالیف کو پاکر مجھے بارہا خیال آیا کہ ہمیں ایک اپنا احمدیہ جہاز بنانا چاہئے جو ہمارے مشنریوں کو مختلف ممالک میں پہنچائے۔ اور احمدیوں کو حج کے واسطے بمبئی سے جدّہ لے جائے اور حسبِ گنجائش احمدیوں کے علاوہ دوسرے مسافر بھی سوار ہوں۔ یہ جہاز بڑے سائز کا ہونا چاہیئے تاکہ اس میں جنبش کم ہو اور آج تک جس قدر ترقیات جہاز سازی کی ہوچکی ہیں وہ سب اس میں شامل ہونی چاہئیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل پر اُمید رکھتا ہوں کہ وہ دن دُور نہیں کہ ایسا جہاز تیار ہوجائے۔

(الفضل17جنوری 1921ء)

دنیائے روحانی کا کولمبس اس ملک کو فتح کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈالنے کا عزم لے کر آیا تھا۔آپ کے پاس تلوار تھی نہ دھن دولت کی چمک تھی آپ کے ساتھ قادر و توانا اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر مکمل بھروسہ اور توکّل تھا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا علم کلام اور دعائیں تھیں جہاد کا ولولہ تھا اور ہاتھ میں قلم تھا۔امریکہ کی مذہبی حالت کو ذہن میں رکھ کر آپ کے کام کی مشکلات کا اندازہ کریں اور پھر مسلسل معجزے دیکھیں پہلے قدم پر ہی دعا کی قبولیت کا ایک نشان ظاہر ہوا۔ بندرگاہ پرپہنچتے ہی ڈاکٹری معائنہ کے لئے بھیجے گئے۔ان دنوں آپ کو آنکھوں میں تکلیف تھی اور خوف تھا کہ یہ تکلیف طبّی لحاظ سے رکاوٹ نہ بنے۔ دعا کرتے کرتے ڈاکٹر کے کمرہ میں داخل ہوئے اُس کو آپ کی پگڑی کا سبز رنگ بہت پسند آیا۔ اُس نے کہاکہ یہ رنگ میری بیوی کو بھی بہت پسند ہے ۔آپ نے پگڑی اُتار کر اُس کے میز پر رکھ دی اور کہا کہ یہ اپنی بیوی کو میری طرف سے تحفہ دے دیں اور خود دوسری پگڑی نکال کر پہن لی۔ ڈاکٹر نے کہا آپ تو بالکل تندرست ہیں آپ کا معائنہ کیا کرنا اس طرح اللہ تعالیٰ نے اُس کی توجہ سبز رنگ کی طرف رکھی اور یہ مرحلہ بخیر گزر گیا۔

(خلاصہ لطائف صادق ص139)

امریکہ میں داخلے سے پہلے کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محکمہ امیگریشن نے کئی گھنٹوں تک سوالات میں الجھائے رکھا کئی اعتراض اُٹھائے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپ کا تعلق جس مذہب سے ہے اس میں کثرت ازواج کی اجازت ہے جو ہمارے مذہب میں ممنوع ہے اس لئے ہم آپ کو امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے لہٰذا آپ واپس چلے جائیں البتہ آپ کو اپیل کرنے کا حق ہے اس صورت میں آپ کو الگ تھلگ مکان میں رکھا جائے گا تا آنکہ آپ کی اپیل کا کوئی فیصلہ آ جائے ۔ آپ نے جواب دیا کہ واپس تو میں نہیں جاؤںگا میں تو (اس قوم) کو مسلمان کرنے آیا ہوں اپیل کا حق استعمال کروں گا۔

آپ کو Ellis IslandمیںPhiladelphia House of Detentionمیں ٹھہرایا گیا ۔ جہاں سے باہر نکلنے کی ممانعت تھی صرف چھت پر ٹہل سکتے تھے اس کا دروازہ دن میں صرف دو دفعہ کھلتا تھا جب کھانا دیا جاتا ۔ اس جگہ اور لوگ بھی بند تھے جو رفتہ رفتہ مفتی صاحب سے مانوس ہو گئے اور اُن کا احترام کرنے لگے۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھتے۔نماز پڑھنے کے لئے جگہ بھی دی۔ تاہم ایک آزاد پرندے کے لئے یہ حدود و قیود بہت تکلیف دہ تھے ۔ آپ نے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا۔

‘‘جس حالت میں یہ عاجز دن گزار رہا ہے اس کی تفصیل کی سردست ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو آوے سب مبارک ہے۔جس یار کے ہاتھوں اثمار شیریں کھائے اُس کی خاطر کوئی تلخی اُٹھانا موجبِ رنج نہیں۔راضی بہ قضا ہوں اور اُس کے فضلوں کا اُمیدوار۔ دعاؤں کے واسطے موقع مل رہا ہے۔ مقابلہ بہت بڑے لوگوں سے ہے مگر کچھ غم نہیں کیونکہ میرے ساتھ میرا خدا ہے اورخلیفۃالمسیح اور احبابِ کرام کی دعائیں ہیں۔ اور بزرگوں کی امداد روحانی ہے قریباًہر شب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام یا خلیفہ اول یا فضل عمر سے ملاقات ہو جاتی ہے دن بھر اجنبیوں میں ہوتا ہوں رات بھر اپنوں میں۔’’

(الفضل 29۔اپریل1920ء)

حضرت مولانا شیر علیؓ نے ایک مضمون لکھا ۔ جس میں آپ نے امریکہ کے آزادیٔ ضمیر ،انصاف و عدل اور برابری کے تصور اور اُن کے عمل میں تضاد پر زورداربحث کی ۔نیز لکھا کہ اگر حضرت مفتی صاحب کو امریکہ میں تعلیم دین کا حق نہیں دیا گیا تو امریکیوں کو ہندوستان میں کیوں یہ حق دیا جائے۔ اسلام تو دنیا میں پھیلنے کے لئے ہے اور ضرور پھیلے گا۔ اُسے کسی امریکی کی مدد کی ضرورت نہیں ۔ اللہ قوی و قادر اسے پھیلائے گا۔

(خلاصہ از ریویو آف ریلیجنز اپریل مئی1920ء)

حضرت مفتی صاحب نے موقع سے فائدہ اٹھاکر قرنطینہ میں بند نوجوانوں ہی کو تبلیغ کرنا شروع کردی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دوماہ کے اندر پندرہ آدمی اسی مکان میں مسلمان ہوئے۔

یہ بندش آپ کی شہرت کاغیبی سامان بن گئی امریکن پریس نے آپ کی آمد اور ملک میں داخلے کی ممانعت کا بہت چرچا کیا۔ اور بعض مشہور ملکی اخبارات مثلاً ‘‘ فلاڈلفیا ریکارڈ’’۔‘‘پبلک ریکارڈ’’- ‘‘نارتھ امریکن بلیٹین’’- ‘‘ایوننگ بلیٹین’’- ‘‘پبلک لیجر’’ – ‘‘دی پریس’’ نے نہ صرف آپ کی آمد کے بارے میں خبردی بلکہ جماعت احمدیہ کے حالات بھی شائع کئے۔

(حضرت مفتی محمد صادقؓ کی آپ بیتی صفحہ 50 -مرتبہ جناب شیخ محمد اسماعیل پانی پتی- مطبوعہ 1946ء طبع اول و
الفضل 3 مئی 1920ء،28جون1920ء)

اللہ قادر و توانا کی قدرت کے نظارے اپنے پیاروں کے ساتھ تائید و نصرت بن کر رہتے ہیں ۔ساحل پر ایک ہندوستانی مشنری کو روکا گیا یہ واقعہ اخباروالوں کے لئے رپورٹنگ کا اچھا موضوع بنا ۔ ایک نووارد کو تو ابھی علم اور تجربہ بھی نہیں تھا کہ تشہیر کی کون سی صورت سے کام نکلنے کے سامان ہوں گے اور اگر ہوتا بھی تو زر ِکثیر صرف کرنے سے ہوتا۔ اخبار گھر گھر جاتے اور احمدیت کا تعارف کرواتے اور ساتھ ہی ایک احمدی کی آمد کے اغراض و مقاصد بھی بتاتے۔ اُس وقت درج ذیل اخبارا ت نے یہ خبریں دیں۔

The Philadelphia Record
Public Record
North American Bulletin
Evening Bulletin
The Press
Public Ledger

ایک نمونہ ملاحظہ کیجئے۔The Pressنے طویل خبر دی۔

‘‘جیسا کہ امریکہ کے مختلف مذہبی فرقے اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے ہزاروں لاکھوں روپیہ ہر سال خرچ کرتے ہیں اور دنیا کے دور دراز ملکوں اور خطوں میں اپنے فلاسفر اور پادری مسیح کے مذہب کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ تبّت کے وحشت ناک جنگلوں میں ، عرب اور ہندوستان کے گرم ریگستانوں میں اور افریقہ اور چین کے غیرآباد اور دشوارگزار راستوں میں پادریوں کی آواز سنائی دیتی ہے ۔اسی طرح مفتی محمد صادق بے یارو و غمگسار ہزاروں میلوں کا سفر طے کر کے امریکہ میں اپنی مذہبی جنگ شروع کرنے کے لئے پہنچے ہیں اور ان کو امید ہے کہ وہ امریکہ کے لوگوں کو اُن اصولوں کی طرف کھینچ لائیں گے جو کہ احمدؑ نبی نے جس کے وہ مرید ہیں اس زمانے میں دنیا کو سکھائے۔ مفتی محمد صادق کے ارادوں میں اس سلوک نے جو امریکہ نے کیا۔تزلزل نہیں پیدا کیا۔اور وہ بےچین ہیں کہ جلدی سے جلدی اپنا لیکچر شروع کریں ۔ وہ امریکہ کے لوگوں کو اس امن پسند مذہب کے اصولوں کی طرف رہبری کریں جو کہ احمدنبی،بروز محمدؐ نے اس زمانے میں لوگوں کو سکھایا۔ صادق جو کہ قادیان پنجاب کے باشندہ ہیں ،ایک فلاسفر ہیں اور ایک تجربہ کار اور بلند ہمت اور پختہ ارادوں کے انسان ہیں۔ نہایت شائستہ اور مہذب ہیں جو کہ تعلیم یافتہ لوگوں کا خاصہ ہے۔ اپنے مذہب کو پریس کے رپورٹر کے سامنےپیش کیا اور کہا کہ میں نے تین سال داعی الی اللہ کی حیثیت سے لندن میں کام کیا۔ وہاں میں نے بہت لیکچر دئے ۔ بہت سے لوگوں کو احمدی بنایا۔ احمد نبی جو کہ اس سلسلہ کے بانی تھے1835ء میں پیدا ہوئے تھے۔1888ء(نقل مطابق اصل) میں انہوں نے اپنے کام کو شروع کیا۔1908ء میں جبکہ ان کے ماننے والوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔فوت ہوئے۔ احمد ایک پیغمبر اوررسول کا منصب رکھتے تھے اور قرآن پاک کو خدا کی کتاب یقین کرتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خدا اُن سے کلام کرتا ہے اور اُس نے دنیا کی اصلاح کے لئے مسیح کا منصب دے کر مبعوث کیا ہے ۔آپ نے بہت سی پیشگوئیاں کیں جو کہ اپنے وقت میں پوری ہوئیں انہوں نے اِن پیشگوئیوں اور ان کے علاوہ اور معجزات کو جو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر ظاہر کئے اپنے منجانب اللہ ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ میں 8سال ان کی صحبت میں رہا ہوں ۔ انہوں نے خطرناک جنگ اور زارِ روس کی قابل رحم اور ابتر حالت کی نسبت بھی ان واقعات کے وقوع سے دس سال پہلے پیشگوئی کی تھی ۔ اور اِس کو چھاپ کر دنیا میں شائع بھی کر دیا ۔ انہوں نے ہندوستان میں طاعون کے متعلق پیشگوئی کی تھی اور بہت سے اہم واقعات کے متعلق مختلف پیشگوئیاں کیں جو کہ اپنے وقت میں پوری ہوئیں۔ انہوں نے شکاگو کے ڈاکٹر ڈوئی سے مقابلہ بھی کیا تھا اور دنیا کو بتایا تھا کہ چونکہ ڈاکٹر ڈوئی ایک مفتری انسان ہے اس لئے جلد ہی ہلاک ہو جائے گا۔ چنانچہ امریکہ نے اس کی ہلاکت کو دیکھا۔

(الفضل 15،اپریل1920ء)

سیدنا حضرت مصلح موعود ؓ نے امریکی حکومت کے رویہ کی خبر سنی تو اس پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔

‘‘امریکہ جسے طاقتور ہونے کا دعویٰ ہے اس وقت تک اس نے مادی سلطنتوں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی ہوگی۔ روحانی سلطنت سے اس نے مقابلہ کرکے نہیں دیکھا۔ اب اگر اس نے ہم سے مقابلہ کیا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ ہمیں وہ ہرگز شکست نہیں دے سکتا کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے ہم امریکہ کے ارد گرد علاقوں میں تبلیغ کریں گے اور وہاں کے لوگوں کو مسلمان بناکر امریکہ بھیجیں گے اور ان کو امریکہ نہیں روک سکے گا اور ہم امید رکھتے ہیں کہ امریکہ میں ایک دن لا الہ الا اللّٰہ محمدرسول اللہ کی صدا گونجے گی اور ضرور گونجے گی۔’’

(الفضل 15۔اپریل 1920ء)

ایک طرف اخبارات میں ان خبروں اور تبصروں نے آپ کے مشن کے لئے زمین ہموار کی دوسری طرف آپ نے قرنطینہ میں موجود احباب کو دعوت الی اللہ کا فریضہ ادا کرنا شروع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے9 احباب نے آپ کی دعوت قبول کر لی ان میں ہر رنگ و نسل کے لوگ تھے جن کا تعلق جمیکا ، برٹش گی آنا، پولینڈ، رشیا، جرمنی ،ازورز(Azores)، بیلجیم ، پرتگال ، اٹلی اور فرانس سے تھا۔گویا اس گوشۂ تنہائی میں آدھی دنیا آپ کے سامنے حاضرکر دی گئی جن کو پیغام حق دے کر آپ کی تسکین روح و قلب کے سامان ہوئے۔ پہلا شخص جس نے دین حق قبول کیا Mr. R.J.Rochford تھے جن کا نام حمید رکھا گیا ۔

(سن رائز جولائی 1921ء)

ان کے تعارف میں آپ نے لکھا ۔ یہ میرے زمانۂ رکاوٹ میں کنارہ سمندر پر ملے تھے کتاب ٹیچنگز آف اسلام پڑھ کر مسلمان ہوئے ۔ اور اس قدر شوق اسلام کا ان کو ہو گیا تھا کہ انہوں نے ارادہ کیا کہ جس شہر میں عاجز تبلیغ کا کام کرے گا اسی میں وہ اپنا کاروبار کریں گے اور مجھے تبلیغ میں مدد کریں گے۔

( الفضل جنوری 1921ء)

آخر شروع مئی 1902ء میں امریکی حکومت کی طرف سے حضرت مفتی صاحب سے پابندی اٹھالی گئی۔ جس کی فوری وجہ یہ ہوئی کہ حضرت مفتی صاحب کی تبلیغ سے کئی انگریزوں کے مسلمان ہونے کی خبر جب متعلقہ محکمہ کے افسر کو پہنچی تو وہ بہت گھبرا یا اور سوچنے لگا کہ اس طرح تو یہ آہستہ آہستہ سارے نظربند نوجوانوں کو مسلمان کر لیں گے اور جب شہر کے پادری صاحبان کو اس کا علم ہوگا تو وہ سخت ناراض ہوں گے۔ اور شہر کی پبلک میرے خلاف ہو جائے گی اس پر اس نے اعلیٰ افسروں کو تار دیے کہ جس قدر جلد سے جلد ممکن ہو ہندوستانی مشنری کو اندرونِ ملک میں داخلے کی اجازت دے دی جائے۔ چنانچہ حکام نے بھی آپ کو امریکہ داخل ہونے کا فیصلہ کردیا اور حضرت مفتی صاحب ؓ نے نیویارک میں داخل ہوکر ایک مکان کا حصہ لیکچروں اور دفتر کیلئے کرایہ پر لیکر تبلیغ اسلام کا کام شروع کردیا اور سعید روحیں حلقہ بگوش اسلام ہونے لگیں۔

(حضرت مفتی محمد صادقؓ کی آپ بیتی صفحہ 51)

اگر یسوع مسیح امریکہ میں تشریف لائے

حضرت مفتی صاحب نے اپنے امریکہ میں داخلے کا تجربہ ایک ہلکا پھلکا رنگ دے کر تحریر کیا جو مسلم سن رائز میں شائع ہوا ‘الفضل’ میں اس کا اردو ترجمہ درج کیا گیا جو بڑا دلچسپ ہے ملاحظہ فرمائیے۔

امریکہ کا محکمہ داخلہ ملک ہر ایک اس شخص سے جو امریکہ آئے کس طرح پیش آتا ہے اس مکالمہ کا لطف اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب امریکہ میں داخل ہونے والایسوع مسیح فرض کیا جائے ناظرین کی دلچسپی کے لئے ذیل میں اس کا ترجمہ دیا جاتا ہے۔

‘‘اگر مسیح علیہ الصلوٰۃ السلام جن کا جسم سری نگر( ہندوستان) میں آرام فرما رہاہے اور جن کی روح دوسرے انبیاء کے ساتھ بہشت میں ہے۔ موجودہ ایام میں زندہ ہوتے اور امریکہ تشریف لانے کا ارادہ فرماتے تو ان کے ساتھ داخلہ ملک کی طرف سے کیا سلوک کیا جاتا۔ذیل میں اس گفتگو کو درج کرتے ہیں جو افسر محکمہ اور حضرت یسوع مسیح میں دوسرے بحری مسافروں کے ساتھ ہوئی۔

افسر: (حضرت مسیحؑ سے) براہ مہربانی اس امر پر حلف اٹھانے کے لئے ہاتھ اٹھائیے کہ جو کچھ آپ کہیں گے وہ سچ ہو گا،
حضرت مسیح: میں قسم کھانے پر اعتقاد نہیں رکھتا کیونکہ یہ جائز نہیں ہے۔
افسر: آپ کا نام کیا ہے۔
حضرت مسیح: یسوع
افسر:آپ کا پورا نام کیا ہے۔
حضرت مسیح: یہی میرا نام ہے۔
افسر: آپ کا دوسرا نام کیا ہے۔
حضرت مسیح: میرا کوئی دوسرا نام نہیں۔میرا صرف یہی نام ہے۔
افسر: کیسی عجیب بات ہے آ پ کے باپ کا کیا نام ہے۔
حضرت مسیح: میرا کوئی باپ نہیں۔
افسر: کیا تمہارا کوئی باپ نہیں پھر تم کس طرح پیدا ہوئے۔
حضرت مسیح: معجزانہ طور پر بغیر باپ کے جو حیرت انگیز ہے۔ خدا کے نزدیک درست ہے بھلا آپ مجھے بتائیں کہ حضرت آدم بغیر ماں اور باپ کے کس طرح پیدا ہوئے۔
افسر: میں نہیں جانتا۔ آپ کہاں سے آئے ہیں؟
حضرت مسیح: ہندوستان سے۔
افسر: کون سے شہر سے۔

حضرت مسیح: سری نگر کشمیر سے۔
افسر: آپ کے پاس کس قدر روپیہ ہے۔
حضرت مسیح: میں اپنے پاس کوئی روپیہ نہیں رکھتا۔
افسر: بغیر روپیہ کے آپ کس طرح گزارا کریں گے۔
حضرت مسیح: کل کی فکر نہیں کل اپنی فکر آپ کرے گا۔
افسر: عجیب بات ہے ہم تو اس ملک کے لئے سو سال پہلے انتظام کرتے ہیں۔آپ کی قومیت کیا ہے؟
حضرت مسیح: میں یہودی ہوں۔
افسر:کیا آپ حضرت موسیٰؑ کی شریعت پر اعتقاد رکھتے ہیں جو تعداد ازواج کی اجازت دیتی ہے۔
حضرت مسیح: یقیناً میں اس پر اعتقاد رکھتا ہوں جو کوئی موسیٰ کی شریعت کے احکام کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی توڑے گا، وہ آسمانی بادشاہت میں سب سے جھوٹا سمجھا جائے گا۔
افسر:آپ کے ہاتھوں میں زخموں کے نشان کیسے ہیں۔
حضرت مسیح: بے انصافی سے صلیب پر لٹکا دیا تھا۔
افسر: آپ کا پیشہ کیا ہے۔
حضرت مسیح: میں خدا کے احکام کا وعظ کرتا ہوں۔میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی جس کے کہنے کا خدا کی طرف سے حکم ہوتا ہے۔
افسر: کیا آپ کے پاس ایسے کاغذ ہیں جن سے ثابت ہوتا ہو کہ آپ واعظ ہیں۔
حضرت مسیح: مجھے کاغذوں کی ضرورت نہیں۔
افسر: کیا آپ اپنے ملک کے لئے لڑیں گے اگر کبھی ضرورت پڑی۔
حضرت مسیح: میں لڑنے پر اعتقاد نہیں رکھتا میں صرف محبت کا معتقد ہوں۔
افسر: کیا آپ شراب پینا جائز سمجھتے ہیں۔
حضرت مسیح: ہاں نہ صرف جائز سمجھتا ہوں بلکہ اعجازی طور پر مہیا بھی کر سکتا ہوں اگر دعوت وعدہ کے موقع پر اس کی ضرورت ہو۔

فیصلہ

فیصلہ کیا جاتا ہے کہ مسیح کو اس ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

چونکہ

1۔ یہ ایک ایسے ملک سے آیا ہے جو اُن ملکوں میں شمار نہیں جن کے باشندوں کو اس ملک میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔
2۔ اس کے پاس گزارے کے لئے روپیہ نہیں ہے۔
3۔ یہ مہذب لباس میں ملبوس نہیں۔
4۔ اس کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں زخموں کے نشان ہیں۔
5۔ یہ حفاظت ملک کے لئے لڑنے کے خلاف ہے۔
6۔ یہ جب ضرورت پڑے شراب بنانا جائز خیال کرتا ہے۔
7۔ اس کے پاس اپنی سندات نہیں ہیں جن سے ثابت ہو کہ یہ ذمہ دار واعظ ہے۔
8۔ یہ موسیٰ کے قانون پر عمل کرنے پر مستعد ہے جو کہ تعدد ازواج کی اجازت دیتا ہے لیکن فیصلہ کے خلاف واشنگٹن آفس میں اپیل کر سکتا ہے۔

حضرت مسیح: میں کوئی اپیل پیش نہیں کرنا چاہتا کیونکہ میرے جیسے آدمی کو داخل ہونے کی اجازت نہ دینا برائی اور برائی کا مقابلہ کرنا میرے اصولوں کے خلاف ہے۔ پس میں اپنے پاؤں کی گرد جھاڑتا ہوں اور دل پسند ملک ہندوستان میں واپس جاتا ہوں۔

(الفضل25مئی1922ء)

(امۃ الباری ناصر۔امریکہ)

پچھلا پڑھیں

رمضان المبارک اور حقیقی عید

اگلا پڑھیں

Covid-19 افریقہ ڈائری نمبر37 ، 23 مئی 2020