• 3 جولائی, 2020

اطاعت امام

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتےہیں۔

’’ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم نے امامِ وقت کی بیعت کی اور ان جاہلوں میں شامل نہیں ہوئے جو امامِ وقت کے انکاری ہیں۔ لیکن اگر ہمارے عمل اس قبول کرنے کے بعد بھی جہالت والے رہے تو اپنے آپ کو عملاً اس بیعت سے باہر نکالنے والی بات ہو گی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت سے بھی باہر نکل رہے ہوں گے۔

پس بیعت کے بعد اپنی سوچوں کو درست سمت میں رکھنا اور کامل اطاعت کے نمونے دکھانا انتہائی ضروری ہے۔ زمانے کے امام نے اپنی بیعت میں آنے والوں کے معیار کے بارے میں کیا فرمایا ہے۔ ایک موقع پر آپؑ نے فرمایا کہ ’’ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتا ہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستورالعمل قرار دیتا ہے اور اپنی ہمت اور کوشش کے موافق اس پر عمل کرتا ہے۔ لیکن جو محض نام رکھا کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا۔ وہ یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایک خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیا ہے اور کوئی آدمی جو دراصل جماعت میں نہیں ہے۔ محض نام لکھانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔‘‘ یعنی عملی حالت اگر اس تعلیم کے مطابق نہیں تو صرف نام لکھوا کر جماعت میں شامل ہونے والی بات ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ اصل میں میری نظر میں تو وہ جماعت میں نہیں ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں‘‘ ……اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کرو جو دی جاتی ہے۔’’

(ملفوظات جلد 4 صفحہ 439)

اور وہ تعلیم یہ ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ ‘‘فتنہ کی بات نہ کرو۔ شر نہ کرو۔ گالی پر صبر کرو۔ کسی کا مقابلہ نہ کرو۔’’ یعنی لغو اور بیہودہ باتوں میں مقابلہ نہ کرو۔ ان باتوں میں مقابلہ نہ کرو کہ اب فلاں عہدے دار بن گیا تو مَیں نے اطاعت نہیں کرنی یا مجھے ہٹایا گیا تو میں نے اطاعت نہیں کرنی۔ فرمایا ‘‘اور جو مقابلہ کرے اس سے سلوک اور نیکی سے پیش آؤ۔’’ عام معاملات میں بھی، روزمرہ معاملات میں بھی، لڑائی جھگڑوں میں بھی، اگر فضولیات پہ، لغویات پہ کوئی مقابلہ ہوتا بھی ہے، تب بھی صَرف ِنظر کرو بلکہ نہ صرف صَرفِ نظر کرو بلکہ نیکی سے پیش آؤ۔ فرمایا کہ ‘‘شیریں بیانی کا عمدہ نمونہ دکھلاؤ۔ خوش اخلاقی سے بات کرو۔ نرم زبان استعمال کرو۔ اس کا اچھا نمونہ دکھاؤ۔ سچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خدا تعالیٰ راضی ہو اور دشمن بھی جان لے کہ اب بیعت کر کے یہ شخص وہ نہیں رہا جو کہ پہلے تھا۔ مقدمات میں سچی گواہی دو۔ اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہیے کہ پورے دل، پوری ہمت اور ساری جان سے راستی کا پابند ہو جاوے۔‘‘

(ملفوظات جلد 6 صفحہ 413)
(خطبہ جمعہ مؤرخہ24مئی2019)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کی ڈاک

اگلا پڑھیں

حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ کی صحت کاملہ کیلئے شعراء کے جذبات