• 9 جولائی, 2020

خدا شناسی اور ایمان

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’حضرت مسیح موعود نے ہمیں بتایا کہ ایمان کی حالت اُس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک کہ خداتعالیٰ کی پہچان نہ ہو۔ آپ نے فرمایا کہ بھاری مرحلہ جو ہم نے طے کرنا ہے وہ خدا شناسی ہے۔ اس کو پہچاننا ہے اور اگر ہماری خداشناسی ہی ناقص اور مشتبہ اور دھندلی ہے تو ہمارا ایمان ہرگز منور اور چمکیلا نہیں ہوسکتا اور خداشناسی کس طرح ہو گی؟ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے جلوے سے ہو گی۔ خدا کی پہچان اللہ تعالیٰ کی جو صفت رحیمیت کی ہے اس کے ظاہرہونے سے ہوتی ہے۔ ایسا تعلق خدا تعالیٰ سے پیدا کرنے سے ہو گی جس میں خدا تعالیٰ کی رحیمیت اور فضل اور قدرت کی صفات ہمارے تجربے میں آئیں گی اور یہ باتیں اس وقت تجربے میں آ سکتی ہیں جب خدا کی عبادت اور اس سے تعلق کا غیرمعمولی اظہار ہو رہا ہو۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رحیمیت اور فضل اور قدرت کی صفات جب تجربے میں آتی ہیں تو پھر وہ نفسانی جذبات سے چھڑاتی ہیں اور نفسانی جذبات کمزوری ایمان اور کمزوری یقین کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ایمان کمزور نہ ہو، اللہ تعالیٰ پر یقین کامل ہو تو نفسانی جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ آپ نے فرمایا کہ اس دنیا کی آسائشیں، اس کی املاک، اس کی دولتیں جس قدر انسان کو پیاری ہیں اتنی اخروی زندگی کی نعمتیں اسے پیاری نہیں۔

کہنے کو تو انسان کہتا ہے کہ مجھے آخری زندگی کی نعمتیں پیاری ہیں۔ کیونکہ اگر اخروی زندگی کی نعمتیں بھی اتنی ہی پیاری ہوتیں تو پھر ان کو حاصل کرنے کے لئے بھی اتنی ہی کوشش ہوتی جتنی ان دنیاوی چیزوں کے حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہوتی۔ پس واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحیمیت اور وعدوں پر حقیقی ایمان نہیں ہے اور اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 2جون 2017ء)

پچھلا پڑھیں

سونف امراض جگر و معدہ کیلئے مفید

اگلا پڑھیں

چھٹےسالانہ اولڈبرج سروس ایوارڈز جماعت احمدیہ سنٹرل جرسی۔امریکہ کی تقریب