• 22 ستمبر, 2021

خلافت سے پہلے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گزرا وقت

جب حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد نے ایم ایس سی کا امتحان پاس کرلیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور زندگی وقف کرنے کی درخواست کی۔حضورؒ نے فرمایا کہ تحریک جدید میں درخواست دے دیں۔ دفتر تحریک جدید نے درخواست لے لی اور انٹرویو کرلینے کے بعد جواب دیا کہ اس مضمون میں ،یعنی زرعی معاشیات کے مضمون میں سردست تحریک جدید کو ضرورت نہیں۔

حضرت خلیفۃ الثالثؒ نے فرمایا کہ انہیں نہیں ہوگی، مجھے تو ضرورت ہے، اور فرمایا کہ نصرت جہاں سکیم کے تحت وقف کردیں۔ یوں نصرت جہاں سکیم کے تحت وقف کر کے حضور غانا تشریف لے گئے۔حضور کی پہلی پوسٹنگ سالاگا نامی شہر میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بطور ٹیچر ہوئی۔جو مکان رہائش کے لئے ملا وہ یوں تھا کہ دوکمرے تھے جن میں سے ایک پرنسپل صاحب کا تھا،اور دوسرے کمرے میں حضور کی رہائش تھی۔ ایک چھوٹا سا باورچی خانہ تھا اور باہر ہی ایک چھوٹا سا بیت الخلا تھا۔ پھر جب حضور کی بیگم صاحبہ اور بچی بھی وہاں چلے گئے تو دونوں کمرے حضور کے پاس تھے ۔کافی دیر وہیں سب کی رہائش رہی۔

میں نائیجیریا سے ان کے پاس غانا جایا کرتا تھا۔نہ حضور سے ،نہ حضور کی فیملی سے شکایت کا ایک حرف بھی سنا۔نہ صرف یہ کہ صرف شکایت نہیں سنی بلکہ بہت اطمینان اور خوشی کے ساتھ رہتے ہوئے اور نہایت محنت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے دیکھا۔جو الاؤنس ملتا تھا ،وہ بہت ہی تھوڑا تھا۔اتنا تھوڑا کہ اس میں گزارا قریبا ً ناممکن تھا۔لیکن اس کا حل بھی حضور نے یہ نکالا کہ گھر کے ساتھ جو کچھ جگہ تھی،اس میں سبزیاں لگالیں ،کچھ مرغیاں رکھ لیں اور یوں گزارہ کا انتظام فرمالیا۔

پھر کچھ عرصہ بعد حضور کی تقرری بطور پرنسپل سارچر احمدیہ سکول میں ہوگئی ۔حضور نے پہلے سکول کو تعمیر کیا۔اور جب میں کہتا ہوں کہ تعمیر کیا تو باقاعدہ،عملاً تعمیر کیا۔ یہ نہیں کہ پاس کھڑے نگرانی کرتے رہے ۔نگرانی بھی کرتے اور مزدوری میں بھی خود حصہ لیتے۔تعمیراتی سامان کی فراہمی بھی کوئی عام مرحلہ نہیں تھا۔ایک ایک بوری سیمنٹ کی تلاش کرتے پھر اسے خود لے کر آتے۔ بڑی بڑی دور سے یہ سامان ملتا۔ وہاں جاتے،اپنی گاڑی میں سامان لاد لیتے اور لے کر آتے۔اس کام کے دوران تو حضور اکثر سفر ہی میں رہے۔ باقی سامان بھی یونہی بہت مشکل مراحل سے گزر کر جمع کیا اور سکول اور گھر کی تعمیر کی۔ اللہ تعالیٰ نے خاص فضل فرمایا اور اچھی تعمیر ہوگئی۔کچھ سفر مجھے بھی حضور کے ساتھ افریقہ میں کرنے کا موقع ملا۔اور سفر میں بھی انسان کا خوب پتہ چلتا ہے۔میں نے دیکھا عام حالات میں بھی اور سفر میں بھی ،کہ حضور کی قوت برداشت اور حضور کا صبر بہت ہی غیر معمولی تھا۔آج بھی ہے۔اور یہ کہ برداشت بھی ہرقسم کی۔ بعض لوگوں میں برداشت کی قوت ہوتی ہے مگر وہ بعض چیزوں تک محدود ہوتی ہے۔حضور تو ہرچیز،ہربات،ہرمشکل کو برداشت کر جاتے تھے۔تکالیف ہوں،کسی کا ناروا رویہ ہو،بھوک کی شدت ہو،یعنی یہ کہ سخت سے سخت حالات میں بھی حضور کے مزاج میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تھی ۔ نہ زبان سے نہ ردعمل سے کہیں محسوس نہیں ہوتا تھا کہ حالات سخت ہیں اور انہیں برداشت کر رہے ہیں۔

پھر میں 1982ءمیں پاکستان گیا اور زندگی مستقل وقف کی۔پہلے تو نصرت جہاں سکیم کے تحت تین سال کا وقف تھا،پھر مستقل وقف کی درخواست کی ۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے فرمایا کہ تم واپس نائیجیریا جاؤ۔ ایک زرعی پراجیکٹ ہے جو تمہارے اور مسرور کے سپرد کرنا چاہتا ہوں ۔میں نائیجیریا پہنچا تو وہاں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی ہدایات پہنچ چکی تھیں ۔وہاں سے غانا گیا ۔ہم دو لوگ نائیجیریا سے گئے تھے اور حضور تو تھے ہی غانا میں۔ ایک ہزار ایکڑ کی زمین دیکھی ۔وہ بھی بڑے ہی سخت حالات تھے ،مگر حضور نے فوراً ہی کام شروع کردیا۔وہاں کے مقامی لوگ بغیر ٹریکٹر وغیرہ کے ہی زراعت کرتے تھے ۔ٹریکٹر تو تھے مگر بسہولت دستیاب نہ تھے ۔سارا کام نئے سرے سے کیا ۔وہاں لوگوں میں پانی لفٹ کرنے کا تو کوئی تصور ہی نہیں تھا ۔پاکستان سے ایک پمپ خرید کر بھجوایا گیا تا کہ پانی لفٹ ہوسکے۔سارا پمپ حضور نے خود انسٹال کیا۔ایک ایک پائپ یعنی ہرچیز خود لگائی ۔کھالے بنانے نہیں آتے تھے مقامی لوگوں کو ۔حضور نے خود بیلچہ سے کھدائی کر کے انہیں کھالے بنانے سکھائے ۔حالات یہ تھے کہ جب پہلی دفعہ مقامی لوگوں کو کھالا بنانے کے لئے کہا گیا ،تو انہوں نے بہت سی مٹی دیوار کے طور پر جمع کر کے اونچائی پر ہی ایک کھالا بنالیا۔جب پانی اس تک پہنچایا تو ساری مٹی بہہ گئی اور کھالا غائب ہوگیا ۔تو حضور نے انہیں بتایا کہ کھالا کھودنا پڑتا ہے اور اس کھدائی سے ہی کھالے کی دیواریں بنتی ہیں جو مضبوط ہوتی ہیں اور پانی کے ساتھ نہیں بہہ جاتیں ۔تو یہ کام بھی خود کر کے دکھایا اور انہیں بھی سکھایا ۔

پھر ٹریکٹر چلانے کی ضرورت پڑی تو ٹریکٹر تو مل گیا ،سہاگا نہیں تھا۔اس کا حل یہ نکالا کہ خود ہی ایک سہاگا بنایا۔مگر اسے چلانا کس طرح ہے،یہ مسئلہ تھا۔تو حضور خود سہاگے پر کھڑے ہوئے۔خود ساری دھول مٹی اور اس عمل کی مشقت برداشت کی مگر بڑی بشاشت سے کام کو جاری بھی رکھا اور سکھایا بھی ۔اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو کام سکھا کر حضور کو ہمیشہ سے بہت خوشی حاصل ہوتی ہے ۔وہاں بھی افریقہ میں بھی دیکھا،پھر یہاں انتظامی کاموں میں بھی دیکھا کہ اپنے ساتھ کام کرنے والے کارکنان کو کام سکھا کر خوشی محسوس کرتے ۔اس سے کارکنان کو کام سیکھنے کا موقع بھی مل جاتا اور بڑھ چڑھ کر کام کرنے کو جی بھی چاہتا ۔

پھر ایک دفعہ میں نائیجیریا سے غانا جارہا تھا تو فرمایا کہ گندم کا بیج لیتے آنا۔ہمارے نائیجیریا کے شمال میں گندم ہوتی تھی ۔اور یہ علاقہ بھی چونکہ غانا کا شمال تھا ، اس لئے آب و ہوا ملتی جلتی تھی ۔میں ایک ہینڈ بیگ میں پانچ چھ کلو بیج لے گیا۔حضور نے بڑی احتیاط کے ساتھ اسے کاشت کیا ۔کامیابی ہوئی ۔اسے کاٹا گیا ،اس کی گہائی کی گئی اور گہائی بھی سوٹیوں سے کی ۔یوں دانے نکالے گئے تو اور بیج بھی تیار ہوگیا ۔ اس دوران یہ بات بھی سامنے آچکی تھی کہ ایک بہت بڑے جرمن ادارہ نے غانا میں گندم کاشت کرنے کا تجربہ کیا تھا اور انہوں نے یہ لکھ کر پراجیکٹ کو بند کردیا ہوا تھا کہ غانا میں کسی صورت گندم کی کاشت نہین ہوسکتی ۔یہ میں نے خود ان کے ریکارڈز میں دیکھا۔گندم کی کاشت کے پراجیکٹ پر ان کی بڑی ضخیم فائلیں پڑی ہوئی تھیں اور نتیجہ یہ نکالا گیا کہ غانا میں گندم کی کاشت نہیں ہوسکتی ۔مگر حضور کی کوشش میں اللہ تعالیٰ نے بہت برکت ڈالی اور غانا کی زمین پر گندم کی کاشت ہوگئی ۔اس وقت بڑی شہرت ہوئی اس بات کی ۔اخباروں میں اورٹیلی وژن میں ہر جگہ بڑی دھوم مچی ۔اس پراجیکٹ کی اتنی نیک نامی ہوئی کہ جب میں 1985ء میں حضور کی جگہ غانا گیا،تو میرا ویزہ نہیں تھا۔مجھے نائیجیریا جا کر ویزے کی تجدید کروانی پڑی ۔ایک مرتبہ میں نے ویزہ افسر سے بات کی کہ میں اس پراجیکٹ کا حصہ ہوں جس کے تحت غانا میں گندم کامیابی سے کاشت ہوئی ۔وہ افسر بہت خوش ہوا اور ویزا دے دیا اور مشکل حل ہوگئی۔تو یہ حضور کی کوششوں کی برکت تھی کہ جس کام پر کروڑوں خرچ کر کے بھی کامیابی نہ ہوئی،وہ حضور کی کوششوں سے بغیر کسی خاص خرچ کے کامیاب ہوگیا۔تو یہ بات خاص تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔یہ کاشت غانا کے شمال میں واقع ایک مقام دیپالی جوکہ ٹمالے سے ستر میل کے فاصلہ پر ہے، میں کی گئی تھی۔آگے تو حکومتوں کا کام تھا کہ اسے جاری رکھتے ،مگر بہر حال حضور کے ہاتھ سے یہ کام خداتعالیٰ نے کروایا۔

اللہ تعالیٰ کا حضور سے تائید کا وعدہ تو بہت پہلے کا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہم یونیورسٹی میں تھے ۔اکٹھے ہوسٹل میں بھی رہے۔ہمارے امتحان ہورہے تھے ۔ایک صبح جب ہمارا امتحان تھا تو حضور نے مجھے بتایا کہ میری تو ساری پریشانی دور ہوگئی ہے ۔اور فرمایا کہ مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُوحِی اِلَیْھِمْ مِنَ السَّمَاءِ ۔ میں نے بے تکلفی میں کہہ دیا کہ یہ تو چھوٹا سا امتحان ہے۔اشارہ کسی اور طرف ہوگا۔حضور خاموش رہے اور میں نے دیکھا کہ حضور ایسی باتوں پر عموماً خاموش رہتے تھے۔یہاں ایک بات یہ بھی بتاتا چلوں کہ حضور اظہار بہت ہی کم کرتے تھے۔ اور مجھ سے بھی شاید اس لئے اس بات کا ذکر کرلیا ہو کیونکہ ہم ایک یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے، یا شاید بیگم صاحبہ سے ذکر کیا ہو ۔کیونکہ کوئی بھی ایسی بات جس میں حضور کی تعریف کا کوئی رنگ نظر آتا ہو، حضور کے لئے کوفت کا باعث ہوتا۔

تو،خیر میں یہ بات بھول گیا ۔افریقہ گئے ،ساتھ رہے،پھر ربوہ میں دفتروں میں ساتھ کام کرتے رہے ۔ یہ خواب مجھے یاد نہین تھا۔بعد میں جب حضور کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی بنایا اور حضور کے کندھوں پر بہت ہی بڑی ذمہ داری آن پڑی ،تو تب مجھے یہ خواب یاد آیا۔۔میں حضور کے ساتھ چلتا ہوا مغرب کی نماز پر جارہا تھا ۔میں نے حضور کو یاد کروایا کہ شاید اشارہ اس ذمہ داری کے امتحان کی طرف ہو۔ حضور نے بڑی منکسر مزاجی سے فرمایا ’’ہاں شاید یہ بھی ہو۔‘‘ مگر پھر تو اللہ تعالیٰ نے منصب خلافت پر بٹھا کر خود ساری دنیا کو بتا دیا کہ اشارہ کس امر کی طرف تھا۔ بلکہ میں تو اسے یوں بھی دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُوْرُ فرمایا اور پھر یَنْصُرُکَ رِجَال نُوحِی اِلَیْھِم مِنَ السَّمَاءِ فرما کر بتا دیا کہ اے مسرور!میں تیرے ساتھ بھی ہوں اور تیرا ساتھ دینے کے لئے لوگوں کے دلوں پہ وحی بھی کروں گا۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کی خاص تائید اور نصرت حضور کے ہر کام میں نظر آتی ہے۔

اب یہ ایک یونیورسٹی میں ساتھ پڑھنے والی رشتہ داری والی اور بے تکلفی والی بات چلی ہے تو بتاتا ہوں کہ جس رات انتخاب خلافت ہونا تھا۔ سبھی لوگ بڑی بےتابی سے انتظار کررہے تھے ۔ہم بھی صدر انجمن احمدیہ کے دفتر میں تھے۔ تب میں امور عامہ میں تھا۔ تو جب اعلان ہوا کہ حضور خلیفۃ المسیح منتخب ہوگئے ہیں ،تو صرف یہ یاد ہے کہ دل کو اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب سکون عطا فرمادیا۔ دل میں کوئی خیال نہیں تھا۔ کوئی تصور ہی نہیں تھا کہ میرا حضور سے کوئی اور تعلق بھی ہے یا رہا ہے۔

انہی دنوں ہدایت اللہ ہادی صاحب کینیڈا سے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنا خواب سنایا۔ بڑا دلچسپ خواب ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ تشریف لائے اور انہیں کہنے لگے کہ یہ چابی مرزا مسرور احمد کو دے دینا۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے خواب ہی میں عرض کی کہ آپ کا زمانہ تو اب نہیں ہے۔ اب تو اور زمانہ ہے (یہ اس وقت حضور کو بہت اچھی طرح جانتے بھی نہیں تھے۔ ایک آدھ بار ہی ملے ہوں گے) مگر حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے پھر فرمایا کہ چابی مسرور کو دے دینا اور کہنا کہ نور الدین نے دی ہے ۔تو کیسا اچھا خواب ہے۔ چابی کو عربی میں مفتاح بھی کہتے ہیں۔ مفتاح الغیب بھی کہا جاتا ہے ۔تو راز کھلنے اور فتوحات عطا ہونے کی کیسی عظیم الشان خبر ہے۔ میں نے جب یہ خواب سنا ،تو میرے سامنے وہ سارا زمانہ گھوم گیا جو مجھے حضور کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا ۔کیونکہ میں نے تو جب بھی دیکھا جس حال میں بھی دیکھا۔یعنی ہمارے زعیم بھی رہے ۔تو ہمیشہ یہی لگا کہ حضور ایک بہت سر بستہ وجود ہیں ۔ہمیشہ سے ہی۔ السَّماوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۔ یعنی تخلیق سے پہلے زمین اور آسمان بند پڑے تھے۔ اور ہم نے انہیں کھول دیا۔ تو حضور کا وجود بھی ایک بند گٹھڑی کی طرح تھا، جسے اللہ تعالیٰ وقت کے ساتھ ساتھ کھولتا چلا گیا۔جب بھی ،جو بھی ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی،تب ہمیں احساس ہوتا تھا کہ اچھا!اس کام کے لئے تو یہی موزوں ترین ہیں۔ اور حضور اسی کام کے لئے بنائے گئے ہیں ۔اور پھر ہر ذمہ داری جس طرح حضور ادا فرماتے تھے، احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ اتنے بڑے بڑے کام جو ہورہے ہیں ان پر بڑا زور لگایا جارہا ہے۔ یہ احساس نہیں ہوتا تھا مگر کام ہوجاتا تھا اور بہترین رنگ میں نتائج ظاہر ہوجاتے۔ یہ بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کی ایک صفت ہے کہ ثُمَّ السْتَوَیٰ عَلَی الْعَرْشِ ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسامکمل اور زبردست نظام کائنات قائم فرمایا ہے کہ دنیا بھول ہی گئی کہ اس کا بنانے والا بھی کوئی ہے ۔ تو یہ ایک اچھے نظام کی نشانی ہوتی ہے۔ حضور کے اندر بھی اسی کا پرتو ہمیشہ نظر آیا ۔ کسی کام کو کرتے وقت کوئی شور ہنگامہ نہیں۔ نہ حضور میں کوئی ایسی ہنگامی کیفیت نظر آتی نہ حضور کے دفتر میں ۔ البتہ نتائج خداتعالیٰ کے فضل سے بڑے اچھے نکل رہے ہوتے تھے۔ ناظر اعلیٰ بنے تو لگا کہ بس اسی کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بنایا ہے ۔مگر پھر اللہ تعالیٰ نے خود خلافت کے تخت پربٹھا کر بتایا کہ اصل میں حضور کو کس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہوا ہے۔تو یہ ایک بند وجود تھے ،ایک پوشیدہ وجود تھے۔اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو خود تعارف کروایا ۔ خوابوں کے ذریعہ، رؤیا وکشوف کے ذریعہ جماعت کو متعارف کروایا ۔خلافت کے بعد سے آپ کے عظیم الشان کام دنیا بھر کے لئے تعارف بن رہے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ حضور کا احترام لوگوں کے دلوں پر حضور کی جوانی کے زمانہ سے ہی تھا۔ ربوہ میں کالج کلے پروفیسر بھی بڑے ادب سے پیش آتے اور پھر یونیورسٹی گئے تو وہاں کے پروفیسر بھی حضور کی عزت کرتے تھے ۔تب بھی حضور کی شخصیت بڑی غیر معمولی تھی ۔ یونیورسٹی کے زمانہ کی ہی بات ہے ۔ ہم نے ربوہ سے فیصل آباد جانا تھا۔ جانا بھی ضروری تھا۔ غالباً امتحانات تھے یا ایسا کچھ تھا۔ ہم ربوہ کے بس اڈے پر کھڑے انتظار کرتے رہے مگر کسی بس میں کوئی جگہ نہ ملی۔ مجھ سے فرمایا کہ تم یہیں رکو، میں گھر سے سائیکل لے کر آتا ہوں ۔سائیکل لائے ۔میں آگے بیٹھ گیا اور حضور نے سائیکل چلائی ۔زیادہ وقت حضور نے ہی چلائی ۔پل ڈھینگرو ربوہ اور فیصل آباد کے تقریبا درمیان میں ہے۔ وہاں ایک کھوکھا سا تھا۔وہاں سے ہم نے کچھ مالٹے کھائے اور آگے چل پڑے ۔

یونیورسٹی کے زمانہ کا ایک اور واقعہ ہے ۔1974ء کی بات ہے جب ہمارے خلاف اسمبلی کا فیصلہ آچکا تھا ۔حالات بہت خراب تھے۔ تعلیمی اداروں میں بھی احمدی طلباء کو بہت سخت حالات کا سامنا تھا۔مگر بھٹو نے اعلان کردیا تھا کہ احمدی طلباء کو تعلیمی اداروں میں حکومت کی طرف سے تحفظ حاصل ہے ،مگر احمدی طلباء خود اپنی مرضی سے غیر حاضر ہیں ۔ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒنے سب سے پہلے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طلباء کو بلایا۔ میں اور حضور بھی حاضر ہوئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا کہ فوراً یونیورسٹی جاؤ اور رپورٹ کرو ۔فیصلہ یہ ہوا کہ سب الگ الگ جائیں گے اور authorities کو رپورٹ کریں گے۔میں پہلے روانہ ہوگیا ۔ایک آدھ جگہ مجھے خطرہ لاحق ہوا لیکن بچت ہوگئی ۔میں بالآخر انتظامی بلاک میں پہنچ گیا جہاں میں نے حضور کو موجود پایا۔ہم نے وائس چانسلر کو رپورٹ کرنا تھی۔ حضور اپنے ڈیپارٹمنٹ جا رہے تھے۔ میں بھی حضور کے ساتھ ہولیا۔ اس وقت تک ہماری موجودگی کی خبر یونیورسٹی میں پھیل چکی تھی۔مشتعل طلباء نے یونیورسٹی کے گیٹ پر پہرہ لگادیا ہوا تھا۔ ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ہمیں تلاش کیا جا رہا ہے ۔ حضور ڈیپارٹمنٹ سے نکلے تو میں نے کہا وائس چانسلر ہاؤس جانے کے لئے یہ راستہ لیتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ یہ راستہ ٹھیک نہیں ،ایک اور راستہ سے چلتے ہیں ۔ہم اس راستہ پر چل پڑے۔ ہمارے ایک ڈائریکٹر سپورٹس تھے جن کا رویہ ہمارے ساتھ بہت اچھا رہا تھا ۔ بہت محبت سے پیش آتے تھے ۔ ہم دوونوں نے سوچا کہ ان کے گھر سے ہوتے چلیں ،تو ہم ان کے گھر تھوڑی دیر کے لئے رکے ۔ وہاں ان کے بیٹے نے ہمیں پانی لاکردیا تو اس نے بتایا کہ بعض احمدی طلباء کو پکڑ لیا گیا ہے۔ ہمارے پاس اختیار تو تھا نہیں کہ کچھ کرتے ۔ تو ہم ان کے گھر سے بحفاظت یونیورسٹی کے احاطہ سے باہر نکل آئے۔ فوری طور پر امیر صاحب فیصل آباد کو رپورٹ کی۔ اس وقت امیر صاحب جو کر سکتے تھے انہوں نے کیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان لڑکوں پر بہت تشدد کیا گیا تھا۔ اخبارات میں بلکہ نیوز ویک میں بھی وہ کیس رپورٹ ہوتا رہا۔ بہر حال ،میں یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور کو محفوظ رکھنا تھا ،سو محفوظ رکھا۔اور حضور کے ساتھ ہونے کی وجہ سے میں بھی محفوظ رہا۔

لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ تم ساتھ رہے ہو، تب حضور کیسے تھے ؟اب کیسے ہیں؟ تو موازنہ تو مشکل ہوجاتا ہے مگر میں جب پیچھے دیکھتا ہوں ،تو اللہ کے فضل سے مجھے بہت وقت حضور کی صحبت میں گزارنے کا موقع ملا۔ ہمیں اندازہ تھا کہ حضور کی یادداشت بہت تیز ہے ۔ مگر اب میں کہتا ہوں کہ اگر تب ایک ڈگری تھی تو اب ہزار ڈگری ہوگئی ہوئی ہے ۔حضور 2005ء میں قادیان تشریف لے گئے تو ہمارے امور عامہ کے ایک کارکن ملاقات کر کے باہر نکلے تو خوشی سے اچھل رہے تھے۔ کہنے لگے کہ میں نے اپنے بیٹے کے یونیورسٹی میں داخلہ کے لئے دعا کی درخواست چھ مہینے پہلے حضور کی خدمت میں لکھی تھی ۔آج مجھ سے حضور نے میرے بیٹے کا نام لے کر دریافت فرمایا کہ اس کا داخلہ ہوگیا کہ نہیں۔اب یہ اور اس طرح کی اور بے شمار مثالیں ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس خدا نے اس منصب پر بٹھا یا ہے ،اب وہی چلا رہا ہے۔تو اللہ تعالیٰ اپنے بنائے ہوئے خلیفہ کے تمام قویٰ اور حسیات کو بہت تیز کردیتا ہے۔ایک مرتبہ میرے سر پر rash ہے۔ تو میں گیسٹ ہاؤس سے جاتا ہوا ٹوپی ہاتھ میں لے کر جاتا ہوں اور نماز کے وقت پہن لیتاہوں ۔ایک دن میں گھر سے ٹوپی لے جانا بھول گیا۔ نماز کا وقت بھی ہونے والا تھا اس لئے ٹوپی لینے واپس بھی نہیں جاسکتا تھا ورنہ نماز نہ ملتی۔ میں مسجد میں بالکل پیچھے کرسیوں پر بیٹھا ہوا تھا۔ حضور تشریف لائے۔ میری نظر حضور کی طرف نہیں پڑی۔ اسی رات کھانے پر حضور کی خدمت میں حاضر تھے ۔ حضور نے فرمایا’’ قاسم کے سر کے بال تو ابھی تک سلامت ہیں‘‘ میں نے ٹوپی اُتار کر عرض کی کہ’’ حضور بال تو تیزی سے جھڑ رہے ہیں‘‘ فرمایا ’’میں نے مسجد میں دیکھا تھا۔ بال صاف نظر آرہے تھے ‘‘مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ بظاہر نظر بھی ادھر نہیں اٹھی ،مگر کس طرح ہر طرف دیکھ بھی لیا۔

تو یوں ہر طاقت اور ہر حس کا ترقی کرجانا انسان کے بس کی تو بات ہے ہی نہیں ۔دنیوی عہدوں پر آپ کو لوگ ملیں گے جو کسی ایک لائن میں excel کررہے ہوتے ہیں ۔مگر بیک وقت بیسیوں لائنوں میں excel کرنا انسانی بس کی بات نہیں ہے ۔یہ ترقی صرف خداتعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے اور اسی کو حاصل ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خود چنا ہو۔خلیفہ وقت کی قوتیں دیکھ کر ہمیں اس نبی کا خیال آجاتا ہے جس کے یہ خلیفہ ہیں ،کہ اگر خداتعالیٰ نے خلیفہ وقت کو یہ قوتیں عطا فرمائی ہیں تو جو نبی تھا اس کو کیا طاقتیں دی ہوں گی۔

مگر جتنا بھی وقت گزرا، اور بے تکلفی بھی رہی ،مگر اب تو میں بعض اوقات ماضی کو یاد کر کے گھبراتا ہوں کہ کبھی کوئی ایسی بات نہ ہوگئی ہو ،جو آپ کے مقام کے مطابق نہ تھی ۔اور بھی ہمارے جو ہم عمر تھے یا کزن تھے یا کلاس فیلو تھے ،کوئی ایسی بات اگر ہو بھی جاتی جو ناگوار ہو، تو یاد نہیں کہ کبھی حضور کے ماتھے پر کوئی شکن تک آئی ہو۔جواب دینا،یا جھگڑا کرنا تو بہت ہی دور کی بات ہے۔بڑی بردباری سے ہر بات کو برداشت کرنے والے وجود ہیں ،مجھے یاد ہے کہ حضور کے خلیفہ بننے کے بعد میں جب پہلی دفعہ حضور کے دفتر میں داخل ہوا تو میرے سامنے جو وجود بیٹھا تھا، میرے ذہن میں صرف یہی بات آئی کہ میرے سامنے حضرت خلیفۃ المسیح تشریف فرما ہیں ۔اور کوئی حوالہ نہیں تھا۔ اور پھر جب سے حضور کی خدمت میں کچھ لکھنا ہو، کوئی رہنمائی لینی ہو، کچھ پوچھنا ہو، سخت گھبراہٹ ہوتی ہے ۔ صدقہ دیئے بغیر، دعا کئے بغیر کچھ لکھنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔

جس مقام پر حضور ہیں ،اس مقام پر فائز وجود سے محبت کا دعویٰ کریں تو ادب پہلی شرط ہے ۔ ایسی ہستی سے محبت مکمل ہوہی نہیں سکتی جب تک اس میں ادب اور احترام شامل نہ ہو۔بعض اوقات کسی سے محض محبت ہوتی ہے، بعض اوقات انسان کسی کا محض ادب کرتا ہے۔ مگر حضرت خلیفۃ المسیح سے محبت کا تقاضا ہے کہ اس میں ادب بھی شامل ہو۔قرآن کریم نے بھی یہی آداب سکھائے ہیں کہ نبی کی آواز سے اپنی آواز کو اونچا نہ کرو۔ تو خلیفہ وقت کے لئے بھی اسی حکم کا اطلاق ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو خلافت کے مقام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضور کو صحت والی فعال ،لمبی عمر سے نوازے اور اپنی حفظ و امان میں رکھے۔آمین

(سید قاسم احمد شاہ)

پچھلا پڑھیں

سونف امراض جگر و معدہ کیلئے مفید

اگلا پڑھیں

چھٹےسالانہ اولڈبرج سروس ایوارڈز جماعت احمدیہ سنٹرل جرسی۔امریکہ کی تقریب