• 4 مارچ, 2024

اسپغول کے استعمال کے مختلف طریق

• صبح، دوپہر، شام تازہ پانی کے ہمراہ کھانا کھانے سے پہلے استعمال کریں۔
• چونکہ یہ چپک جاتا ہے اس لئے ہم وزن چینی ملا کراستعمال سے یہ نقص دور ہو جاتا ہے ہم وزن چینی ملا کر تازہ پانی کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں ۔
• گرم مزاج لوگ اسے رات کو پانی میں بھگو کر صبح چینی یا سادہ شربت یا سکنجبین سادہ یا بازار میں ملنے والے مشروبات مثلاً روح افزاء، جامِ شیریں، وغیرہ سے میٹھا کر کے بطور ایک خوش ذائقہ مشروب کے پی سکتے ہیں۔ اس طریقہ پر اسپغول کا استعمال دن میں حسبِ خواہش کئی مرتبہ بھی ہو سکتا ہے۔
• شربت بنفشہ خانہ ساز کے ذریعہ شیریں کر کے استعمال کرنے سے اس کی افادیت بہت بڑھ جاتی ہے ۔

اسپغول کی کھیر

• گرم مزاج اسپغول کی کھیر بنا کر استعمال کر سکتے ہیں ۔
تقریباً نصف کلو پانی میں 2۔3چمچ اسپغول ثابت یا چھلکا اسپغول ڈال کر آگ پر پکائیں، اور حسبِ طبع اس میں دودھ اور چینی کا اضافہ کریں، اور جب مثل کھیر گاڑھا ہو جائے تو اتار کر رکھ لیں۔ مذکورہ اوزان میں حسبِ طبع کمی بیشی کر سکتے ہیں نیز پانی کی جگہ دودھ استعمال کر سکتے ہیں ۔
گرم مزاج اس خوش ذائقہ کھیر کو برف سے ٹھنڈا کر کے کھا سکتے ہیں ۔جبکہ سرد مزاج اسے نیم گرم صورت میں ہی استعمال کریں۔ نیز سرد مزاج نیم گرم پانی یا نیم گرم دودھ یا چائے کے ہمراہ استعمال کریں یا ان چیزوں میں حل کر کے پی لیں یا نیم گرم پانی وغیرہ میں حل کر کے شربت بنفشہ یا چینی سے شیریں کر کے پئیں ۔

اسپغول کا استعمال بلحاظ موسم

جیسا کہ اوپر مذکور ہوا گرم مزاج اسے ٹھنڈا مشروب کی صورت میں استعمال کر سکتے ہیں۔بعینہ اسے موسم گرما میں مذکورہ طریق پر استعمال کرایا جا سکتا ہے ۔
اسی طرح سرد مزاج لوگوں کی ترکیب استعمال جو کہ درج ہو چکی ہے اس کے مطابق موسم سرما میں بھی کرایا جا سکتا ہے ۔

چند احتیاطیں

• ياد رہے کہ ہميشہ ثابت اسپغول استعمال کرنا چاہئے ۔
• اسپغول کو استعمال سے پہلے اچھي طرح صاف کر لينا چاہئے
• اسپغول سالم کا استعمال چھلکا اسپغول کي نسبت زيادہ مفيد ہے ۔
• جن طبائع کو پھولے ہوئے اسپغول کا ذائقہ نا پسند ہو وہ اسے پھولنے سے قبل ہي فوري طور پر حل کر کے پي ليں۔
• امراض مزمنہ ميں اسپغول کے عرصہ تک استعمال کرنے سے ہي خاطر خواہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہيں ،ليکن ہفتہ عشرہ تک لگا تار استعمال کرنے کے بعد چند ايک ناغے کر لينے چاہئيں ۔
• ابت اسپغول يا چھلکا اسپغول کے بارہ ميں ايک اصول ياد رکھيں کہ جب استعمال کريں تو بھر پور مقدار ميں استعمال کريں۔ اس سے يہ پھول کر حجم بڑھا کر انتڑيوں کو صاف کر ديتا ہے۔مگر بہت کم مقدار ميں استعمال کرنے سے يہ انتڑيوں ميں چپک کر قبض کا باعث بن سکتا ہے۔پھر دوسري بات يہ ہے کہ اسے لگاتار کبھي استعمال نہ کريں۔چند روز استعمال کر کے ناغے کريں پھر شروع کر ليں۔

(ڈاکٹر نذیر احمد مظہر۔کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

سونف امراض جگر و معدہ کیلئے مفید

اگلا پڑھیں

چھٹےسالانہ اولڈبرج سروس ایوارڈز جماعت احمدیہ سنٹرل جرسی۔امریکہ کی تقریب