• 3 جولائی, 2020

خلیفہ خدا بناتا ہےاور اطاعت خلافت

خلفائے احمدیت کے ارشادات کی روشنی میں

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ فرماتے ہیں۔

جناب الہٰی کا انتخاب بھی تو ایک انسان ہی ہوتا ہے اُس کو کوئی ناکامی پیش نہیں آتی وہ جِدھر منہ اُٹھاتا ہے اُدھر ہی اُس کے واسطے کامیابی کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور وہ فضل ،شِفا ،نور اور رحمت دکھلاتا ہے۔

(خطبات نور، صفحہ56)

یہ خدا ہی کا دست ِقدرت ہوتا ہے جو کہ ایک نبی کا قائمقام کسی کو بناتا ہے۔ اُن پر مشکلات آتی ہیں مگر خدا بدلہ دیتا ہے۔ اُن لوگوں میں تعظیم لِاَمْرِ اللّٰہ اور شفقت علیٰ خلق اللہ دونوں کمالات ہوتے ہیں۔ خدا کی کاملہ صفات کے یہ لوگ گرویدہ ہوتے ہیں اور مخلوق کی بے ثباتی اور لاشے ہونا اُن کو بتلاتا ہے کہ خدا کا شریک کوئی نہیں ہے۔

(خطبات نور،صفحہ 175 ،176)

نیز فرمایا کہ۔چونکہ خلافت کا انتخاب عقلِ انسانی کا کام نہیں۔عقل نہیں تجویز کرسکتی کہ کس کے قُوٰی قوّی ہیں۔کس میں قوتِ انتظامیہ کامل طور پر رکھی گئی ہے۔اِس لئے جنابِ الٰہی نے خود فیصلہ کردیا ہے وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْأَرْضِ خلیفہ بنانا اللہ تعالیٰ ہی کا کا م ہے۔

(حقائق الفرقان، جلد 3 صفحہ 225)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں۔

پس اے مؤمنوں کی جماعت اوراے عملِ صالح کرنے والو ! مَیں تم سے یہ کہتا ہوں کہ خلافت خدا تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے، اس کی قدر کرو جب تک تم لوگوں کی اکثریت ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہے گی، خدا اس نعمت کو نازل کرتا چلا جائے گا……تم ہروقت ان دُعاؤں میں مشغول رہو کہ خدا قدرتِ ثانیہ کے مظاہر تم میں ہمیشہ کھڑے کرتا رہے تاکہ اس کا دین مضبوط بنیادوں پر قائم ہو جائے اور شیطان اس میں رخنہ اندازی کرنے سے ہمیشہ کے لئے مایوس ہو جائے……پس ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور دُعاؤں میں مشغول رہو اور اس امر کو اچھی طرح یاد رکھو کہ جب تک تم میں خلافت رہے گی دُنیا کی کوئی قوم تم پر غالب نہیں آسکے گی اور ہر میدان میں تم مظفر ومنصور رہو گے۔

(انوارالعلوم ،جلد15صفحہ593)

مَیں اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو ہمیشہ خلافت کا خدمت گزار رکھے اور تمہارے ذریعہ احمدیہ خلافت قیامت تک محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت ہوتی رہے اور تم اور تمہاری نسلیں قیامت تک اس کا جھنڈا اُونچا رکھیں اور کبھی بھی وہ وقت نہ آئے کہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت میں تمہارا یا تمہاری نسلوں کا حصہ نہ ہو بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے تمہارا اور تمہاری نسلوں کا اس میں حصہ ہو اور جس طرح پہلے زمانہ میں خلافت کے دُشمن ناکام ہوتے چلے آئے ہیں تم بھی جلد ہی سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں ان کو ناکام ہوتا دیکھ لو ۔

(خطاب بیان فرمودہ 21اکتوبر1956ء۔بحوالہ الفضل 24اپریل1957ء)

کیا تم میں اور اُن میں جنہوں نے خلافت سے رُو گردانی کی ہے کوئی فرق ہے؟ کوئی بھی فرق نہیں لیکن نہیں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ تمہارے لئے ایک شخص تمہارا دَرد رکھنے والا،تمہاری محبت رکھنے والا،تمہارے دُکھ کو اپنا دُکھ سمجھنے والا،تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنے والا،تمہارے لئے خدا کے حضور دُعائیں کرنے والا ہے مگر اُن کے لئے نہیں ہے۔تمہارا اُسے فکر ہے،دَرد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولیٰ کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن اُن کے لئے ایسا کوئی نہیں ہے۔

(انوارالعلوم، جلد2 صفحہ158)

خلافت کے تو معنے ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اُس وقت سب سکیموں، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیاجائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم، وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفۂ وقت کی طرف سے حکم ملاہے۔

(خطبات محمود،جلد17صفحہ74)

حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ فرماتے ہیں۔

رسول کریمﷺ کے بعد خلفائے راشدین مجدّدین اور اولیائے اُمّت اپنے لئے اتنی دُعائیں نہ کرتے تھے جتنی دُعائیں اُنہوں نے اُمّتِ مسلمہ کے لئے کیں اور اب جماعت احمدیہ کے خلفاء بھی اپنے لئے اتنی دُعائیں نہیں کرتے (یا نہیں کرتے رہے) جتنی دُعائیں وہ احمدی بھائیوں کے لئے کرتے ہیں اور کرتے رہے ہیں اور اس اُمید اور یقین سے دُعا کرتے اور کرتے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی اُن دُعاؤں کے نتیجہ میں مومنوں کے دِلوں میں تسکین پیدا کرے گا۔

(خطباتِ ناصر ،جلد 1صفحہ165)

نبی اکرمﷺ نے اپنی اُمّت کے لئے جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہے بہت سی دُعائیں کی ہیں اور نبی کریمﷺ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے خلفاء کا ایک لمبا سلسلہ جاری کیا ہے جو قیامت تک ممتد ہے اور وہ رسول کی نیابت میں ان لوگوں کے لئے دُعائیں کرتے ہیں اور اُن کے غموں کو دُور کرنے کے لئے دُعا اور تدبیر کرتے ہیں اور اُن کی خوشیوں میں وہ شریک ہوتے ہیں اور ہر وقت وہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ خدا کے یہ پاک بندے روحانیت کی سیر میں کسی ایک مقام پر کھڑے نہ رہ جائیں بلکہ آگے ہی آگے وہ بڑھتے چلے جائیں۔

(خطباتِ ناصر، جلد2صفحہ 144)

مَیں جو عاجز بندہ ہوں اور اپنے اندر کوئی خوبی نہیں پاتا لیکن اِس کرسی کی عظمت پہچانتا ہوں جس پر اِس ذرّہ حقیر کو خدا نے اپنی حکمتِ کاملہ سے بٹھایا ہے ۔اِس عظیم ذمہ داری کو نبھانا آسان کام نہیں نہ کسی انسان کے بس میں ہے ۔ ہر لمحہ اور ہر آن اللہ تعالیٰ کی مدد اور اُس کی نصرت ساتھ نہ دے تو خلافت کی ذمہ داری نہیں نبھائی جاسکتی۔آپ دُعائیں کرتے رہا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل سے اِس ذمہ داری کو نبھانے کی توفیق عطا کرے تا کہ دُنیا میں جو اسلام کے غلبہ کی ایک مہم جاری ہوئی ہے وہ بھی تکمیل کی منازل طے کرتی ہوئی جلد تر اپنی منزلِ مقصود کو پہنچ جائے اور آپ کا اپنا بھی یہ فائدہ ہے کیونکہ اِس خلافت…کو آپ کے خوف اورخطر کو اور پریشانیوں کو دُور کرنے کا ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے قرار دیا ہے۔

(خطبات ناصر، جلد1صفحہ344)

درحقیقت خلیفہ کسی دُنیاوی انجمن کا سربراہ نہیں ہوتا اُس کا انتخاب خدا خود کرتا ہے اور وہ خدا کے ہاتھ میں ایک آلہ کی طرح ہوتاہے۔ اُس کے ذریعہ آسمانی مقصد اورآسمانی سکیم کی دُنیا میں نمائندگی ہوتی ہے … مہدی علیہ السلام جسمانی طور پر ہمیشہ تو اِس دُنیا میں نہیں رہ سکتے تھے لیکن خلافت رہ سکتی ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ قائم رہے گی درحقیقت خلافت اسلام کی اُن برکات کے تسلسل کا نام ہے جو مہدی موعود دوبارہ دُنیا میں لائے تھے۔

(خطبات ناصر،جلد3صفحہ98)

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں۔

ہر خلیفہ کے وقت میں جو اس زمانے کے حالات ہیں اُن کے متعلق جو خلیفہ وقت کی نصیحت ہے وہ لازماً دوسری نصیحتوں سے زیادہ مؤثر ہو گی۔اس تعلق کی بنا ء پر بھی اور اس وجہ سے بھی کہ خدا تعالیٰ نے جو ذمہ داری اس کے سپرد کی ہوتی ہے خود اس کے نتیجہ میں اس کو روشنی عطا کرتا ہے۔

(خطباتِ طاہر ،جلد 10صفحہ 894)

فرمایا: خدا تعالیٰ کا خلافت سے ایک تعلق ہے اور علوم کی روح سے اللہ تعالیٰ خلفاء کو آگاہ کرتا ہے اور جماعت کی زمانے کے لحاظ سے ضروریات سے خلفاء کو متنبہ کرتا ہے۔ خلفاء کی نظر ساری عالمی ضروریات پر ہوتی ہے اور جن علوم کی تفسیر کی ضرورت پڑے، جیسی روشنی خدا تعالیٰ خود اپنے خلفاء کو عطا فرماتا ہے ویسی ایک علم میں خواہ کسی مقام کا رکھنے والا عالم ہو اس کو اپنے کسبی طور پہ نصیب نہیں ہو سکتی۔یہ وھبت ہے، اللہ تعالیٰ کی عطا ہے جس میں کوئی کوشش یا جدّ و جہد کا دخل نہیں ، نہ حقداری کا دعویٰ ہے بلکہ اللہ کواپنے دین کی ضرورتوں کا بہترین علم ہے اور جن کے سپرد وہ کام کرتا ہے اُن پر وہ ضرورتیں روشن فرماتا ہے۔

(خطباتِ طاہر ،جلد7 صفحہ110،109)

میرا ساری زندگی کے تجربے کا نچوڑ یہ ہے کہ خلیفۂ وقت کی ہدایت پر اگر آپ اخلاص کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ توجہ دیں گے خواہ آپ کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے تو آپ کے کاموں میں غیر معمولی برکت پڑے گی اور اگر آپ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے بھلائیں گے تو پھر آپ کے کاموں میں سے برکت اُٹھ جائے گی۔

(خطباتِ طاہر ،جلد6 صفحہ733)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

آج جماعتِ احمدیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا ہے،جو پیشگوئی فرمائی ہے،جس کا اعلان زمانے کے امام کے ذریعہ سے کروایا وہ ہرآن اور ہر لمحہ ایک نئی شان سے پورا ہو رہا ہے۔ چاہے وہ خلافتِ اولیٰ کا دَور تھا جس میں بیرونی مخالفتوں کے علاوہ اندرونی فتنوں نے بھی سر اُٹھانا شروع کردیاتھا ۔یا خلافتِ ثانیہ کا دَور تھا جس میں انتخابِ خلافت سے لے کر تقریباًآخر تک جو خلافتِ ثانیہ کا زمانہ تھا ،مختلف فتنے اندرونی طورپر بھی اُٹھتے رہے۔جماعت کا ایک حصہ علیحدہ بھی ہوا۔پھر بیرونی مخالفتوں نے بھی شدیدحملوں کی صورت اختیار کر لی لیکن جماعت کی ترقی کے قدم نہیں رکے ۔پھر خلافتِ ثالثہ میں بھی بیرونی حملوں کی شدت اور بعض اندرونی فتنوں نے سر اُٹھایا لیکن جماعت ترقی کرتی چلی گئی اور جماعت کو خلافتِ احمدیہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آگے ہی بڑھاتی رہی۔پھر خلافتِ رابعہ کا دور آیا تو دُشمن نے ایسا بھرپور وار کیا کہ اُس کے خیال میں اُس نے جماعت کو ختم کر نے کے لئے ایسا پکا ہاتھ ڈالاتھا کہ اُس سے بچنا نا ممکن تھا،کوئی راہِ فرار نہیں تھی۔لیکن پھر حضرت مسیحِ موعودعلیہ السلام کے الفاظ اپنی شان کے ساتھ پورے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور ظاہر کرے گا اور وہ ہوئی اور اُس زبردست قدرت نے اُن مخالفین کی خاک اُڑادی۔پھر خلافتِ خامسہ کا دَور ہے۔اس میں بھی حسد کی آگ اور مخالفت نے شدت اختیار کر لی۔کمزور اور نہتے احمدیوں پر ظالمانہ حملے کر کے خون کی ایسی ظالمانہ ہولی کھیلی گئی جنہیں دیکھ کر یہ فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ انسانوں کا کام ہے یا جانوروں سے بھی بدتر کسی مخلوق کا کام ہے۔پھر اندرونی طور پر جماعت کے ہمدرد بن کر جماعت کے اندر افتراق پیدا کرنے کی بھی بعض جگہ کوششیں ہوتی رہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق ،اللہ تعالیٰ کی تائید یافتہ خلافت کی زبردست قدرت اس کا مقابلہ کرتی رہی اور کر رہی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا مقابلہ کر رہا ہے ۔مَیں تو ایک کمزور نا کارہ انسان ہوں ، میری کوئی حیثیت نہیں لیکن خلافتِ احمدیہ کو اُس خدا کی تائید و نصرت حاصل ہے جو قادروتوانا اور سب طاقتوں کا سرچشمہ ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ27مئی 2011ء)

یاد رکھیں وہ سچے وعدوں والا خدا ہے۔ وہ آج بھی اپنے پیارے مسیح کی اس پیاری جماعت پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔ وہ ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا اور کبھی نہیں چھوڑے گا اور کبھی نہیں چھوڑے گا۔ وہ آج بھی اپنے مسیح سے کئے ہوئے وعدوں کو اسی طرح پورا کر رہا ہے جس طرح وہ پہلی خلافتوں میں کرتا رہا ہے۔ وہ آج بھی اسی طرح اپنی رحمتوں اور فضلوں سے نواز رہا ہے جس طرح پہلے وہ نوازتا رہا ہے اور انشاء اللہ نوازتا رہے گا۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ21مئی2004ء)

پچھلا پڑھیں

آقا مرے بخیر رہیں عمر ہو دراز

اگلا پڑھیں

خلافت کی ضرورت، اہمیت اور برکات