• 12 اگست, 2020

تحریک وقف نو اور خلافت احمدیت کی بابرکت رہنمائی

(قسط اوّل)

خدا تعالیٰ کا ہم پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ جس نے خلافت جیسی عظیم نعمت ہم پر اتاری ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح کا بابرکت وجود ہر لمحہ ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہے جو ظلمتوں کے اس دور میں ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور تاریک راہوں پر ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے جو ہمیں ہماری منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے درست سمت میں رہنمائی کرنے والا ہے۔اس نعمت پر ہم خداتعالیٰ کا جس قدر بھی شکر ادا کریں کم ہے۔

تحریک وقف نو کی اگر بات کی جائے تو یہ وہ تحریک ہے جو اپنی پیدائش3اپریل 1987ء کے وقت سے لے کر اپنی بلوغت سے گزرتے ہوئے اب ایک باشعور ذمہ دار عمر کو پہنچ چکی ہے۔ درحقیقت اس تحریک میں شاملین کو نہ صرف ان روحانی وجودوں کی گود میں کھیلنے کا موقع ملا بلکہ اس کو انگلی پکڑ کر چلنے کا طریقہ اور قوت گویائی کا سلیقہ تک بھی خلافت احمدیہ کی مرہون منت عطاہوا۔ گویا اس تحریک کا بچہ بچہ اپنے خلفاء کی پدرانہ شفقت کے سایہ تلے پلا بڑھا، جوان ہوا ہے۔ جنہوں نے ہرقدم پر ان واقفین نو کی اس طرح رہنمائی کی ہے کہ وہ اپنے حقیقی مقصد کو پانے والے ہوں اور وقف کی اہمیت کے ساتھ آئندہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے صحیح رنگ میں خلافت احمدیہ کے سلطان نصیر اور جماعت احمدیہ کے خدمتگار بننے والے ہوں۔

خلافت رابعہ اور خلافت خامسہ دونوں ادوار میں واقفین نو کی رہنمائی کے لئے خلفائے وقت نے اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود اس تحریک کے واقفین نو کو خصوصی توجہ اور وقت دیا۔زیادہ سے زیادہ وقت ان کو اپنی بابرکات مجالس میں بیٹھنے کا موقع دیاتا یہ اس روحانی وجود پر خداتعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے فیوض سے مستفیض ہونے والے ٹھہریں اور اپنی زندگیوں کو اسلام اور جماعت احمدیہ کی تعلیمات کی اشاعت اور اس کی خدمت کے لئے تیار کرنیوالے ہوں۔

اس کے لئے کیا خطبات جمعہ، کیا خطابات بر اجتماعات وقف نو اور پھر دیس بدیس جہاں بھی خلافت احمدیہ کے مبارک قدم پڑے وہاں وقف نو کلاسز میں رونق افروز ہوکر ان واقفین نو کو برکت بخشی اور بیش بہا قیمتی نصائح سے نوازا۔صرف یہی نہیں بلکہ ہر موقع پر واقفین نو کا ایک علیحدہ تشخص قائم کرتے ہوئے ان پر شفقت کی نظر ڈالی اور انفرادی ملاقاتوں میں بھی ان پر خصوصی توجہ فرمائی تا یہ اپنے اصل مقام کو سمجھنے والے ہوں اور صرف وقف نو کاٹائٹل لگا کر ہی خوش نہ ہوں بلکہ ان سب شفقتوں کے نتیجہ میں ’’اسپیشل‘‘ واقفین نو کی خصوصیات اپنے اندر پیدا کرنے والے ہوں ۔ یہ دینا کے جھمیلوں سے آزادوہ لکھوکھہا تربیت یافتہ واقفین زندگی بنیں جو بلا استثناء جماعت کے ہر طبقہ اور ہر ملک سے آنیوالے ہوں اور اس صدی کے لئے خداتعالیٰ کے حضور پیش کیا جانیوالا بہترین تحفہ ثابت ہوں۔ آمین

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒنے نہ صرف اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 10فروری 1989ء میں والدین اور انتظامیہ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے نصائح فرمائیں بلکہ اپنے لگاتار 5، 6 خطبات میں ان تمام باتوں کو کھول کھول کربیان فرمایا تھا۔آپ نے فرمایاکہ پس پیشتر اس کے کہ یہ بچے اتنے بڑے ہوں کہ جماعت کے سپرد کئے جائیں ان ماں باپ کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قربانیوں کو اس طرح تیار کریں کہ ان کے دل کی حسرتیں پوری ہوں جس شان کے ساتھ وہ خدا کے حضور ایک غیر معمولی تحفہ پیش کرنے کی تمنا رکھتے ہیں وہ تمنائیں پوری ہوں۔

پھر تربیتی نقطہ نظر سے خصوصی توجہ دلاتے ہوئے والدین کو نصیحت کی کہ ان کی پرورش اور تربیت میں کسی طرف سے غافل رہے تو خدا کے حضور مجرم ٹھہریں گے۔ان میں بچپن سے ہی اخلاق حسنہ کی آبیاری کی جائے جو ان میں بدرجہ اولیٰ نظر آئیں۔ ان کے مزاج میں شفتگی ہو۔ترش رو نہ ہوں۔قانع ہوں۔حرص وہوس سے دور ہوں اورسچائی، دیانت و امانت کے اعلیٰ مقام پر پہنچنے والے ہوں۔صاف ستھرے اور پاکیزہ رہنے والے ہوں۔خوش مزاجی، تحمل اور برداشت ان کی وصف ہوں۔ان کے مزاق اور مزاح میں بھی پاکیزگی ہو۔غنا کی خوبی سے واقف ہوں۔شروع سے ان کی قرآن کریم کی تعلیم کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔ان کی دینی و دنیاوی تعلیم میں بھی وسعت ہو۔ان کے علم کا دائرہ وسیع ہو۔ان میں وفا کا مادہ پیدا کریں۔ ان کی عمومی صحت بھی اچھی ہو، ان کی بدنی صحت کا خیال رکھا جائے۔سخت جان ہوں۔نظام جماعت کی اطاعت کی بچپن سے عادت ڈالیں۔اپنی اپنی ذیلی تنظیموں کا حصہ بنیں۔ان کے کردار میں عظمت ہوتا بات اور دعا میں عظمت پیداہو، دشمنوں کے دل جیتنے والے ہوں۔ ان کو بچپن سے ہی اپنی مادری زبان، اردو اور عربی کے ساتھ کوئی نہ کوئی غیر زبان بھی سکھائیں تا وہ بعد میں اس میں ماہر بن سکیں۔واقفین بیٹیوں کو علمی کاموں میں شامل کریں۔گویا ہر لحاظ سے وہ آئندہ صدی کی عظیم لیڈر شپ کی اہلیت اپنے اندر رکھنے والے ہوں۔

مگر ان سب باتوں کے لئے جو اہم بات والدین کو بتائی کہ جس پر چل کر وہ اپنی ذمہ داری حقیقی طور پر پوری کرنے والے بن سکتے ہیں کہ ’’پس ایک ہی راہ ہے اور صرف ایک راہ ہے کہ ہم اپنے وجود کو اور اپنے واقفین کے وجود کو خدا کے سپرد کردیں اور خدا کے ہاتھوں میں کھیلنے لگیں‘‘۔

اس وقت روئے زمین پر صرف ایک ہی وجود ایسا ہے جس پر ہر احمدی مسلمان کا ایمان ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے جو خدا کا نمائندہ اور خلیفۃ اللہ ہے۔اس کی ہر بات خدا کی طرف سے ہے ۔ اور وہ یقینًا ہمارے پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بابرکت وجود ہی ہے جو ظلمتوں کے اس دور میں براہ راست خداتعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے اور رہنمائی پاتا ہے اور زمانے کی بدیوں کے مقابلہ کے لئے وہ ہماری ڈھال ہے۔اسی کے سایہ تلے آکر ہم اس زمانہ کی دھوپ سے بچ سکتے ہیں اور خود کو اسی کے سپرد کرکے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ حقیقی طور پر ہم خدا کے سپرد ہیں اور اس کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔

ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے منصب خلافت پر فائز ہوتے ہی طفولیت کی عمر میں پہنچی ہوئی اس تحریک کو اپنی آغوش میں لے لیا اور بلوغت میں قدم رکھتی اس نسل کی پرورش اور تربیت کے لئے ہر لمحہ نگرانی اور رہنمائی فرمائی۔

27 جون 2003ء کو اپنے خطبہ جمعہ میں واقفین نو کے والدین کو توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آئندہ زمانے میں جو ضرورت پیش آنی ہے مبلغین کو بہت بڑی تعداد کی ضرورت ہے اس لئے اس نہج پر تربیت کریں کہ بچوں کو پتہ ہو کہ اکثریت ان کی تبلیغ کے میدان میں جانے والی ہے۔

اس کے ساتھ یہ نصیحت فرمائی کہ تربیت کی ضروری باتوں میں سے سب سے پہلی اور اہم بات وفا کا معاملہ ہےجس کے بغیر کوئی قربانی ، قربانی نہیں کہلا سکتی۔

پھر فرمایا کہ میرے نزدیک انتہائی اہم باتوں میں سے ایک بلکہ سب سے اہم بات ہے کہ بچوں کو پانچ وقت نمازوں کی عادت ڈالیں۔ کیونکہ جس دین میں عبادت نہیں وہ دین نہیں۔

آج بھی ہمارےدل وجان سے پیارےآقااپنی اس روحانی اولاد کی تربیت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اوراس کے لئے خطبات جمعہ ، خطابات بر اجتماع وقف نو اور کلاسز میں ہر طرح سے رہنمائی فرما رہے ہیں۔

آپ کا 28اکتوبر 2016ء کا خطبہ جمعہ فرمودہ از کینیڈا اس حوالہ سے بہت اہمیت کا حامل ہے جس میں آپ نے واقفین نو اور ان کے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے تربیت کے بعض اہم معیار بیان فرمائے کہ اگر واقفین نو خود کو اسپیشل سمجھتے ہیں تو پھر کیسے وہ حقیقی وقف نو اور پھر ’’اسپیشل‘‘ وقف نو بن سکتے ہیں۔ انہیں توجہ دلائی کہ اسپیشل بننے کے لئے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ان معیاروں پر پورا اترنے والے ہیں۔پھر جلسہ سالانہ یوکے 2018ء کے موقع پر لجنہ سے اپنے خطاب میں اس خطبہ کو واقفین نو کے لئے ایک لائحہ عمل قرار دیاکہ جس پر عمل کرکے واقفین نو سلسلہ کے لئے بہترین خادم اور نیک مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

اسپیشل واقفین نو کے معیار بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’وقف نَو جیسا کہ میں نے کہا بڑے سپیشل ہیں لیکن سپیشل ہونے کے لئے ان کو ثابت کرنا ہو گا ۔کیا ثابت کرنا ہو گا ؟کہ وہ خدا تعالیٰ سے تعلق میں دوسروں سے بڑھے ہوئے ہیں تب وہ سپیشل کہلائیں گے۔ ان میں خوف خدا دوسروں سے زیادہ ہے تب وہ سپیشل کہلائیں گے۔ ان کی عبادتوں کے معیار دوسروں سے بہت بلند ہیں تب وہ سپیشل کہلائیں گے۔ وہ فرض نمازوں کے ساتھ نوافل بھی ادا کرنے والے ہیں تب وہ سپیشل کہلائیں گے ۔ان کے عمومی اخلاق کا معیار انتہائی اعلیٰ درجہ کا ہے۔ یہ ایک نشانی ہے سپیشل ہونے کی۔ ان کی بول چال، بات چیت میں دوسروں کے مقابلے میں بہت فرق ہے۔ واضح پتا لگتا ہے کہ خالص تربیت یافتہ اور دین کو دنیا پر ہر حالت میں مقدم کرنے والا شخص ہے تب سپیشل ہوں گے۔ لڑکیاں ہیں تو ان کا لباس اور پردہ صحیح اسلامی تعلیم کا نمونہ ہے جسے دوسرے لوگ بھی دیکھ کر رشک کرنے والے ہوں اور یہ کہنے والے ہوں کہ واقعی اس ماحول میں رہتے ہوئے بھی ان کے لباس اور پردہ ایک غیر معمولی نمونہ ہے تب سپیشل ہوں گی۔ لڑکے ہیں تو ان کی نظریں حیا کی وجہ سے نیچے جھکی ہوئی ہوں نہ کہ ادھر ادھر غلط کاموں کی طرف دیکھنے والی تب سپیشل ہوں گے۔ انٹرنیٹ اور دوسری چیزوں پر لغویات دیکھنے کی بجائے وہ وقت دین کا علم حاصل کرنے کے لئے صرف کرنے والے ہوں تو تب سپیشل ہوں گے۔ لڑکوں کے حلیے دوسروں سے انہیں ممتاز کرنے والے ہوں تو تب سپیشل ہوں گے۔ وقف نَو لڑکے اور لڑکیاں روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے اور اس کے احکامات کی تلاش کر کے اس پر عمل کرنے والے ہوں کی تو پھر سپیشل کہلا سکتے ہیں۔ ذیلی تنظیموں اور جماعتی پروگراموں میں دوسروں سے بڑھ کر اور باقاعدہ حصہ لینے والے ہیں تو پھر سپیشل ہیں۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے لئے دعاؤں میں اپنے دوسرے بہن بھائیوں سے بڑھے ہوئے ہیں تو یہ ایک خصوصیت ہے۔ رشتوں کے وقت لڑکے بھی اور لڑکیاں بھی دنیا دیکھنے کی بجائے دین دیکھنے والے ہیں اور پھر وہ رشتے نبھانے والے بھی ہیں تو تب کہہ سکتے ہیں کہ ہم خالصۃً دینی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے رشتے نبھانے والے ہیں تو سپیشل کہلائیں گے۔ ان میں برداشت کا مادہ دوسروں سے زیادہ ہے، لڑائی جھگڑااور فتنہ و فساد کی صورت میں اس سے بچنے والے ہیں بلکہ صلح کروانے والے ہیں تو سپیشل ہیں۔ تبلیغ کے میدان میں سب سے آگے آ کر اس فریضہ کو سرانجام دینے والے ہیں تب سپیشل ہیں۔ خلافت کی اطاعت اور اس کے فیصلوں پر عمل میں صف اول میں ہیں تو سپیشل ہیں۔ دوسروں سے زیادہ سخت جان اور قربانیاں کرنے والے ہیں تو بالکل سپیشل ہیں۔ عاجزی اور بے نفسی میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں ،تکبر سے نفرت اور اس کے خلاف جہاد کرنے والے ہیں تو بڑے سپیشل ہیں۔ ایم ٹی اے پر میرے خطبے سننے والے اور میرے ہر پروگرام کو دیکھنے والے ہیں تا کہ ان کو رہنمائی ملتی رہے تو بڑے سپیشل ہیں۔‘‘

اسی خطبہ جمعہ میں آپ نے فرمایا کہ ’’واقفین نَو کو تو اپنے قناعت کے معیاروں کو بہت بڑھانا چاہئے۔ اپنی قربانی کے معیاروں کو بہت بڑھانا چاہئے ۔یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہم مالی لحاظ سے کمزور ہوں گے تو ہمیں شاید ہمارے بہن بھائی کمتر سمجھیں یا والدین ہمیں اس طرح توجہ نہ دیں جس طرح باقیوں کو دے رہے ہیں۔ اول تو والدین کو ہی یہ خیال کبھی دل میں نہیں لانا چاہئے کہ واقفین زندگی کمتر ہیں۔ واقفین زندگی کا معیار اور مقام ان کی نظر میں بہت بلند ہونا چاہئے۔ لیکن واقفین زندگی کو خود اپنے آپ کو ہمیشہ دنیا کا عاجز ترین بندہ سمجھنا چاہئے۔

واقفین نَو کو جہاں قربانی کا معیار بڑھانا ہے وہاں اپنی عبادتوں کے معیار کو بھی بلند کرنا چاہئے، اپنی وفا کے معیار کو بھی بڑھانا چاہئے۔ اپنے اور اپنے والدین کے عہد کو پورا کرنے کے لئے اپنی تمام صلاحتیوں اور استعدادوں سے کام لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ دین کی خاطر، دین کی سربلندی کی خاطر کام کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ تب اللہ تعالیٰ بھی نوازتا ہے اور کسی کوبغیر جزا کے اللہ تعالیٰ نہیں چھوڑتا ۔‘‘

اس کے علاوہ ان واقفین نو کی تربیت کی فکر اور ان کے ساتھ محبت اور شفقت ہی کا سلوک ہے کہ بعض اوقات آپ باوجود اپنی ناسازی طبع کے ان کی کلاسز اور بیرون ممالک سے اپنے آقا کےرخ انور کے دیدار کی طمع لے کر حاضر ہونے والے وفود کی مجالس میں رونق افروز ہوتے ہیں اور ان کوان روحانی برکات سے فیض یاب ہونے کا موقع دیتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے روئے ارض پر اپنےخلیفہ کے وجود میں جاری کر رکھی ہیں۔جہاں بظاہر دیکھنے والوں کو تو سامنے کلاس میں بیٹھے ہوئے واقفین نو کے بچگانہ سوالوں کے جوابات ان کی عقلوں اور عمروں کے مطابق دیتے نظر آتے ہیں ورنہ بقول حضرت مصلح موعود ؓ خلیفہ کا یہ کام نہیں کہ مجالس میں وہ تمہارے سوالوں کا جواب دیتا پھرے بلکہ وہ تو یہ سب اس لئے کرتا ہے کہ تا تم اس کی مجلس میں بیٹھو اور ان فیوض سے حصہ پاؤ جو خداتعالیٰ کی طرف سے اس کے وجود میں نازل ہو رہے ہوتے ہیں۔

– حقیقت بھی تو یہی ہے اگر کوئی سمجھے جو اوپر بیان ہو چکا کہ دراصل حضرت خلیفۃ المسیح کا وجود انہیں اس مجلس میں روحانی برکت بخش رہا ہوتا ہے اس لئے جتنا موقع میسر ہوسکے ان مجالس میں شامل ہو کر مستفیض ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔خدا تعالیٰ ہمارے پیارے حضور کی عمر اور صحت میں بھی برکت عطافرمائے جو ہمارے لئے اس فیضان کا سرچشمہ اور ان برکات کا موجب ہیں اور ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم ان سب برکات سے حصہ پانے والے ہوں جو خدا نے اپنے خلیفہ کے وجود سے وابستہ کر رکھی ہیں۔ آمین

اس کے علاوہ حضور انور ایدہ اللہ کی براہ راست رہنمائی میں واقفین نو کی تعلیم و تربیت کے لئے مرکزی رسائل بھی جاری ہیں۔ واقفین نو کے لئے ’’اسماعیل‘‘ اور واقفات نو کے لئے ’’مریم‘‘ رسالہ ہر سہ ماہی میں شائع ہوتا ہے۔یہ رسائل شعبہ وقف نو مرکزیہ کی ویب سائیٹ WWW.WAQFENAUINTERNATIONAL.ORG پر بھی آن لائن دستیاب ہوتے ہیں۔ یہ دونوں رسائل یوکے کے علاوہ انڈیا سے بھی شائع ہوتے ہیں۔ انڈیا میں ’’اسماعیل‘‘ میگزین ’’گلدستہ وقف نو‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ انڈونیشیا میں بھی یہ رسائل انڈونیشین زبان میں شائع ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی سے بھی دونوں رسائل جرمن زبان میں شائع ہورہے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ کی براہ راست رہنمائی میں واقفین نو کی تعلیم وتربیت اور والدین کی رہنمائی نیز رابطہ کے لئے مندرجہ بالا مرکزی ویب سائیٹ کا بھی اجرا ہوچکا ہے۔

گزشتہ سال حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خصوصی شفقت اور رہنمائی سے دنیا بھر کی جماعتوں کے نیشنل سیکرٹریان کا پہلا سہ روزہ ریفریشر کورس بھی 6 تا 8 دسمبر 2019ء اسلام آباد، ٹلفورڈ میں منعقد ہو چکا ہے جس میں حضور انور نے اپنے نہایت زریں خطاب میں33 ممالک کے شاملین نیشنل سیکرٹریان وقف نو اور جملہ مہمانان کو وقف نو کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو باحسن سرانجام دینے کی طرف توجہ دلائی ۔

اب ذیل میں ایسی ہی بعض مجالس میں مختلف مواقع پرہونے والی اجتماعی یا انفرادی انتظامی ہدایات بغرض رہنمائی قارئین کی نذر کی جاتی ہیں:۔

٭آسٹریلیا میں واقف نو بچوں کی کلاس میں ایک سوال یہ کیا گیا کہ جب وقف نو بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو کیا وہ کہیں بھی Job کرسکتے ہیں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا : اگر جماعت اجازت دے گی تو کرسکتے ہیں ورنہ نہیں۔ جماعت کی خدمت کرنی چاہیئے۔ لڑکیاں بھی جماعت سے پوچھیں۔ اگر جماعت کہہ رہی ہے کہ فوری طور پر تمہاری ضرورت نہیں ہے تو پھر تمہیں اجازت دیں گے کہ تم کچھ وقت باہر جاب کرسکتی ہو۔ لیکن اس کیلئے پوچھنا اور اجازت لینا ضروری ہے۔

حضور انور نے فرمایا: میں نے بارہا یہ ہدایت دی ہے کہ جب پندرہ سال کے ہوجاؤ تو وقف کا فارم پر کرکے اپنے آپ کو پیش کرو۔ پھر جب تمہاری تعلیم مکمل ہوجائے تو پھر دوبارہ اپنے آپ کو پیش کرو اور بتاؤ کہ میں نے اپنی تعلیم مکمل کرلی ہے ۔ یہ میری تعلیم اور ڈگری ہے اور مجھے بتایا جائے کہ میں اب کیا کروں۔ پھر تمہیں بتائیں گے کہ اپنا کام کرلو اور جماعت کی خدمت بھی ساتھ ساتھ کرلو یا اپنے آپ کو پوری طرح جماعت کے سپرد کرو۔ پھر جماعت جہاں خدمت لینا چاہے گی لے گی۔

٭مجلس عاملہ ناروے کی حضور انور کے ساتھ ملاقات تھی اس دوران حضور انور ایدہ اللہ نے ہدایت فرمائی ہے کہ:

واقفین نو بچے ذیلی تنظیموں کے پروگرام میں پہلے شامل ہوں ۔ بعد میں ان کےاپنے پروگرام ہوں۔ ان کے ذہن میں ہونا چاہیئے کہ یہ ذیلی تنظیموں کا اسی طرح حصہ ہیں جس طرح دوسرے بچے ہیں۔ بچپن سے ہی ان کی ٹریننگ ہونی چاہیئے کہ بہن بھائیوں سے نہیں لڑنا۔

14ستمبر 2012ء میں جرمنی میں واقفین نو کی حضور انور کے ساتھ کلاس ہوئی ۔ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا :
واقفین نو چاہے وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں ان کا انتظام نیشنل سیکرٹری وقف نو کے ذمہ ہے۔ لجنہ کے تحت نہیں ہے۔ لجنہ میں سیکرٹری وقف نو کوئی نہیں ہے۔ لجنہ آپ کی مددگار تو ہوسکتی ہے لیکن ان کو آپ کی ہی ہدایات کو Follow Up کرنا چاہیئے۔ ان کی علیحدہ سے اپنی کوئی پالیسی نہیں ہونی چاہیئے۔

جرمنی میں وقف نو کی ایک کلاس میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
صرف توجہ ہی نہیں دلانی بلکہ ان کو بتادیں کہ اگر آپ نے کام کی منظوری نہیں لی تو آپ کا نام وقف نو سے خارج کردیا جائے گا۔ اگر کوئی وقف نو بغیر منظوری کے کام کررہا ہے تو اس کو نوٹس دے دیں کہ اگر ایک مہینہ کے اندر اندر آپ کام کرنے کا اجازت نامہ حاصل نہیں کرتے تو آپ کو واقفین نو کی فہرست سے فارغ کرکے واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس پر سیکرٹری صاحب وقف نو نے بتایا کہ جب ہم کام کرنے والے واقفین سے پوچھتے ہیں تو ان میں سے کئی کہتے ہیں کہ حضور انور سےملاقات کے دوران اجازت لے لی تھی۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ ملاقات کا مطلب یہ نہیں ہےکہ دفتر کا تحریری ریکارڈ مکمل نہ ہو۔ آپ کا ریکارڈ بہر حال مکمل ہونا چاہیئے اور تحریری اجازت نامہ ہونا چاہیئے۔ یہ اجازت نامہ اور ریکارڈ مرکز میں بھی جانا چاہیئے۔

سنگاپور میں واقفین نو بچوں سے ہونے والی ایک کلاس میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے کسی نے سوال کیا کہ
اگر کسی واقف نو کے والدین کا جماعت سے اخراج ہوا ہو تو اس کا مطلب یہ سمجھا جائے گا کہ اب ان کے بچے بھی وقف نو سکیم سے فارغ ہیں؟ اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بالکل ایسا ہی ہے۔ وہ والدین جنہوں نے خود اپنا اچھا نمونہ پیش نہیں کیا تو وہ کس طرح اپنے بچوں کی ایک اچھے احمدی کے طور پر تربیت کرسکتے ہیں۔ ان کے بچے کس طرح ایک اچھے ، بہتر ماحول میں پروان چڑھیں گے۔

حضور انور نے فرمایا کہ اگر والدین کو معافی مل جاتی ہے تو پھر ان کے واقف نوبچے دوبارہ وقف میں آنے کیلئے خلیفہ وقت کو لکھ سکتے ہیں۔ پھر اس بارہ میں خلیفۃ المسیح فیصلہ فرمائیں گے کہ ان کو دوبارہ شامل کرنا ہے یا نہیں۔

٭حضور انور نے فرمایا کہ لڑکیوں کیلئے میں اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ وہ ڈاکٹر بنیں، کسی زبان میں مہارت حاصل کریں یا ٹیچر ، آرکیٹکٹ اور Historian کے پروفیشن میں جائیں۔ یا ریسرچ میں جائیں۔

اس سوال پر کہ کیا ایک واقفہ نو بچی کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک واقف نو سے ہی شادی کرے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
یہ ضروری نہیں ہے لیکن خفیہ طور پر کوئی شادی نہیں ہونی چاہیئے۔ واقف نو بچیاں کسی بھی احمدی لڑکے سے شادی کرسکتی ہیں لیکن لڑکا اچھے کردار کا ہونا چاہیئے اور اس شادی کے بعد بھی آپ واقفین کی طرح ہی خدمت کریں گی۔

٭اس سوال پر کہ ہم کس عمر میں یہ فیصلہ کریں کہ ہم نے وقف نو سکیم کے تحت اپنا وقف جاری رکھنا ہے؟ حضور انور نے فرمایا کہ :
جب آپ پندرہ سال کی عمر کو پہنچیں تو اپنا وقف فارم پرُ کریں اور اپنے سیکرٹری وقف نو کی وساطت سے مرکز کو بھجوائیں اور جب آپ اپنی تعلیم مکمل کرکے فارغ ہوں تو پھر بھی اپنے وقف کا عہد کریں اور سینڑ کو اس سے مطلع کریں۔

اس سوال پر کہ کیا جب ہم اپنی تعلیم مکمل کرلیں تو کیا ہم بطور civil servant کام کرسکتے ہیں باوجود اس کے کہ ہم نے اپنے وقف کا فارم پر کیا ہوا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
از خود اس کی اجازت نہیں ہے۔ کوئی بھی کام کرنے سے قبل خلیفۃ المسیح سے اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔ خلیفۃ المسیح کی اجازت کے بعد ہی کوئی دوسرا کام کیا جاسکتا ہے۔

(اب حضور انور نے ہدایت فرمائی ہے کہ واقفین نو جماعتی خدمات کے علاوہ ملک و قوم کی خدمت کے لئے پبلک سروسز میں بھی جائیں۔مگر اس سے قبل حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ سے اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے کے حوالہ سے فرمایا کہ
دنیا میں دین کو پھیلانے کیلئے دینی علم کی ضرورت ہے اور یہ علم سب سے زیادہ ایسے ادارہ سے ہی مل سکتا ہے جس کا مقصد ہی دینی علم سکھانا ہو اور یہ ادارہ جماعت احمدیہ میں جامعہ احمدیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس لئے واقفین نو کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو جامعہ احمدیہ میں آنا چاہیئے۔

سیکرٹریان وقف نو کو اس طرف بھی بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا:
وقف نو کا ایک نصاب بنا ہوا ہے۔ (یہ نصاب شعبہ وقف نو مرکزیہ کی ویب سائیٹ
WWW.WAQFENAUINTERNATIONAL.ORG
پر بھی آن لائن دستیاب ہے) اگر جماعت کا بھی ایک نصاب بنا ہوا ہے تو جب سیکرٹری تربیت اور سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری وقف نو جماعتی نظام کے تحت ہی کام کررہے ہیں تو امراء اور صدران کا کام ہے کہ ان کو اکٹھا کرکے ایسا معین لا ئحہ عمل بنائیں کہ یہ نصاب بہر حال پڑھا جائے۔ خاص طور پر واقفین نو کو اس میں ضرور شامل کیا جائے۔

٭8جنوری ۲۰۱۳ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا:
ہر ملک کی انتظامیہ ایک کمیٹی بنائے جو جائزہ لےکہ ان ملکوں کی اپنی ضروریات آئندہ دس سال کی کیا ہیں؟ کتنے مبلغین ان کو چاہئیں۔ کتنے زبان کے ترجمے کرنے والے چاہئیں۔ کتنے ڈاکٹر چاہئیں؟ کتنے ٹیچرز چاہئیں جہاں جہاں ضرورت ہے۔ اور اس طرح مختلف ماہرین اگر چاہئیں تو کیا ہیں؟ مقامی زبانوں کے ماہرین کتنے چاہئیں۔ یہ جائزے لے کر تین سے چار مہینے کے اندر اندر اس کی رپورٹ ہونی چاہیئے اور شعبہ وقف نو اس کو Proper Follow Up کرے۔

جو بچے جامعہ احمدیہ سے تعلیم حاصل نہیں کرتے ، ان کے حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سنگاپور میں ارشاد فرمایا تھا :
جو واقفین نو بچے جامعہ نہیں جائیں گے وہ تو دینی تعلیم (Religious Knowledge) کہاں سے حاصل کریں گے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے امیر صاحب انڈونیشیا کو ہدایت فرمائی کہ ایک کمیٹی بنائیں۔ ایسے بچوں کو دینی تعلیم دینے کیلئے سلیبس ہو۔ جس میں قرآن کریم کا ترجمہ ہو، احادیث ہوں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہوں۔ مبلغین جو اردو زبان جانتے ہیں وہ کتب کا ترجمہ کرسکتے ہیں، بعض انگریزی سے کرسکتے ہیں۔ حضور انور نے فرمایا کہ بیس بائیس سال کی عمر تک ہر واقف نو کو قرآن کریم کا ترجمہ آنا چاہیئے۔ کم از کم سو احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے کچھ حصے ضرور آنے چاہئیں۔

(باقی ان شاء اللہ آئندہ)

(قسط دوم ۔آخر)

(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل لندن)

(لقمان احمد کشور۔ انچارج شعبہ وقف نو مرکزیہ، لندن)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 27 جولائی 2020ء

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 28 جولائی 2020ء