• 12 اگست, 2020

تحریک وقف نو اور خلافت احمدیت کی بابرکت رہنمائی

(قسط دوم ۔آخر)

گزشتہ قسط میں وقف نو کے حوالہ سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی جو ہدایات تحریر کی گئی تھیں انہی کا تسلسل جاری ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امیر صاحب جرمنی کو ہدایت فرمائی کہ شعبہ وقف نو کا کام بھی بہت زیادہ ہے۔ ان کے پروگراموں کا جائزہ لینے کیلئے نگرانی کیلئے کسی اور کو مقرر کردیں ۔ آپ وقف نو کیلئے بے شک اسسٹنٹ سیکرٹری بنالیں۔

اب وقف نو کا کام مزید بڑھ گیا ہے اور طلباء کی تعلیم میں رہنمائی کا ایک بہت بڑا کام اور ذمہ داری ہے۔ اس لئے ایسا اسسٹنٹ سیکرٹری بنائیں جو یہاں کا پڑھاہوا ہو اور اس کا علم اور معلومات بھی وسیع ہوں اور اسے یہاں کے تعلیمی نظام پر بھی عبور حاصل ہو۔ یہاں کے سکول ، کالج اور یونیورسٹی کے سسٹم اور طریق کار کو جانتا ہو۔

حضور انور نے فرمایا :
جہاں تک کونسلنگ اور واقفین نو کی رہنمائی کا تعلق ہے تو اس کام کیلئے ایک کمیٹی مقرر ہونی چاہیئے جس میں ایسے ممبران شامل ہوں جو کہ ماڈرن سائنس اور دیگر مضامین کا اچھا علم رکھنے والے ہوں۔

حضور انور نے فرمایا :
شعبہ کو ایک شکوہ ہے کہ بعض والدین وقف کرنے کے بعد حوالہ نمبر ملنے کے بعد مقامی جماعت اور مرکزی دونوں سے تقریباً لا تعلق ہوجاتے ہیں یا ویسے رابطہ نہیں رکھتے جیسا کہ رکھنا چاہیئے۔ اور پھر ایک سٹیج پر پہنچ کے جب شعبہ یہ کہتا ہے کہ رابطہ نہیں ہے آٹھ دس سال گزرگئے ہیں ان کو نکال دیا جائے، تو اس وقت پھر شکوے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے حوالہ نمبر ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب رابطہ ختم کرلیا اور وقف نو ہوگیا۔ مسلسل رابطہ دفتر سے اور اپنے نیشنل سیکرٹری شعبہ سے بھی اور مرکز سے بھی قائم رکھنا ضروری ہے۔ پھر واقفین نو اور واقفات نو کا نصاب مقرر رہے جو پہلے تو صرف بنیادی تھا۔ اکیس سال تک کے لڑکوں اور لڑکیوں کا یہ نصاب مقرر ہوچکا ہے۔ اس کو پڑھنا بھی چاہیئے اور اگر امتحان وغیرہ ہوتے ہیں تو اس میں بھرپور شمولیت اختیار کرنی چاہیئے۔

حضورانور نے فرمایا:
پھر اسی طرح ہر ملک میں واقفین نو کیلئے کیریئرگائیڈنس کمیٹی (Career Guidance Committee) بھی ہونی چاہیئے جو جائزہ لیتی رہے اور مختلف فیلڈز میں جانے والوں کی رپورٹ مرکز بھجوائے یا جن کو مختلف فیلڈز میں دلچسپی ہے، ان کے بارہ میں اطلاع ہو، پھر مرکز فیصلہ کرے گا کہ آیا اس کو کس صورت میں اجازت دینی ہے۔ اور پھر یہ بھی جیسا کہ میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ پندرہ سال کی عمر کو پہنچنے والے واقفین نو اپنے تجدید وقف نو کے عہد کو نہ بھولیں، لکھ کر بھجوایا کریں۔ بانڈ (Bond) لکھیں۔ اسی طرح واقفین نو کیلئے ایک رسالہ لڑکوں کیلئے ’’اسماعیل‘‘ اور لڑکیوں کیلئے ’’مریم‘‘ شروع کیا گیا ہے۔ جرمن اور فرنچ میں بھی اس کا ترجمہ ہونا چاہیئے۔ اگر تو ایسے مضامین ہیں جو وہاں کے مقامی واقفین نو واقفات نو لکھیں تو وہ شائع کریں۔ نہیں تو یہاں سے مواد مہیا ہوسکتا ہے اور اس کو یہ اپنی اپنی زبان میں شائع کرلیا کریں۔ اردو کے ساتھ مقامی زبان بھی ہو۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
جیسا کہ میں نے کہا کہ سیکرٹریان وقف نو کو بھی فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ اور اگر یہ فعال ہوں گے تو پھر متعلقہ جماعتوں کے اپنے واقفین نو بچوں سے معلومات لے کر مرکز کو مطلع بھی کریں گے اور پھر مرکز یہ بتائے گا کہ کیا کام کرنا ہے ، کیا نہیں کرنا۔ یا کیا آگے پڑھنا ہے یا پڑھائی مکمل کرنے کے بعد مرکز میں اپنی خدمات پیش کرنی ہیں۔ خود ہی فیصلہ کرنا واقف نو کا کام نہیں ہے۔ نہ ان کے والدین کا۔ اگر خود فیصلہ کرنا ہے تو پھر بھی بتادیں کہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے اور اب میں وقف نو میں رہنا نہیں چاہتا تا کہ اس کو وقف نو کی فہرست سے خارج کردیا جائے۔ گو کہ اب تک یہی ہدایت ہے کہ پندرہ سال کے بعد جب اپنا وقف کا فارم فل (Fill) کردیا تو پھر واپسی کا کوئی رستہ نہیں ہے۔ لیکن اب میں یہ راستہ بھی کھول دیتا ہوں۔ تعلیم مکمل کرکے دوبارہ لکھیں۔ اور یہ لکھوانا بھی سیکرٹریان وقف نو کا کام ہے اور اس کی مرکز میں باقاعدہ اطلاع ہونی چاہیئے کہ ہم نے یہ تعلیم مکمل کرلی ہے اور ا ب ہم اپنا وقف جاری رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں رکھنا چاہتے۔

نیز حضور انور نے فرمایا ہے :
اسی طرح یہ تو میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ یونیورسٹیوں میں پڑھنا چاہیں تو بتادیں اور پہلے اجازت لے لیں۔ اور جو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرچکے ہوں اور اپنا وقف میں رہنا بھی کنفرم کیا ہوا ہو تو ان کیلئے بھی لازمی ہے کہ وقتاً فوقتاً جماعت سے رابطہ رکھیں کہ اب ہم کام کررہے ہیں۔ کام کرنے کا عرصہ اتنا ہوگیا ہے۔ فی الحال اکثریت کو اجازت دی جاتی ہے کہ اپنے کام جاری رکھیں۔ جب جماعت کو ضرورت ہوگی بلالے گی۔ لیکن ان کا کام یہ ہے یہ ہر سال اس کی اطلاع دیتے رہیں۔ اسی طرح جو دوسرے پیشے کے لوگ جو اعلیٰ تعلیم تو حاصل نہیں کرسکے لیکن دوسرے پیشوں میں مختلف قسم کے skills ہیں، professions ہیں، ان میں پہلے چلے گئے ہیں تو ان کو بھی اپنی ٹریننگ یا ڈیپلومہ وغیرہ مکمل کرنے کے بعد اطلاع کرنی چاہیئے۔

۲۰۰۵ء میں سویڈن میں واقفین نو بچوں سے کلاس کے دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کلاس کے بچوں سے بھی دریافت فرمایا کہ کس کس کو اردو پڑھنی آتی ہے۔ حضور انور نے فرمایا جس طرح اس بچے نے اردو زبان سیکھی ہے تو باقی بچے بھی اسی طرح سیکھ سکتے ہیں۔
حضور انور نے بچوں سے فرمایا کہ آپ سب اردو زبان سیکھیں۔ آپ نے کل کو بڑے ہونا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اردو کتب پڑھنی ہیں، پھر ان کتب کے تراجم کرنے ہیں۔ اس لئے آپ کو اردو آنا ضروری ہے۔ ضروری نہیں کہ سب ڈاکٹر ہی بنیں۔

اسی طرح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بچوں سے دریافت فرمایا کہ آپ نے بڑے ہوکر کیا بننا ہے؟ فرمایا کتنے ہیں جنہوں نے مبلغ بننا ہے، کتنے ہیں جنہو ں نےکمپیوٹر سائنس میں جانا ہے؟

حضور انور نے فرمایا آپ میں سے ہر ایک کو دین کا علم ہونا ضروری ہے۔

٭ دنیاداری میں پڑنے والوں سے متعلق ایک اہم ہدایت دیتے ہوئے حضور انور نے فرمایا:
ان بچوں سے جو پندرہ سال کی عمر تک پہنچ چکے ہیں مسلسل رابطہ رکھیں اور ان کو بتائیں کہ وہ پروفیشن لیں جو جماعت کیلئے مفید ہے۔ بعض بچوں نے ملاقاتوں کے دوران کہا کہ میں بزنس مین بنوں گا کیونکہ باپ بزنس مین ہے۔

حضور انور نے فرمایا جنہوں نے اپنی زندگی وقف کی ہے ان کو تو مال کے بارہ میں نہیں سوچنا چاہیئے۔

٭ واقفین نو کا مختلف شعبوں میںتقرر کے حوالہ سے حضور انور نے فرمایا:
آئندہ ملکوں میں جہاں واقفین نو موجود ہیں وہاں کارکن مقرر کرنے کا سوال ہو اور قابل واقفین نو اور واقفات نو موجود ہوں اور مطلوبہ معیار پر پورا اترتے ہوں تو ان کو کارکن رکھنے کے لحاظ سے ترجیح دی جائے۔ مثلاً استاد، ڈاکٹر اور دیگر مختلف آسامیاں۔

٭ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بنام مکرم وکیل اعلیٰ صاحب مکتوب گرامی 22ستمبر 2007ء میں ہدایت فرمائی تھی:
وقف نو کا سیکرٹری اپنی طرف سے کسی لجنہ کو اپنی ٹیم میں شامل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے واقفات نو کے جو پروگرام کروانے ہوں وہ صدر لجنہ کو دے دیا کریں۔ جو اپنی لجنہ کے ذریعہ اس پروگرام پر عمل کرواکر اپنی رپورٹ انہیں دے دیاکریں۔ اس میں نصاب کا پڑھانا ، کلاسیں اور اگر ضرورت ہو تو علیحدہ اجتماع شامل ہے۔ لجنہ میں ایک معاون صدر میں نے اس کام کیلئے مقرر کی ہوئی ہے۔ جہاں نہیں وہاں صدر لجنہ مقرر کرلیں اور مجھ سے منظوری لے لیں۔

(یہاں یہ بات بھی ذکر کردی جائے کہ اب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی منظوری سے بعض ممالک جہاں واقفین نو کی تعداد زیادہ ہے ، مجلس خدام الاحمدیہ کی نیشنل عاملہ میں بھی ایک معاون صدر برائے وقف نو مقرر ہوتا ہے۔)

٭ نائب امیر جماعت جرمنی برائے شعبہ وقف نو نے واقفین نو بچوں کے حوالہ سے دو امور میں رہنمائی کے لئے حضور انور کی خدمت میں تحریر کیا تھا کہ

۱۔بعض بچے جنہوں نے وقف کنفرم کردیا ہوا ہے۔ اگر کسی وجہ سے وہ اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرپاتے اورکوئی دوسری پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یا تعلیمی سلسلہ منقطع کرچکے ہیں اور اگر ملازمت کرنا چاہتے ہیں تو کیا ملازمت شروع کرنے سے پہلے انہیں حضرت خلیفۃ المسیح سے اجازت حاصل کرنی ہوگی؟

۲۔ جن بچوں نے وقف کنفرم کردیا ہوا ہے۔ اور وہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہوں تو کیا ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ جس فیلڈ میں آگے پڑھنا چاہتے ہیں۔اس فیلڈ کی منظوری حضرت خلیفۃ المسیح یا وکالت وقف نو سے حاصل کریں۔ مثلاً فوج کی نوکری ، بنک کی نوکری، پوسٹ کی نوکری یا عام مارکیٹوں میں سیلز مین شب وغیرہ کی فیلڈ وغیرہ ۔

حضور انور نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا : دونوں صورتوں میں ضروری ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
پس وقف نو کے کام زائد ہیں جو انہوں نے کرنے ہوتے ہیں۔ اس پہلو سے ان کے پروگرام ذیلی تنظیموں سے الگ بھی ہوں گے اور ذیلی تنظیموں کے ساتھ بھی۔ ذیلی تنظیمیں سب کیلئے عام ہیں مگر وقف نو کی سکیم صرف ان ہی کیلئے ہے جو باقاعدہ اس میں شامل ہیں۔ اگر کسی پروگرام میں دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو وقف نو والے اپنا پروگرام بدلیں اور بچے ذیلی تنظیم کے پروگرام میں شامل ہوں۔ جہاں تک نصاب کا تعلق ہے ۔ وقف نو کے بچے ذیلی تنطیموں کے نصاب کا امتحان بھی دیں ان کے اجلاسوں میں بھی شامل ہوں۔

پندرہ سال کی عمر سے زائد وقف نو بچوں اور بچیوں کے اکٹھے پروگرام بنانے کی بالکل اجازت نہیں اور نہ ہی ایسے اکٹھے پروگرام بنانے مناسب ہیں۔

٭ نیشنل مجلس عاملہ جماعت احمدیہ آسٹریلیا کے ساتھ میٹنگ منعقدہ ۱۸؍اپریل ۲۰۰۶ء میں سیکرٹری صاحب واقف نو سے حضور انور نے دریافت فرمایا:
کیا آپ نے 15 سال کی عمر کو پہنچنے والے بچوں کا جائزہ لے لیا ہے۔ اس پر سیکرٹری صاحب وقف نو نے بتایا کہ سوائے ایک کے باقی سب تیار ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا جو تیار نہیں اس پر زور نہیں دینا۔ والدین کو بھی سمجھادیں کہ اس پر زور نہیں دینا۔

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے دورہ کینیڈا 2005ء کے دوران سیکرٹری صاحب وقف نو کو ہدایت فرمائی:
اردو زبان سکھانے کیلئے کلاسز ہونی چاہیئں۔ باقاعدہ اردو زبان سکھانے کیلئے کلاسز لگائیں۔ ان سب کو اردو زبان سیکھنی چاہیئے۔ تا کہ حضور اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھ سکیں۔ ارد و سے دوسری زبانوں میں ترجمہ کرسکیں۔ اس کی ہمیں ضرورت ہے۔

حضو رانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۰ ستمبر ۲۰۰۶ء کو مکرم وکیل اعلیٰ صاحب تحریک جدید ربوہ کو ہدایت فرمائی ہے :
یورپ کے ممالک اور امریکہ کینیڈا سے ایسے واقفین نو بچوں کا انتخاب کیا جائے جو ٹیچنگ کا بھی رحجان رکھتے ہوں اور ترجمانی سے بھی ان کو تعلق ہواور زبان سیکھنے کی صلاحیت ہو ۔ ان کو عربی زبان کا ٹیچنگ کورس بھی کروایا جاسکتا ہے۔ اور ترجمہ کرنے کے ماہرین بھی تیار کئے جاسکتے ہیں۔ یہ مصر جاکر پڑھ سکتے ہیں۔ مصر کی زبان اچھی ہے۔ سیریا بھی جاسکتے ہیں۔ وہاں جائیں اور تعلیم حاصل کریں۔ گریجویشن کریں اور اعلیٰ معیار کی زبان سیکھیں۔ اسی طرح ان یورپین ممالک سے انگریزی ، فرنچ جرمن اور سپینش زبان سکھانے کیلئے واقفین نو تیار کئے جائیں۔ ان زبانوں میں ٹیچنگ کیلئے بھی ہوں اور علیحدہ ترجمانی کیلئے بھی ہوں۔

حضورانور نے فرمایا:
لڑکیاں جو واقفاتِ نو ہیں، جو پاکستانی اوریجن (origin) کی ہیں، پاکستان سے آئی ہوئی ہیں ، جن کو اردو بولنی آتی ہے، وہ اردو پڑھنی بھی سیکھیں۔ اور جو یہاں باہر کے ملکوں میں رہ رہی ہیں وہ مقامی زبان بھی سیکھیں۔ جہاں انگلش ہے، جرمن ہے یا ایسے علاقوں میں ہیں جہاں انگلش سرکاری زبان ہے اور مقامی لوکل زبانیں اور ہیں وہ بھی سیکھیں، عربی سیکھیں، پھر اپنے آپ کو تراجم کیلئے پیش کریں۔ میں نے دیکھاہے عورتوں میں لڑکیوں میں زبانوں کا ملکہ زیادہ ہوتاہے۔ اس لئے وہ اپنے آپ کو پیش کرسکتی ہیں ۔ پھر ڈاکٹر ہیں، ٹیچر ہیں ، یہ بھی لڑکیاں اپنے آپ کو ٹیچر اور ڈاکٹر بن کے بھی پیش کرسکتی ہیں، اسی طرح لڑکے بھی۔ تو اس طرف بھی توجہ ہونی چاہئے اور شعبہ کو ہر مرحلہ پر پتہ ہونا چاہئے۔ مقامی جماعتی نظام کو لڑکوں اور لڑکیوں کی رہنمائی اور تربیت کیلئے سال میں کم از کم دو مرتبہ اُن کے فورم منعقد کرنے چاہئیں جس میں کام اور تعلیم کی رہنمائی ہو۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
واقفینِ نو کے مطالعہ میں روزانہ کوئی نہ کوئی دینی کتاب ہونی چاہئے۔ چاہے ایک دو صفحے پڑھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب، جیساکہ میں نے کہا، اگر وہ پڑھیں تو سب سے زیادہ بہتر ہے۔ پھر اسی طرح خطبات ہیں سو فیصد واقفینِ نو اور واقفاتِ نو کویہ خطبات سننے چاہئیں۔ کوشش کریں۔ یہاں یوکے میں ایک دن میں نے کلاس میں جائزہ لیاتھا تو میرا خیال ہے دس فیصد تھے جو باقاعدہ سنتے تھے۔ اس کی طرف شعبہ کو بھی اور والدین کو بھی اور خود واقفینِ نو کو بھی توجہ دینی چاہئے۔ انتظامیہ کو بھی چاہئے کہ وہ واقفینِ نو کے جو پروگرام بناتے ہیں، وہ inter-active پروگرام ہونے چاہئیں جس سے زیادہ توجہ پیداہوتی ہے۔

حضورانور نے فرمایا:
پس اردو زبان سیکھے بغیر بھی صحیح طرح زبانوں میں مہارت حاصل نہیں ہوسکتی۔ ایک وقت تھا کہ جماعت میں ترجمے کیلئے بہت دقت تھی، دقت تو اب بھی ہے لیکن یہ دقت اب کچھ حد تک مختلف ممالک کے جامعات کے جو لڑکے ہیں اُن سے کم ہورہی ہے یا اس طرف توجہ پیداہورہی ہے۔ جامعہ احمدیہ کے مقالوں میں اردو سے ترجمے بھی کروائے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب، حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی بعض کتب کے ترجمے کئے ہیں اور جو بھی طلباء کے سپروائزر تھے اُن کے مطابق اچھے ہوئے ہیں۔ لیکن بہر حال اگر معیار بہت اعلیٰ نہیں بھی تو مزید پالش کیاجاسکتاہے۔ بہرحال ایک کوشش شروع ہوچکی ہے۔ لیکن یہ تو چند ایک طلباء ہیں جن کو دو چار کتابیں دے دی جاتی ہیں، ہمیں زیادہ سے زیادہ زبانوں کے ماہرین چاہئیں۔ اس طرف واقفینِ نو کو بہت توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر جامعہ کے طلباء کے علاوہ کوئی کسی زبان میں مہارت حاصل کرتاہے تو اُسے جیساکہ میں نے کہا عربی اور اُردو سیکھنے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔ اس کے بغیر وہ مقصد پورا نہیں ہوسکتاجس کیلئے زبان کی طرف توجہ ہے۔

ایک تازہ ارشاد جو واقفین نو کو ان کے حقیقی مقصد کی طرف توجہ دلانے کے لئے ارشاد فرمایا تحریر کرکے مضمون کو ختم کرتے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
ایسے واقفین نو جو چاہے پڑھائی کررہے ہیں یا اجازت سے ذاتی کاروبار یا ملازمت کر رہے ہیں اور رضاکارانہ طور پر بھی کوئی جماعتی خدمت نہیں کر رہے تو ایسے واقفین نو کی وقف نو سے فراغت کر دی جائے گی۔اگر وہ جماعت کے کام نہیں آرہے تو وقف نو میں بھی ان کی کوئی ضرورت نہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی توقعات کے عین مطابق سلسلہ کے بہترین خدام میں شامل ہونے کی بھر پور توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل لندن)

(قسط اوّل)

(لقمان احمد کشور۔ انچارج شعبہ وقف نو مرکزیہ، لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 29 جولائی 2020ء