• 5 جون, 2020

جماعت احمدیہ برکینا فاسو کی مساعی انسداد کرونا وائرس

آجکل جب دنیا کرونا وائرس یا COVID-19 سے متاثر ہے اور اس کا کوئی مستقل علاج ڈھونڈنے کی سر توڑ کوششیں ہو رہی ہیں تو جہاں مریضوں کی جان بچانے کے لیے خون کی اشد ضروت پڑ رہی ہے وہاں اس وائرس کا ایک علاج یہ بھی آزمایا جا رہا ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ صحت یاب ہونے والے لوگوں کے خون سے صحت مند مادے(Antibodies) لے کر دوسرے متاثرہ مریض کو لگائے جاتے ہیں جس سے اس مریض کا دفاعی نظام بھی متحرک ہو کر اس کے جسم سے بیماری کو نکال باہر کرتا ہے اور یوں مریض صحت یاب ہو جاتاہے میڈیکل سائنس کی اس اصطلاح کو PASSIVE IMMUNITY کہتے ہیں ۔بہرحال جو بھی طریقہ علاج ہو اس میں خون کا استعمال ہو رہا ہے اور اسی لیے آجکل کی صورتحال میں عطیہ خون خدمت اور عبادت کے ساتھ علاج بھی بن گیا ہے ۔

CNTS (centre national de transfusion sanguine)

برکینا فاسو کا قومی ادارہ برائے عطیہ خون ہے جوکہ ان ایام میں ماضی میں خون عطیہ کرنے والوں کو خصوصاً اور نئے لوگوں کو بھی موبائل فون پریہ پیغام بھیج رہا ہے کہ ْکرونا وائرس نے ہمارےپاس موجود خون کے سٹاک کو بہت متاثر کیا ہے ۔ قومی ادارہ خون کی شاخوں میں سے کسی ایک میں جا کر محفوظ طریق پر عطیہ خون دینے کی کاوش جاری رکھیں آپ کا شکریہ۔

اس کرونا وائرس یا COVID-19 کی وبائی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اور اس کے انسداد اور تدارک کے لیے جماعت احمدیہ برکینا فاسو بھی حتی الوسع کوششیں کر رہی ہے حکومتی سطح پر بھی اور جماعتی سطح پربھی مختلف آگاہی مہم چلانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور بنیادی ضروری احتیاطی سامان مثلاً فیس ماسک اور ہینڈ سینیٹائزرز کی دستیابی کو ممکن بنا کر اس کی مفت تقسیم کر رہی ہےاس موقع کو بھی غنیمت جانتے ہوئے الحمدللہ ایک مرتبہ پھر جماعت احمدیہ برکینا فاسو خدمت خلق کے میدان میں اتری اور 20۔اپریل 2020ء کو خدام الاحمدیہ کے زیراننظام سنٹرل احمدیہ مشن سومگاندے میں واقع مسرور سپورٹس کمپلکس میں میڈیکل ٹیم کو بلا کرریجنل خدام الاحمدیہ آواگا ڈوگو جو کہ سب سے زیادہ متاثرہ ریجن ہے کے خدام سے عطیہ خون حاصل کیا گیا اس طرح اس ایک ریجن سے 77یونٹ خون لے کر برکینا فاسو کے قومی ادارہ برائے عطیہ خون کو دیے گئے اس عطیہ خون میں شامل خدام کو دیکھا دیکھی چند ایک انصار نے بھی خون کو عطیہ پیش کیا ۔

یہ بھی جماعت احمدیہ برکینا فاسو کے ساتھ برکینا فاسو کے قومی ادارہ برائے عطیہ خون کی قابل ستائش دوستی کی مثال ہے کہ جب بھی ان کو بلایا جائے وہ فوراً ساز و سامان لے کر حاضر ہو جاتے ہیں اور اس دوستی کا سبب ماضی میں خدام الاحمدیہ کہ سالانہ اجتماع 2017-18ء کےموقع پر ایک ہی دن میں 500 یونٹ خون کا عطیہ دینااور امسال کے اجتماع میں بھی 350 سے زائد یونٹ خون کو عطیہ فراہم کرناہے ۔
اللہ کرے کہ یہ حقیر سی قربانی خداکے ہاں قبولیت کا شرف پائے اور اس مرض سے تمام دنیا کی جلد از جلد جان چھوٹ جائے اور لوگوں کو صحت و تندرسی میسر آئے آمین ۔

(محمد اظہار احمد راجہ۔برکینافاسو)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ 29 ۔اپریل2020ء