• 3 جولائی, 2020

انقطاع الیٰ اللہ

سر پر کھڑی ہے موت ذرا ہوشیار ہو
ایسا نہ ہو کہ توبہ سے پہلے شکار ہو
زندہ خدا سے دل کو لگا اے عزیزِ من
کیا اُس سے فائدہ جو فنا کا شکار ہو
کیوں ہو رہا ہے عشقِ بتاں میں خراب تُو
تجھ کو تو چاہیئے کہ خدا پر نثار ہو
یادِ خدا میں تجھ کو ملے لذت وسرور
بس تیری زندگی کا اِسی پر مدار ہو
تجھ کو اسی کا شوق ہو ہر وقت ہر گھڑی
ہردم اسی کے عشق کا سر میں خمار ہو
خالی ہو دل ہوائے متاعِ جہان سے
تجھ کو بس اک آرزوئے وصلِ یار ہو
یادِحبیبؐ سے نہ ہو غافل کبھی بھی تُو
اس بات سے کوئی ترا مانع ہزار ہو
سینہ ترا ہو مدفنِ حرص وہواؤآز
دل تیرا، تیری آرزوؤں کا مزار ہو
جاہ وجلالِ دنیائے فانی پہ لات مار
گر تُو یہ چاہتا ہے کہ تُو باوقار ہو
ہو فکر تجھ کو روزِ جزاکی لگی ہوئی
اس اس کے غم میں آنکھ تیری اشکبار ہو
تسکینِ دل تو چاہتا ہے گر، تو چاہیئے
دل کو ترے کبھی بھی نہ اے جاں قرار ہو
ایسا نہ ہو کہ تجھ کو گرائے یہ منہ کے بل
ہاں ہاں سنبھل کے نفسِ دنی پرسوار ہو
آگاہ تجھ کو تیری بدی پر کرے ضمیر
ناصح ہو دل ترا نہ کہ یہ خاکسار ہو
طالب نگاہِ لطف کا ہوں مدتوں سے میں
مجھ پر بھی اک نظر مرے پروردگار ہو
احمد یہی دعا ہے کہ روزِ جزا نصیب
تجھ کو نبی کریمؐ کا قرب وجوار ہو

(حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ (1910ء) کلام ِبشیرایڈیشن 1963 صفحہ 6۔8)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 28 جون 2020ء

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 29 جون 2020ء