• 20 جولائی, 2024

گولڈکوسٹ [گھانا] کی سب سے پہلی احمدیہ مسجد

دائیں سے بائیں:حضرت مولانا حکیم فضل الرحمنؓ ،سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانیؓ ، حضرت مولانا عبدالرحیم نیرؓ اور دو، نائیجیرین احمدی احباب۔

سابقہ برٹش کالونی گولڈ کوسٹ اور موجودہ گھانا میں احمدیت کا شیوع یکم مارچ 1921ء میں ہوا جب مارچ کے پہلے ہفتہ میں ہی انفرادی بیعتوں کا سلسلہ سالٹ پانڈ،سینٹرل ریجن گھانا میں مغربی افریقہ کے پہلے مبلغ حضرت مولانا عبد الرحیم نیرؓ کے ذریعہ شروع ہوگیا۔ حتی کہ 18 مارچ 1921ء کو چیف مہدی آپا کی بستی ایکمفی ایکرافو Ekumfi Ekrawfo میں ایک بڑے جلسہ جو چیف مہدی آپاہ کے گھر کے سامنے کھلے میدان میں منعقد ہوا تھا، 4000فینٹی قبیلہ کے ایک گروہ جن کےسربراہ، مہدی آپاہ تھے [وصال 19اکتوبر 1925ء] کی سربراہی میں بیعت کرکے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔

1896ء میں فانٹی قوم نے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر ایکرافو میں جو ایک ابتدائی مسجد تعمیر کروائی جو مسجد و مکتب کیلئے استعمال کی جاتی تھی۔اور چند ایک توسیع کے بعد آج سو سال گزرنے کےبعدیہ ایک خوبصورت مسجد کی شکل میں ہے اور جماعت احمدیہ گھانا کی ملکیت ہےجس ذکر دیگر مورخین بھی کرتے ہیں۔چنانچہ مسٹر نوئیل سمتھ (Mr. Noel Smith) جنہوں نے گھانا کے عیسائی سکولوں میں استاد کی حیثیت سے کام کیا ایک کتاب لکھی جس میں لکھتے ہیں:
’’ابوبکر نامی ایک نائیجیرین مبلّغِ اسلام کی تبلیغی مساعی کے ذریعہ فانٹی کے دو میتھوڈسٹ عیسائیوں بنیامین سام اور مہدی اَپّاہ کے مسلمان ہونے کے بعد جماعت احمد یہ نے جو تبلیغی جہاد کی علمبردار ہے وہاں اپنے پاؤں جمانے میں کامیابی حاصل کی۔ سام [بنیامین سام] اور اَپاہ[چیف مہدی آپاہ] نے کیپ کوسٹ سے بارہ میل دور ڈنکُو آردُو پر ایکرافو کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا۔ وہاں سے انہوں نے اسلام کے حق میں اپنی تبلیغی مہم کا آغاز کرنے کے علاوہ ایک سکول بھی کھولا۔ 1920ء میں حکومت نے اس سکول کے لئے ایک تربیت یافتہ استاد (عیسائی پادری)فراہم کیا۔ 1921ء میں فانٹی مسلمانوں نے ایک ہندوستانی احمدی مبلغ کو مدعو کیا کہ وہ سالٹ پانڈ میں تبلیغ و اشاعتِ اسلام کا کام کرے۔ اس احمدی مبلّغ کی مساعی اس قدر بارآور ثابت ہوئیں کہ ان سے متاثر ہو کر چند سال کے اندر اندر قریباً تمام فانٹی مسلمان جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔‘‘

گویا یوں جماعت احمدیہ گولڈکوسٹ کو ایک بنی بنائی مسجد مل گئی جو گھانا میں سلسلہ احمدیہ کی پہلی مسجد کہلائی۔

ایکفی ایکرافو، سینٹرل ریجن گھانا میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد

فانٹی علاقہ میں اشاعت اسلام کے بعض ابتدائی ماخذ کے مطابق ابتدائی مسجد و مدرسہ کا قیا م جولائی 1896ء میں عمل میں آیا۔جس کی تعمیر میں گورنمنٹ گولڈ کوسٹ کا تعاون بھی شامل رہا۔اس مسجد کا ڈئزاین بھی اس نوعیت کا ہے معلوم ہوتا ہے کہ بنیامین سام صاحب مرحوم کی اس کی تعمیر میں دلچسپی رہی کیونکہ قبول اسلام سے قبل وہ ایک میتھوڈسٹ پادری تھے اور1914ء میں اسے مزید وسعت دی گئی۔ پھر 1929ء اور پھر 1942ء اس کی تعمیر نوکی گئی۔اور بالآخر 1952ء میں اس کی موجودہ صورت میں ایک خوبصورت مسجد کی تکمیل ہوگئی۔

Humphrey J. Fisher ہمفری فشر کے مطابق:

It is claimed that the school which was opened in July 1896, was the first Muslim school in the Gold Coast to have received government assistance.

اسی طرح ’’Ahmadiyya Movement in Ghana‘‘ کے مصنف نے ذکر کیا ہے کہ اس ابتدائی مسجد و مکتب کی تعمیر میں جناب مومن سام صاحب (بنیامین سام صاحب) اور چیف مہدی آپا مرحوم ہر دو شخصیات کی ذاتی دلچسپی شامل حال رہی۔

چنانچہ احمدیہ مسجد ایکرافوا بعد میں 1929ء میں اسےبوجہ بوسیدہ ہونے کے باعث گھانا کے دوسرے مبلغ سلسلہ حضرت مولانا حکیم فضل الرحمن صاحبؓ نے نیا سنگ بنیاد رکھ کر اسے تعمیر کروایا۔ تاہم گھانا میں 1929ء میں کئی ایک مقامات پر نئی مساجد تعمیر ہوئیں جن کے افتتاح کی سعادت اس وقت کے مبلغ حضرت مولانا حکیم فضل الرحمن صاحبؓ کو نصیب ہوئی۔ چنانچہ ایکرافو میں اسی مقام پر ایک پختہ اور خوبصورت مسجد کا سنگ بنیاد مورخہ 22؍فروری 1929ء کو حکیم فضل الرحمن صاحبؓ نے رکھا۔ اگرچہ آپ کو گولڈ کوسٹ میں 1929ء تک متعدد مساجد کے افتتاح کرچکے تھے مگر 22 فروری 1929ء کو آپ کو پہلی بار مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس تقریب کے بارہ میں مولانا موصوف نے لکھا:
موضع ایکرافول [ایکرافو] میں مسجد تو مدت سے قائم تھی مگر بوجہ پرانی ہونے کے بوسیدہ ہورہی تھی نیز وسعت طلب تھی لہذا احباب نے اُسے گرا کر نئے سرے سے نئی مسجد بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کا سنگ بنیاد عاجز کے ہاتھوں رکھوایا جو بہت سے غیرمسلموں اور امیر قریہ (بت پرست) کی موجودگی میں رکھا گیا۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔

1952ء: ایکرافو مسجد کی تعمیر نو و افتتاح از حضرت مولانا نذیر احمد مبشرؒ 

چنانچہ پھر 1952ء میں مقامی مخلص احمدیہ جماعت نے پانچ ہزار پونڈ کی لاگت سے ایک پختہ اور شاندار مسجد میں تبدیل کردیا جس کا افتتاح مولانا نذیر احمد صاحب مبشر مبلغ انچارج نے 7 فروری 1952ء کو کیا۔ اس تقریب پر تین ہزار سے زیادہ نفوس جن میں چیفس اور پیراماؤنٹ چیفس بھی شامل تھے موعود تھے۔ صدارت کے فرائض اکمفی ریاست کے پیراماؤنٹ چیف نے ادا کئے۔ اس موقعہ پر احباب جماعت نے ساڑھے چار سو پاؤنڈ کے عطیات پیش کئے۔اس مسجد کی تعمیر پر 5000برطانوی پاؤنڈ قریباً پینتالیس ہزار پاکستانی روپیہ خرچ ہوا۔ اس مبارک تقریب کے موقع پر مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب نے تلاوت کی۔ چونکہ اس افتتاحی تقریب پر بکثرت عیسائی و غیراز جماعت بھی موجود تھے اس لئے مولانا نذیر احمد صاحب مبشر نے ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ مساجد کی اہمیت، صداقت رسول کریم ﷺ اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوعات پر تقریر کی اور لمبی دعا سے اس مسجد کا افتتاح کیا۔

ایکرافو میں خلفائے احمدیت کے دورہ جات

اس مسجد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جماعت احمدیہ کے تین خلفاء اس میں تشریف آوری فرما چکے ہیں۔ چنانچہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ اگست 1980ء میں گھانا کے دورے پر تشریف لائے تو جب Accra اکرا کیلئے واپس روانہ ہوئے تورستے میں حضورؒ نے ایسارچر Essarkyir نامی قصبہ کے باہر ٹی آئی احمدیہ سکینڈری سکول (جس کے اس وقت ہیڈماسٹر صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ تھے) کی نو تعمیر شدہ عمارت پر یادگاری تختی کی نقاب کشائی فرمائی اور دُعا کرائی۔اس کے بعد حضور چند میل کے فاصلہ پر ایکرافو EKRAWFO نامی قصبہ میں تشریف لے گئے۔ یہاں جماعت نے ایک بہت عالیشان مسجد تعمیر کی ہے۔ حضور نے مسجد سے کچھ فاصلہ پر قبرستان تشریف لے جاکر حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب نیّر کے ذریعہ قُبول حق کی سعادت حاصل کرنے والے سب سے قدیمی غانین احمدی محترم جناب الحاج مہدی آپا کی قبر پر دعا کی جو ایکرافو میں 1921ء میں جماعت میں شامل ہوئے تھے۔

اسی طرح فروری 1988ء کے دورۂ گھانا کے دوران جب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ایکرافو بستی اور ایکرافو مسجد ایکرافو اور دیگر مقامات کا دورہ فرمایا تو حضورؒ ایکرافو میں قائم احمدیہ قبرستان میں بھی تشریف لے گئے جہاں چیف مہدی آپا مرحوم و دیگر ابتدائی مرحومین احمدیوں کی قبروں دعائے مغفرت کی۔

پھر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے جب مارچ 2004ء میں گھانا کا اینس سال بعد پہلا دورہ فرمایا تو دورانِ دورہ 14مارچ کوجامعۃ المبشرین گھانا، چیف مہدی مرحوم کی بستی ایکرافو، مسجداحمدیہ اور احمدیہ قبرستان وغیرہ مقامات کا دورہ فرمایا اور چیف مہدی آپا مرحوم کی قبر پر دعا بھی کی۔

پھر چار سال بعد اپریل 2008ء کے گھانا کے دوسرے دورہ کے دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 21؍اپریل 2008ء کو دوبارہ ایکرافو تشریف لے گئے ایکرافو مسجد دیکھنے کے علاوہ چیف مہدی آپا مرحوم اور دیگر گھانین احمدی مرحومین کی قبروں پر جا کر دعا کی۔

25 اکتوبر 2018ء کو، اطفال الاحمدیہ یوکے سے آئے ہوئے ایک وفد نے ایکرافو مسجد کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چیف مہدی آپاہ کے نواسے احمد آفل سے ملاقات کی جن کی عمر اس وقت 80 سال سے زائدہے۔اطفال کے وفد کو انہوں نے اس علاقہ اور پہلے مبلغ حضرت مولانا عبدالرحیم نیئر صاحب کی مختصر تاریخ بتائی جنہیں سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے وہاں بھیجا تھا۔ اس وفد نے Ekrawfo قبرستان، اور دیگر مقامات کا بھی دورہ کیا۔

ایکرافو مسجد میں خدام و اطفال

ابتداء سے لیکر اب تک اس تاریخی مسجد کی دنیا کے کئی ممالک کےسینکڑوں لوگ زیارت کر چکے ہیں۔ اپریل 2018ء اور پھر اگست 2021ء کو اس خاکسار راقم الحروف کو بھی ایکرافو اور اس کی تاریخی مسجد و دیگرمقامات کی زیارت کی سعادت حاصل ہوئی۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔

(احمد طاہر مرزا گھانا)

پچھلا پڑھیں

انڈونیشیا کی مسجد محمود سانڈینگ

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی