• 15 جنوری, 2021

ماں باپ کے حقوق

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
اب ماں باپ کے حقوق اور ان سے سلوک کے بارہ میں چند روایات پیش کرتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا کہ: اے اللہ کے رسولؐ! مَیں نے اپنی ماں کو یمن سے اپنی پیٹھ کر اٹھا کرحج کرایاہے، اسے اپنی پیٹھ پر لئے ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، اسے لئے ہوئے عرفات گیا، پھر اسی حالت میں اسے لئے ہوئے مزدلفہ آیا اور منیٰ میں کنکریاں ماریں۔ و ہ نہایت بوڑھی ہے ذرابھی حرکت نہیں کر سکتی۔ مَیں نے یہ سارے کام اُسے اپنی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے سرانجام دئے ہیں تو کیا مَیں نے اس کاحق ادا کر دیا ہے؟۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، اس کا حق ادا نہیں ہوا‘‘۔ اس آدمی نے پوچھا: ’’کیوں‘‘۔ آ پؐ نے فرمایا: ’’اس لئے کہ اس نے تمہارے بچپن میں تمہارے لئے ساری مصیبتیں اس تمنا کے ساتھ جھیلی ہیں کہ تم زندہ رہو مگر تم نے جو کچھ اس کے ساتھ کیا وہ اس حال میں کیا کہ تم اس کے مرنے کی تمنا رکھتے ہو۔ تمہیں پتہ ہے کہ وہ چند دن کی مہمان ہے۔

(الوعی، العدد ۵۸، السنۃ الخامسۃ)

اب عام آدمی خیال کرتاہے کہ اتنی تکلیف اٹھا کر مَیں نے جو سب کچھ کیا تو مَیں نے بہت بڑی قربانی کی ہے۔ لیکن آپؐ فرماتے ہیں کہ نہیں۔ حق تو یہ ہے کہ حق اد انہ ہوا۔

پھر ایک روایت میں آتاہے کہ ہمیں ہشام بن عُروہ نے بتایا کہ مجھے میرے والد نے بتایا کہ مجھے اسماء بنت ابی بکرؓ نے بتایا میری والدہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں میرے پاس صلہ رحمی کا تقاضا کرتے ہوئے آئی تو میں نے نبیﷺ سے اس کے بارہ میں دریافت کیا کہ کیا میں اپنی مشرک والدہ سے صلہ رحمی کروں ؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا ’’ہاں‘‘۔

(بخاری۔ کتاب الھبۃ۔ باب الھدیۃ المشرکین)

تو جہاں تک انسانیت کا سوال ہے، صرف والدہ کا سوال نہیں، اس کے ساتھ تو صلہ رحمی کا سلوک کرنا ہی ہے، حسن سلوک کرناہی ہے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ اگر انسانیت کا سوال آئے، کسی سے صلہ رحمی کا سوال آئے یا مدد کا سوال آئے تواپنے دوسرے عزیزوں رشتہ داروں سے بھی بلکہ غیروں سے بھی حسن سلوک کا حکم ہے۔

پھرایک روایت ہے حضرت اَبُو اُسَید اَلسَّاعِدِیؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یا رسول اللہ ! والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے لئے کر سکوں ؟ آپؐ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں۔ تم ان کے لئے دعائیں کرو۔ ان کے لئے بخشش طلب کرو، انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو۔ ان کے عزیز و اقارب سے اسی طرح صلہ رحمی اور حسن سلوک کرو جس طرح وہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ اور ان کے دوستوں کے ساتھ عزت و اکرام کے ساتھ پیش آؤ۔

(ابو داؤد۔ کتاب الادب۔ باب فی بر الوالدین

تو یہ ہے ماں باپ سے حسن سلوک کہ زندگی میں تو جو کرناہے وہ توکرناہی ہے، مرنے کے بعد بھی ان کے لئے دعائیں کرو، ان کے لئے مغفرت طلب کرو اور اس کے علاوہ ان کے وعدوں کو بھی پوراکرو، ان کے قرضوں کو بھی اتارو۔ بعض دفعہ بعض موصی وفات پاجاتے ہیں۔ وہ تو بے چارے فوت ہوگئے انہوں نے اپنی جائیداد کا ۱۰/۱ حصہ وصیت کی ہوتی ہے لیکن سالہا سال تک ان کے بچے، ان کے لواحقین ان کاحصہ وصیت ادا نہیں کرتے بلکہ بعض دفعہ انکار ہی کر دیتے ہیں، ہمیں اس کی توفیق نہیں۔ گویا ماں باپ کے وعدوں کا پاس نہیں کر رہے، ان کی کی ہوئی وصیت کا کوئی احترام نہیں کر رہے۔ والدین سے ملی ہوئی جائیدادوں سے فائدہ تو اٹھا رہے ہیں لیکن ان کے جووعدے ان ہی کی جائیدادوں سے ادا ہونے والے ہیں وہ ادا کرنے کی طرف توجہ کوئی نہیں۔ جبکہ اس جائیداد کا جو دسواں حصہ ہے وہ تو بچوں کا ہے ہی نہیں۔ وہ تواس کی پہلے ہی وصیت کرچکے ہیں۔ تو وہ جو ان کی اپنی چیز نہیں ہے وہ بھی نہیں دے رہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بچوں کو عقل اور سمجھ دے کہ وہ اپنے والدین کے وعدوں کو پورا کرنے والے بنیں۔ یہاں تو یہ حکم ہے کہ صر ف ان کے وعدو ں کو ہی پورا نہیں کرنا بلکہ ان کے دوستوں کا بھی احترام کرناہے، ان کوبھی عزت دینی ہے اور ان کے ساتھ جو سلوک والدین کا تھا اس سلوک کو جاری رکھناہے۔

پھرایک روایت ہے آنحضرتﷺ کی رضاعی والدہ حلیمہ مکہ آئیں اور حضور سے مل کر قحط اور مویشیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا۔ حضورﷺ نے حضرت خدیجہ سے مشورہ کیا اور رضاعی ماں کو چالیس بکریاں اور ایک اونٹ مال سے لدا ہوا دیا۔

(طبقات ابن سعد جلد اول صفحہ ۱۱۳ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۰)

اب خدمت صرف حقیقی والدین کی نہیں ہے بلکہ ہمارے آقا حضرت محمدﷺ کا اسؤہ حسنہ تو یہ ہے کہ اپنی رضاعی والدہ کی بھی ضرورت کے وقت زیادہ سے زیادہ خدمت کرنی ہے۔ اور اس کوشش میں لگے رہناہے کہ کسی طرح مَیں حق اداکروں۔ اور یہاں اس روایت میں ہے کہ مال چونکہ حضرت خدیجہ کا تھا، وہ بڑی امیر عورت تھیں اور گو کہ آپ نے اپنا تمام مال آنحضرتﷺ کے سپرد کر دیا تھا، آپ کے تصرف میں دے دیا تھا، آپ کو اجازت تھی کہ جس طرح چاہیں خرچ کریں لیکن پھربھی حضرت خدیجہ سے مشورہ کیااور ہمیں ایک اور سبق بھی دے دیا۔ بعض لوگ اپنی بیویوں کا مال ویسے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے تصرف میں نہیں بھی ہوتا ان کے لئے بھی سبق ہے۔

(خطبہ جمعہ 16؍ جنوری 2004ء)

پچھلا پڑھیں

والدہ کاحق

اگلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 27؍ نومبر 2020ء