• 15 جنوری, 2021

ہر ملک کا نیا شامل ہونے والا احمدی، مومنین کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد …

ہر ملک کا نیا شامل ہونے والا احمدی، مومنین کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد نیک اعمال بجا لانے اور اطاعت میں بڑھنے والا ہے اور مالی قربانیوں کی روح کی طرف توجہ دینے والا بننے کی کوشش کر رہا ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پس یہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ مال بڑھاتا ہے قرآن کریم میں بھی ہے اور حدیث سے بھی واضح ہوا۔ لیکن اس شرط کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا جسے اللہ قبول فرماتا ہے پاک کمائی میں سے ہو جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔ ایسی کمائی نہ ہو جو دھوکے سے کمائی گئی ہو، جو غریبوں کو لوٹ کر کمائی گئی ہو۔ اللہ تعالیٰ اُس مال کو اپنی راہ میں خرچ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جو پاک ذریعہ سے کمایا گیا ہو اور پاک دل کے ساتھ پاک کرنے کے لئے پیش کیا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے، اس کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ تو ہمارے دلوں اور ہمارے مالوں کو پاک کرنے کے لئے مالی قربانی کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ پس جب تک ہم اپنی پاک کمائیوں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کی رضا چاہتے ہوئے خرچ کرتے چلے جائیں گے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے انتہا اجرپاتے چلے جائیں گے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے، ہمارا ہر عمل ہمیں جماعتی طور پر مضبوط کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ہمارے ذرائع بھی وسیع تر ہوتے چلے جائیں گے اور ہم مومنین کی جماعت بن جائیں گے جو بنیان مرصوص کی طرح ہے، جو سیسہ پلائی ہوئی ہے جس پر کوئی غلبہ نہیں پا سکتا ہے، جس میں کوئی رخنہ نہیں ڈال سکتا۔ ایسے لوگوں کی جماعت ہوتی ہے جو ہمیشہ عزیز خدا کی صفتِ عزیز کے جلوے دیکھنے والے ہوتے ہیں اور یقینا یہ جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنائی ہے مومنین کی وہ جماعت ہے جو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرکے مالی قربانیوں میں بڑھ کر پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نظارے بھی دیکھتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی تائید سے جو تحریک مخالفین کے حملوں کو روکنے اور دنیا میں تبلیغ اسلام کے لئے جاری کی تھی جو یقینااِس حکیم اور عزیز خدا سے تائید یافتہ تھی اور بڑی حکمت سے پُر تھی اور نظر آ رہا تھا کہ اس کی وجہ سے انشاء اللہ تعالیٰ جماعت نے دنیا میں پھیلنا ہے اور غلبہ حاصل کرنا ہے، جس کے تائید یافتہ ہونے کا ثبوت آج کل ہم دیکھتے ہیں تو دنیامیں پھیلے ہوئے جوجماعت کے مشن ہیں، مساجد ہیں اور پھر ہر سال جو سعید روحیں جماعت میں شامل ہوتی ہیں ان کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ احرار جو قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے اٹھے تھے، یہ دعویٰ لے کر کھڑے ہوئے تھے کہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، ان کا توکچھ پتہ نہیں ہے کہ کہاں گئے لیکن جماعت احمدیہ، تحریک جدید کی برکت سے، مالی قربانیوں کی برکت سے، ایک ہونے کی برکت سے، اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کی برکت سے، خلافت کی آواز پر لبیک کہنے کی برکت سے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے مالی قربانیوں کی برکت سے (جیسا کہ مَیں نے کہا) دنیا کے 189ممالک میں پھیل چکی ہے اور ہر ملک کا نیا شامل ہونے والا احمدی، مومنین کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد نیک اعمال بجا لانے اور اطاعت میں بڑھنے والا ہے اور مالی قربانیوں کی روح کی طرف توجہ دینے والا بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ پس یہ ہیں اس حکیم اور عزیز خدا کی قدرت کے نظارے جو جماعت کے حق میں وہ دکھا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں اس گروہ میں شامل رکھے جو اِبْتِغَآئً لِوَجْہِ اللّٰہ کے نمونے دکھانے والے ہوں اور ہم اسلام کے غلبہ کے نظارے دیکھنے والے ہوں۔ اب مَیں تحریک جدید کے دفتر اوّل، دوئم، سوئم، چہارم اور پنجم کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے روایتاً گزشتہ سال میں جماعت نے جو مالی قربانیاں دی ہیں، مختلف پہلوؤں سے جو جائزہ لیا جاتا ہے، اس کا بھی ذکر کر دیتا ہوں۔ تحریک جدید کا سال جیساکہ مَیں نے بتایا 31؍ اکتوبر کو ختم ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جو رپورٹس آئی ہیں۔ (مکمل رپورٹس بعض اوقات وقت پہ نہیں پہنچتیں ) ان کے مطابق جماعت احمدیہ عالمگیر نے مجموعی طور پر تحریک جدید کی مد میں 36لاکھ 12ہزار پاؤنڈ کی ادائیگی کی ہے۔ اس میں پاکستان اور امریکہ کی کرنسیاں بھی گزشتہ سال میں، جیسا کہ ہم جانتے ہیں، مسلسل گرتی رہی ہیں اور جب کرنسی کا موازنہ کیا جاتا ہے، جب پاؤنڈز سے مقابلہ کیا جائے تو گو کہ ان کی قربانیاں بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہیں لیکن وہ اتنی نظر نہیں آ رہی ہوتیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ وصولی گزشتہ سال کی نسبت ایک لاکھ دس ہزار پاؤنڈ زیادہ ہے۔

مجموعی طور پر وصولی کے لحاظ سے بھی نمبروار جماعتوں کا ذکر کر دوں۔ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی پاکستان ہی پہلے نمبر پر ہے۔ اور پاکستان کے حالات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، وہاں اتنی افراتفری اور ڈسٹربنس (Disturbance) ہے کہ کاروباری حضرات کے کاروبار اُس طرح نہیں رہے، بلکہ اکثر جماعتیں تو جب آخری مہینہ رہ جاتا ہے پریشانی کا اظہار ہی کرتی رہی ہیں کہ چندے پورے نہیں ہو رہے۔ پھر اکثریت پاکستان میں غریب لوگوں کی ہے۔ لیکن یہ غریب بھی چندہ دیتے ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے خوف اور غم دور کر دے گا۔ اگر تم میری مرضی کے لئے خرچ کرو گے تو تمہیں بڑھا کر دے گا۔ تو وہ تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ اگلے وقت کی روٹی کس طرح ملے گی اور قربانیاں کرتے ہیں اور کرتے چلے جاتے ہیں۔

… تحریک جدید کا چندہ ادا کرنے والوں کی تعداد میں بھی بعض ملکوں میں بہت اضافہ ہوا ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، جرمنی، برطانیہ، انڈونیشیا، تنزانیہ، بنین اور نائیجیریا شامل ہیں۔ اس سال چندہ دینے والوں کی تعداد میں جواضافہ ہوا ہے وہ گزشتہ سال کی نسبت 16ہزار زائد ہے۔ اتنے لوگ اس میں شامل ہیں اور کل تعداد 4لاکھ 68ہزار ہے۔ گزشتہ سال جو تعداد پیش کی گئی تھی، کچھ حساب ٹھیک نہیں لگایا گیا تھا، کچھ جمع تفریق میں غلطی ہو گئی، اعداد کچھ غلط تھے، کچھ جماعتوں کی رپورٹس صحیح نہیں تھیں، تو ان کا خیال تھا کہ اس دفعہ ٹوٹل تعداد نہ دی جائے بلکہ یہ بتایا جائے کہ اتنا اضافہ ہوا لیکن ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، دنیا کے لئے تو نہ ہم مالی قربانیاں کرتے ہیں اور نہ کر رہے ہیں، نہ یہ دنیا ہمارے پیش نظر ہے۔ ہم جب تک اپنی کمزوریوں کو سامنے نہیں رکھیں گے، ان پر نظر نہیں رکھیں گے ترقی کی رفتار کا بھی پتہ نہیں لگا سکتے۔ تو یہ تو بہرحال حتمی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 16ہزار کی تعداد میں ان ملکوں میں زائد اضافہ ہوا ہے، زائد لوگ شامل ہوئے جو باقاعدہ پلاننگ کرکے اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کو چندوں میں بڑھائیں، مزیدتعداد کو شامل کریں۔ بعض جگہوں کی رپورٹیں گزشتہ سال جب حساب کر رہے تھے ٹھیک نہیں تھیں اس لئے بظاہر لگے گا کہ کم ہیں لیکن مجموعی طور پر اضافہ ہے۔ تو جیسا کہ مَیں نے کہا کہ جب ہم اپنے جائزے لیں گے، جب ہم اپنی کمزوریوں پر بھی نظر رکھیں گے تو تبھی ہمارے کام میں بھی برکت پڑے گی اور کیونکہ نیک نیتی سے اس طرف توجہ ہو گی اس لئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بھی بنیں گے۔ اصل مقصد تو ہمارا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اس لئے کسی بھی قسم کا خوف کرنے کی ضرورت نہیں۔ بندوں سے تو ہم نے اجر نہیں لینا۔ ہمارا اجر تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جس کی خاطر قربانیاں ہو رہی ہیں۔ بہرحال مجموعی طور پر ان ملکوں میں 16 ہزار نئے افراد بھی شامل ہوئے۔

(خطبہ جمعہ 9؍ نومبر 2007ء)

پچھلا پڑھیں

والدہ کاحق

اگلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 27؍ نومبر 2020ء