• 11 اگست, 2020

کورونا وائرس سے پیدا شدہ دنیا کے ہنگامی حالات میں جماعت ہائے احمدیہ عالمگیر کی جانب سے بے لوث خدمتِ خلق کے نظارے

جماعت احمدیہ انڈونیشیا کی خدمت خلق، مجلس انصاراللہ جرمنی کی کار کردگی سیرالیون میں IAAAE کی طرف سے مستحق افراد کو خوراک کی فراہمی

کورونا وائرس سے پیدا شدہ دنیا کے ہنگامی حالات میں جماعت ہائے احمدیہ عالمگیر کی جانب سے بے لوث خدمتِ خلق کے نظارے

جماعت احمدیہ انڈونیشیا کی خدمت خلق

عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اموات کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ عالمی معیشت پر بہت گہرا اثر ہوا ہے۔ نڈونیشیا نے جو آبادی کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک ہے اس وبا کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کئے لیکن پھر بھی سماجی دوری کی پابندیوں کی وجہ سے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص کر طبی میدان میں خون کی قلت محسوس ہو رہی ہے۔ اکثر لوگ جو رضاکارانہ طور پر باقاعدگی سے عطیہ خون میں شامل ہوتے رہے ان میں سے ایک تہائی حصہ بھی بمشکل خون دیتے رہے۔ لہذا خدمت انسانیت کی خاطر جماعت احمدیہ انڈونیشیا نے ہیومینٹی فرسٹ کے تحت انڈونیشیا کے طول وعرض میں فاسٹ سروس برائے عطیہ خون کے پروگرام کا اعلان کیا۔ اور جماعت کے مختلف سینٹرز میں عطیہ خون کے پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔

مغربی جاوا کی لوکل جماعت شہر بوگور نے مورخہ 16؍مئی 2020ء بروز ہفتہ یہ پروگرام بخیر و خوبی منعقد کیا۔ ماہ رمضان میں یہ پروگرا م شام چار بجے سے افطار تک جاری رہا۔ علاوہ ازیں دوسرے مقامات پر بھی یہ عطیہ خون کیمپ منعقد کیے جارہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ قابل ذکر شہر کا ڈی ری ہے جو مشرقی جاوا میں واقع ہے۔ یہاں پر نہ صرف عطیہ خون کا پروگرام کیا گیا بلکہ ضلعی سرکار اور مختلف مذاہب کی تنظیموں کو مدعو کرکے ایک پروگرام منعقد ہوا جس میں اسلام کی خوبصورت تعلیم پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ کس طرح جماعت اس پر عمل کرتے ہوئے خدمت انسانیت کے فریضہ کو احسن طریق پر ادا کر رہی ہے۔

(رپورٹ: فضل عمر فاروق۔ انڈونیشیا)

کورونا وائرس کے دوران مجلس انصاراللہ جرمنی کی کارکردگی

جب سے دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں آئی ہے اس کےاثرات نظامِ زندگی پر بُری طرح اثر انداز ہوئے ہیں۔ ہر ملک کی حکومت نے اپنے شہریوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ترغیب بھی دلائی ہے۔ خصوصاً بوڑھے اور عمر رسیدہ افراد کی مدد کے لیےاپیلیں کی گئی ہیں۔ جماعتِ احمدیہ کو بھی کہ جس کا طرۂ امتیاز ہمیشہ سے انسانیت کی خدمت رہاہے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبات میں حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور معاشرہ میں ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی۔ چنانچہ حضور انور کی زیر ِہدایت نیشنل سطح پر National Ansar help & care committee قائم کردی گئی۔ اسی طرح علاقہ، زون کی سطح پر بھی اسی طرز پر کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یاد رہے کہ مجلس انصاراللہ جرمنی 272 مجالس، 40 زون اور دس علاقائی مجالس پر مشتمل ہے۔ جرمنی میں انصار کی کل تعداد 7068 ہے۔

ان کمیٹیوں کے قیام کا مقصد ضرورت مند انصار کے علاوہ دوسری قومیتوں سے تعلق رکھنے والے بے گھر اور ضرورت مند افراد کو ہنگامی بنیادوں پر مدد فراہم کرنا ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں درج ذیل فوری اقدامات اٹھائے گئے۔

  1. دفتر انصاراللہ میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا قیام۔
  2. مرکزی سطح پر ہاٹ لائن کا قیام۔
  3. علاقائی نائب ناظم صفِ دوم اور ناظم ایثار کے ساتھ ہفتے میں دو بار ویڈیو کانفرنس کی صورت میں رابطہ۔
  4. احمدی ڈاکٹر ز کی تنظیم MAMO کے تعاون سے زون کی سطح پر ٹیلیفون کانفرنس کے ذریعہ انصار کو کو رونا وائرس سے بچاؤ اور حفاظتی تدابیر سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اب تک 1200 سے زائدانصار اس سے استفادہ کر چکے ہیں۔
  5. جن انصار کے پاس کورونا وائرس سے بچاؤ کی ہومیوپیتھک ادویات موجود نہیں ان کو وہ ادویات ان کے گھروں میں پہنچائی جا رہی ہیں۔
  6. اب تک 2131 انصارکی سوداسلف اور ادویات لانے میں مدد کی گئی۔
  7. 60 سال سے زائد عمر کے 1897 انصار کو مجلس کے مرکز کی طرف سے سینی ٹائزر، ماسک، وٹامن سی اور ٹشو پیپر پر مشتمل پیکٹ بطور تحفہ بھجوایا گیا۔
  8. 2936مختلف قومیتوں کے لوگوں کی مختلف طریق پر مدد کی گئی۔
  9. اب تک 560 بے گھر افراد میں فوڈ پیکیٹ تقسیم کیے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ان افراد میں زیادہ تر لوگوں کا تعلق جرمن قومیت سے ہے۔
  10. مجالس کی سطح پر غیراز جماعت افراد میں کافی تعداد میں ماسک تقسیم کیے جا چکے ہیں اور ضرورت مندوں کے لیے خدمتِ خلق کی یہ سروس اب بھی جاری ہے۔
  11. انصار نیوز کے ذریعہ ملکی اخبارات اور جماعتی سطح پر موصول ہونے والی احتیاطی تدابیر سے انصار کو آگاہ کیا جارہا ہے۔
  12. گھروں میں ہلکی پھلکی ورزش کرنے کے طریق اور خوراک کا خیال رکھنے سے متعلق معلوماتی ویڈیوز تیار کرکے انصار کو واٹس ایپ کے ذریعے بھجوائی جا رہی ہیں۔
  13. حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی کتاب ‘ورزش کے زینے’سے کچھ اہم نکات انصار کو بھجوائے جا رہے ہیں۔
  14. مکرم مبارک احمد شاہدصدر مجلس انصاراللہ تمام مجالس کے ساتھ رابطے میں رہ کر کام کی عمومی نگرانی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

(رپورٹ: عرفان احمد خان۔جرمنی)

سیرالیون میں IAAAE کی طرف سے مستحق افراد کو خوراک کی فراہمی

محض اللہ تعالی کے فضل سےجماعت احمدیہ سیرالیون جہاں خدمت دین میں ہمہ تن مصروف ہے وہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق خدمت انسانیت کے لیے بھی کوشاں ہے۔

سیرالیون کے عمومی حالات

کورونا وائرس کی وبا نے جہاں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو بھی بری طرح متأثر کیا ہے وہیں افریقہ کے پسماندہ علاقے، خصوصاً غریب لوگ اس وباسے کئی گنا زیادہ متأثر ہوئے ہیں۔ سیرالیون میں اس وبا سے اب تک 914؍افراد بیمار ہوئے ہیں اور 47 لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے حکومت نے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ رات کے وقت 9بجے سے صبح 6بجے تک ملک بھر میں کرفیو ہوتا ہے۔ بین الاضلاعی سفروں پر پابندی ہے۔ مساجد اور چرچوں میں عبادتوں کی اجازت نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ سیرالیون حکومت کی ہدایات پر عمل پیرا ہے۔

28مئی 2020ءکو جماعت احمدیہ عالمگیر کے آرکیٹیکٹ اور انجینیئرز کی تنظیم IAAAEکی جانب سے مکرم طاہر احمد فرخ ریجنل مبلغ برائے نارتھ ریجن، کی نگرانی میں سیرالیون کے مکینی ریجن کے 8گاؤں میں 130مستحق خاندانوں کو 12,065,000 لیونز(بارہ ملین اور پینسٹھ ہزار لیونز) کی خوراک فراہم کی گئی۔

ان دیہات میں IAAAE کا Gbonkobana میں موجود ماڈل ویلیج بھی شامل ہے۔ اس پروگرام کے تحت جو اشیاء تقسیم کی گئیں ان میں 1,300 کلوگرام چاول، 4بوریاں پیاز، 10بوریاں نمک، فیس ماسکس، ٹماٹر پیسٹ کے 5کارٹن اور دیگر اشیاء شامل تھیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدمت خلق کے اس کام کو لوگوں اور علاقہ کی انتظامیہ کی طرف سے بہت پذیرائی ملی۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کما حقہ انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

(رپورٹ: عبدالہادی قریشی۔سیرالیون)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 14 جون 2020ء

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 15 جون 2020ء