• 25 مئی, 2020

یونیورسٹی آف کیپ کوسٹ میں احمدی طلباء کی چار روزہ تبلیغی سرگرمیاں

AMSAG احمدی مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن گھانا کامخفف ہے۔ خدا کے فضل سے جہاں بھی احمدی مسلم طلباء ہیں وہ اس ایسوی ایشن کا حصہ ہیں۔ یہ ایوسی ایشن تربیتی اور تبلیغی پروگرام بناتی ہے۔

محض اللہ کے فضل و کرم سے یونیورسٹی آف کیپ کوسٹ میں قائم AMSAG برانچ ہرسال چار دن تک تبلیغ کے مختلف کام کر تی ہے، جسے یہاں ’’و یک سیلیبریشن‘‘ کے نام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ اس سال اس نوعیت کا بیسوں پروگرام کیا گیا۔ تعلیمی سال 20۔2019کا بیسواں و یک سیلیبریشن مورخہ 26 فروری بروز بدھ تا 29 فروری 2020ء بروز ہفتہ بڑی کامیابی سے منایا ۔ الحمد للہ

چار دن پر مشتمل اس ویک سلیبریشن کا موضوع THE MESSIAH HAS COME تھا۔ اس پروگرام کا مقصدِ خاص اسلام اور جماعت احمدیہ کی تعلیمات کو یو نیورسٹی آف کیپ کوسٹ کے طلباء اور وہاں کے لوگوں میں پہنچانا تھا۔ اس مقصد کے لئے کیپ کوسٹ یو نیورسٹی کے ایک وسیع وعریض گراؤنڈ میں چار دن ایک ٹینٹ لگایا گیا جس میں نمائش کا اہتمام کیاگیا۔ اس نمائش میں مختلف جماعتی لٹریچر رکھا گیا نیز بعض جماعتی تصاویر اور جماعتیں بینرز لگائے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مختلف اقتباسات بھی لکھ کر آویزاں کئے گئے۔ ہر روز طلباء ،لیکچرار اور قر یبی کمیونٹی کے لوگوں میں مختلف پمفلٹس تقسیم کئے گئے۔ ایک اندازہ کے مطابق 3000 سے زائد پمفلٹ تقسیم ہوئے۔ یہ پمفلٹس بعنوان“ عیسٰی ابن مریم” اور“اسلام کا تعارف” عیسیٰؑ کون ہیں، دعوتِ احمدیت وغیرہ کے تھے۔ طلباء اور آنے جانے والوں کی خاصی تعداد کی توجہ اس نمائش کی طرف پیدا ہوئی جنہوں نے آ کر اسلام احمدیت کے بارہ میں مختلف سوالات کئے۔جہاں اُن کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دئیے گئے ۔ ان سوالات میں دو سوال

  1. حضرت عیسیٰؑ کس طرح انڈیا گئے؟
  2. اسلام میں جہاد کا تصور کیا ہے؟

نمایاں رہے۔ ان ہر دوسوالات کے جوابات ہمارے دو بینرز جونمائش میں دکھائے گئے تھے یعنی حضرت عیسیؑ کی قبر کی تصویر اور اس پر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ درج تھی کے ذریعہ سے دئیےگئے۔ ان کے علاوہ دوسرے سوالات کا تعلق جہاد اور مسلمانوں کا یومِ قیامت پر ایمان سے تھا۔ جماعت احمد یہ دوسرے فرقوں سے کیونکر مختلف ہے؟ حضرت مسیح موعود ؑحضرت محمد ﷺ سے کس طرح مختلف ہیں؟ کیا موجودہ خلیفہ نبی ہیں؟ ضرورتِ خلافت، حضرت عیسیؑ کی وفات کی تصدیق حضرت محمد صلى الله علیہ وسلم کی احادیث سے کیونکر ہوسکتی ہے؟ اور کیا حضرت عیسیٰؑ کی اولاد ہے؟ مسلمانوں کے عقیدہ مختلف کیوں ہیں جبکہ ان کا قرآن ایک ہے؟ کیا بائبل میں حضرت عیسیؑ کا انڈیا جانے کا ذکر ہے؟ کیا دوسرے انبیاء کے نام قرآنِ مجید میں ہیں؟ ہم اپنےآپ کو احمدی کیوں کہتے ہیں؟ کیا مسلمانوں کو دوسروں کوقتل کرنے کا انعام ملے گا؟ مسلمان نماز پڑھتے وقت مشرق کی طرف منہ کیوںکرتے ہیں؟ حضرت مسیح موعودؑ کے آنے کے بعد لڑائیاں کیوں ہیں؟ اسلام میں فرقہ واریت کیوں ہے؟ کیا یہ درست ہے کہ مسلمان قرآن سے قبل کی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے؟ حضرت عیسیؑ نے مشرق کی طرف ہجرت کیوں کی؟ وغیرہ وغیرہ۔

پہلے دو دن مربی سلسلہ مکرم احمد بلواہنگ برائے Abura نے لوگوں کے سوالات کے جوابات دئیے ۔ بقیہ دو دن جامعۃالمبشرین غانا کے ایک طالبِ علم مکرم عبدا لجلیل نے سوالات کے جوابات دئیے ۔ مؤرخہ 28 فروری 2020ء بروز جمعۃالمبارک ابورہ کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی گئی۔ ایک رات کو پردہ کی اہمیت کے موضوع پر احمدی طلباء سے بات ہوئی ۔ اگلی رات“جن” کے موضوع پر ایک بہت ہی معلوماتی فلم دیکھی گئی۔ آخری دن مورخہ 29فروری 2020ء بروز ہفتہ صبح 10 تا 2:30 سہ پہر سوال و جواب کا ایک بڑا پروگرام مکرم رحمان آرتھر نائب صدر جنوبی سیکٹر غانا کی صدارت میں مجلس خدام الاحمدیہ ابورہ زون نے اسلام اور احمدیت پر اُٹھنے والے سوالات پر منعقد کیا۔ مہمانان ِکرام میں مکرم طاہر احمد مرزا زونل مشنری ابورہ زون،مکرم مالک ہامونڈ جونیئر مہتمم امور طلبہ مکرم اسحاق ابراہیم مربی سلسلہ کیپ کوسٹ اور مہتمم تربیت، مکرم مولوی شریف احمدجعفر استاد جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل، مکرم زکریا ابوبکر داعی الی الله، مکرم محمد حسین آکوا داعی الی اللہ اور ہیڈ ماسٹر ٹی آئی احمدیہ جونیئر ہائی سکول ابوراشامل تھے۔ اس پروگرام میں تلاوت قرآن مجید مکرم عبدالمجید آدم نائب امام نے کی جس کے بعد اختتامی دعا مکرم طاہر احمد مرزا زونل مشنری نے کروائی ۔ اس کے بعد کے خلافت احمدیہ پر ایک ڈاکومنٹری دکھائی گئی۔ مکرم زکر یا ابوبکر داعی الی اللہ نےTHE MESSIAH HAS COME کے موضوع پر ایک شاندار تقریرکی ۔ جس نے اسلام کے بارے میں سوالات کا دروازہ کھول دیا ۔ ان سوالات کے جوابات قرآن مجید ، بائیبل ، احادیث مبارکہ ، سنتِ رسول مقبولﷺ اور اقتباسات حضرت اقدس مسیح پاک علیہ السلام کے ذریعے دئیے گئے۔ مہمانانِ کرام سمیت 112 افراد نے اس پروگرام میں شرکت کی جبکہ غیر احمدی دوست اور عیسائیوں کی تعداد 22 رہی۔ بفضلِ خداپروگرام بہت کامیاب رہا اور مکرم مہمان خصوسی نے اس طرح کے پروگرامز کو بار بار کرنے کی خواہش کا برملا اظہار کیا۔

یہ اس چار دن کی تقریبات کا آخری پروگرام تھا جو اللہ کے فضل سے بہت کامیاب رہا۔ اس پروگرام کے لئے یونیورسٹی آف کیپ کوسٹ کی AMSAG برانچ کے صدر Mr. Usman Adam اور ان کی ٹیم نے بے حد محنت کی ۔ الله تعالیٰ اس پروگرام کے لئے سب کام کرنے والوں کو جزاء ِخیر عطا فرمائے اور اس پروگرام کو احمد بیعت کی اشاعت کا پیش خیمہ بنائے ۔ آمین

(فہیم احمد خادم۔گھانا)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ 26 ۔اپریل2020ء

اگلا پڑھیں

Covid-19 افریقہ ڈائری نمبر11، 27۔اپریل 2020ء