• 2 جون, 2020
  1. صفحہ اول
  2. نظم

زمرہ: نظم

نظم
آبادی مرکز  اور جشن بہاراں

آبادی مرکز اور جشن بہاراں

میرے اللہ! مرے آقا کی حفاظت کرنا اور مبارک یہ قصر خلافت کرنا لمحہ لمحہ وہاں تائید و حمایت کرنا خود نئی شان سے اس دیں کی اشاعت کرنا سیدی! آپ کے مسکن سے ہے…

نظم
ہر قدم اپنا آگے بڑھائیں گے ہم

ہر قدم اپنا آگے بڑھائیں گے ہم

سىدى!! تجھ سے وعدے نبھائىں گے ہم ہر قدم اپنا آگے بڑھائىں گے ہم مرشدى! گىت الفت کے گائىں گے ہم ہر قدم اپنا آگے بڑھائىں گے ہم ہم لڑى مىں تمہارى پروئے گئے گوىا…

نظم
اسلام کی آغوش میں دنیا کو بلا کر

اسلام کی آغوش میں دنیا کو بلا کر

اسلام کی آغوش میں دنیا کو بلا کر ہم عہدوں کو، وعدوں کو خلیفہ سے نبھا کر پھر دین کی خاطر بڑی قسموں کو اٹھا کر ہم جان کو ، اموال کو داؤ پہ لگا…

نظم
لفظ دُھل جائے جس کو تو بولے

لفظ دُھل جائے جس کو تو بولے

قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے لفظ دُھل جائے جس کو تو بولے نرم و نازک، حسین، خوشبودار ایک ہی پھول چارسُو بولے لِلّٰہِ الْحَمْد عہدِ الفت میں پانچ کے پانچ خوبرو بولے قدرتِ ثانیہ…

نظم
خلافت خدا کی نمائندگی

خلافت خدا کی نمائندگی

وہ رشک ملائک یہی تاج ہے یہی آدمیت کا معراج ہے یہ نورِ خدا کی ہے جلوہ گری یہ تکوین کا نقطہ محوری نظام خلافت ہے پائندہ تر اسی سے یہ خاکی ہے تابندہ تر…

نظم
وہ خدا کا ہی نوشتہ تو لکھا کرتا ہے

وہ خدا کا ہی نوشتہ تو لکھا کرتا ہے

وہ خدا کا ہی نوشتہ تو لکھا کرتا ہے ہو کے رہتا ہے وہی جو وہ کہا کرتا ہے بیٹھ جائیں جو ترے در پہ بھکاری بن کر کاسۂ خیر انہی کا ہی بھرا کرتا…

نظم
الفضل

الفضل

ہم کو پیاروں کی خبر دیتا رہے یہ یوں ہی شیریں ثمر دیتا رہے سب کو یہ لعل و گوہر دیتا رہے جن سے ملتی ہے حیاتِ جاوداں ان بہاروں کی خبر دیتا رہے یہ…

نظم
ہم کہ ٹھہرے اجنبی

ہم کہ ٹھہرے اجنبی

ہم نے پلکوں سے ہر خارِ رہ کو چُنا زخم کھائے ، مگر مسکراتے رہے خونِ دل میں ڈبوئی ہیں خود انگلیاں گیت ہم نے وفاؤں کے ہر پل لکھے کیوں ملامت کے ، ہر…

نظم
عشق محمدؐ نہیں ہے جانے کا

عشق محمدؐ نہیں ہے جانے کا

شعور دے کے محمدؐ کے آستانے کا مزاج بدلیں گے ہم اس نئے زمانے کا مرے سفینۂ ہستی کے ناخدا ہیں حضورؐ مجھے نہیں کوئی اندیشہ ڈوب جانے کا ہمیشہ برق گری ہے مگر بفیض…

نظم
کر رحم مری حالت پہ

کر رحم مری حالت پہ

میرا اپنا نہیں کوئی تیرے سوا تم سے نہ کہوں تو کس سے کہوں تم سے تو نہیں مرا حال چھپا تم سے نہ کہوں تو کس سے کہوں ترا نام غفور ہے پیارے خدا…