• 5 اگست, 2020

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ)

(قسط سوم)

عذاب الٰہی کی پہلی امتیازی علامت

عذاب الٰہی کو عام حوادث سے ممتاز کرنے والی علامات میں سے ایک اہم علامت یہ ہے کہ عذاب کے واقع ہونے سے قبل اس کی خبر دے دی جاتی ہے اور صرف خبر ہی نہیں بسااوقات اس کی نوعیت بھی تفصیل سے بیان کر دی جاتی ہے۔ اس کی مثال حضرت نوح ؑکے زمانہ میں بڑی واضح شکل میں ملتی ہے۔ آپؐ نے پہلے سے قوم کو متنبہ کر دیا کہ تمہارے اعمال کی خرابی کے نتیجہ میں نیز میرے مسلسل انکار کی وجہ سے تم ہلاک کر دیئے جاؤگے۔ اس تنبیہ کے ساتھ ہی آپ نے ذریعہ ہلاکت سے بھی ان کو آگاہ کر دیا اور بتایا کہ تمہاری ہلاکت کا ذریعہ پانی کو بنایا جائے گاجو ایک ایسے بے نظیر سیلاب کی صورت میں آئے گاجس سے اس علاقہ کی کوئی چیز خواہ انسان ہو یا حیوان، بچ نہیں سکے گی۔ یہ خبر دینے کے ساتھ ہی حضرت نوح ؑاس کشتی کی تعمیر میں مصروف ہوگئے جو اللہ تعالیٰ کے اذن کے مطابق اس عذاب سے مومنوں کے بچانے کے لئے بنائی جا رہی تھی۔ منکرین پاس سے گزرتے، ہنستے اور تمسخر اڑاتے۔ حضرت نوح ؑ اور آپ کے ساتھیوں کو طرح طرح کے طعنوں کا نشانہ بناتے لیکن کوئی بھی یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوا کہ آسمان اس کثرت کے ساتھ پانی برسا سکتا ہے کہ دنیا کی کوئی پناہ گاہ اس کی زد سے انسان کو بچا نہ سکےگی۔لیکن آخر وہ دن آگیا جب کہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡہَمِرٍ (سورۃالقمر، آیت12)

آسمان نے اپنے تمام دروازے کھول دیئے اور ایسا موسلا دھار مینہ بر سنا شروع ہوا جس کی کوئی مثال اس سے پہلے دیکھی نہ گئی تھی۔ حضرت نوحؑ اور آپ پر ایمان لانے والے کشتی میں سوار ہوئے اور اپنے ساتھ معین مدت کے لئے زاد سفر بھی لے لیا۔ کچھ جانور اور کچھ پرندے جو پہلے سے اس غرض کے لئے جمع کئے گئے تھے وہ بھی اس کشتی میں سوار کر لئے گئے۔ لیکن اس وقت تک بھی دیکھنے والے دیکھتے رہے اور تمسخر اڑاتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ کشتی پانی کی بلند ہوتی ہوئی سطح کے ساتھ بلند تر ہوتی چلی گئی اور مکانات اونچی جگہیں اور ٹیلے رفتہ رفتہ پانی میں ڈوبنے لگے ۔لیکن اس وقت بھی ایمان نہ لانے والوں کو یقین نہ آیا کہ کشتی کے سواروں کے سوا اس علاقہ کے باقی تمام لوگ غرق ہو جائیں گے۔ خود حضرت نوحؑ کے ایک جسمانی بیٹے نے بھی اپنی بد قسمتی سے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس غیر معمولی بارش اور سیلاب کو آخر وقت تک ایک طبعی حادثہ سمجھتا رہا۔ اسے یہ گمان تو شاید گزرتا ہو کہ یہ کشتی کے سوار غرق ہو جائیں گے لیکن یہ وہم اس کے دل میں نہ آیا کہ سیلاب پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی اوپر نکل جائے گا۔ چنانچہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق ہمیں اہل دنیاکی جو آخری آواز سنائی دیتی ہے وہ حضرت نوح ؑ کے اس بیٹے کی یہ آواز ہے:

سَاٰوِیۡۤ اِلٰی جَبَلٍ یَّعۡصِمُنِیۡ مِنَ الۡمَآءِ

(سورۃ ہود، آیت44)

کہ میں پہاڑ کی پناہ لے لوں گا اور یہ پہاڑ مجھے بچا لے گا۔

لیکن ایک بلند و بالا موج حضرت نوح ؑکی کشتی اور پہاڑ پر پناہ لینے والے اس وجود کے درمیان حائل ہو گئی۔ پانی بلند سے بلند تر ہوتا رہا اور پہاڑوں کی چوٹیاں روپوش ہونے لگیں۔ تیرنے والی اس کشتی کے سوا سطح آب پر کوئی اور چیز نظر نہ آتی تھی۔

یہ واقعہ جو تفاصیل کے کسی قدر اختلاف کے ساتھ دنیا کے تین بڑے مذاہب یعنی اسلام، یہودیت اور عیسائیت کو مسلم ہے۔ کم از کم ان اہل مذاہب کے لئے تو ضرور ایک حجت ہے اور یہ وہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ معمول کے مطابق طبعی قوانین کے تابع برسنے والی بارش بھی کبھی عذاب الٰہی کا ایک رنگ اختیار کر سکتی ہے۔

عذاب الٰہی کی مختلف اقسام کا بیان چونکہ پہلے گزر چکا ہے اس لئے اس کی تکرار کی ضرورت نہیں۔ یہاں صرف عذاب الٰہی کی امتیازی علامات کا ذکر ہو رہا ہے تو پہلی علامت قرآن کریم سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ وقت سے پہلے عذاب الٰہی کی خبر دے دی جاتی ہے اور بسا اوقات اس کی نوعیت کی بھی تعیین کر دی جاتی ہے۔

دوسری امتیازی علامت

دوسری امتیازی علامت ہمیں یہ معلوم ہوتی ہے کہ عذا ب الٰہی کے واقع ہونے کو ایک ایسی شرط کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے جس کا کسی پہلو سے بھی ان عوامل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتاجس کے نتیجہ میں کوئی ارضی و سماوی حادثہ رونما ہو سکے۔

حضرت صالح ؑکے عہد کی مثال ہمارے پیش نظر ہے۔ وہ خوفناک دھماکہ جسے آتش فشاں پہاڑ کا پھٹنا کہہ لیں یا غیرمعمولی قوت کی گھن گرج قرار دے لیں یا اچانک زمین کے پھٹنے کے نتیجہ میں ایک ہیبت ناک آواز تصور کر لیں۔ غرضیکہ اس ’’صیحۃ واحدۃ‘‘ کی جو شکل بھی چاہیں تجویز کرلیں۔ یہ امر تو بہر حال انسان کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس ’’صیحہ‘‘ کا اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں یعنی اس کے نتیجے میں یہ واقعہ رونما نہیں ہو سکتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو طبعی ذریعہ بھی حضرت صالح ؑکی قوم کو ہلاکت کے لئے تجویز ہوا وہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک غیرمعمولی تقدیر تھی۔ جب تک قوم حضرت صالح ؑکی اونٹنی کا پانی بند کرنے اور اس کی ایذاء رسانی سے باز رہی اذن الٰہی کی نکیل نے اس ہولناک حادثہ کو رونما ہونے سے سختی سے روکے رکھا لیکن جونہی اونٹنی کا پانی بند کیا گیا اور کونچیں کاٹی گئیں تو قوانین طبعی کو اپنی جولانیاں دکھانے کی اجازت دے دی گئی۔

تیسری امتیازی علامت

تیسری علامت جو حادثات طبعی کو عذاب الٰہی سے ایک غیر معمولی امتیاز بخشتی ہے وہ یہ ہے کہ عذاب الٰہی کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ کافروں کے ساتھ مومنوں کو بھی ہلاک کر دے بلکہ بلا استثناء ہر ایسے حادثے کے وقت مومن بچالئے جاتے ہیں اور منکرین ہلاک کر دیئے جاتے ہیں۔ اگرچہ قرآن کریم میں بعض ایسے قومی عذابوں کا ذکر ملتا ہے جن کے نتیجہ میں منکرین کے ساتھ مومن بھی کسی قدر تکلیف اٹھاتے ہیں لیکن یہ عذاب ایک استثنائی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کا مقصد مختلف ہوتا ہے۔ ہم عذابوں کی جن اقسام پر بحث کررہے ہیں یہ وہ عذاب ہیں جو مومن اور غیر مومن میں تفریق کے لئے آتے ہیں اورجن کے متعلق وقت کے انبیاء ؑ واضح الفاظ میں یہ خبر دے دیا کر تے ہیں کہ یہ خدا کے پاک بندوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہ ایک ایسا امتیاز ہے جس کا کوئی طبعی جواز نظر نہیں آتا۔ آخر کیوں ایک معمول کے مطابق ہونے والا حادثہ قوم کی بھاری اکثریت کو تو ہلاک کر دے لیکن چند لوگوں سے استثنائی سلوک کرتے ہوئے بغیر گزند پہنچائے پاس سے گزر جائے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس سے عجیب تر بات یہ ہے کہ قوم کے طاقتور اور دنیاوی سرو سامان سے متمتع غالب قوتوں والے حصہ کو تو ہلاک کر دے جس کے پاس حوادث سے بچنے کے زیادہ سے زیادہ ظاہری سامان موجود ہوتے ہیں لیکن چند کمزور اور ضعیف اور بے سرو سامان لوگوں کو گزند پہنچانے کی اسے کوئی قدرت حاصل نہ ہو۔

چوتھی امتیازی علامت

چوتھی علامت یہ ہوا کرتی ہے کہ عذاب الٰہی کے بعد وہ نظریہ حیات یا تو کلیۃً مٹا دیا جاتا ہے یا مغلوب کر دیا جاتا ہے جو عذاب الٰہی سے پہلے طاقتور اور غالب ہوتا ہے اور وہ نظریہ حیات جو عذاب الٰہی سے پہلے نہایت کمزور اور مغلوب حالت میں پایا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے زندہ رہنے کے کوئی ظاہری سامان نظر نہیں آتے وہ عذاب الٰہی کے بعد نہایت قوی اور غالب صورت میں تیزی کے ساتھی نشونما پانے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ نظریات کے میدان میں کبھی تو ایسے تنہا عظیم فاتح کے طور پر دکھائی دیتا ہےجس کا مد مقابل کلیتہً خاک میں مل چکا ہو اور کبھی ایسے فتح مند جرنیل کی شکل میں نظر آتا ہےجس کا حریف نہایت کمزوری اور ذلت کی حالت میں اس کے غلبہ کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوچکا ہو۔ جو اہل مذاہب مذہبی تاریخ کو تسلیم کرتے ہیں جو آسمانی صحیفوں میں ان کے لئے محفوظ کی گئی ان کے لئے تو مذکورہ امور ایک مسلمہ حقیقت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو کسی مذہب سے وابستہ نہیں یا وابستہ ہونے کے باوجود دہریت اور لادینیت کا شکار ہیں وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ بالا چاروں علامتیں تاریخ مذاہب سے حاصل کی گئی ہیں اور ہمیں اس تاریخ کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس لئے ہمارے نزدیک ان کی حیثیت دلائل کی نہیں محض دعاوی کی ہے لیکن ادنیٰ سے تدبر سے یہ معلوم ہو جائے گاکہ مذکورہ بالا دعاوی اپنے ساتھ ایسے دلائل اور شواہد بھی رکھتے ہیں جن کی کوئی لامذہب بھی تردید نہیں کر سکتا۔

میں اپنے مدعا کی مزیدوضاحت کے لئے ذیل میں چند امور قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں:

اول: دنیا کا کوئی لامذہب یا بے دین انسان اس تاریخی حقیقت کاانکار نہیں کر سکتاکہ جب بھی کسی نبی یا مصلح نے خدا تعالی کی طرف سے اذن پا کر دنیا کو ہدایت کی طرف بلایا تواس وقت کوئی دنیاوی ذریعہ اس کے پاس ایسا نہ تھا جس سے وہ اپنے مخالفین پر غالب آسکتا۔ اس کے برعکس اس کے مخالفین کو ہر پہلو سے اس پر مکمل دنیاوی فوقیت حاصل تھی۔ کیا بلحاظ تعداد، کیا بلحاظ مال و دولت، کیا بلحاظ سیاسی قوت اور کیا بلحاظ اسباب جنگ، ہر پہلو سے وہ اس دعویدار کے مقابل پر اتنے طاقتور اور قوی تھے کہ ادنیٰ سی دنیاوی کوشش کے نتیجہ میں اسے اور اس کے چند ماننے والوں کو ہلاک کر دینے کی پوری طاقت رکھتے تھے۔ ایسے انبیاء ؑ اور مصلحین کی کمزوری کا کچھ تصور اس حقیقت سے بھی لگایا جا سکتا ہےکہ دنیاوی تاریخ کسی نبی کے ظہور کے واقعہ کو اپنے زمانے میں ایک ایسا معمولی واقعہ سمجھتی ہے جیسے کسی وسیع جھیل میں سے ایک بچے کے ہاتھ میں پھینکی ہوئی کنکر سے کچھ کمزور لہریں پیدا ہوں۔حضرت عیسیٰ ؑکے زمانے میں حضرت عیسٰی ؑکو اور واقعہ صلیب کو جو اہمیت حاصل تھی۔ اس کا آج جو ہم تصور باندھے ہوئے ہیں۔ اس عہد کے انسان کا تصور اس سے بالکل مختلف تھا۔ ہم چونکہ نسلاً بعد نسل اس عظیم واقعہ کا ذکر سنتے آئے ہیں۔ اس لئے ہم خواہ مخواہ یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑکا دعویٰ اور بعد میں رونما ہونے والا واقعہ صلیب اس زمانے کے انسانوں کی نظر میں بھی کوئی بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ ہمارا یہ گمان ہرگز حقیقت پر مبنی نہیں۔ عظیم سلطنت روما کے ایک گوشے میں رونما ہونے والے اس واقعہ نے اس زمانہ کے مؤرخین کی توجہ اس حد تک بھی اپنی طرف مبذول نہ کروائی کہ وہ اسے کوئی قابل ذکر بات سمجھ کر چند سطروں میں ہی اس کا ذکر محفوظ کر دیتے۔ چنانچہ رومن مؤرخین حضر ت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک سو سال کے بعد تک بھی یسوع نام کے کسی نبی کے ظاہر ہونے کا ذکر نہیں کرتے اور گویا واقعہ صلیب معمول کے مطابق ایک روز مرہ کی قانونی کاروائی سے زیادہ اور کوئی حیثیت نہ رکھتا تھا۔ اس قسم کی کاروائیاں قومی تاریخ کے صفحات میں محفوظ کرنے کے لائق شمار نہیں کی جاتیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کی تاریخی عظمت کا انحصار کلیۃً عیسائیت کے پھیلاؤ سے تھا۔ جوں جوں عیسائی قوم ترقی کرتی چلی گئی بعد میں آنے والے مؤرخین اس واقعہ کو پہلے سے بڑھ کر اہمیت دیتے چلے گئے۔ مگر عہد مسیح ؑ میں یقیناً سلطنت روما کے مقابل پر مسیح ؑ کی ظاہری حیثیت قابل ذکر نہ تھی کہ ان کا مرنا یا جینا سلطنت روما کے اہلکاروں کی نگاہ میں کوئی قابل اعتناء بات سمجھی جاتی۔

اسی طرح اس کائنات کا سب سے بڑا واقعہ یعنی آنحضور ﷺ کا دعویٰ فتح مکہ سے قبل تک اس زمانہ کے انسان کو ایک ایسا عام اور معمولی واقعہ نظر آتا تھا کہ جب تک مسلمانوں کے بعد کی فتوحات نے مشرق و مغرب میں زلازل بر پا نہیں کئے اس وقت تک رومن اور فارس کی سلطنتوں نے ظہور محمد مصطفی ﷺ کو کوئی خاص قابل اعتناء بات نہ سمجھا۔ کسریٰ کی حکومت توبہت جلد اسلام سے مغلوب ہوگئی۔ اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ایرانی مؤر خین نے فتح مکہ سے قبل حضرت رسول اکرم ﷺ کا کوئی ذکر اپنی تاریخ کے صفحات میں محفوظ کیا یا نہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے عہد کے رومن مؤ رخین کے متعلق ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ہاں کائنات کے اس عظیم ترین واقعہ کا کوئی ذکر تک نہیں ملتا۔

ایران کی عظیم مشرقی سلطنت کے بارہ میں بھی ان روایات کی روشنی میں جو اسلامی تاریخ کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہیں۔ یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی زندگی میں شہنشاہ ایران کے نزدیک یہ ایک بہت معمولی واقعہ تھا۔ اس دور کے خسرو کے متعلق یہ لکھا ہے کہ اس نے یمن کے گورنر کو یہ کہلا بھیجا تھاکہ شنید کے مطابق کوئی اس قسم کا دعویدار عرب میں پیدا ہوا ہے اسے پکڑو ا کر میرے دربار میں حاضر کرو۔ یمن کے گورنر کے نزدیک حضور اکرم ﷺ کی جو اہمیت تھی۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے صرف دو کارندے اس غرض کے لئے مدینہ روانہ کئے کہ نعوذ باللہ سید کونین ﷺ کو پکڑ کر اس کے سامنے لائیں۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت کی دنیا نے ظہور حضرت محمد مصطفی ﷺ کو کیا اہمیت دی ہوگی۔

پس دنیا کا کوئی لا مذہب بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ ہر نبی اپنے دعویٰ کے وقت کمزور ہی نہیں بلکہ اہل دنیا کو اتنا کمزور نظر آتا ہے کہ اس کا ہونا یا نہ ہونا گویا ان کے نزدیک برابر ہوتا ہے۔ آدم سے لیکر حضر ت محمد مصطفی ﷺ تک بلا استثناء ہمیشہ یہی کہانی دوہرائی گئی۔

دوم: اس کے بعد ہر لامذہب اور منکردین کو اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ وہ عظیم سلطنتیں اور عظیم قومیں جو اپنے وقت کے نبی کو پرپشہ کی حیثیت بھی نہیں دیتی تھی۔ ‘‘حوادث زمانہ’’ (اہل مذہب کے نزدیک عذاب الٰہی)کا شکار ہو گئیں۔ اور ان کی صف اس دنیا سے یکسر لپیٹ دی گئی اور ان کے مذاہب مٹ گئے اور ان کے نظریات فنا ہو گئے اور کچھ بھی ان کا باقی نہ رہا سوائے اس ذکر کے جو تاریخ کے صفحات میں پھیلا ہوا ہے لیکن وہ جن کا کچھ ذکر ان لوگوں کی تاریخ کے صفحات میں نہیں ملتا وہ ایک ناقابل فہم معمہ بن کر ان سلطنتوں اور قوموں پر غالب آگئے وہ باقی رہے اور اس شان سے باقی رہے کہ ان کے نظریات ہی آج غالب نظریات کے طور پر زندہ موجود ہیں ان کے مذاہب نے دنیا کے عظیم خطوں کو گھیر رکھا ہے یہاں تک کہ آج دنیا میں بسنے والے لوگوں کی غالب اکثریت وہ ہے جو کسی نہ کسی ایسے نبی، رشی یا اوتار کی طرف منسوب ہوتی ہے جو اپنے وقت کا کمزور ترین انسان تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان قوموں کے مٹنے کا باعث حوادث زمانہ تھے تو عقلاً ان کا اول شکار اس زمانے کے کمزور ترین انسان ہونے چاہئیں تھے نہ کہ انتہائی طاقتور اور حکمران قومیں ………؟ حوادث زمانہ کو یہ تمیز کہاں سے آئی کہ کمزور اور طاقتور میں ایسی تمیز کر ے کہ کمزور کا معین و مددگار اور طاقتور کا جان لیوا دشمن بن جائے ؟

سوم: ایک تیسری حقیقت جو اسی تعلق میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے اور کوئی لا مذہب اور بے دین انسان اس کا بھی انکار نہیں کر سکتا کہ وہ یہ ہے کہ وہ بستیاں جو زلازل کا شکار ہوئیں اور مسلسل چلنے والی آندھیوں کے نتیجہ میں تہہ بہ تہہ خاک کے تودوں کے نیچے دب کر تباہ ہوگئیں۔ ان میں سے ایک بھی ایسی نہیں جو کسی نبی پر ایمان لانے والی جماعت پر مشتمل ہو بلکہ تمام بے دینوں اور منکروں کی بستیاں ہیں۔ جن کے آثار باقیہ آج بھی شرک و بدعت اور فسق و فجور کی داستانیں محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ قرآن کریم نے ان بستیوں کا بار بار ذکر فرمایا ہے اور انسان کی توجہ بار بار اس حقیقت کی طرف مبذول کراتا ہے کہ قدیم سے جار ی و ساری عظیم شاہرا ہوں پر ان بستیوں کو تلاش کرو تو تمہیں خاک کے عظیم تودوں تلے دبی ہوئی نظر آئیں گی اور تم دیکھو گے کہ ان میں وہ قومیں مدفون ہیں جو اپنے وقت کے انبیا ء ؑ کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا عزم لے کر اٹھی تھیں۔ ان کے عزائم نہایت خطرناک اور ان کی قوت ناقابل دفاع بھی۔ اس وقت جب کہ بظاہر انبیا ء ؑاپنے غلبہ سے مایوس ہو گئے۔ تب اچانک اللہ تعالیٰ کی مدد ایک ایسے عذاب کی صورت میں آئی جو اچھے اور بر ے میں امتیاز کرنے والا تھا جسے خدا چاہتا تھا۔ اسے نجات بخشتا تھا لیکن مجرم اس کی پکڑ سے بچ نہ سکتے تھے قرآن کریم اس کیفیت کا ذکر فرماتے ہوئے بیان کرتا ہے:۔

حَتّٰۤی اِذَا اسۡتَیۡـَٔسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ قَدۡ کُذِبُوۡا جَآءَہُمۡ نَصۡرُنَا ۙ فَنُجِّیَ مَنۡ نَّشَآءُ ؕ وَلَا یُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ۔

(سورۃ یوسف، آیت 111)

اور جب (ایک طرف تو)رسول (ان کی جانب سے)نا امید ہوگئے۔ اور (دوسری طرف) ان (منکروں کا یہ) پختہ خیال ہو گیا کہ ان سے (وحی کے نام سے) جھوٹی باتیں کہی جارہی ہیں تو (اس وقت) ان (رسولوں) کے پاس ہماری مدد آگئی اور جنہیں ہم بچانا چاہتے تھے (انہیں) بچا لیا گیا اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب (ہرگز) نہیں ہٹایا جاتا۔

یہ مدفون قومیں جن کے مدفن سے انسان لا علمی اور غفلت کی حالت میں گزر جایا کرتا تھا۔ آج کے زمانے میں جب کہ زمین اپنے بوجھ اگل رہی ہے منظرعام پر ابھر رہی ہیں لیکن جس وقت کریم نے ان کا ذکر فرمایا تھا۔ اکثر انسان ان کے بارے میں لا علمی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔

پانچویں امتیازی علامت

پانچویں علامت جو عذاب الٰہی کو حوادث زمانہ سے الگ کرتی ہے اس کا ذکر قرآن کریم کی حسب ذیل آیت میں ملتا ہے:۔

وَ مَا نُرِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ اِلَّا ہِیَ اَکۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِہَا ۫ وَ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ۔

(سورۃالزخرف، آیت 49)

ترجمہ: ہم ان کو جو نشان بھی دکھاتے تھے وہ اپنے نشان سے بڑا ہوتا تھا اور ہم نے ان کو عذاب میں مبتلا کر دیا تھاتاکہ

وہ (اپنی بد اعمالیوں سے) لوٹ جائیں۔ یعنی عذاب الٰہی میں ایک تدریج اور ترتیب پائی جاتی ہے اور آخری غلبہ تک عذابوں کا سلسلہ سخت سے سخت تر ہوتا چلا جاتا ہے۔

گویا عذاب الٰہی کے مختلف مظاہر میں خفیف سے اشد کی طرف حرکت نظر آتی ہے۔ اگر عذاب کی شدت کا گراف بنایا جائے تو معمولی اتار چڑھاؤ کے باوجود عذاب کا عمومی رخ شدید سے شدید تر کی طرف ہی نظر آئے گا۔ یہاں تک کہ اگر قوم پیغمبر وقت کے نظریات کو قبول نہ کرے اور اس کی ہلاکت مقدر ہو جائے تو عذاب کی آخری یورش سب سے شدید اور فیصلہ کن ہوتی ہے۔ حوادث زمانہ میں ایسی کوئی ترتیب نہیں پائی جاتی۔

چھٹی امتیازی علامت

عذاب الٰہی کی چھٹی امتیازی علامت یہ ہے کے گو حوادث زمان انسان کی قلبی کیفیت سے اثر انداز نہیں ہوتے اور وہ ان کیفیات سے بے نیاز اپنے دائرہ میں کار فرما رہتے ہیں لیکن عذاب الہٰی اس عہد کے انسانوں کی قلبی کیفیات سے ایک ایسا عجیب رشتہ رکھتا ہے اگر دلوں میں گزشتہ گناہوں پر ندامت اور پشیمانی پیدا ہو جائے اور طبیعتیں استغفار کی طرف مائل ہوں تو عذاب الٰہی ٹل جاتا ہے۔ قرآن کریم عذاب الٰہی کی اس امتیازی خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔

وَ مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۔

(سورۃا نفال، آیت 34)

اللہ تعالیٰ انہیں ایسی حالت میں عذاب نہیں دیتا کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔

گزشتہ انبیاء کی تاریخ میں حضرت یونس ؑ کے عہد کا واقع اس نوع کی ایک نمایاں مثال ہے۔ کہ عذاب الٰہی کی خبر دیئے جانے کے باوجود جب قوم نے استغفار سے کام لیا تو یہ غیر متبدل سنت اللہ قوم اور عذاب الٰہی کے درمیان حائل ہوگئی۔

ساتویں امتیازی علامت

عذا ب الٰہی کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ عذاب اس وقت تک انتظار کرتا ہے۔ جب تک نبی ہلاک ہونے والی بستی کو چھوڑ کر نہ چلا جائے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے

وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ

(سورۃ انفال، آیت 34)

اللہ تعالیٰ انہیں ہر گز عذاب نہیں دے گا کہ تو ان کے اندر موجود ہو۔

ظاہر بات ہے کہ حوادث کسی کا انتظار نہیں کرتے۔ پس وہ حوادث جو کسی خاص وجودیا نیک لوگوں کی خاطر رکے رہیں اور اس بات کا انتظار کرتے رہیں کہ وہ ہلاک ہونے والی بستی کو چھوڑ یں تو پھر یہ سرگرم عمل ہوں۔ مذہبی اصطلاح میں ایسے حوادث کو عذاب الٰہی کہا جاتا ہے۔

اس جہت سے جب ہم اس سوال پر نظر ڈالتے ہیں کہ انبیاء اور ان کی قومیں کس طرح عذاب کے چنگل سے بچ گئیں تو اس کا ایک جواب یہ سامنے آتا ہے کہ یا تو وہ وقت سے پہلے خبردار ہونے کی بنا ء پر انبیاء اپنے ساتھیوں کو لے کر ہلاک ہونے والی جگہوں کو چھوڑ چکے تھے یا خود ان کی قوموں نے انہیں اپنے آبائی وطنوں سے جلا وطن کر دیا تھا۔ پس عذاب الٰہی اس وقت آیا جب وہ بستیوں میں موجود نہ تھے۔

یہاں ضمناً اس اعتراض کا ذکر بھی بے جا نہ ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر مخالفین کی طرف سے اعتراض کیا جاتا ہے کہ زلزلے کے وقت کیوں بستی کو چھوڑ کر باہر باغات میں خیمہ زن ہوگئے کم فہم معاندین بڑے تمسخر سے اس بات کا ذکر کرتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ قرآن کریم کی پیش کردہ تعلیم کی رو سے سنت انبیا ء یہی چلی آئی ہے کہ عذاب کی خبر کے بعد اس سے بچنے کے ظاہری اسباب ضرور اختیار کر تے ہیں اور اللہ تعالیٰ خود انہیں ہر قسم کی پیش بندی کا ارشاد فرماتا ہے یہ کبھی نہیں ہوا کہ عذاب الٰہی کی خبر سن کر انبیاء عین بیچ مقام عذاب کے ڈیرہ ڈال لیں۔

عذا ب کی بعض قسمیں ایسی بھی ہوا کرتی ہیں جن سے بچنے کے لئے بظاہر کوئی ظاہری ذریعہ اختیار نہیں کیا جاتا لیکن اس کے باوجود وہ عذاب خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو ہلاک کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس نوعیت کے عذابوں کے متعلق چونکہ انبیاء ؑ کو پہلے سے مطلع کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ جس حد تک انہیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا ارشار فرماتا ہے۔ اس سے بڑھ کر وہ کوئی تدبیر اختیار نہیں فرماتے پھر بھی وہ دشمن جو ہر طرح کی تدابیر اختیار کرنے پر قادر ہوتا ہے وہ تو عذاب کی زد سے بچ نہیں سکتا لیکن انبیاء اور ان کے ساتھی بعض نامعلوم محرکات کی بناء پر اس کی پکڑ سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس کی مثال تاریخ انبیا ء میں حضر ت موسٰی ؑ کے زمانے میں ملتی ہے جب کہ بنی اسرا ئیل کو صرف ایک احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کا ارشاد ہوا۔ یعنی خمیر کھانے سے روک دیا گیا۔ اس کے سوا کوئی ایسی تدبیر اختیار نہیں کی گئی جس کا صحف سابقہ یا تاریخ میں ذکر ملتا ہو۔ فرعون کی قوم اس کے برعکس ہر قسم کی وبائی امراض کے مقابلہ کے لئے تمام معلوم ذرائع اختیار کرنے پر آزاد تھی لیکن جب بعض وبائی بیماریوں نے جن کا تعلق خون سے تھا ان کی قوم پر حملہ کیا تو حضرت موسٰی ؑ کے ماننے والے انہیں لوگوں میں رہنے کے باوجود ان بیماریوں سے بچ گئے اور فرعون کی قوم عموما ًان کا شکار ہوگئی۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے زمانہ میں اس کی مثال طاعون کے عذاب کی شکل میں ملتی ہے جس کی تفصیل آئندہ آئے گی۔

(باقی آئندہ ان شاء اللہ)

(قسط اوّل)

(قسط دوم)

(قسط چہارم)

(قسط پنجم)

(قسط ششم)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 8 جولائی 2020ء