• 2 اکتوبر, 2020

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ)

(قسط اوّل)

یہ سوال بڑی دیر سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال سے انسانی ذہن کو الجھائے ہوئے ہے کہ حادثات طبعی کا کوئی تعلق اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے ہے یا نہیں؟

اس سلسلہ میں دو نظریات ایک دوسرے کے مقابل پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایک نظریہ اس امر پر مشتمل ہے کہ دنیا میں جتنے بھی حادثات واقع ہوتے ہیں یا آفات رونما ہوتی ہیں۔ یہ سب قوانین طبعی کے ما تحت خود بخود ظاہر ہوتے چلے جاتے ہیں اور انسان کے اعمال، اس کی نیکی بدی یا رسولوں کے انکار سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ دوسری طرف قدیم سے تمام قطعہ ارض پر بسنے والے اہل مذاہب کسی نہ کسی رنگ میں یہ مانتے چلے آئے ہیں کہ عذاب اور آفات جب بھی غیر معمولی نوعیت اختیار کر جائیں تو قوانین طبعی کے دائرے سے نکل کر قوانین غیر طبعی کے حلقہ میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ اگرچہ ان سب مذاہب میں خدا ئے واحد و یگانہ کا تصور تو نہیں ملتا جو اسلام نے پیش کیا ہے لیکن اپنے اپنے رنگ میں اس بات پر سب کا اتفاق نظر آتا ہے کہ عذاب اور آفات کسی باشعور ہستی کے فیصلے کے نتیجہ میں رونما ہوتے ہیں ۔ خواہ اس کا نام سورج دیوتا بیان کیا جائے ، یا بادلوں کا خدا یا پہاروں کی روح یا سمندروں کی دیوی، وہ تمام مذاہب بھی جو خدا تعالیٰ کی مختلف صفات میں بعض خیالی خداؤں کو شریک ٹھہراتے ہیں ۔ غیرمعمولی آفات سماوی و ارضی کو غیر طبعی قرارا دیتے چلے آئے ہیں ۔ وہ مذاہب جن میں توحید باری تعالیٰ کا عقیدہ آج تک محفوط چلا آ رہا ہے ان میں بھی اگرچہ نظریہ توحید کی تفاصیل میں کچھ نہ کچھ فرق ملتا ہے لیکن اس بات پر وہ بھی متفق ہیں کہ آفات سماوی یا حادثات طبعی ایک واحد خدا کی ناراضگی کا مظہر ہوتے ہیں ۔ ان مذاہب میں سر فہرست اسلام ہے اس کے بعد یہودیت اور پھر عیسائیت جو بیک وقت تو حید کی بھی دعویدار ہے اور تثلیث کی بھی۔

یہ ایک دلچسپ معمہ ہے اور آج کی دنیا میں جبکہ انسان طبیعات کے بہت سے گہرے اسرار کا واقف ہو چکا ہے ان تمام مصائب یا حوادث کے تہ بہ تہ عوامل اور محرکات کی گہری تحقیق کر کے بہت سے سر بستہ رازوں پر سے پردہ اٹھا چکا ہے، یہ سوال مادہ پرست انسان کے لئے بھی اور اہل مذاہب کے لئے بھی دوہری اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اہل مذاہب کے بارے میں یہ کہنا یقیناً درست ہوگا کہ آج یہ سوال پہلے سے کئی گناہ بڑھ کر اہم اور قابل توجہ بن چکا ہے کیونکہ پہلے دنیا جس خیال کو ظاہر ی مشاہدات کی بناء پر مانتے چلے آ رہے تھے۔ آج ان کے ہاتھ میں صرف ظاہری مشاہدہ کا ہتھیار ہی نہیں بلکہ عالم طبعی کی تہہ بہ تہہ جستجو کے نتیجہ میں جو حقائق وہ دریافت کر چکے ہیں وہ سب اس طرف اشارہ کرتے نظر آتے ہیں کہ تمام امور قوانین طبعی کے طبعی نتیجہ میں اور کسی ما فوق البشر ہستی کی دخل اندازی سے ان کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ اہل مذاہب اس کے بر عکس ابھی تک اسی مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں جس پر وہ پہلے تھے۔ اور کوئی ایسی نئی تحقیق مذاہب کے ماننے والوں کی طرف سے پیش نہیں کی گئی جو اس موقف کی مزید تا ئید یا تصدیق کر سکے ۔ کہ حوادث زمانہ کا کوئی تعلق کسی ما فوق البشر ہستی سے ہے۔

جماعت احمدیہ چونکہ از سر نو بڑے زور دار اصرار کے ساتھ اس نظرئیے کو دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے کہ حوادث اور مصائب کی صورت میں جومظاہر طبعی ہمیں نظر آتے ہیں ان کا تعلق یقیناً اللہ تعا لیٰ کی ناراضگی کے ساتھ بھی ہے ۔ اس لئے خصوصیت کے ساتھ جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہے کہ جماعت سے وابستہ محقیقن اور مبصرین اس مسئلہ کے ہر پہلو کی چھان بین کر کے صرف اس امر کی وضاحت کریں کہ جماعت احمدیہ کے اس نظریہ کا حقیقی مفہوم کیا ہے بلکہ اس نظریہ کی تائید اور تصدیق میں ایسے دلائل بھی پیش کریں جو نئے علوم کی روشنی میں بنائی ہوئی عقل کو مطمئن کر سکیں ۔ آج دنیا کا جو انسان ہمارا مخاطب ہے وہ ہزار دو ہزار یا پانچ ہزار سال کے انسان کی نسبت مادی علم کے میدان میں اتنا آگے نکل چکا ہے کہ محض دعاؤ ں کی تکرار سے اور کسی نظریہ کو بلند آواز سے بیان کرنے کے نتیجہ میں ہر گز تسلی نہیں پاسکتا۔ پس مذہب اور لا دینیت کی جنگ میں ایک یہ میدان ہے جو ابھی سر کرنے والا ہے ۔اس وقت تک تو اس معرکے کا جو نتیجہ ظاہر ہوا ہے وہ مذاہب کی شکست اور لا مذہبیت کی فتح دکھائی دیتا ہے ۔ یہ فتح اس حد تک نمایاں نظر آتی ہے کہ اہل اسلام کا بھی ایک بڑا طبقہ مادی نظریہ طبیعات سے متاثر ہو کر مافوق البشر مداخلت کے عقیدہ سے منحرف ہو چکا ہے۔ اگرچہ غیر معمولی مصائب کے وقت عامۃ الناس کبھی کبھی تو یہ زبان سے پکار اٹھتے ہیں کہ یہ تو عذاب اور چند دن کے لئے جب تک مصیبت ان کو گھیر ے رکھے ۔ اذانیں دے کر یا استغفار کر کے یا دعائیں مانگ کر اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع بھی کرتے ہیں لیکن عملاً ان مظاہر قدرت کوعذاب قرار دینے کے باوجود ان کی زندگی میں کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا ۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ ایک عارضی اور فانی خیال کی طرح دل و دماغ سے ایک مسافر کی طرح گزر جاتی ہے ۔ مزید برآ ں عمومی رنگ میں حوادث کو عذاب الٰہی قرار دینے کے باوجود وہ قرآن کریم کے اس دعویٰ کی طرف پھر بھی توجہ نہیں کرتے کہ ان عذابوں کا تعلق محض بد اعمالیوں سے ہی نہیں بلکہ رسولوں کے انکار سے بھی ہے۔ بلکہ اس حد تک ہے کہ بد اعمالیوں کی سزا کے نتیجہ میں بھی یہ عذاب اس وقت تک ظاہر نہیں ہوتے جب تک اللہ تعالیٰ کوئی تنبیہ کرنے والا پیغمبر ان میں نہ بھیج دے اور بر وقت متنبہ کر کے دنیا کو نیکیوں کی طرف بلانے کی کوشش نہ کرے۔

جماعت احمدیہ جو اس نظر یئے کی بھی بڑے وثوق سے قائل ہے۔ روز مرہ اس سلسلہ میں تلخ تجربات کا سامنا کرتی ہے اور آئے دن احمدیوں کو ایسے دوستوں سے تبادلہ خیالات کا موقعہ ملتا رہتا ہے جو غیر معمولی آفات کو عذاب الہٰی ماننے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس بات کو تسلیم کرنے پر ہر گز آ مادہ نہیں ہوتے کہ عذابوں کے ظہور سے قبل اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کی اصلاح اور تنبیہ کے لئے آ نحضور ﷺ کا امتی نبی بنا کر بھیجا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ احمدیوں کو اس سلسلہ میں بعض اوقات سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان پر یہ طعن کیا جاتا ہے کہ ہر مصیبت جو دنیا پر نازل ہوتی ہے تم اسے مرزا غلام احمد کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کردیتے ہو ۔ یہ کیا تمسخر ہے؟چلی میں زلزلہ آئے یا چین کی سر زمین لرزش کھا رہی ہو ۔ ترکی ، اٹلی یا ایران کی عمارتیں تہہ و بالا ہو رہی ہوں یا ہزارہ اور مردان کی سر زمین قیامت کا نمونہ دیکھے۔ بارشیں آئیں ، خشک سالی ہو آندھیاں چلیں یا ہوائیں بند ہو جائیں ۔ غرضیکہ حوادث قدرت کوئی بھی کروٹ لیں تم لوگ بلا سوچے سمجھے ہر طبعی وا قعہ کو مرزا صاحب کی سچائی کی دلیل کے طور پر پیش کرنے لگ جاتے ہو ۔ ذرا سوچو کہ کیسا غیر معقول اور مضحکہ خیز طریق ہے ۔ جس سے آج کی دنیا میں کوئی بھی متاثر ہونے کے لئے تیار نہیں ۔ یہ باتیں سن کر بعض احمدی تو اظہار حسرت کے سوا اور کوئی قدرت نہیں رکھتے ، بعض خود اس معاملہ میں متفکر اور متردد ہو جاتے ہیں کہ کہیں واقعۃً یہ محض ہمارا خیال ہی تو نہیں ۔ جب سے دنیا بنی ہے آفات اور مصائب سے اہل دنیا کا واسطہ پڑتا ہی چلا آ رہا ہے پھر ہم کیسے ان طبعی واقعات کو صداقت مسیح موعود علیہ الصوٰ ة والسلام کے طور پر پیش کر سکتے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ سوچ کا سلسلہ کسی منزل پر رُک نہیں سکتا بلکہ اس خیال کے آتے ہی معاً تصور کی دوسری چھلانگ اس جانب لپکتی ہے کہ قرآن کریم میں کیوں حوادث طبعی کو بڑے اصرار اور تکرار کے ساتھ انبیاء کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور کیوں قرآن بکثرت اس مضمون سے بھرا پڑا ہے کہ خدا کے مرسل کے انکار کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک کے بعد دوسری قوم کو ہلاک کیا اور صرف وہی باقی رکھے گئے جو ایمان لانے والے تھے؟ پھر کیوں قرآن کریم آ نحضرت ﷺ کی تائید میں بھی بار بار یہی دلیل پیش کرتا ہے اور انسانوں کو تنبیہ کرتا ہے کہ اگر رسولوں کے سردار ؐ کا انکار کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے جو سلوک کمتر درجہ کے انبیاء کے منکرین کے ساتھ کیا تھا وہی سلوک بلکہ اس سے بڑھ کر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے منکرین سے بھی کیا جائے گا۔ اور خدا کا یہی سلوک اس بات کی گواہی دے گا کہ یہ رسول اپنے تمام دعا وی میں سچا تھا ۔ پس اس منزل پر تصور کی چھلانگ کے مسئلے کو احمدیت کے دائرے سے نکال کر وسیع تر اور بلند تر اصولی سوال تک پہنچا دیتی ہے۔ کہ فی ذاتہ اس دعویٰ کی حقیقت کیا ہے ؟کیا کسی بھی مذہب کے لئے اصولاً یہ جائز ہے کہ حوادث زمانہ کو عذاب الہٰی قرار دے یا خدا تعالیٰ کے کسی مرسل کے انکار کا نتیجہ بیان کرے؟

اس تمہیدی بیان کے بعد جس سے مسئلہ کی اہمیت خوب اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے ۔ میں کو شش کروں گا کہ جس حد تک ممکن ہو اس کے مختلف پہلوؤں پر کچھ نہ کچھ روشنی ڈالوں اور اپنے دوسرے بھائیوں کو اس بارہ میں مزید فکرو تدبر کی دعوت دوں ۔

احمدیت کا نظریہ

احمدی اپنے نظریہ کی بنیاد کلیتہً قرآن کریم پر رکھتے ہیں ۔ اور نظریہ کے ہر پہلو کا استنباط بھی قرآن سے ہی کرتے ہیں ۔ اس لئے جب میں احمدی نظریہ کہتا ہوں تو مراد یہ ہے وہ نظریہ جو جماعت احمدیہ کے نزدیک فی الحقیقت اسلامی نظریہ ہے ۔ خواہ اسلام کے دوسرے فرقے اس سے اتفاق کریں یا نہ کریں۔ بہر حال احمدی نظریہ کے حسب ذیل پہلو خاص طور پر ذہن نشین ہونے چاہئیں ورنہ مادہ پرستوں کے ساتھ تبادلہ خیالات میں کئی پہلوؤں سے معاملہ الجھ سکتا ہے اور ایک احمدی کے لئے مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

(1) احمدی ہر گز اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ دنیا میں رونما ہونے والے حوادث، مصائب اور زلازل کی طبعی وجوہات موجود ہیں اور یہ تمام امور قانون طبعی کے تا بع رو نما ہوتے ہیں ۔ احمدیوں کے نزدیک مذہب کا خدا بھی وہی خدا ہے جو مادی عالم کاخدا ہے اور جن کو ہم قوانین طبعی قرار دیتے ہیں۔ وہ قوانین طبعی بھی اللہ تعالیٰ کی قدر کا ملہ کے نتیجہ میں اور اس کے مقرر کردہ ضابطوں کے ماتحت کام کر رہے ہیں اگرچہ انسان نے تحقیق و جستجو کے بعد اور سلسلہ میں بہت کچھ دریافت کیا ہے لیکن قوا نین طبعی کی جستجو کرنے والے منکرین اور محققین بلا استثناء اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ جستجو کا یہ سلسلہ لا متناہی ہے اور اسباب کی کڑیوں میں سے جس قدر بھی ہم دریافت کرتے چلے جائیں کسی کڑی کو بھی پہلی کڑی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ ہر سبب بذات خود ایک مسبب کا متقاضی ہے جس کا آگے کوئی سبب ہونا چاہئے۔ جب اس کو تلاش کیا جائے تو اس کا آگے کوئی سبب ڈھونڈنا پڑتا ہے جب اس کو تلاش کر لیا جائے تو اگلے سبب کی طرف رہنمائی کرتا ہوا ایک دروازہ دکھائی دیتا ہے کہ اس کو بھی کھولو اور ا س سے اگلے سبب کو تلاش کرو ۔ غرضیکہ اسباب کا یہ سلسلہ جہاں تک انسانی عقل کی دسترس کا تعلق ہے لا متناہی ہے ۔ پھر کون جانے کہ اصل سبب کون تھا یا کیا ہے ۔ اور کہاں پہنچ کر یہ سلسلہ ختم ہوگا؟ قرآن کریم پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کا سبب اول بھی اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے اور آخری نتیجہ بھی اسی کی ذات کی طرف لے جانے والا ہے وہ اول بھی ہے اور آ خر بھی ہر چیز کا سر چشمہ بھی وہی ہے اور ہر چیز کا مرجع بھی وہی ۔ ہم مسلمان جو روز مرہ گفتگو میں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلیْہِ رَاجِعُوْنَ کا ورد کرتے ہیں در حقیقت اس میں اسی بنیادی نظریہ کا اقرار اور اعادہ کیا جاتا ہے۔ پس جماعت احمدیہ قوانین طبعی کو قوانین مذہب سے علیحدہ کوئی خود مختارمتوازی نظام تصور نہیں کرتی اس لئے یہ تسلیم کر لینے کے باوجود کہ بلا شبہ تمام مادی تغیرات قوانین طبعی کے نتیجہ میں رونما ہوتے ہیں ۔ یہ تسلیم کرتی ہے اور ان دونوں اعتقادات میں کوئی تضاد نہیں پاتی کہ تمام قوانین طبعی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مقرر کردہ قوانین کے تابع کام کرتے ہیں اور وہ تمام قوت جو طبعی تبدل و تغیر کے وقت استعمال ہوتی یا خارج ہوتی ہے اس کا سر چشمہ بھی اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے ۔

(2) جماعت احمدیہ یہ اعتقاد رکھنے کے باوجود کہ غیرمعمولی حوادث اور مصائب اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت سے تعلق رکھتے ہیں ہر گز یہ عقیدہ نہیں رکھتی کہ ہر قدرتی حادثہ اور ہر تغیر اور تبدیلی عذاب الٰہی کی آئینہ دار ہوا کرتی ہے ۔ عموماً ایک دنیا دار مادہ پرست مذہبی نظریہ کو صحیح رنگ میں نہ سمجھنے کے نتیجہ میں معرض بن جاتا ہے اور کسی حد تک اس کےاعتراضات درست بھی ہوتے ہیں اگر انسان اپنی طرف سے کوئی نظریہ بنا کر مذہب کے سر تھوپ دے تو لازماً اس میں تضادات اور نقائص پائے جائیں گے ۔ نتیجہً غیر مذہبی طاقتوں کو موقعہ میسر آ جائے کا کہ اس نظریئے کی خامیاں ظاہر کر کے یہ ثابت کریں کہ جس مذہب نے غلط نظریہ پیش کیا ہے وہ مذہب ہی جھوٹا اور نا قابل اعتماد ہے انسانی عقل اس کی رہنمائی کو قبول نہیں کر سکتی ۔ یہی مصیبت تھی جس کا احیائے علوم کے زمانہ میں عیسائیت کو سامنا کرنا پڑا اور عیسائی پادری اپنے مذہب کی طرف ایسے خود ساختہ نظریات منسوب کر رہے تھے جن کا الہام الہٰی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یا تو وہ بگڑی ہوئی بائیبل کے فرضی قصے تھے یا آیات تورات کی غلط تشریحات پر منبی مفروضے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انسان نے خصوصاً اہل یورپ نے جب قوانین قدرت کی چھان بین کی اور بہت سے انکشافات کو واضع طور پر عیسائیت کو ایک فرسودہ اور جھوٹا مذہب سمجھ کر ترک کرنا شروع کر دیا پھر یا توکھلم کھلا انہوں نے عیسائیت سے بغاوت کی یا پھر عملاً اس طرح اس سے منحرف ہو گئے کہ گو زبان نے تو انکار نہ کیا لیکن اعمال نے اس کا جو ا اُتار پھینکا اور ایک آزاد مادی اور مادہ پرست یو ر پین سو سائٹی رو نما ہوئی۔ جو عیسائیت کی قید سے ہر عملی پہلو میں آزاد تھی ۔ پس مسلمانوں کو اس المیہ سے یہ سبق سیکھنا چاہئے اور خصو صاً احمدیوں کو کہ وہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے کوشاں ہیں ۔ غیر معمولی احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔ اور کسی نظریہ کو مذہب کی طرف منسوب نہ کرنا چاہئے جس کا مذہب دعویدار نہ ہو۔

جہاں تک قرآن کریم، احادیث نبویہ، اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہیں بھی اسلام کا دعویٰ نظر نہیں آتا کہ ہر طبعی حادثہ اور تغیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا حکم رکھتا ہے ۔ ہاں یہ دعویٰ ضرور ملتا ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے بسا اوقات مادی اور طبعی قوانین کو ان مادی طاقتوں کی ہلاکت پر مامور کر دیا جو روحانی اور مذہبی اقدار کو مٹانے کے درپے تھیں ۔ پس جب بھی یہ صورت ظاہر ہو کہ مادی نظریات روحانی نظریات سے ٹکرا جائیں اور مادی طاقت مذہبی اقدار کے خلاف علم بغاوت بلند کرے اور سر کشی میں بڑھتی چلی جائے ۔ تو ایسی صورت میں قرآنی نظریہ کے مطابق قوانین طبعی کو ہی ایسی مادی طاقتوں کو مٹانے یا مغلوب کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ گویا لوہا لوہے کو کاٹتا ہے یا انگریزی محاورے کے مطابق To set a thief to catch a thief کا منظر نظر آتا ہے یعنی وہ لوگ جو کسی مافوق البشر طاقت کے منکر اور صرف موجود مادی دنیا کے ہی قائل ہوتے ہیں انہی کی مسلمہ موجود مادی دنیا کو ان کی ہلاکت اور تباہی پر مامور کردیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات کو مذہبی اصطلاح میں عذاب الہٰی کا نام دیا جاتا ہے اور اس نظرئیے سے کوئی ٹکراؤ یا مقابلہ نہیں کہ ایسے واقعات اپنے پس منظر میں طبعی عوامل رکھتے ہیں ۔ مثلاً فر عون کی غر قابی کے واقعہ کو ہی لے لیجئے ۔ نیل کے ڈیلٹا میں فرعون اپنے قافلے سمیت غرق ہوا ۔ روزانہ دو مرتبہ جوار بھاٹا آیا ہی کرتے تھے۔ اب ان گنت سالوں سے یعنی جب سے دریائے نیل وجود میں آیا ۔ اس کا پانی سمندر میں داخل ہوتے ہوئے وقت روزانہ اسی اتار چڑھاؤ کا منظر پیش کرتا رہا ۔ خدا جانے کتنے جانور یا ابتدائی انسان یا ابتدائی ہیئت کے انسان یا بعد کے غیر مہذب خانہ بدوش قبائل، غلط اندازوں یا کم علمی یا لاعلمی کی وجہ سے اس جوار بھاٹا کی نذر ہو گئے ۔ لیکن نہ تو قرآن مجید نے، نہ کسی اور مذہبی صحیفہ نے اس جوار بھاٹا کے نتیجہ میں مرنے والوں کو عذاب الہٰی کا مورد قرار دیا ۔ پس قانون قدرت بلا شبہ اپنی روش پر جاری و ساری ہے اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ہر مہلک تغیر کو نہ عذاب الہٰی قرار دیا جا سکتا ہے نہ اسلام اس کا دعویدار ہے ۔ ہاں بعض صورتوں میں جن کا قدرے تفصیلی ذکر آگے چل کر کیا جائے گا ۔ یہی مظاہر قدرت مذہبی اصطلاح میں عذاب الہٰی کا نام پا لیتے ہیں اور اپنے ساتھ شواہد رکھتے ہیں اور ایسے قوی دلائل ان کی تائید میں کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک مادہ پرست بھی اگر انصاف سے کام لے توخود اپنے عقلی معیار کے مطابق بھی یہ ما ننے پر مجبور ہو جائے گا ۔ اس معین واقعہ کے وقت جسے مذہب عذاب قرار دیتا ہے ایسے غیر معمولی عوامل ضرور موجود تھے جو بظاہر روز مرہ کے واقعہ کو ایک امتیازی اور استثنائی حیثیت دیتے ہیں ۔ ابھی ہم نے فرعون کے غرق ہونے کا ذکر کیا ہے ۔ اسی مثال پر اب ذرا مزیدغور فر مائیں ۔ میرا مدعا خوب واضع ہو جائے گا۔

ایک خاص دلچسپی کی بات جو قرآن کریم کے بیان سے معلوم ہوتی ہے اور قرآن کریم کے سوا کہیں نہیں ملتی ۔ وہ یہ ہے کہ غرق ہوتے وقت فرعون نے خدا تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ میں تجھ پر ایمان لا تا ہوں تو مجھے بچا لے! تو اللہ تعالیٰ نے جواباً فرمایا :۔

فَا لْیَوْ مَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَ نِکَ لِتَکُوْ نَ لِمَنْ خَلْفَکَ اَیَۃً

(سورہ یونس، آیت 93)

(ترجمہ) پس اب ہم تیرے بدن ( کےبقاء ) کے ذریعے سے تجھے (ایک جزوی) نجات دیتے ہیں تا کہ جو لوگ تیرے پیچھے آنے والے ہیں ان کے لئے تو ایک نشان ہو۔

اس بیان کی حیثیت تو صرف دعویٰ کی ہے جو ایک غرق ہوتے ہوئے انسان اور خدا کے درمیان ایک مکالمے کو پیش کر رہا ہے بظاہر اس کی چھان بین اور صداقت کے جائزہ لینے کا کوئی ذریعہ نہ تو آج انسان کے پاس ہے نہ اس وقت کے انسان کے پاس تھا کیونکہ ایک مرتے ہوئے انسان اور خدا کے درمیان جو باتیں ہوئیں ان کو ان دونوں کے سوا اور کون جان سکتا ہے۔

جب ہم اس مکالمہ پر غور کرتے ہیں جو ایک دہریہ کے لئے یا مادہ پرست کے لئے مبینہ طور پر خدا تعالیٰ فر عون کے مابین ہوا تو قرآن کا دوسرا دعویٰ ہمارے سامنے آ جاتا ہے کہ فرعون کا غرق ہونا کسی اتفاقی حادثہ کا نتیجہ نہ تھا بلکہ مشیت الہٰی کے مطابق موسیٰ ؑ کے انکار اور مخالفت اور بغاوت کی سزا کے طور پر پیش آیا ۔ یہاں تک کہ آخری وقت میں خود غرق ہونے والے نے بھی اس بات کو محسوس کیا اور مرنے سے پہلے اس خدا کی طرف رجوع کیا جسے وہ بنو اسرائیل کا خدا قرار دیتا ہے ۔ فرعون کا کہنا کہ

اٰمَنْتُ اَ نَّہٗ لَآ اِ لٰہَ اِ لَّا ا لَّذِیْ اٰ مَنَتْ بِہٖ بَنُوْ اِ سْرَ آءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔

(سورہ یونس، آیت 91)

(ترجمہ) ’’میں ایمان لاتا ہوں کہ جس مقتدر ہستی پر بنو اسرائیل ایمان لائے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور سچی فرمانبرداری اختیار کرنے والوں میں سے ہوتا ہوں’’۔ اس بات کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ وہ دعا کے وقت اس بات میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہنے دینا چاہتا تھا کہ جس خدا سے وہ مانگ رہا ہے وہ کونسا خدا ہے ۔ چنانچہ بڑی وضاحت سے وہ یہ اظہار کرتا ہے کہ وہ اس خدا سے نجات مانگ رہا ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے ڈوبتے وقت ایسا خوف و ہراس اس پر طاری تھا کہ وہ غیرمبہم الفاظ میں اپنی شکست کو تسلیم کرنے پر تیار ہو چکا تھا اور اس کی گنجائش باقی نہیں رہنے دینا چاہتا تھا کہ اس میں انانیت کی رگ باقی ہے ۔ چنانچہ کھلم کھلا شکست تسلیم کر کے اس رب سے مانگتا ہے جس کی بنو اسرائیل عبادت کرتے تھے۔

بہر حال یہ بات قطعی ہے کہ قرآن کریم کے پیش کردہ اس مکالمہ کے مطابق خود فرعون کو بھی مسلم تھا کہ یہ حادثہ نہیں عذاب الہٰی ہے اور فرعون کی اس التجا کے جواب میں خداتعا لیٰ نے جواب دیا وہ ہمارے نقطہ نگاہ سے یعنی اس مسئلہ کے لحاظ سے جس پر ہم بحث کر رہے ہیں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ۔یہ جواب محض ایک دعویٰ کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ دعویٰ کی صداقت کی تا ئید میں ایک نا قابل تردید ثبوت بھی پیش کرتا ہے ۔ جو اس مکالمہ کے ایک ایک نقطہ کی صداقت پر گواہ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے اور اس واقعہ کو جو ہر چند طبعی قوانین کے تابع ظاہر ہوا تھا ۔ ایسے لکھو کھا واقعات سے الگ اور ممتاز کر کے پیش کرتا ہے وہ جواب یہ تھا (اور یہاں ہم ترجمہ کی بجائے تفسیر ی مفہوم پیش کریں گے )کہ چونکہ تو اپنی روح کی نجات کی خا طر ایمان نہیں لا رہا اور تمام نشانات کو رد کر چکا ہے اور سب مواقع کھو چکا ہے جن سے استفادہ کی صورت میں تیری روح کو نجات مل سکتی تھی ۔ اس لئے آج تیری روح کو نجات دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ہاں تجھے اپنے بدن کو بچانے کا خوف لا حق ہے اس لئے ہم تیری اس التجا کو اس رنگ میں قبول کریں گے کہ تیرے بدن کو بچا لیں گے اور تیری لاش کو محفوظ کرنے کا انتظام کریں گے تاکہ آ ئندہ آنے والی نسلوں کے لئے تو ہمیشہ عبرت کا سامان مہیا کرتا رہے اور تیرا بدن دوسروں کی نجات کو موجب ہو سکے ۔ یہ نہایت لطیف جواب محض دعو یٰ نہیں صداقت کا ثبوت خود اپنے ساتھ رکھتا ہے جس وقت قرآن کریم کے اس مکاملے سے آ نحضور ﷺ نے بنی نوع انسان کو مطلع فر مایا اس وقت تک فر عون کے متعلق یہ نظریہ تو موجود تھا کہ دریائے نیل کے ڈیلٹامیں غرق ہو گیا لیکن اس کے بدن کی حفاظت اور آئندہ آنے والوں نسلوں کی عبرت کا سامان بننے کا کوئی تصور نہ تو کسی مذہبی صحیفہ میں موجود تھا نہ تاریخی کتاب میں ۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی زبان سے یہ اعلان کروایا کہ ہم نے فرعون سے اس کی لاش کے بچانے کا وعدہ کیا تھا کہ وہ اس رنگ میں محفوظ کی جائے گی کہ بنی نوع کے لئے عبرت کا سامان مہیا کرے۔

آنحضرت ﷺ کے زمانے میں یہ ایک ایسا دعویٰ تھا اگر سچا تھا تو دعویٰ کرنے پر کسی انسان کو قدرت نہ ہوسکتی تھی جب تک خود اللہ تعالیٰ اس کی خبر نہ دے۔ اس زمانے میں بھی فرعون کی لاش کا کوئی پتہ نہ تھا۔ اور اگر اس دعویٰ کو انسان کا خود ساختہ دعویٰ قرار دیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایسا دعویٰ کرنے والا خود اپنی تکذیب کے سامان فراہم کررہا ہے جو سراسر عقل کے خلاف بات ہے۔ اگر آنحضرت ﷺ کے زمانے میں آپؐ کے صحابہ سے اس آیت کے نزول کے بارہ میں سوال کیا جاتا کہ فرعون کی لاش محفوظ کرنے کی خبر اگر خدا نے دی ہے تو وہ لاش کہاں ہے؟ کس طرح محفوظ ہوئی اور کیسے عبرت کا سامان بنی؟ تو کوئی صحابی اس کا جواب دینے پر قادر نہ ہوتا۔ سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ خود اس کی راہنمائی فرماتا۔ اگر بعد کی نسلوں سے یہی سوال دوہرایا جاتا۔ تو سائل ہمیشہ اپنے مخاطب کو گنگ اور لاجواب پاتا۔ نہ تو پہلی صدی کے مسلمان مخاطب اس کا جواب دے سکتے تھے نہ دوسری صدی کے مسلمان مخاطب، تیسری صدی کے مسلمان بھی اس کے جواب سے لاعلم تھے۔ چوتھی صدی کے بھی اور پانچویں اور چھٹی صدی کے بھی یہاں تک کہ چودھویں صدی میں وہ چاند طلوع ہوا جس کے عہد میں اسلام کو غلبہ نو کے سامان فراہم کئے جانے تھے۔ اس وقت کسی مسلمان محقق نے نہیں بلکہ خود عیسائی محققین نے اس فرعون کی لاش کو محفوظ صورت میں دریافت کرلیا جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرکے غرقابی کی سزا پائی تھی اور آج یہ لاش قرآن کریم کی صداقت پر گواہی دیتی ہوئی اہل بصیرت کے لئے عبرت کاسامان مہیا کررہی ہے اور ساتھ ہی قرآن کریم کے پیش کردہ تمام مکالمہ کی صداقت کا اعلان کررہی ہے۔ جو قرآن کریم نے فرعون کے آخری لمحات کا نقشہ کھینچنے کے لئے ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔

اس کا ایک پہلو یہ تھا کہ فرعون کا غرق ہونا نیل کے ڈیلٹا میں غرق ہونے والے لکھوکھا انسانوں سے مختلف حیثیت رکھتا تھا۔ اس ایک واقعہ کو ہم عذاب الہٰی قرار دیتے ہیں۔ جبکہ ایسے ہی دوسرے لاکھوں واقعات محض حادثات کا نام پاتے ہیں۔

(3) مادی تغیرات اور طبعی قوانین کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں جب عذاب کا نام پاتی ہیں تو ان کے ساتھ کچھ علامتیں اور کچھ شرائط پائی جاتی ہیں اور یونہی بلاوجہ کسی تبدل و تغیر کو عذاب کا نام نہیں دیا جاسکتا۔

(4) ایسے تمام حوادث زمانہ جو مذہبی اصطلاح میں عذاب کا نام پاتے ہیں ان کے نتیجہ میں بعض اہم مقاصد حاصل ہوتے ہیں جن کا ذکر آئندہ چل کر کیا جائے گا۔ اس کے برعکس روزمرہ کے حوادث اگرچہ کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور پیدا کرتے ہیں۔ لیکن جن مذہبی مقاصد سے عذاب کا تعلق ہوتاہے عام حوادث کے نتیجے میں وہ رونما نہیں ہوتے۔

(5) قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ قوانین طبعی کے نتیجہ میں جس قسم کے تغیرات بھی رونما ہوسکتے ہیں۔ مختلف اوقات میں ان میں سے ہر ایک تغیر کو عذاب الہٰی کاذریعہ بنایا گیا اور آئندہ بھی بنایا جاسکتا ہے اسی طرح انسانی معاشرہ میں پیدا ہونے والی خرابیوں کے نتیجہ میں یا دیگر عوامل کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والی جنگوں اور فتنہ و فساد کو بھی بعض مخصوص حالات میں عذاب الٰہی کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔

مندرجہ بالا امور کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جماعت احمدیہ عذاب الہٰی کا جو اسلامی فلسفہ پیش کرتی ہے اس کا مادہ پرستوں کے نظریہ سے بالواسطہ کوئی ٹکراؤ نہیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ دنیا دار مادہ پرست حوادث زمانہ کو طبعی محرکات اور موجبات کا نتیجہ قرار دینے پر ہی اکتفا کرتا ہے جبکہ اسلام اس حد تک اس مادی فلسفہ کی تائید کرنے کے علاوہ یہ زائد بات بیان کرتا ہے۔ اگرچہ تمام حوادث کی کوئی طبعی وجہ موجود ہے اور خدا تعالیٰ کی منظم تخلیق اور کامل نظام خلق کا تقاضا بھی یہی ہونا چاہئے تھا۔ لیکن بات یہی ختم ہوجاتی بسا اوقات اللہ تعالیٰ بلند تر مذہبی مقاصد کے حصول کے لئے انہی طبعی ذرائع کو استعمال کرتا ہے ہم خود اس کے پیدا کردہ ہیں اور اسی کے تابع ہیں۔ جب ایسا ہواورحوادث زمانہ کو سزا یا تنبیہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس وقت یہی طبعی قوانین جو نتیجہ ظاہر کرتے ہیں اس کا نام عذاب الہٰی رکھا جاتا ہے اس کے برعکس قرآن کریم سے یہ بھی ثابت ہے کہ طبعی قوانین کو جیسا کہ بعض اوقات رضائے الہٰی کے خاص اظہار کے لئے ہی مسخر کیا جاتا ہے اور جب بھی ایسا ہو طبعی تغیرات کے نتیجہ میں کسی قوم یا اشخاص کے لئے غیر معمولی فضل اور رحمت کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔ حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو جہاں عذاب الہٰی سے ڈرایا وہاں ایمان کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں اور رحمتوں کاوارث بننے کا وعدہ بھی دیا اور اس بات کی ترغیب دی کہ بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرکے قوانین طبعی کو اپنا دشمن بناؤ اور اس کو راضی کرکے قوانین طبعی کو اپنا غلام اور خدمت گار بناؤ۔ سورہ نوح میں اس مضمون کو نہایت لطیف رنگ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اس سے اسلامی فلسفہ عذاب و ثواب بڑی آسانی سے واضح ہوجاتا ہے۔ اس امر سے تو ہماری دنیا بخوبی آگاہ ہے کہ حضرت نوحؑ کے لئے قوم پربکثرت بارش کے ذریعہ عذاب بنایا گیا لیکن عام طور پر اس حقیقت سے لوگ بےخبر ہیں کہ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق یہی بارش رحمت الہٰی کا منظر بھی بن سکتی تھی۔ ایک امر تو بہرحال مقدر ہوچکا تھا کہ طبعی قوانین کے نتیجہ میں اس علاقہ میں جہاں حضرت نوحؑ کی قوم آباد تھی۔ بکثرت بارشیں برسنے والی تھیں۔ اس امر کا فیصلہ کہ یہ بارش رحمت کی ہو یا عذاب کی ، قوم نوحؑ پر چھوڑ دیا گیا۔ حضرت نوحؑ کہتے ہیں:۔

فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ۔یُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا ۔وَّ یُمۡدِدۡکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ جَنّٰتٍ وَّ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ اَنۡہٰرًا

(سورۃ نوح، آیت 11-13)

(ترجمہ) میں نے ان سے کہا اپنے رب سے استغفار کرو وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ اگر تم توبہ کروگے تو برسنے والے بادل کو تمہاری طرف بھیجے گا اور مالوں اور اولاد سے تمہاری امداد کرے گا۔ اور تمہارے لئے باغات اگائے گا اور تمہارے لئے دریا چلائے گا۔

اب دیکھئے کتنا پر لطف مضمون ہے اور عقل انسانی کے لئے کسی اعتراض کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔ وہی بارش جس کے سامنے طبعی قوانین کے نتیجہ میں نامعلوم طویل مدت پہلے سے تیار ہورہے تھے۔ وہی بارش عذاب بن کر بھی آسکتی تھی اور انعام بن کر بھی۔ اگرانعام بن کر آتی تو اس کے نتیجہ میں حضرت نوحؑ کے قول کے مطابق جو یقیناً وحی الہٰی تھا اس طرح وقفے وقفے کے ساتھ برستی کہ سیلاب لانے کی بجائے فیض رساں نہریں بہا دیتی اور اس کے نتیجہ میں حضرت نوحؑ کی قوم کے اموال غیر معمولی برکت پاتے اور ان کے نفوس میں بھی برکت پڑتی۔ لیکن افسوس انکار نے اس پانی کو کیسے عذاب کے پانی میں تبدیل کردیا کہ خطہ ارض کے کونے کونے میں طوفان نوحؑ ایک مثل بن چکا ہے۔

پانی کاذکر چل پڑا ہے اس لئے ایک دفعہ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں پانی سے جو دو مختلف خدمات لی گئیں ان کا بیان بھی یہاں بے محل نہ ہوگا۔ ایک بات تو پہلے بیان کی جاچکی ہے کہ کس طرح پانی کو عذاب الہٰی کے طور پر استعمال کیا گیا اور فرعون اور اس کی قوم کو اس کے نتیجہ میں ہلاک کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے تعلق میں ہی پانی کے رحمت بننے کی ایک عملی مثال بھی موجود ہے۔ جس پانی نے فرعون اور اس کے لشکر کو بےشمار وسائل کے باوجود مغلوب کردیا وہ پانی جب رحمت بنا تو ایک دودھ پیتے بچے حضرت موسیٰ ؑ کوایک کمزور لکڑی کے صندوق میں اپنی لہروں پر بہائے ہوئے خطرے کی جگہ سے امن کے مقام کی طرف لے گیا اور ہلاکت کی بجائے نجات کا موجب بنا۔ اب دیکھ لیجئے کہ بظاہر دونوں واقعات طبعی محرکات کا نتیجہ تھے لیکن وہ بچہ جس نے بعد ازاں بڑے ہوکرنبوت کا دعویٰ کرنا تھا اور خدا کے عظیم الشان پیغمبر کے طور پر دنیا میں ظاہر ہونا تھا۔ اس کو تو انتہائی کمزوری ، ناطاقتی اور کم مائیگی کے باوجود پانی ہلاک کرنے کی قدرت نہیں پاسکتا۔ لیکن اس کے عظیم الشان اور دنیاوی لحاظ سے انتہائی طاقتور دشمن کو اپنے قوی وسائل کے باوجود خس و خاشاک کی طرح بہا لےجاتا ہے۔ اہل بصیرت کے لئے اس میں فکر و تدبر کے سامان موجود ہیں

(باقی آئندہ ان شاء اللہ)

(قسط دوم)

(قسط سوم)

(قسط چہارم)

(قسط پنجم)

(قسط ششم)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 24 جون 2020ء